’کماگاتا مارو‘ سے وینکوور کے ہاؤس فل سٹیڈیم تک: ’اس وقت آپ نے ہمیں آنے نہیں دیا اور اب ہم یہاں ہیں‘

بی بی سی اردو  |  Apr 29, 2026

’1914 میں جب ہمارے لوگ پہلی بار کینیڈا آئے تو ہمیں کینیڈا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔۔۔ اور وہ سٹیڈیم (جہاں میں نے پرفارم کیا) نانک جہاز ’کماگاتا مارو‘ کے واقعے کی جگہ سے صرف دو کلومیٹر دور ہے۔‘

’یہ ہمارے لیے بہت بڑی بات ہے۔ اب وہاں ایک ہی سٹیڈیم میں 55 ہزار لوگ جمع تھے اور وہ جگہ صرف دو کلومیٹر دور ہے۔۔۔ اس وقت آپ نے ہمیں آنے نہیں دیا اور اب ہم یہاں ہیں۔‘

یہ الفاظ معروف پنجابی گلوکار دلجیت دوسانجھ کے ہیں جو انھوں نے گذشتہ روز ’دی ٹونائٹ شو سٹارنگ جمی فیلن‘ میں کہے۔

یہ ایک مشہور امریکی لیٹ نائٹ ٹیلی وژن شو ہے جس کی میزبانی جمی فیلن کرتے ہیں۔ اس شو میں مشہور شخصیات کے انٹرویوز، موسیقی کی پرفارمنس، مزاحیہ حصے اور دلچسپ کھیل شامل ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ کماگاتا مارو 1914 میں پیش آنے والا ایک اہم تاریخی واقعہ ہے جس میں برطانوی ہندوستان سے آنے والے زیادہ تر سکھ مسافروں کو کینیڈا میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

گرو نانک جہاز کو کماگاتا مارو کا نام دیا گیا جو وینکوور کی بندرگاہ پر دو ماہ تک روکا گیا۔ بالآخر مسافروں کو واپس ہندوستان بھیج دیا گیا جہاں واپسی پر برطانوی حکام کی فائرنگ سے کئی افراد ہلاک ہوئے۔

یہ واقعہ نسل پر مبنی امیگریشن قوانین اور سکھ برادری کی جدوجہد کی ایک نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔

جمی فیلن نے دلجیت سے پوچھا کہ ’اب آپ کیا کہیں گے، آپ کا پیغام کیا ہے؟‘

جس پر انھوں نے کہا ’میرا پیغام بس محبت ہے۔ معافی اور احترام۔۔۔ یہی میرا پیغام ہے۔‘

دلجیت دوسانجھ نے اس شو میں اپنے نئے البم ’اورا‘ سے لے کر کوچیلہ میں پرفارمنس پر بھی بات کی اور جمی کو بھنگڑا ڈانس بھی سکھایا۔

کماگاتا مارو کا سانحہ کیا تھا، اس کی تفصیل میں جانے سے قبل دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کیا بات کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر احمد علی خان نے دلجیت کا کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا ’دلجیت دوسانجھ ایک اہم تاریخی لمحے کو اجاگر کرتے ہیں۔۔۔ ’کماگاتا مارو‘ کے واقعے کے دوران سکھوں کو داخلے سے انکار کیے جانے سے لے کر 2026 میں وینکوور کے ایک سٹیڈیم میں 55,000 افراد کا اُن کی پرفارمنس دیکھنے کے لیے جمع ہونا۔۔۔ تاریخ، استقامت اور فخر پوری طرح نمایاں نظر آتے ہیں۔‘

گرشمشیر سنگھ نے لکھا کہ دلجیت نے جمی کے شو میں اپنی دوسری شرکت کے موقع پر امتیازی برطانوی نوآبادیاتی پالیسی پر ایک سیاسی بیان دیا، جس میں ’کماگاتا مارو‘ کے المیے کا حوالہ دیا اور پنجابیوں کے ایک عالمی طور پر خوشحال برادری بننے کے سفر کو بیان کیا۔۔۔ جس میں ایک عالمی پنجابی فنکار کے طور پر اُن کی اپنی ترقی بھی شامل ہے۔

گِلی نامی صارف نے لکھا ’دلجیت دوسانجھ جہاں بھی جاتے ہیں اپنی پنجابی اور سکھ شناخت کو ساتھ لے جاتے ہیں۔‘

ہرش ویویک سنگھ نے دلجیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم پر کماگاتا مارو کے المیے کو شیئر کرنے دلجیت نے بہت اچھا کام کیا۔

کماگاتا مارو کا واقعہ کیا تھا؟

کماگاتا مارو کا سفر ایک المیہ تھا جو 1914 میں پیش آیا۔ یہ کہانی ہندوستانیوں کی کینیڈا میں آباد ہونے کی خواہش سے شروع ہوئی اور ایک ہولناک قتلِ عام پر ختم ہوئی۔

مورخ ڈاکٹر ہریش پوری اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ اس واقعے نے نسلی امتیاز اور ہندوستانیوں کے اخراج کے رجحان کو چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں کینیڈا کو صرف گوروں کا ملک بنا کر رکھنے کی کوشش کی گئی۔

ان کے مطابق، ’ہانگ کانگ سے وینکوور اور واپس کولکتہ کے بج بج گھاٹ تک سفر کرنے والے افراد کو شدید تذلیل کا سامنا کرنا پڑا، جو بالآخر قتلِ عام پر منتج ہوا۔‘

29 ستمبر 1914 کو، بج بج گھاٹ پر واپس آنے والے جہاز کے مسافروں کو زبردستی حراست میں لینے کی کوشش کی گئی، اور جب انھوں نے مزاحمت کی تو فائرنگ کر دی گئی۔

اس فائرنگ میں 20 افراد ہلاک ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں مسافر زخمی ہوئے۔ اس کے بعد بھی اس واقعے سے جڑے لوگوں کو کئی برس تک تشدد اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔

بی بی سی پنجابی کی نامہ نگار سمن دیپ کور نے مورخ سمیل سنگھ سدھو اور ڈاکٹر امن پریت سنگھ گل سے گفتگو کی تاکہ کماگاتا مارو کے واقعے اور ہندوستانی آزادی کی تحریک پر اس کے اثرات کو سمجھا جا سکے۔

BBCکماگاتا مارو کا سفر کیسے شروع ہوا

مورخ اور 23 مارچ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سمیل سنگھ سدھو کہتے ہیں کہ کماگاتا مارو کا واقعہ پنجاب کی غدر تحریک سے بھی جڑا ہوا ہے اور اس کی ایک الگ تاریخی حیثیت ہے۔

ان کے مطابق، یہ سلسلہ 4 اپریل 1914 کو ہانگ کانگ سے شروع ہوتا ہے اور 29 ستمبر 1914 کو کولکتہ کے بج بج گھاٹ پر المناک انجام کو پہنچتا ہے۔

اس واقعے نے پنجاب میں لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ان کے غصے نے برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کی تیاری کی صورت اختیار کی۔

سمیل سنگھ سدھو بتاتے ہیں کہ کماگاتا مارو جہاز گوردت سنگھ سرہالی کی گرو نانک سٹیم شپ کمپنی کے تحت چلایا جا رہا تھا۔

گوردت سنگھ سرہالی نے مشاہدہ کیا تھا کہ مشرقی ایشیا، خصوصاً ملایا، ہانگ کانگ اور شنگھائی میں رہنے والے پنجابی وہاں مستقل طور پر بسنا نہیں چاہتے تھے بلکہ امریکہ اور کینیڈا جانا چاہتے تھے۔

لیکن اُس وقت ان ممالک میں شرط یہ تھی کہ صرف وہی لوگ داخل ہو سکتے ہیں جو بغیر کہیں رُکے براہِ راست پہنچیں۔

ان مشکلات کے حل کے لیے گوردت سنگھ سرہالی نے ایک جاپانی جہاز خریدا، جس کا نام کماگاتا مارو تھا، اور اس کا راستہ اس طرح بنایا کہ وہ ہانگ کانگ سے کینیڈا تک کہیں نہ رکے۔

Getty Imagesمسافروں کی تعداد اور کینیڈا پہنچنے کا وقت

اس طرح یہ جہاز وینکوور، کینیڈا پہنچا۔

جہاز میں موجود 376 مسافروں میں سے 340 سکھ، 24 مسلمان اور 12 ہندو تھے اور تمام مسافر پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔

جہاز میں 24 کینیڈین شہری بھی موجود تھے، اور کینیڈین حکومت نے صرف انھی 24 افراد کو اترنے کی اجازت دی۔

جہاز تقریباً دو ماہ تک وینکوور کی بندرگاہ پر کھڑا رہا۔

اس دوران کینیڈا میں داخلے کے لیے قانونی چارہ جوئی بھی کی گئی، اور وینکوور کی سنگت نے لنگر اور دیگر ضروری سامان پہنچانے کی کوشش کی۔

نوآبادیاتی حکومت نے نہ تو یاتریوں کو داخل ہونے دیا اور نہ ہی لنگر پہنچنے کی اجازت دی، جس کے باعث صورتحال انتہائی کشیدہ رہی۔

کینیڈا میں مقیم ہندوستانی اور ایشیائی افراد نے حکومت کی مخالفت کی، اور کچھ کینیڈین سوشلسٹ گوروں کی حمایت بھی حاصل ہوئی، لیکن نسل پرست عناصر کے غلبے کے باعث مسافروں کو داخلہ نہ مل سکا۔

بالآخر کماگاتا مارو کو واپس لوٹنا پڑا

سمیل سنگھ سدھو کے مطابق، اگرچہ اس وقت کینیڈا اور ہندوستان دونوں برطانوی حکومت کے زیرِ نگیں تھے، لیکن ہندوستانی حکومت نے بھی ان مسافروں کی کوئی مدد نہ کی۔

حتیٰ کہ مکمل دستاویزات ہونے کے باوجود، ہندوستانی حکومت نے عملاً ان کی مدد سے انکار کر دیا، جسے پنجابیوں نے نسلی تقسیم کے طور پر شدید طور پر محسوس کیا۔

جہاز 4 اپریل کو ہانگ کانگ سے روانہ ہوا تھا، اس میں شنگھائی، موجی اور یوکوهاما کے مسافر بھی سوار تھے، اور اسے 23 جولائی کو زبردستی واپس موڑ دیا گیا۔

جاپان کے کوبے بندرگاہ کے سوا کہیں رکنے کی اجازت نہ ملی، اور انھی حالات میں وہ کولکتہ کے بج بج گھاٹ پہنچے۔

دلجیت دوسانجھ: انڈین پنجاب کے چھوٹے سے گاؤں سے کوچیلا اور امریکی ٹی وی تک کا سفر کیسا رہاانسان دوست سدھو موسے والا: ’گلوکار جس نے نوجوان نسل کو پنجاب اور سکھ مذہب سے جوڑا‘ دلجیت دوسانجھ: کسان کا بیٹا ’کنگ آف پنجابی فلمز‘ کیسے بنادلجیت کی کانسرٹ میں ہانیہ عامر سے ملاقات: ’سپر سٹار آئی ہو اور وہ نیچے کھڑی رہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟‘کماگاتا مارو کا سانحہ 4 اپریل سے 29 ستمبر 1914 کے درمیان پیش آیا۔کینیڈا نے خود کو ایک سفید فام ملک برقرار رکھنے کی پالیسی کے تحت ہندوستانیوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی۔حکومتی پالیسی کے مطابق، کوئی بھی شخص اس وقت تک کینیڈا میں داخل نہیں ہو سکتا تھا جب تک وہ براہِ راست کسی ایک ہی ملک سے سفر کر کے نہ آیا ہو۔اس پالیسی سے ہٹ کر، ہانگ کانگ، سنگاپور اور ملایا سے تعلق رکھنے والے ایک کاروباری شخص گوردت سنگھ سرہالی نے ایک ہی جہاز خریدا۔یہ جہاز 376 مسافروں کو لے کر براہِ راست وینکوور کی طرف روانہ ہوا، لیکن اس میں موجود غیر کینیڈین مسافروں کو اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔وینکوور کی بندرگاہ پر دو ماہ کی جدوجہد کے بعد اس جہاز کے مسافر کولکتہ واپس لوٹ آئے۔جب برطانوی حکومت نے یہاں انہیں حراست میں لینے کی کوشش کی تو انھوں نے مزاحمت کی۔برطانوی حکومت ان افراد کو جو ہندوستان واپس آئے تھے، غدر تحریک سے وابستہ سمجھتی تھی۔مزاحمت کے دوران پولیس نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔اس واقعے نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک، خصوصاً پنجاب میں، نئی طاقت اور جوش پیدا کیا۔Getty Imagesبج بج گھاٹ پر فائرنگ

کماگاتا مارو کے بج بج گھاٹ پہنچنے سے پہلے ہی برطانوی حکومت نے مسافروں کو مختلف مقامات پر لے جانے کے لیے گاڑیاں تیار کر رکھی تھیں، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

جب مسافروں نے زبردستی گاڑیوں میں بٹھانے کے خلاف احتجاج کیا تو پولیس نے فائرنگ کر دی، جس میں تقریباً 20 پنجابی مسافر مارے گئے اور بڑی تعداد زخمی ہوئی۔

فائرنگ کے دوران کچھ لوگ ٹرین کے ذریعے فرار ہو گئے جبکہ کچھ پیدل جھارکھنڈ اور اوڈیشہ کے جنگلات کی طرف نکل گئے، جہاں زخموں اور بخار کے باعث کئی افراد جان سے گئے۔

ڈاکٹر امن پریت سنگھ گل کے مطابق، ’اس کے بعد اس جہاز کے منتظم بابا گوردت سنگھ سرہالی کو سات برس زیرِ زمین رہنا پڑا اور بعد ازاں پانچ برس قید کاٹنی پڑی۔‘

بابا گوردت سنگھ کی گرفتاری

ڈاکٹر گل بتاتے ہیں، ’پولیس واپس آنے والے مسافروں کو غدر پارٹی سے جوڑ کر دیکھتی تھی۔ یہ درست ہے کہ اس ناانصافی کو دیکھ کر بابا گوردت سنگھ کا جھکاؤ غدر پارٹی کی طرف ہوا۔‘

’لیکن بنیادی طور پر وہ مسلح جدوجہد کی پالیسی سے متفق نہیں تھے۔‘

غدر پارٹی، امریکہ میں مقیم پنجابیوں کو ہندوستان میں مسلح جدوجہد کے لیے دعوت دے رہی تھی۔

جبکہ بابا گوردت سنگھ ہندوستانیوں کو امریکہ اور کینیڈا کی آزاد زمینوں میں بسنے اور آزاد شہری بننے کا خواب دکھا رہے تھے۔

ان کے مطابق، ’کینیڈین حکومت کا امتیازی سلوک، برطانوی سلطنت کی اپنے ہندوستانی رعایا سے غداری، اور بج بج گھاٹ پر پولیس تشدد نے بابا گوردت سنگھ کو غدر والوں کی سوچ کے قریب کر دیا۔‘

’لیکن وہ کانگریس کی قوم پرستانہ پالیسی سے بھی خاصے متاثر تھے اور بالآخر مہاتما گاندھی کے مشورے پر نومبر 1921 میں سات برس گمنامی کے بعد پولیس کے سامنے خود کو پیش کیا۔‘

ٹروڈو کی معذرت

کماگاتا مارو کے واقعے کو نسلی امتیاز قرار دیتے ہوئے انڈین تارکینِ وطن مسلسل کینیڈین حکومت سے معافی کا مطالبہ کرتے رہے۔

کینیڈا کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے 2016 میں پہلی بار اس سانحے پر کینیڈین حکومت کی جانب سے باضابطہ معافی مانگی۔

ایوانِ زیریں میں اس موقع پر جسٹن ٹروڈو نے کہا ’آج یہ جانتے ہوئے کہ کوئی بھی الفاظ مسافروں کے دکھ اور تکلیف کو مکمل طور پر مٹا نہیں سکتے، میں حکومت کی جانب سے اُس وقت کے قوانین پر دل کی گہرائی سے معذرت کرتا ہوں جنہوں نے کماگاتا مارو کے مسافروں کی حالتِ زار سے کینیڈا کو لاتعلق رہنے کی اجازت دی۔‘

’ہم نے اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھا ہے اور سیکھتے رہیں گے، اور ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ غلطیاں دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔‘

’میٹ گالا‘ میں پنجاب کی انٹری: دلجیت دوسانجھکو اپنے انداز سے متاثر کرنے والے مہاراجہ بھوپندر سنگھ کون تھے؟’جب فلم سائن کی تب سب ٹھیک تھا‘: دلجیت کا ’سردار جی تھری‘ میں ہانیہ عامر کے ساتھ کام کرنے پر موقفدلجیت دوسانجھ: انڈین پنجاب کے چھوٹے سے گاؤں سے کوچیلا اور امریکی ٹی وی تک کا سفر کیسا رہاسدھو موسے والا کو کیوں قتل کیا گیا؟ گینگسٹر گولڈی برار کی زبانیدلجیت کی کانسرٹ میں ہانیہ عامر سے ملاقات: ’سپر سٹار آئی ہو اور وہ نیچے کھڑی رہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟‘انسان دوست سدھو موسے والا: ’گلوکار جس نے نوجوان نسل کو پنجاب اور سکھ مذہب سے جوڑا‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More