’تھوکے گئے متبرک پانی سے کینسر کا علاج‘: طبی سہولیات کی قلت سے مایوس افغان روحانی معالجین سے رجوع پر مجبور

بی بی سی اردو  |  Apr 30, 2026

BBC via Gettyسفید پگڑی اور لمبی سیاہ داڑھی میں ملبوس قادری خود کو ’پیر‘ یا معالج کہتے ہیں

افغانستان کے جنوبی شہر قندھار کے مضافات میں ایک سادہ سے گھر کے سامنے درجنوں لوگ جمع ہیں۔ وہ یہاں اُن بیماریوں سے نجات کی امید میں آئے ہیں جو اُن کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

ایک کمرے میں، جس کی دیواروں پر شوخ پینٹ کیا گیا ہے، بہت سے بیمار مرد، خواتین اور بچے بیٹھے یا لیٹے نظر آتے ہیں تاہم یہاں موجود تمام افراد موت کے دہانے پر نہیں یا کسی شدید بیماری میں مبتلا نہیں۔

ایک کونے میں ندا محمد قادری بیٹھے ہیں، یہ وہی شخصیت ہیں، جن سے ملنے یہ سب لوگ آئے ہیں۔ سفید پگڑی اور لمبی سیاہ داڑھی میں ملبوس قادری خود کو ’پیر‘ یا معالج کہتے ہیں۔

BBCندا محمد قادری کے گھر پر اکثر لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں، جہاں لوگ اُن سے ملنے کے منتظر ہوتے ہیں

قادری پانی کی ایک بوتل سے گھونٹ لیتے ہیں اور پھر سامنے بیٹھے لوگوں پر تھوک کر پانی چھڑکتے ہیں۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ خدا کے وسیلے سے یہ سادہ سا عمل سرطان اور تھیلیسیمیا جیسے امراض میں مبتلا بہت سے لوگوں کو شفا دے چکا ہے۔

قادری کے پاس نہ کوئی باقاعدہ مذہبی تعلیم ہے اور نہ ہی کوئی طبی تربیت۔ چند سال قبل تک وہ باورچی کے طور پر کام کرتے تھے لیکن وہ کہتے ہیں کہ اُس وقت بھی لوگ تعویذ لینے کے لیے اُن کے پاس آتے تھے ــ ایسی چھوٹی اشیا جنھیں کچھ لوگ مافوق الفطرت طاقت کا حامل سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے لوگوں کی حالت بہتر ہوتی گئی، ویسے ویسے آنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، خصوصاً سرطان کے مریضوں کی۔

Habib Ullahحبیب اللہ کے بیٹے اسد کی قبر، جو مناسب علاج نہ ملنے کے بعد فوت ہو گیاشعبہ صحت کی بری حالت

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق افغانستان میں ہر سال 24 ہزار سے زیادہ افراد کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس بیماری کے باعث سالانہ تقریباً 17 ہزار اموات ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ہسپتالوں اور کلینکس کی قلت اور وہاں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی کے باعث بہت سے مریضوں کی کبھی باقاعدہ تشخیص ہی نہیں ہو پاتی۔

افغانستان میں لوگ مناسب طبی سہولیات کی کمی اور اُن چند طبی مراکز تک رسائی کے اخراجات کے سبب تیزی سے نام نہاد روحانی معالجوں کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں باقی خطے کی نسبت سرطان کی شرح زیادہ ہے، جس کی وجوہات میں طرزِ زندگی کے مختلف عوامل شامل ہیں، مثلاً نمکین غذاؤں کا حد سے زیادہ استعمال، بغیر دھوئیں والا تمباکو ’نسوار‘، اور غیر معمولی حد تک فضائی آلودگی۔

2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بین الاقوامی امداد میں بھی نمایاں کمی آئی۔ مثال کے طور پر انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے مالی وسائل کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے قندھار کے میر وائس ہسپتال کے لیے اپنی معاونت معطل کر دی، یہ ہسپتال خطے میں طبی سہولیات کا بڑا مرکز ہے۔

Bilal Guler/Anadolu Agency via Getty Images2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں صحت کا شعبہ شدید متاثر ہوا

منقطع مالی معاونت کے بعد یہ ہسپتال شدید وسائل کی کمی کا شکار ہو گیا، جس کے باعث مریضوں کو بنیادی ادویات اور سامان بھی خود خریدنا پڑتا ہے۔

ان شدید کمیوں کے اثرات، کم از کم جنوبی افغانستان میں جزوی طور پر ہمسایہ ملک پاکستان کے ذریعے کم کیے جاتے تھے۔ 18 ماہ پہلے تک قندھار کے رہائشی ویزے کے بغیر سرحد پار کر کے نسبتاً بہتر سہولتوں والے ہسپتالوں میں علاج کے لیے پاکستان جا سکتے تھے، حتیٰ کہ معمولی بیماریوں کے لیے بھی۔

لیکن یہ آمدورفت بھی اب بند ہو چکی۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان جھڑپوں کے بعد چمن اور سپن بولدک سرحدی راستے بند کیے گئے اور اب سخت پابندیاں عائد ہیں جن کے تحت وہ ادویات بھی محدود ہو گئی ہیں جو پہلے پاکستان سے درآمد کی جاتی تھیں اور جن پر یہ علاقہ بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔

اس سب نے افغانستان کے پہلے سے کمزور نظام صحت پر مزید دباؤ ڈال دیا۔

کابل میں منشیات بحالی مرکز پر فضائی حملہ: ’قیامت کا منظر تھا، میرے دوست آگ میں جل رہے تھے‘افغانستان میں بھوک کا شکار بچے: ’طالبان نے کہا انھیں زہر دے دو لیکن کمانے کے لیے گھر سے باہر مت نکلنا‘تجارتی رکاوٹوں، بے روزگاری اور غربت کے باوجود افغانستان کی معیشت میں تیزی کیسے آئی؟طورخم سرحد پر درجنوں افغان بچوں کی دراندازی پر تنازع: وہ بچے جو ’چند سو روپے کے لیے‘ اپنی جان پر کھیل جاتے ہیںعلاج میں رکاوٹیں

نذیر احمد میوندوال کی اہلیہ شکریہ کو ایک سال سے زیادہ عرصے قبل شدید سر درد ہونے لگا۔ وہ اپنی اہلیہ کو پاکستان لے گئے، جہاں ان کے دماغ میں رسولی کی تشخیص کے بعد اُن کا آپریشن کیا گیا۔

میوندوال کہتے ہیں کہ ’آپریشن کے بعد میری بیوی کی حالت بہتر ہونے لگی۔ اُس کا وزن کچھ بڑھ گیا اور چھ ماہ تک سب کچھ ٹھیک لگا تاہم اس کے بعد اُس کی صحت پھر بگڑنے لگی۔‘

مایوسی کے عالم میں، ڈاکٹروں کے مشورے پر وہ دوبارہ پاکستان جانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن تب تک سرحد بند ہو چکی تھی۔

میوندوال کہتے ہیں کہ ’میں نے تین بار پاکستانی ویزے کے لیے درخواست دی لیکن ہر بار وہ مسترد ہو گئی۔ میں کابل گیا لیکن وہاں بھی سرطان کے علاج کے مرکز میں ریڈیوتھراپی دستیاب نہیں تھی۔ میں مایوس ہو کر گھر لوٹ آیا۔‘

شکریہ مارچ میں وفات پا گئیں۔ وہ صرف 24 سال کی تھیں۔

قندھار میں قادری کے گھر پر اب بھی لوگ پہنچ رہے ہیں۔ بہت سے افراد آخری امید کی تلاش میں آتے ہیں۔

قادری کہتے ہیں کہ ’سرطان کے مریض افغانستان کے ہر کونے سے میرے پاس آتے ہیں، روزانہ 250 سے 300 بلکہ کبھی کبھی 400 تک لوگ آتے ہیں۔‘

حبیب اللہ کے بیٹے اسد بھی اُن میں شامل تھے۔

AFP via Getty Imagesافغانستان اور پاکستان کے درمیان جھڑپوں کے بعد سرحدی راستے بند ہو گئے

حبیب اللہ اپنے بیٹے کے علاج کے لیے ہمسایہ ملک پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن وہاں انھیں بتایا گیا کہ اب کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ انھیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اسد کو گھر لے جا کر باقی وقت خاندان کے ساتھ گزارنے دیں۔

ہار ماننے سے انکار کرتے ہوئے اور کسی طرح کے ’ذہنی سکون‘ کی تلاش میں، حبیب اللہ افغانستان واپس لوٹ آئے۔ ان کو اپنے دوستوں سے پتا چلا کہ قادری نے سرطان کے بہت سے مریضوں کو شفا دی، چنانچہ وہ اسد کو اُن کے پاس لے گئے۔

لیکن وہاں بھی کوئی امید نہ ملی۔

حبیب اللہ کہتے ہیں کہ ’اُنھوں نے میرے بیٹے کی تصویر لی اور اسے اپنے پاس رکھنے کو کہا، یہ کہہ کر کہ دس دن بعد اُس کا چہرہ بدل جائے گا اور وہ خود کو بھی پہچان نہیں پائے گا۔‘

اس کے برعکس، اسد کی حالت مزید خراب ہو گئی اور وہ ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں فوت ہو گیا۔

حبیب اللہ افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ ’میں نے اپنا بیٹا کھو دیا۔ اُس کے پانچ بچے اور ایک بیوہ پیچھے رہ گئی۔‘

’میرے بیٹے کو بے بنیاد وعدوں سے دھوکہ دیا گیا۔ پیسے اور تعویذ دیے لیکن سرطان سے صحت یاب نہ ہو سکا۔‘

حبیب اللہ کا دعویٰ ہے کہ اگرچہ قادری نے بطور ادائیگی ایک بھیڑ قبول کی تھی لیکن اس کے علاوہ بھی وہ ’نذرانے اور سفری اخراجات‘ کے نام پر بڑی رقم کا مطالبہ کرتے تھے۔

حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ قادری ’دھوکے باز‘ ہیں۔

BBCقادری نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مریضوں کو اینٹی بائیوٹکس فراہم کرتے ہیں لیکن صرف ڈاکٹروں سے مشورے کے بعد

قندھار کے ایک اور رہائشی جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، کہتے ہیں کہ وہ جلد کے کینسر کے علاج کے لیے کئی درگاہوں اور روحانی معالجوں، بشمول قادری، کے پاس گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’قادری نے مجھے کہا کہ پاکستان یا کہیں اور نہ جاؤ اور ایک بھیڑ لاؤ۔ ’خدا کے حکم سے تم مکمل طور پر ٹھیک ہو جاؤ گے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ سات دن تک دعا کے لیے قادری کے پاس جاتے رہے اور انھیں سیفٹریاکسون کے انجیکشن اور کو ایموکسی کلاو اور آگمینٹن کی گولیاں بھی دی گئیں۔ یہ طاقتور اینٹی بائیوٹکس ہیں جو عام طور پر بیکٹیریا کے مختلف انفیکشنز کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

’اس سب کے باوجود میری حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مجھے احساس ہو گیا کہ وقت ضائع ہو رہا ہے، اس لیے میں مجبوراً پاکستان کے شہر لاہور کے شوکت خانم ہسپتال گیا۔‘

وہاں طبی علاج کے بعد وہ صحت یاب ہو گئے۔

’لوگ میرے کام کے اعتراف میں خود ہی پیسے دیتے ہیں‘

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی اینٹی بائیوٹک سرطان کے علاج میں استعمال نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا ہے کہ ماہر معالجین کے مشورے کے بغیر ان ادویات کا غلط استعمال خطرناک ہے اور اس کے نتیجے میں متعدد مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں ادویات کے خلاف مزاحمت بھی شامل ہے۔

اس حوالے سے اپنے جواب میں قادری کسی قسم کی ادائیگی لینے سے انکار کرتے ہیں تاہم وہ بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ کچھ لوگ ان کے کام کے اعتراف میں خود ہی پیسے دے دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’آپ لوگوں سے پوچھ لیں۔‘

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’ڈاکٹر سے مشورے کے بعد‘ وہ اپنے پاس آنے والوں کو ادویات تجویز کرتے ہیں اور یہ کہ انھوں نے کبھی کسی کو مزید طبی علاج حاصل کرنے سے نہیں روکا۔

Hamid Sabawoon/Anadolu via Getty Imagesافغانستان کے بہت سے ہسپتال مریضوں کو اپنا طبی سامان خریدنے پر مجبور کرتے ہیں

قادری افغانستان میں مایوس لوگوں کو ایسی خدمات فراہم کرنے والے واحد شخص نہیں۔

ننگرہار کے رہائشی محمد عزیز سعیدی کہتے ہیں کہ ان کی جڑواں بیٹیوں کو تھیلیسیمیا تھا اور انھیں زندہ رہنے کے لیے ہر ماہ خون منتقلی کی ضرورت ہوتی تھی۔

ان کے مطابق کچھ رشتہ داروں کے مشورے پر وہ اپنی بیٹیوں کو روحانی معالجوں کے پاس لے گئے لیکن اُن کی حالت مزید بگڑ گئی۔

سعیدی کہتے ہیں کہ ’کسی نے کھانے میں پرہیز تجویز کیا تو کسی نے متبرک پانی دیا لیکن کوئی بہتری نہیں آئی۔ بعد میں ہم نے طبی علاج شروع کیا اور اب اُن کی حالت بہت اچھی ہے۔‘

ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ دعا اور روحانی علاج دائمی اور جان لیوا بیماریوں میں مبتلا افراد کو ذہنی سہارا اور تسلی تو دے سکتے ہیں لیکن ان کا نعم البدل طبی علاج نہیں ہونا چاہیے۔

یہ شاید قندھار کے اس معمولی سے گھر کے باہر صبر سے انتظار کرنے والوں کے لیے سننا مشکل ہو، ایسے لوگ جو کم ہوتی امید کے باعث وہاں پہنچتے ہیں۔

افغانستان میں غذائی قلت: ’دو ہفتوں میں پانچ نومولود بچوں کو مرتے دیکھا‘کابل میں منشیات بحالی مرکز پر فضائی حملے کے بعد اجتماعی تدفینکابل میں منشیات بحالی مرکز پر فضائی حملہ: ’قیامت کا منظر تھا، میرے دوست آگ میں جل رہے تھے‘افغانستان میں بھوک کا شکار بچے: ’طالبان نے کہا انھیں زہر دے دو لیکن کمانے کے لیے گھر سے باہر مت نکلنا‘تجارتی رکاوٹوں، بے روزگاری اور غربت کے باوجود افغانستان کی معیشت میں تیزی کیسے آئی؟طورخم سرحد پر درجنوں افغان بچوں کی دراندازی پر تنازع: وہ بچے جو ’چند سو روپے کے لیے‘ اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More