ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی سے کس کو سب سے زیادہ نقصان ہوا؟

بی بی سی اردو  |  Apr 17, 2026

Reuters

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کھونے کا اعلان کیا ہے۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ’لبنان میں جنگ بندی کے تناطر میں (امریکہ اور ایران کے درمیان) جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد امریکہ کے پاس جواب دینے کے لیے کئی راستے موجود تھے۔

پہلا راستہ یعنی مذاکرات پر مبنی پُرامن راستہ جلد ہی ترک کر دیا گیا کیونکہ ابتدائی بات چیت ناکام ہو چکی تھی۔

دوسرا راستہ سخت اقدام یعنی ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا جو بظاہر کشیدگی میں شدید اضافہ کرتا اور کسی بھی مفاہمت کے امکانات کو ختم کر دیتا۔

’جنگ سے پہلے کی صورتِحال کی بحالی‘ کا آپشن یعنی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کی کوشش بھی کوئی آسان راستہ نہیں تھا۔ اس کے لیے نہ صرف سمندری راستے سے بارودی سرنگوں کو صاف کرنا ضروری تھا بلکہ جہازوں کو میزائل حملوں اور چھوٹی کشتیوں، بشمول بغیر پائلٹ کی جانے والی کشتیوں، کے حملوں سے محفوظ رکھنا بھی لازم تھا۔

بالآخر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چوتھے آپشن کا انتخاب کیا۔

جنگ سے پہلے کی صورتِ حال میں واپسی کیوں ممکن نہیں؟

واشنگٹن آبنائے ہرمز میں بحری کارروائیاں کرنے کے لیے کسی اتحاد کو تشکیل دینے میں ناکام رہا۔۔۔ نہ تو نیٹو کے اتحادیوں کے ساتھ اور نہ ہی اُن ایشیائی ممالک کو اس میں شامل کر سکا جو آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی میں خلل سے متاثر ہوئے تھے۔

نتیجتاً، امریکہ کو اکیلے کارروائی کرنا پڑی اور اس کی صلاحیتیں اور وسائل ویسے وسیع ثابت نہیں ہوئے جیسا بظاہر نظر آتے تھے۔

ایران کے خلاف کارروائی کے آغاز پر امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں نسبتاً بڑا بحری بیڑا جمع کیا۔ پہلے سے موجود ڈسٹرائرز، گشتی بحری جہازوں اور دیگر بحری وسائل کے علاوہ، دو طیارہ بردار بحری گروپ بھی شامل کیے گئے، جن میں درجنوں طیارے اور ہیلی کاپٹر موجود تھے جبکہ تیسرا بحری گروپ اب پہنچ رہا ہے۔

تاہم ان تمام بحری وسائل میں سے صرف ایک محدود حصہ ہی آبنائے ہرمز میں مؤثر طور پر کارروائی کرنے کے قابل ہے۔

Reutersگائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر فرینک پیٹرسن، طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کے ساتھ آنے والے بحری جہازوں میں سے ایک، ایران کے ساحل سے سینکڑوں کلومیٹر دور بحیرہ عرب میں تعینات ہےایران کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کرنا آسان ہے

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اختیار کیا گیا چوتھا آپشن بظاہر بادی النظر میں منطقی دکھائی دیتا ہے: اگر ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی گزرگاہ بند کرتا ہے تو اسے اس کی قیمت ادا کرنی ہو گی۔ اس حکمتِ عملی میں بظاہر واپسی کا کوئی راستہ اب بھی موجود نظر آتا ہے، مگر ساتھ ہی ایران کے لیے مستقبل کا منظرنامہ تاریک اور غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔

تکنیکی اعتبار سے یہ آپشن قابلِ عمل ہے۔ بحیرۂ عمان اور بحیرۂ عرب میں ایران کے ’شیڈو فلیٹ‘ سے منسلک جہازوں کو روکنا۔۔ جو ایران کے ساحل سے خاصے فاصلے پر واقع ہیں۔۔۔ امریکی بحری جہازوں کے لیے خطرات کم کر سکتا ہے۔

اس وقت اس نوعیت کی ناکہ بندی کے لیے کافی بحری قوت موجود ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے ذمہ دار امریکی پانچواں بحری بیڑا ایک لچکدار ڈھانچے کا حامل ہے اور اس کی ترتیب مشن کی نوعیت کے مطابق تیزی سے تبدیل کی جا سکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق مزید کمک بھی خطے کی جانب روانہ کی جا رہی ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی: آبنائے ہرمز پر کنٹرول کس کا ہے اور بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں خلیجِ فارس میں اتنا زیادہ تیل اور گیس کیوں موجود ہے؟کیا ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر سکتا ہے؟کیا امریکہ نے ایران جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں؟

اسرائیلی عسکری ماہر ڈیوڈ گینڈل مین لکھتے ہیں کہ ’جب قارئین یہ سوال کرتے تھے کہ کیا امریکہ فوجی طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھول سکتا ہے، تو میں ہمیشہ یہ جواب دیتا تھا کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کرنا، دوسروں کے لیے اسے کھولنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے۔ امریکیوں نے بھی اب اس مساوات کو سمجھ لیا۔‘

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ صرف ایران کو ہی نقصان نہیں پہنچائے گا۔

امریکہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں کوئی عجلت نہیں دکھا رہا، ایک ایسی گزرگاہ جو فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد جہاز رانی کے لیے انتہائی خطرناک ہو چکی بلکہ اس ناکہ بندی میں مزید سختی کی جا رہی ہے۔ ایرانی بارودی سرنگوں سے بھرا ہوا سمندری راستہ اور میزائلوں کی زد میں موجود آبنائے ہرمز ویسے ہی خطرناک ہے، ایسے میں آبنائے ہرمز کے دہانے یا اخراج پر کسی امریکی ڈسٹرائر کا سامنا خطرے کو دوگنا کر دیتا ہے۔

خلیجی ممالک کے تجارتی شراکت داروں کو براہِ راست معاشی نقصان اٹھانا پڑا، سپلائی چین متاثر ہو چکی ہیں اور عالمی تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ گئی ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ چین، جس کے پاس ایک بڑی بحری قوت اور جیبوتی میں فوجی اڈہ بھی ہے، اس ناکہ بندی پر کیا ردِعمل دے گا۔

اسی دوران، امریکہ کے اتحادیوں کے لیے بھی امید کی کوئی خاص وجہ موجود نہیں، ان میں سے کئی ممالک اس جنگ میں شامل ہوئے بغیر ہی اس کے نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں۔

* روسی حکومت نے ایلیا آبیشف کو ’غیر ملکی ایجنٹس‘ کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ بی بی سی نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی اور اسے عدالت میں چیلنج کیا۔

آبنائے ہرمز ایران کے لیے ’جوہری بم‘ سے بھی زیادہ مؤثر ہتھیارسستے تیل اور گیس کا دور ختم: ’تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران‘ ایران جنگ ختم ہونے کے بعد طویل عرصے تک جاری رہے گا امریکہ کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی: آبنائے ہرمز پر کنٹرول کس کا ہے اور بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں خلیجِ فارس میں اتنا زیادہ تیل اور گیس کیوں موجود ہے؟ایران جنگ اور لیگو: بی بی سی کو پروپیگنڈا ویڈیوز بنانے والے ایرانی شہری نے کیا بتایا؟ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کا کردار: ایرانی عوام کی امیدیں اور خدشات
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More