کارگل جنگ: کیا نواز شریف کو زمینی حقائق کا علم انڈین وزیراعظم واجپائی سے ہوا؟

بی بی سی اردو  |  May 04, 2026

AFP via Getty Images

مئی 1999 کے اوائل میں پاکستان کے وزیر اعظم نوازشریف کراچی میں تھے جب انھیں ان کے انڈین ہم منصب اٹل بہاری واجپائی کا فون آیا۔

واجپائی نے جو کہا، وہ نواز شریف کے لیے غیر متوقع تھا۔

چند ہی ماہ پہلے تو دونوں نے لاہور میں ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ کشمیر سمیت تمام مسائل کے سفارتی حل کی کوششیں تیز کی جائیں گی۔

واجپائی کے ساتھ بس میں لاہور آنے والے صحافی کے کے کٹیال نے اپنی کتاب ’جرنی ٹو ایمیٹی: انڈیا اینڈ مشرف پاکستان‘ میں لکھا: فروری 1999 میں واجپائی کے لاہور کے دورے میں، نواز شریف نے ایک ضیافت میں مہمانِ خصوصی کا جنگ مخالف مصرع ادا کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی یہ نظم پوری سنائیں، جس میں بار بار آتا تھا کہ ’جنگ نہ ہونے دیں گے۔‘

اس کے بعد نواز شریف نے اپنی طرف سے ایک خوب قافیہ بند مصرعکہا: ’مذاکرات کو بے رنگ نہ ہونے دیں گے۔‘

لیکن اس سے ڈھائی مہینے بعد ہی کراچی کے گورنر ہاؤس میں فون پر سنے واجپائی کے لفظوں میں نواز شریف کے لیے حیرت ہی حیرت تھی۔

وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی نے اپنی کتاب ’دی آئی وٹنس‘ میں لکھا ہے کہ واجپائی نے شکوہ کیا کہ پاکستان نے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔

’واجپائی نے کہا کہ جب لاہور میں ایسے اعزاز کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا تو پاکستان نے بہت چالاکی سے، انڈیا کے زیرِ انتظام کارگل کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔‘

کارگل کا پس منظر

اُس وقت پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف اپنی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ میں لکھتے ہیں کہ ’کارگل کوئی یک وقتی کارروائی نہیں تھی بلکہ دشوار گزار، برف سے ڈھکے شمالی علاقوں میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حکمتِ عملی کی سطح پر ہونے والی چالوں اور جوابی چالوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی تھی۔‘

’انڈیا کسی ایسی جگہ پر قبضہ کر لیتا جہاں اسے محسوس ہوتا کہ ہماری موجودگی کمزور ہے، اور ہم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ اسی طرح وہ سیاچن پر قابض ہونے میں کامیاب ہوئے (بظاہر انڈین حکومت کی منظوری کے بغیر)۔‘

’اور اسی طرح کشمیر کی آزادی کے لیے لڑنے والے مجاہدین نے کارگل کی ان بلندیوں پر قبضہ کیا جنھیں انڈین فوج سردیوں کے لیے خالی کر دیتی تھی۔‘

جنرل مشرف نے لکھا کہ ’اطلاعات تھیں کہ انڈیا شمالی علاقوں، خصوصاً شقما سیکٹر میں آپریشن کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ سنہ 1998 کی سردیوں میں انڈیا نے معمول کے برعکس اپنی ریزرو بریگیڈز واپس نہ بلائیں بلکہ دراس میں مزید فوج تعینات کی، جس سے اس کی جارحانہ تیاریوں کا تاثر ملا۔ انڈیا نے خصوصی ہتھیار، بنکر شکن آلات، ہائی آلٹیٹیوڈ ساز و سامان اور سنو موبائلز بھی حاصل کیے۔

’اس کے جواب میں پاکستان نے کارگل اور دراس سیکٹرز میں اپنی دفاعی پوزیشنز کے درمیان موجود خلا پُر کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ انڈیا کو لائن آف کنٹرول عبور کرنے سے روکا جا سکے۔ یہ منصوبہ جنوری 1999 میں منظور ہوا۔ نادرن لائٹ انفنٹری، جو مقامی اہل کاروں پر مشتمل تھی، کو اگلی چوکیوں پر تعینات کیا گیا اور ہدایت دی گئی کہ ایل او سی کے ساتھ واٹرشیڈ لائن عبور نہ کی جائے۔‘

مشرف لکھتے ہیں کہ ’یہ کارروائی انتہائی رازداری اور محدود وسائل کے ساتھ کی گئی اور اپریل 1999 کے آخر تک ایل او سی کے 120 کلومیٹر طویل غیر محفوظ حصوں میں 100 سے زائد نئی چوکیاں قائم کر دی گئیں۔ انڈیا پاکستان کی نئی پوزیشنز سے بے خبر رہا۔‘

کیا اس منصوبے کو حکومت کی منظوری حاصل تھی؟AFP via Getty Imagesنواز شریف کے مطابق انھیں بتایا گیا تھا کہ فوج خود حملے میں شریک نہیں ہو گی

بے خبری کا دعویٰ تو نواز شریف کا بھی ہے جن کا کہنا ہے کہ ’حکومت کی منظوری کسی بھی ایسی کارروائی کے لیے قانوناً لازم تھی۔‘

سہیل وڑائچ کی کتاب ’غدار کون‘ میں شامل انٹرویو میں نوازشریف بتاتے ہیں: ’مجھے وزیر اعظم کی حیثیت سے کارگل پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔‘

البتہ مشرف لکھتے ہیں کہ 29 جنوری 1999 کو سکردو میں اور 5 فروری 1999 کو نیلم وادی کے کیل سیکٹر میں فوج نے وزیر اعظم کو بریفنگز دیں جن میں بتایا گیا کہ ’ہماری دفاعی کارروائی انڈین سرگرمیوں کا ردِ عملتھی۔‘

نواز شریف حکومت میں وزیر اطلاعات، مشاہد حسین سید نے سنہ 2019 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’جنوری میں تو ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا تھا۔ میں اس بریفنگ کا حصہ تھا اور وہ سکیورٹی پر ایک عمومی بریفنگ تھی۔‘

اگلی بریفنگ، یعنی جو کیل کے مقام پر دی گئی، اس میں سرتاج عزیز بھی موجود تھے جو تب وزیر خارجہ تھے۔

وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ’یہ بریفنگ خاص طور پر نیلم ویلی روڈ پر انڈین مداخلت اور کاغان وادی کے ذریعے ایک متبادل سڑک کی کامیاب تکمیل سے متعلق تھی۔ اس میں کارگل کا کوئی ذکر نہیں تھا۔‘

تاہم مشرف کے مطابق ’بعد ازاں 12 مارچ کو ڈائریکٹوریٹ جنرلآف انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) میں بھی وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی‘ جس میں انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ شامل تھا۔

سرتاج عزیزاس بریفنگ میں بھی شامل تھے۔

وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’بریفنگ میں نہ تو کسی نئے اقدام یا آپریشن کا اشارہتھا اور نہ ہی پاکستانی فوج یا پیراملٹری فورس کی شمولیت کا یا ایل او سی پار کر کے ایسی پوزیشنیں سنبھالنے کے منصوبے کا جو اس سے پہلے انڈیا کے پاس ہوں۔‘

’بس انھوں نے کارگل سیکٹر میں مجاہدین کی سرگرمیوں میں تیزی کا بتایا تھا۔‘

پہلی جھڑپ اور خاموشی

مشرف لکھتے ہیں کہ ’دونوں افواج کے درمیان پہلی جھڑپ دو مئی کو ہوئی جبانڈینفوجی شیوک سیکٹر میں ہماری پوزیشن سے ٹکرا گئے۔‘

شاید اس کے فوراً بعد وہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر تب آئی ایس پی آر سے منسلک سابق کرنل اشفاق حسین نے اپنی کتاب ’جنٹلمین استغفراللہ‘ میں کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ پانچ مئی 1999 کی شام سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل افتخار علی خان (ریٹائرڈ) اپنی رہائش گاہ پر چائے پی رہے تھے۔ ایک غیر ملکی رسالہ الٹتے پلٹتے اچانک ان کی نگاہ ایک خبر پر جم کر رہ گئی۔ ’ہمالیہ کی چوٹیوں پر دنیا کے بلند ترین محاذ پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی جھڑپیں۔‘

انھوں نے فوری طور پر ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل توقیر ضیاء سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ شمالی علاقوں میں کیا ہو رہا ہے؟

’کچھ نہیں سر‘ فوری جواب ملا۔

جب جنرل افتخار نے ڈی جی آپریشنز کو بتایا کہ ایک غیر ملکی مضمون میں فوجی جھڑپوں کا ذکر ہے تو انھوںنے کہا کہ وہ چیک کر کے انھیں بتائیں گے ۔

شام گزر گئی، رات بھی۔ ڈی جی نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

اشفاق حسین کے مطابق ’دوسرے دن سیکرٹری دفاع نے خود ہی فون کیا۔ ڈی جی آپریشنز نے ان کے سوالات ٹالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر اور شمالی علاقوں میں چھوٹی موٹی جھڑپیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں، تشویش کی کوئی بات نہیں۔‘

’جنرل افتخار مطمئن نہیں ہوئے اور انھوں نے اصرار کیا کہ انھیں مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔‘

دو دن بعد جنرل افتخار کو بتایا گیا کہ بہت جلد وزیر اعظم کے لیے ایک بریفنگ کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں انھیں بھی مدعو کیا جائے گا۔

اس دوران لائن آف کنٹرول گرم تھی۔

مشرف لکھتے ہیں: ’دوسری مڈبھیڑ سات مئی کو بٹالک سیکٹر میں مجاہدین کے ساتھ ہوئی، جس میں انڈین فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ 10 مئی 1999 کو دراس سیکٹر میں مجاہدین کے ساتھ ایک اور جھڑپ کے بعد اعلیٰ انڈین عسکری قیادت میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔‘

انڈین حکومت کی جانب سے بنائی گئی کارگل ریویو کمیٹی نے، سرتاج عزیز کے مطابق، اسے تزویراتی اور جنگی حکمتِ عملی سے متعلق انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دیا۔

سعید مہدی کے مطابق کارگل کے بارے میں واجپائی سے علم ہونے پر ’نواز شریف حیران ہوئے اور وعدہ کیا کہ وہ اپنے چیف آف آرمی سٹاف (جنرل پرویز مشرف) سے بات کر کے انھیں جواب دیں گے۔‘

AFP via Getty Imagesجنرل مشرف نے کہا کہ اگر انڈیا نے فضائی یا سمندری راستے سے حملہ کیا تو اس سے نمٹلیا جائے گاکارگل جنگ کے وہ ’گُمنام ہیرو‘ جن کے والد 26 سال بعد بھی قانونی جنگ لڑ رہے ہیں: ’ماں میں ایک دن پوری دنیا میں مشہور ہو جاؤں گا‘ایک گمشدہ یاک کی تلاش جس نے کارگل کے پہاڑوں پر ’پاکستانی فوجیوں کی موجودگی‘ کا راز فاش کیا’کارگل میں جس چیز نے پانسا پلٹا وہ بوفورز توپیں تھیں‘کارگل کا منقسم گاؤں: ’آدھے تو بوڑھے ہو کر مر گئے لیکن اپنوں سے مل نہ سکے‘کیا یہ کارگل پر پہلی بریفنگ تھی؟

مشرف نے واجپائی کے فون کا ذکر کیے بغیر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ آپریشن کے آگے بڑھنے کے ساتھ 17 مئی کو ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے انھیں تفصیلی بریفنگ دی۔

اس بریفنگ کے بارے میں سہیل وڑائچ کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں نواز شریف کا کہنا تھا ’جب چار ماہ بعد تھوڑا بہت بتایا گیا تو کہا گیا کہ اس حملے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہو گا، مجھ سے یہ بھی کہا گیا کہ فوج خود حملے میں شریک نہیں ہو گی۔‘

سعید مہدی کے مطابق واجپائی کی کال کے بعد نواز شریف نے جنرل مشرف کو فون کیا اور اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اگلے دن، 17 مئی 1999، شام چار بجے ملاقات کی درخواست کی۔ وزیر اعظم نے اتفاق کیا۔

صحافی نسیم زہرا نے اپنی کتاب ’فرام کارگل ٹو دی کُو: دی ایونٹس دیٹ شُک پاکستان‘ میں لکھا ہے کہ وزیر اعظم کو آپریشن ’کوہ پیما‘ پر تفصیلی بریفنگ اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز، لیفٹیننٹ جنرل توقیر ضیاء نے دی۔

نسیم زہرا کے مطابق ’اس بریفنگ میں کارگل آپریشن سے متعلق افراد، آرمی چیف جنرل پرویز مشرف، چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان، کمانڈر 10 کور لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد اور کمانڈر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز (ایف سی این اے) بریگیڈیئر جاوید حسن کے علاوہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ، ڈائریکٹر انیلسز ونگ میجر جنرل شاہد عزیز اور آئی ایس آئی کے افغانستان اور کشمیر پر نگران، میجر جنرل جمشید گلزار بھی موجود تھے۔‘

’وزیر اعظم نواز شریف کے ہمراہ وزیر خارجہ سرتاج عزیز، وزیر امور کشمیر و شمالی علاقہ جات ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مجید ملک، سیکرٹری برائے دفاع ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل افتخار علی خان، سیکرٹری برائے خارجہ امور شمشاد احمد اور پرنسپل سیکرٹری سعید مہدیتھے۔‘

نسیم زہرا کے مطابق کارگل کے منصوبہ سازوں کا وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے اراکین سے یہ پہلا ٹاکرا تھا۔

’ڈی جی ایم او ضیا نے ان الفاظ سے بریفنگ کا آغاز کیا: ’سر! آپ کی خواہش کے مطابق ہم نے تحریک آزادیٔ کشمیر کو آگے بڑھانے کے لیے ایک پلان تیار کیا ہے۔‘

اس آپریشن کے پانچ مراحل بتائے گئے اور وضاحت کی گئی کہ پہلا مرحلہ مکمل کیا جا چکا ہے۔

نسیم زہرا کے مطابق ’اس کے بعد انھوں نے نقشوں پر بیسیوں پوزیشنوں کو دکھایا جن پر قبضہ کیا جا چکا تھا۔ تاہم ان سارے نقشوں پر کوئی عبارت تحریر نہیں تھی۔ چنانچہ بریفنگ کے دوران میں جب وزیراعظم کو انڈین اور پاکستانی پوزیشنیں دکھائی جا رہی تھیں تو ان کو پوری طرح ان پوسٹوں کی لوکیشن سمجھ نہیں آ رہی تھی۔

’ڈی جی ایم او نے سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا کہ کیا کارگل سے سفارتی سطح پر پاکستان کو کچھ فائدہ ہو سکے گا یا نہیں۔

’سیکرٹری خارجہ نے کوئی دو ٹوک جواب نہ دیا اور کہا کہ شاید اس سے فائدے کا کوئی نہ کوئی امکان نکل ہی آئے۔‘

نسیم زہرا نے لکھا ہے کہ وزیر خارجہ سرتاج عزیز نے اس آپریشن پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ ’ایک تو یہ لاہور سَمٹ کی روح کے منافی ہے اور دوسرے یہ کہ امریکہ اس کو سپورٹ نہیں کرے گا۔‘

’وزیر اعظم جو بڑے سکون سے بیٹھے تھے، انھوں نے جواب دیا: سرتاج عزیز صاحب! کیا ہم کاغذیلکھت پڑھتکے ذریعے کبھی کشمیر حاصل کر سکتے ہیں؟ ہمیں یہ موقع مل رہا ہے کہ اس پلان کے ذریعے کشمیر لے سکیں!‘ لیکن اس کے بعد بھی وزیر خارجہ مضطرب ہی رہے۔

’نوازشریف کے وزیرِ امورِ کشمیر و شمالی علاقہ جات مجید ملک نے ایک ریٹائرڈ جنرل ہونے کے ناتے کمانڈر 10 کور پر سپلائیز یا رسد سے متعلق سوالوں کی بوچھاڑ کر کے انھیں خوب رگیدا۔

’لیفٹیننٹ جنرل محمود نے ان کو روکھا سا جواب دیا اور کہا کہ اب زمانہ بدل چکا ہے اور ’ہمارے ٹروپس کو ہر طرح کی سپورٹ حاصل ہے۔‘

’ملک نے ڈی جی ایم او سے یہ بھی پوچھا: اگر انڈینز نے اپنی فوج وادی سے موو نہ کروائی اور اپنی فضائیہ کو بھی اس تنازع میں جھونک دیا تو کیا ہو گا؟‘

نسیم زہرا لکھتی ہیں کہ اس بریفنگ کے آخر میں منصوبہ سازوں نے یہ یقین بھی دلایا کہ جب انڈیا کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا تو ہم کشمیر پر ’کچھ لو اور کچھ دو' کے قابل ہو جائیں گے!‘

’فاتح کشمیرکا خطاب‘AFP via Getty Imagesجنرل مشرف کے مطابق انڈیا نے اپنی فضائیہ سے پاکستانی پوزیشنز پر بمباری کی، اس کے نتیجے میں پاکستان کی حدود میں ایک انڈین ہیلی کاپٹر اور دو جنگی طیارے مار گرائے گئے

نسیم زہرا نے لکھا ہے کہ ڈی جی ایم او کے خطاب کے بعد لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان نے وزیر اعظم کے کشمیری نژاد ہونے کا حوالہ دیا اور کہا: ’سر! قائد اعظم کے بعد اب قدرت نے آپ کو یہ نادر موقع عطا کیا ہے کہ آپ کو ’فاتحِ کشمیر‘ کے نام سے یاد رکھا جائے۔

’یہ سن کر نوازشریف نے جواب دیا: آپ نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ سری نگر پر پاکستانی پرچم کب لہرایا جائے گا؟‘

نسیم زہرا کے مطابق ’سویلین شرکائے کانفرنس نے اُس وقت یہی سمجھا کہ یہ تبصرہ وزیر اعظم نے صرف ازراہِ مذاق کیا ہے! لیکن ایک تو ان خوشامدی کلمات نے اور دوسرے آرمی چیف کے اس بیان نے کہ ’میں اپنی تمام عسکری زندگی کے تجربات کے پیش نظر اس بات کی ضمانت دے رہا ہوں کہ یہ آپریشن ضرور کامیاب ہو گا،‘ اس آپریشن کوہ پیما کےلیے وزیر اعظم کی تائید حاصل کر لی۔

’جب یہ اجلاس ختم ہونے کو تھا تو سی جی ایس نے تجویز کیا کہ آپریشن کوہ پیما کی کامیابی کے لیے ایک مشترکہ دعا کی جائے۔ وزیر اعظم نے ان سے کہا وہ خود ہییہ دعاکروائیں۔‘

سیکرٹری دفاع بریفنگ کے دوران خاموش رہے تھے۔ لیکن بریفنگ کے بعد، سعید مہدی کے مطابق، جنرل افتخار نے انھیں ایک طرف لے جا کر کہا کہ بریفنگ بالکل حقیقت پر مبنی نہیں تھی۔

جنرل افتخار کا کہنا تھا کہ ’ہم انھیں زیادہ دیر تک نہیں روک سکیں گے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ بریفنگ کے دوران کیوں نہیں بولے۔ انھوں نے جواب دیا: میں فوج سے تعلق رکھتا ہوں اور اگر میں نے وہاں ایسی کوئی بات کہی ہوتی تو اس سے ہمارے تعلقات خراب ہو جاتے۔‘

سعید مہدی لکھتے ہیں کہ ’ڈی جی ملٹری آپریشنز کے طور پر جنرل مشرف نے اُس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو بھی کارگل کے بارے میں بریف کیا تھا، جنھوں نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا تھا۔ بعد میں یہ منصوبہ جنرل جہانگیر کرامت کے سامنے پیش کیا گیا، جنھوں نے اسے منظور نہیں کیا۔ اس طرح جنرل مشرف نے وزیر اعظم کے نوٹس میں لائے بغیر اس منصوبے کو انجام دینے کا فیصلہ کیا، کیونکہ وہ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور جنرل جہانگیر کرامت ہی کی طرح کے رد عمل کی توقع کر رہے تھے۔‘

سعید مہدی کے مطابق ان کے بتانے پر وزیراعظم نے جنرل افتخار سے کہا کہ وہ اگلی صبح نو بجے انھیں بریف کریں اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضیاء الدین کو بھی حاضر ہونے کو کہا۔

’جنرل افتخار نے وہی دہرایا جو انھوں نے مجھے بتایا تھا اور کہا کہ آج تک پاک فوج کی ہلاکتیں 1965 اور 1971 کی جنگوں کے مجموعے سے زیادہ ہیں اور فوجی پوزیشن ناقابلِ دفاع ہے۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ کہ، کچھ پاکستانی فوجی جو لائن آف کنٹرول عبور کر چکے تھے، بھوک کی وجہ سے جان سے گئے کیونکہ ان تک راشن نہیں پہنچ سکا۔‘

’نواز شریف اس پر صدمے اور پریشانی کا شکار ہوئے اور انھوں نے پارلیمانی دفاعی کمیٹی کا اجلاس بلایا۔‘

سعید مہدی کے مطابق ’اس اجلاس میں پاکستان کی مسلح افواج کے دیگر ونگز، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان، ایڈمرل فصیح بخاری اور ایئر چیف مارشل پرویز مہدی قریشی نے شکایت کی کہ فوج نے اتنا بڑا قدم اٹھایا، جو دیگر محاذوں پر جنگ کا باعث بن سکتا تھا، اور انھیں اندھیرے میں رکھا گیا، اس لیے وہ تیار نہیں ہوں گے اگر انڈیا فضائی یا سمندری راستے سے حملہ کرے۔

’جنرل مشرف نے کہا کہ اگر انڈیا نے ایسا کیا تو اس سے نمٹلیا جائے گا۔‘

AFP via Getty Imagesنواز شریف نے انڈین وزیراعظم کو براہ راست فون کرنے کے بجائے امریکی صدر کلنٹن سے رابطہ کیا

لیکن پھر مشرف نے لکھا کہ ’انڈیا نے اپنی فضائیہ کو استعمال میں لا کر ضرورت سے زیادہ ردِ عمل ظاہر کیا۔ مگر انڈین فضائیہ کی کارروائیاں صرف مجاہدین تک محدود نہ رہیں بلکہ انھوں نے سرحد پار کر کے پاکستانی فوج کی پوزیشنز پر بھی بمباری شروع کر دی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی حدود میں ایک انڈین ہیلی کاپٹر اور دو جنگی طیارے مار گرائے گئے۔‘

انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق شدید لڑائی دشوار گزار علاقے میں سمندر کی سطح سے تقریباً 16,500 فٹ (5,000 میٹر) بلندی پر جاری تھی۔ دوسری جانب حکومتی سطح پر سفارتی سرگرمیاں بھی تیزی سے ہو رہی تھیں۔

’پاکستانی وزیرِ خارجہ سرتاج عزیز 12 جون کو نئی دہلی گئے، مگرانڈین وزیرِ خارجہ جسونت سنگھ اور واجپائی کے ساتھ ان کی بات چیت کوئی نتیجہ نہ دے سکی۔‘

سعید مہدی کے مطابق ’جنرل مشرف نے سیکرٹری دفاعسے نواز شریف کو یہ پیغام پہنچانے کا کہا کہ واجپائی سے کہیں کہ ہم جنگ بند کر دیں اور دونوں ممالک اپنی پرانی پوزیشنوں پر واپس چلے جائیں۔‘

’نواز شریف جانتے تھے کہ اس وقت واجپائی کو فون کرنا برا خیال ہو گا۔ انھوں نے سوچا کہ کسی طاقتور تیسرے فریق کو شامل کرنا بہتر ہو گا، اور اس لیے انھوں نے کچھ سوچ بچار کے بعد، امریکی صدر کلنٹن کو تین جولائی کو فون کیا اور اگلے روز ملنے کی درخواست کی۔‘

لیکن مشرف نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ’ہماری سیاسی قیادت نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور قوم کو متحد کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی۔ دونوں ممالک کی قیادت جنگ نہیں چاہتی تھی مگرانڈیا نے ہمیں سفارتی طور پر تنہا کرنے کی بھرپور کوشش کی، جس سے بین الاقوامی دباؤ وزیراعظم پر حاوی ہو گیا۔‘

مشرف کے مطابق ’ایک بڑا تاثر یہ ہے کہ یہ آپریشن سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر شروع کیا گیا، حالانکہ یہ حقیقت کے برعکس ہے۔‘

’درحقیقت یہ کوئی باقاعدہ جارحانہ منصوبہ نہیں تھا بلکہ لائن آف کنٹرول پر خالی جگہوں کو پُر کرنا مقامی کمانڈر کے دائرہ اختیار میں تھا اور اسے کور اور آرمی ہیڈکوارٹرز کی منظوری حاصل تھی۔‘

’مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب جو بھی پیش رفت ہوئی ہے، اس میں کارگل تنازع کا نمایاں کردار رہا ہے۔‘

سعید مہدی لکھتے ہیں کہ ’واشنگٹن ڈی سی میں نواز شریف کی کلنٹن کے ساتھ ون آن ون ملاقات ہوئی جو کئی گھنٹے تک جاری رہی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ واجپائی جارحیت روکنے اور پرانی پوزیشن پر واپس آنے پر راضی ہو گئے، جیسا کہ مشرف نے درخواست اور تجویز کی تھی۔ جولائی کے آخر تک لائن آف کنٹرول پر امن ہو چکا تھا۔‘

نوازشریف وزیراعظم نہ رہے

سعید مہدی کے مطابق ’واپسی پر نواز شریف کے کچھ ساتھیوں اور معتمدین نے مشورہ دیا کہ وہ جنرل مشرف اور دیگر تین جرنیلوں کو ریٹائر کر دیں۔ اُس وقت فوج کے اندر مشرف کے خلاف غصہ اس قدر تھا کہ اس طرح کے اقدام کے لیے کسی ناراضی کے بجائے حمایت ہوتی۔ مشرف کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے، نواز شریف نے کارگل کے مسئلے پر محض خاموشی اختیار کی۔‘

’اس کے بجائے، جنرل مشرف نے پہل کی اور یہ جھوٹا بیانیہ پھیلایا کہ سیاسی حکومت نے اعصاب کھو دیے تھے اور میدان جنگ میں فوجیوں کی قربانیوں کو ضائع کر دیا۔‘

مشاہد حسین کہتے ہیں کہ کارگل کے بعد نواز شریف اور پرویز مشرف کے درمیان بد اعتمادی پیدا ہوچکی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس خلیج کو دور کرنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن بالآخر کارگل سے شروع ہونے والا تناؤ اکتوبر 1999 کے مارشل لا پر منتج ہوا۔

کارگل جنگ: انڈین فوج کا وہ سپاہی جو 15 گولیاں لگنے کے بعد بھی پاکستانی فوجیوں سے لڑتا رہا پاکستانی فوج کا وہ کپتان جس کی بہادری کا دشمن بھی قائل ہواجب انڈین انٹیلیجنس نے جنرل مشرف کا فون ٹیپ کیا: ’یہ پاکستان ہے، کمرہ نمبر 83315 سے ہمارا رابطہ کروائیں‘کارگل کی جنگ، انٹیلیجنس کی ناکامیکارگل جنگ کے ’لاپتہ‘ پاکستانی فوجی جو برفانی بلندیوں میں کھو گئے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More