قوت سماعت سے محروم افراد کا سفرِ مکہ: ’یوں محسوس ہوا جیسے میرا دل کعبہ سے جڑ گیا ہو‘

بی بی سی اردو  |  Apr 16, 2026

Mansoreh Motamedi/Getty Images

جانی حسین کو آج بھی اپنی وہ پریشانی اچھی طرح یاد ہے جس کا سامنا انھوں نے 13 برس کی عمر میں پہلی بار مکہ پہنچنے پر کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’مجھے یاد ہے میری امی رو رہی تھیں مگر میں سمجھ نہیں پائی کہ وہ کیوں رو رہی ہیں اور یہ بات مجھے بہت اداس کر گئی تھی۔‘

ہر سال لاکھوں مسلمان عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں۔ عمرہ سال کے کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے جبکہ مسلمانوں کے لیے حج زندگی میں ایک بار واجب ہے اور اسلامی کیلنڈر کے آخری مہینے میں ہی ادا کیا جاتا ہے۔

ان دونوں عبادات میں خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگانا شامل ہے جسے طواف کا نام دیا جاتا ہے۔ زیادہ تر زائرین کو اس دوران مسجد الحرام میں اذان کی گونج، قدموں کی مسلسل آہٹوں اور ہزاروں حجاج کی مدھم دعاوں کے شور کا سامنا ہوتا ہے۔

لیکن انھی سب کے دوران مسلمانوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جس کے لیے یہ سفر تقریباً خاموشی میں گزرتا ہے۔

بھیڑ میں ایک دوسرے سے بچھڑنے کے خوف سے سرخ چھتریاں تھامے یہ لوگ برطانیہ سے سعودی عرب پہنچے ہیں۔

قوت سماعت سے محروم یہ افراد ’الاشارہ‘ نامی برطانوی فلاحی ادارے کے ساتھ آئے ہیں اور ان کے ساتھ ان کی اشاروں کی زبان کی مترجم زینم بوسٹن بھی موجود ہیں۔

Mansoreh Motamedi/Getty Imagesہر سال لاکھوں مسلمان عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں

پیدائشی طور پر سماعت سے محروم جانی حسین بچپن میں شاذ و نادر ہی مسجد جاتی تھیں کیونکہ وہاں وہ بس بنا کسی تاثر کے بیٹھی رہتی تھیں۔ اس دوران وہ نہ خطبہ سمجھ پاتیں، نہ عبادات اور نہ ہی دعائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب وہ پہلی بار نوعمری میں اپنے خاندان کے ساتھ مکہ گئیں تو وہ سفر ’ضائع‘ ہو گیا۔

’مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ کعبہ کیا ہے۔‘

جانی حسین کا اسلام سے تعلق اس وقت بدلنا شروع ہوا جب 25 برس کی عمر میں انھوں نے پہلی بار اشاروں کی زبان میں ہونے والی ایک مذہبی نشست میں شرکت کی۔

قرآن کی تعلیمات اور دعائیں اچانک ان کے لیے واضح ہو گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ایسا لگا جیسے سب کچھ بہت واضح ہو گیا ہو۔‘

اسی گروپ میں سماعت سے محروم دو اور زائرین، ریاض رفیق اور زاہد ناصر، بھی اسی طرح کے تجربات بیان کرتے ہیں۔

ناصر کو بچپن میں ایک عام اسلامی سکول بھیجا گیا تھا مگر وہ تلاوت اور بار بار دہرانے کے عمل کے ذریعے قرآن نہیں سیکھ سکے۔

’خانہِ کعبہ کسی ہیرے کی مانند چمکتا نظر آ رہا ہے‘: خلا سے مسجدِ الحرام کی تصویر جس نے دنیا کو حیران کر دیاکلیدِ کعبہ کے محافظ کی وفات: وہ خاندان جو ’ہمیشہ کے لیے‘ خانہ کعبہ کی چابی کا رکھوالا ہےمسجد الحرام: کعبے کے گرد ایک چھوٹے سے صحن سے دنیا کی سب سے بڑی مسجد تکغلاف کعبہ: مذہب اسلام کے مقدس ترین مقام سے ’کسوہ‘ کے ٹکڑے جیفری ایپسٹین کو بھیجنے کا تنازع

رفیق کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے مذہب کی سمجھ اس وقت آئی جب کالج میں ان کی ملاقات سماعت سے محروم ایک اور مسلمان سے ہوئی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس سے پہلے (نہ سننےکے باعث) مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ کون سا کھانا میرے لیے جائز ہے اور کون سا نہیں۔‘

رفیق ہمیشہ حج یا عمرہ پر جانے کی پیشکش سے کتراتے رہے کیونکہ وہ اشاروں کی زبان پر انحصار کرتے ہیں لیکن جب انھیں اس سفر کے بارے میں معلوم ہوا جس میں مکمل اشاروں کی زبان کی سہولت موجود تھی تو وہ آخرکار راضی ہو گئے۔

رفیق کے مطابق دوستوں نے بھی انھیں کہا کہ ’تم ضرور جاؤ۔‘

Al Isharahجانی نے خواتین کے گروہ کے ساتھ کیے گئے طواف کے دوران ایک خوبصورت روحانی کیفیت کو محسوس کیازیارتوں کی شروعات

قوت سماعت سے محروم افراد پر مشتمل یہ گروہ مکہ پہنچا تو یہ تمام لوگ جذبات سے مغلوب ہو گئے۔

جانی حسین نے زم زم کے مقدس چشمے کا پانی پیا اور وہ کعبہ کی جانب بڑھیں۔ جیسے ہی انھوں نے سر اٹھا کر کعبے کو دیکھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

ناصر پہلی بار کعبہ کی جھلک دیکھ کر بے اختیار ہو گئے۔ ان کے کان میں لگا آلہ (کوکلیئر امپلانٹ) اردگرد موجود ہجوم کی ہلچل کو محسوس کرنے میں مددگار تھا تاہم طواف شروع کرتے ہی انھوں نے اسے بند کیا تاکہ اپنی سماعت کی خاموشی کے دوران ان کی پوری توجہ دعا پر رہے۔

رفیق کہتے ہیں کہ انھیں یوں محسوس ہوا جیسے ان کا ’دل کعبہ سے جڑ گیا ہو۔‘

جانی حسین نے اس سفر میں اپنے بچوں اور شوہر لقمان کو ساتھ لانے کا فیصلہ کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ آٹھ برس تک بچوں کی پرورش میں مصروف رہنے کے بعد انھیں لگا تھا جیسے وہ آہستہ آہستہ اللہ سے دور ہوتی جا رہی ہیں اور وہ اپنی ’روحانی کیفیت کو تازہ‘ کرنا چاہتی تھیں۔

وہ اپنے بچوں کو بھی اس مذہبی فریضے سے روشناس کرانا چاہتی تھیں مگر یہ توازن قائم رکھنا آسان ثابت نہیں ہوا۔

طواف یعنی کعبہ کے گرد سات چکر جسمانی طور پر بہت تھکانے والا عمل ہے۔ یہ جگہ ہر گھنٹے میں ایک لاکھ سے زیادہ زائرین کی موجودگی کے لیے بنائی گئی ہے اور اس دوران چوتھے چکر تک پہنچتے پہنچتے ان کے بچے رونے لگے اور گھر جانے کی ضد کرنے لگے۔

ہجوم کے باعث ایک موقع پر وہ اپنے شوہر اور ان کی گود میں موجود بچے سے بچھڑ گئیں اور جب آخر کار وہ انھیں دوبارہ ملے تو وہ خود پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔

Al Isharahالاشارہ گروہ

بالآخر اس خاندان نے جب ایک ساتھ طواف مکمل کر لیا تو انھیں اس کامیابی پر فخر محسوس ہوا مگر بعد میں جانی حسین نے صرف خواتین کے گروہ کے ساتھ طواف کا اہتمام کیا۔

اس بار جب ان کے شوہر بچوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے، انھوں نے ایک ’خوبصورت روحانی کیفیت‘ کو محسوس کیا۔

لقمان نے برسوں پہلے اپنی بیوی جانی حسین کے ساتھ عمرہ ادا کیا تھا تاہم اس بار وہ ان میں واضح تبدیلی دیکھ کر حیران گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میری بیوی اپنے بہترین روپ میں نظر آئیں، خاص طور پر جب وہ اپنی (سماعت سے محروم) کمیونٹی کے دیگر افراد کے ساتھ ایمان کے سفر پر تھیں۔‘

رفیق اور ناصر نے بھی اس سفر میں نئی دوستیاں قائم کیں۔

ناصر کو وہ لمحہ یاد ہے جب وہ سعودی عرب کے ایک سماعت سے محروم شخص کو جمعے کے خطبے کی بات سمجھانے میں مدد کر رہے تھے اور اس دوران دونوں نے اپنی اپنی اشاروں کی زبان کو ملا کر بات چیت کی۔

’ہم نے ایک دوسرے سے بات کی، ایک دوسرے کی مدد کی۔ ہم ایک دوسرے کو اپنے اشارے سکھا رہے تھے۔ دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے اور نسل، رنگ، عمر سے بالاتر ہونےکے باوجود یہ احساس واقعی حیرت انگیز تھا۔‘

Al Isharah بائیں طرف ’الاشارہ‘ کے سی ای او آزاد حسین اشاروں کی زبان کا استعمال کرتے ہوئے ایک خطبے کے دوران

برطانیہ کا ادارہ ’الاشارہ‘ اب ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد قرآنِ کریم کا مکمل ترجمہ برٹش سائن لینگوئج (BSL) میں کرنا ہے۔

اس کام میں سماعت سے محروم ماہرین، علما اور مترجمین شامل ہیں۔

اب تک 114 میں سے 64 سورتوں کا ترجمہ مکمل ہو چکا اور ان کی ویڈیوز ادارے کے یوٹیوب چینل پر جاری کی جا رہی ہیں۔

یہ سب اس مشن کا حصہ ہے جس کا مقصد سننے کی صلاحیت سے محروم افراد کے لیے اسلامی تعلیمات تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر تینوں زائرین اپنے گھر لوٹنے کے بعد غور کرتے ہیں۔

ناصر کہتے ہیں کہ ’زندگی میں پہلی بار مجھے لگا کہ مجھے دیکھا جا رہا ہے، سمجھا جا رہا ہے اور روحانی چیزوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس نے مجھے احساس دلایا کہ میری شناخت میں کوئی کمی نہیں۔‘

حسین کے لیے یہ سفر یوں محسوس ہوا جیسے ان کا دل ’اپنا گھر پا گیا ہو۔‘

ان کے مطابق ’بہت عرصے تک مجھے لگتا تھا کہ میرا دل کہیں بھٹک رہا ہے، تلاش میں ہے کہ میں کہاں سے تعلق رکھتی ہوں۔ کعبہ کے پاس کھڑے ہونے کا احساس لفظوں سے ماورا ہے۔‘

’خانہِ کعبہ کسی ہیرے کی مانند چمکتا نظر آ رہا ہے‘: خلا سے مسجدِ الحرام کی تصویر جس نے دنیا کو حیران کر دیامسجد الحرام: کعبے کے گرد ایک چھوٹے سے صحن سے دنیا کی سب سے بڑی مسجد تککلیدِ کعبہ کے محافظ کی وفات: وہ خاندان جو ’ہمیشہ کے لیے‘ خانہ کعبہ کی چابی کا رکھوالا ہےغلاف کعبہ: مذہب اسلام کے مقدس ترین مقام سے ’کسوہ‘ کے ٹکڑے جیفری ایپسٹین کو بھیجنے کا تنازععبدالمطلب کی دعا، ابابیل کا حملہ اور ’عذاب کا مقام‘: کعبہ پر ابرہہ کی لشکر کشی کا قصہ
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More