ایرانی وزیر خارجہ کے ہنگامی دورے اور ٹرمپ کا ’فون پر رابطہ‘ کرنے کا مشورہ: حالیہ پیش رفت مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے کیا ظاہر کرتی ہے؟

بی بی سی اردو  |  Apr 27, 2026

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اپنا دورہ پاکستان مکمل کر کے گذشتہ شب روس کے لیے روانہ ہو گئے ہیں اور ماسکو میں ایران کے سفیر کاظم جلالی کے مطابق عباس عراقچی روسی دارالحکومت ماسکو میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔

گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران عباس عراقچی کا یہ دوسرا دورہ پاکستان تھا۔

امریکہ، ایران تنازع سے متعلق تازہ ترین تفصیلات بی بی سی اُردو کے لائیو پیج پر

جمعہ (24 اپریل) کی شب جب ایرانی وزیر خارجہ پاکستان پہنچے تو یہ عندیہ ملا کہ شاید امریکہ اور ایران کے درمیان بظاہر تعطل کے شکار مذاکرات میں اہم پیش رفت ہونے جا رہی ہے، اور اسی دوران وائٹ ہاؤس کی جانب عالمی ذرائع ابلاغ کو بتایا گیا کہ جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف پر مشتمل امریکی مذاکراتی ٹیم بھی سنیچر کو اسلام آباد کا دورہ کر سکتی ہے۔

تاہم جمعہ کو عباس عراقچی کے دورہ پاکستان کے تناظر میں اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے آگاہ کیا کہ ایرانی وفد کے حالیہ دورۂ پاکستان کا مقصد ’دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینا اور علاقائی صورتحال پر مشاورت‘ کرنا تھا اور یہ دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے۔

عباس عراقچی پاکستان میں جمعہ کی شب وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوں کے بعد مسقط روانہ ہو گئے اور جلد ہی صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی اعلان کیا گیا کہ وہ اپنے نمائندے اسلام آباد نہیں بھیج رہے اور یہ کہ اگر ایرانی مذاکرات کے خواہاں ہیں تو وہ امریکی نمائندوں کو فون کر سکتے ہیں۔

24 اپریل کو ہونے والی اس پیشرفت کے بعد اتوار (26 اپریل) کی شام عباس عراقچی مسقط سے واپسی پر ایک مرتبہ پھر پاکستان پہنچے، اور چند ہی گھنٹوں پر محیط دورہ مکمل کر کے روس کے لیے روانہ ہو گئے۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ ’پاکستان خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔‘

اس موقع پر یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ اب پاکستان کی سہولت کاری میں ہونے والے امریکہ، ایران مذاکرات کا مستقبل اب کیا ہو گا اور اس نازک موقع پر ایرانی وزیرِ خارجہ کے اِن ہنگامی دوروں کا مقصد کیا ہے؟

امریکی صدر کے بیانات کیا ظاہر کرتے ہیں؟Getty Imagesصدر ٹرمپ نے سنیچر کو اعلان کیا کہ وہ اپنے نمائندے اسلام آباد نہیں بھیج رہے اور یہ کہ اگر ایرانی مذاکرات کے خواہاں ہیں تو وہ فون پر رابطہ کر سکتے ہیں

چند ماہرین کے مطابق امریکی صدر کے حالیہ بیانات نے موجودہ صورتحال کو ایک ’معمے‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔

اگرچہ پاکستانی حکام اِن حالیہ ملاقاتوں کی نوعیت اور تفصیلات پر خاموش نظر آتے ہیں تاہم ایران کے نیم سرکاری خبررساں اداروں کا دعویٰ ہے کہ حالیہ دورہ پاکستان کے دوران عباس عراقچی نے آئندہ مذاکرات کے لیے اپنی تحریری شرائط اور مطالبے اسلام آباد کی وساطت سے امریکہ تک پہنچا دیے ہیں۔

اسلام آباد اور تہران میں حالیہ پیش رفت سے آگاہ ذرائع نے بھی بی بی سی اُردو کو اس کی تصدیق کی ہے اور امریکی صدر کا حالیہ بیان بھی ان معلومات کی تائید کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے پاکستان میں مذاکرات کے لیے طے شدہ دورے کو منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران میں ’جو بھی معاملات چلا رہا ہے‘ امریکہ اس سے بات کرنے کے لیے تیار ہے اور ’وہ جب چاہیں ہمیں فون کر سکتے ہیں۔‘

امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کے پاس ’تمام پتے‘ ہیں۔

بی بی سی نے پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیانات کا مطلب کیا ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کا کردار اب کیسے آگے بڑھے گا؟

ماہرین کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ انھیں ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔

ماضی میں واشنگٹن میں بطور پاکستانی سفیر خدمات انجام دینے والی ملیحہ لودھی سے پوچھا گیا کہ وہ کون سے ’پتے‘ ہیں جن کا ذکر صدر ٹرمپ اس موقع پر کر رہے ہیں، تو اُن کا کہنا تھا: ’یہ ٹرمپ کا لفاظی پر مبنی روایتی بیان ہے، جو بنیادی طور پر ملک کے اندر موجود لوگوں کے لیے ہے۔‘

Reuters

وہ کہتی ہیں کہ ’جب ایران کے پاس سٹریٹجک برتری (آبنائے ہرمز پر کنٹرول) تاحال موجود ہے تو ایسے میں ٹرمپ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ تمام پتّے اُن کے ہی پاس ہیں۔‘

دیگر تجزیہ کار بھی اس نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

قائدِ اعظم یونیورسٹی سے منسلک تاریخ دان اور تجزیہ کار ڈاکٹر الہان نیاز کہتے ہیں کہ ’ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ حکومت کی تبدیلی، جوہری پروگرام کے خاتمے، میزائل پروگرام کی تباہی، پراکسی گروہوں کے خاتمے اور ڈرون پروگرام کی تباہی کے مقاصد سے شروع کی گئی تھی۔‘

ان کے مطابق ’بظاہر تاحال یہ تمام مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔ اس کے علاوہ ایران نے آبنائے ہرمز پر بھی کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے، جس سے اس کی سٹریٹجک پوزیشن میں بہتری آئی ہے۔‘

ڈاکٹر الہان نیاز کہتے ہیں کہ ’ٹرمپ کو اس بات کا اعتراف کرنے میں وقت لگے گا کہ اُن کا ایران کا جُوا ناکام ہو گیا ہے۔‘

آسٹریلیا کی ڈیکن یونیورسٹی سے منسلک محقق زاہد شہاب احمد کہتے ہیں کہ ’جہاں تک ٹرمپ کے پاس موجود کارڈز کی بات ہے تو امریکہ جانتا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا ایران کی معیشت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ کیونکہ سمندری راستے سے اس کی تیل کی تجارت میں رکاوٹ آ رہی ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر ایران اپنا تیل فروخت نہ کر پایا تو عین ممکن ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اسے اپنے تیل کے کنویں بند کرنا پڑیں۔

اُن کے بقول اگر ایک مرتبہ یہ کنویں بند کر دیے جائیں تو انھیں دوبارہ کھولنے کی بہت زیادہ لاگت ہے جبکہ اس میں وقت بھی بہت زیادہ لگتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ اب ایران پر بھی دباو بڑھ رہا ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ عمان اور روس سمیت دیگر ممالک سے بھی اپنے رابطے بڑھا رہا ہے، تاکہ ایک کثیر ملکی معاہدہ ہو جس میں ایران کو کچھ یقین دہانیاں بھی کروائی جائیں۔

ایران امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے گریزاں کیوں ہے؟آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگیں کتنی خطرناک ہیں اور انھیں ہٹانا اتنا مشکل کیوں؟امریکہ ایران کشیدگی: جنگ اور سفارت کاری کے درمیان چار ممکنہ منظر نامے کیا ہو سکتے ہیںخطرہ بھی ہے اور موقع بھی: دو جنگ بندیاں امریکہ ایران مذاکرات کو کیسے آگے بڑھا سکتی ہیں؟

اتوار کو فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں بھی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کا تیل انفراسٹرکچر اگلے تین روز میں ایکسپلوڈ (پھٹ) کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس کی منطق یہ پیش کی کہ اگر پائپ لائنز کے ذریعے تیل مسلسل آ رہا ہے، لیکن اسے آئل ٹینکرز یا تیل ترسیل کرنے والے جہازوں میں منتقل نہیں کیا جاتا تو یہ سسٹم شدید دباؤ آتا ہے اور ہماری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کو کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے پر کیوں ہیں؟

پاکستان، تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار نبھا رہا ہے اور اس کے وزیرِ خارجہ کے اسلام آباد کے دورے اسی سبب ہیں، لیکن سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں کہ ان کے مسقط اور ماسکو جانے کے پیچھے کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟

سابق سفیر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے عمان اور روس کے دورے اور اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے، ایران کی علاقائی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔

ملیحہ لودھی کی رائے میں ’ان کا مقصد ایران کی سفارتی پوزیشن کو مضبوط کرنا، جنگ بندی برقرار رکھنا اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر بات چیت کرنا ہے۔‘

دوسری جانب ڈاکٹر الہان نیاز کہتے ہیں کہ ممکنہ طور پر ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول تسلیم کروانا چاہتا ہے اور اس ضمن میں عمان اور پاکستان کی سفارتی حمایت حاصل کرنے کا بھی خواہاں ہے۔

روس ایران کا ایک قریبی اتحادی ہے اور ڈاکٹر الہان نیاز کے مطابق عباس عراقچی کا روس کا دورہ کسی طور بھی حیرت کا باعث نہیں ہے۔

’اگرچہ سرکاری طور پر اس کی تردید کی جاتی رہی ہے لیکن روس کا موجودہ جنگی منظر نامے میں ایران کی کامیابی میں مدد دینے میں ایک واضح مفاد موجود ہے۔‘

کیا پاکستان سہولت کار سے ثالث بننے کی طرف بڑھ رہا ہے؟

یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ موجودہ مذاکرات میں اب پاکستان کا کردار صرف بطور سہولت کار کا نہیں بلکہ ایک ثالث کا ہے۔

ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ عالمی تنازعات میں ’کسی سہولت کار کا کردار عموماً وقت کے ساتھ ایک ثالث کے کردار میں بدل جاتا ہے۔‘

تاہم وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا نعم البدل نہیں ہو گا، بلکہ ان ہی مذاکرات تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔‘

تاہم ڈاکٹر الہان نیاز سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا کام ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں مدد دینا ہے اور فریقین کو یہ بتانا ہے کہ صورتحال کسی طرف جا رہی ہے۔

’اس جنگ کا فوری خاتمہ پاکستان کے مفاد میں ہے لیکن پاکستان امریکہ کے اچھے رویے کی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔‘

’کوئی بھی طاقت یا اتحاد امریکہ کی ضمانت نہیں لے سکتا اور تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی سرگرمیوں کے موجودہ دور میں یہ ایک بڑی رُکاوٹ نظر آئی ہے۔‘

محقق زاہد شہاب احمد کہتے ہیں کہ پاکستان نے سہولت کار اور ثالث کے طور پر دونوں کردار نبھائے ہیں، لیکن بظاہر اب ایسا لگتا ہے کہ اس عمل میں مزید ممالک شامل ہوں۔

اُن کے بقول ایران کو اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ مذاکرات کی میز اسلام آباد میں سجے اور وہ پاکستان کو مرکزی ثالث بھی سمجھتے ہیں، تاہم وہ یہ چاہتے ہیں کہ دیگر علاقائی ممالک بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد سے عمان گئے اور پھر اسلام آباد آئے اور اب وہ روس پہنچ چکے ہیں۔

زاہد شہاب احمد کہتے ہیں کہ پاکستان بھی چاہے گا کہ دیگر ممالک بھی اس مذاکراتی عمل میں شامل ہوں اور امریکہ اور ایران کے بلواسطہ یا بلا واسطہ مذاکرات کا مرکز اسلام آباد ہی رہے۔ تاہم اُن کے بقول اس عمل میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

’معاہدے کی اُمید برقرار ہے‘

امریکہ، ایران مذاکرات کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے زاہد شہاب احمد نے کہا کہ ایران امریکی ناکہ بندی کا زیادہ دیر تک متحمل نہیں ہو سکتا اور اسی لیے اس کے آپشنز محدود ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک بڑا مسئلہ، جس کی طرف صدر ٹرمپ نے بھی بارہا اشارہ کیا ہے، یہ ہے کہ یہ پتہ نہیں چل پا رہا کہ ایران میں آخر فیصلے کون کر رہا ہے؟

اُن کے بقول حالیہ پیشرفتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ایران اور امریکہ، دونوں ہی جنگ کی طرف واپس نہیں جانا چاہتے، کیونکہ اس جنگ کے نہ صرف خلیج بلکہ پوری دُنیا پر اثرات پڑ رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ بظاہر دونوں ممالک اب اس کوشش میں ہیں کہ ایک دوسرے کو زیادہ رعایتیں دیے بغیر کسی سمجھوتے تک پہنچ جائیں۔

’دونوں ممالک پاکستان کے ذریعے ایک دوسرے کو تحریری مسودے اور پیغامات پہنچا رہے ہیں اور دونوں ہی بارگین بھی کر رہے ہیں اور کچھ لچک بھی دکھا رہے ہیں۔‘

اُن کے بقول اُمید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی امن معاہدہ ہو سکتا ہے، لیکن اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے اور ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد، عمان اور روس کے دوروں کے نتائج بھی جلد سامنے آ جائیں گے۔

ایران امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے گریزاں کیوں ہے؟امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جنگ، تہران اس وقت کہاں کھڑا ہے؟ایران میں فیصلے کون کر رہا ہے؟آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگیں کتنی خطرناک ہیں اور انھیں ہٹانا اتنا مشکل کیوں؟اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات کی تیاری، تہران کی شرط اور پاکستان کا پسِ پردہ کردارکیا روایتی طاقتوں کا زوال پاکستان جیسی ’درمیانی طاقتوں‘ کو عالمی منظرنامے پر آگے لا رہا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More