Reuters
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ پیر سے آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں کو باہر نکالنے میں مدد کرے گا۔
ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے اندازاً 20 ہزار جہاز ران خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔ رسد میں کمی اور جہاز رانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر اثرات کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) عموماً اس آبنائے سے گزرتا ہے اور اس تنازع نے عالمی توانائی کی قیمتوں کو تیزی سے بڑھا دیا ہے۔
فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے اس اہم بحری گزر گاہ سے آمدورفت کو بہت محدود کر دیا ہے۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی بھی نافذ کر رکھی ہے۔
اتوار کی رات، یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹرانسپورٹیشن آپریشن (یو کے ایم ٹی او) نے اطلاع دی کہ آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر ’نامعلوم میزائل‘ سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم عملہ محفوظ رہا۔
صدر ٹرمپ کے ’پراجیکٹ فریڈم‘ میں کیا شامل ہے اور کیا اس کے نتیجے میں دوبارہ جنگی محاذ آرائی شروع ہو سکتی ہے؟
AFP via Getty Imagesٹرمپ نے کیا اعلان کیا؟
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ سے دنیا بھر کے ممالک نے درخواست کی ہے کہ اُن کے جہازوں کو نکالنے میں مدد کی جائے جو ’آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں‘ اور جو ’محض غیر جانبدار اور بے قصور تماشائی‘ ہیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا: ’ایران، مشرق وسطیٰ اور امریکہ کی بھلائی کے لیے، ہم نے ان ممالک کو بتایا ہے کہ ہم اُن کے جہازوں کو اُن محدود آبی راستوں سے محفوظ طریقے سے باہر لے جائیں گے، تاکہ وہ آزادانہ اور مؤثر انداز میں اپنے کاروبار کو جاری رکھ سکیں۔‘
تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ممالک کی بات کی جا رہی ہے۔
اسے ’پراجیکٹ فریڈم‘ قرار دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اس عمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت ہوئی تو ’سختی سے نمٹا جائے گا۔‘
اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکی نمائندے ایران کے ساتھ ’نہایت مثبت‘ بات چیت کر رہے ہیں اور یہ مذاکرات ’سب کے لیے کسی نہایت مثبت نتیجے‘ تک پہنچ سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ کارروائی امریکہ، ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی جانب سے ’انسانی ہمدردی کا ایک اشارہ‘ ہو گی، کیونکہ بہت سے جہازوں پر موجود عملہ ’خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید کمی‘ کا سامنا کر رہا ہے، جو بڑے عملے کے لیے صحت مند اور مناسب حالات برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
تاہم انھوں نے ممالک کے نام نہیں بتائے۔ امریکی صدر نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ تہران کے ساتھ تعاون کس طرح جائے گا۔
ٹرمپ کے مطابق ’انھوں نے کہا کہ وہ کسی بھی صورت اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک علاقہ جہاز رانی کے لیے محفوظ نہ ہو جائے۔ جہازوں کی نقل و حرکت کا مقصد صرف ان لوگوں، کمپنیوں اور ممالک کو آزادی دلانا ہے جنھوں نے بالکل کوئی غلط کام نہیں کیا۔‘
BBCایران کا ردعمل
ٹرمپ کا اعلان ایران کے خلاف ان کے پہلے دیے جانے والے سخت بیانات کے مقابلے میں نسبتاً نرم دکھائی دیتا ہے۔ بلکہ ایسا تاثر بھی ملتا ہے کہ ایران اس آپریشن کا فریق ہے، صدر ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ ’پراجیکٹ فریڈم‘ ایران کی جانب سے بھی کیا جا رہا ہے۔
لیکن ایران اس آپریشن کو اس نظر سے نہیں دیکھتا۔
ایران کے مرکزی کمانڈر کے سربراہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے والی ’کسی بھی غیر ملکی مسلح فورس‘ پر حملہ کیا جائے گا۔۔۔ ’خصوصاً جارح امریکی فوج پر‘۔
میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز ’ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول‘ میں ہے اور اس میں محفوظ گزر صرف اور صرف ایرانی حکام کے ساتھ ہر صورت میں ہم آہنگی کے بعد ہی ممکن ہے۔
پاکستان نے امریکی ناکہ بندی سے متاثرہ ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولنے کا فیصلہ کیوں کیا؟آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگیں کتنی خطرناک ہیں اور انھیں ہٹانا اتنا مشکل کیوں؟جنگ میں پھنسے بچوں کی کہانیاں: ’میں کاغذی ہوائی جہازوں کے پیچھے بھاگنا چاہتا ہوں، اصلی جہازوں سے چھپنا نہیں‘کیا روایتی طاقتوں کا زوال پاکستان جیسی ’درمیانی طاقتوں‘ کو عالمی منظرنامے پر آگے لا رہا ہے؟کیا امریکہ نے ٹرمپ کے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے؟
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او)، جو اقوام متحدہ کا ایک ادارہ ہے، کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے خلیج میں تقریباً 20 ہزار ملاح اور دو ہزار جہاز پھنسے ہوئے ہیں۔
خوراک اور دیگر سامان کی کمی، اور ملاحوں کی جسمانی و ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
تاہم ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ جہاز کس طرح روانہ ہو سکیں گے، البتہ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ’کسی بھی صورت میں اس انسانی ہمدردی کے عمل میں مداخلت کی گئی‘ تو طاقت استعمال کی جائے گی۔
چند گھنٹوں بعد امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا کہ اس آپریشن کی حمایت کے لیے ’گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، 100 سے زائد زمینی اور سمندری طیارے، کثیر النوع بغیر پائلٹ پلیٹ فارمز اور 15 ہزار فوجی‘ استعمال کیے جائیں گے۔
تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ہتھیار اور اہلکار عملی طور پر جہازوں کی مدد کیسے کریں گے۔
اگر امریکی مدد کا مطلب صرف معلومات اور مشورہ فراہم کرنا ہے تو ایران کی دھمکیوں کے پیشِ نظر یہ بہت کم مددگار ہو سکتا ہے۔
اور اگر امریکہ متاثرہ جہازوں کو فوجی حفاظتی حصار دینے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ایران کے ساتھ براہِ راست فوجی ٹکراؤ کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
زمینی صورتحال کیا ہے؟
امریکی آپریشن کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایرانی فوج نے کہا کہ ’ایران کی بحریہ کی سخت اور فوری وارننگ‘ کے باعث امریکی اور صہیونی دشمن ڈسٹرائرز‘ کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
اس کے فوراً بعد سینٹ کام نے ایران کے ان دعوؤں کی تردید کی کہ اس کے ایک جنگی جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ادھر متحدہ عرب امارات، جو امریکہ کا خلیجی اتحادی ہے اور جسے جنگ کے دوران ایران کی جانب سے اکثر نشانہ بنایا گیا، نے بتایا کہ اس کی سرکاری تیل کمپنی ادنوک سے وابستہ ایک ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے دو ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
وزارت خارجہ کے مطابق اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔
یہ واضح نہیں کہ آیا یہ ٹینکر ’پراجیکٹ فریڈم‘ کے تحت امریکی مدد سے آگے بڑھا تھا یا نہیں۔
پیر کی دوپہر سینٹ کام نے کہا کہ امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز ’پراجیکٹ فریڈم کی حمایت میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بعد خلیج میں کارروائی کر رہے ہیں‘۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج ’تجارتی شپنگ کی بحالی کے لیے بھرپور معاونت کر رہی ہیں‘، تاہم تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
سینٹ کام کے مطابق ’پہلے مرحلے میں امریکہ کے پرچم بردار دو تجارتی جہاز کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں اور بحفاظت اپنے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں‘، مگر ان جہازوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت شدید حد تک محدود کر دی ہے، اور اب تک صرف چند جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے، جن میں زیادہ تر تہران کے اتحادی ممالک کے جہاز شامل ہیں۔
AFP via Getty Imagesآبنائے ہرمز میں کیا ہو رہا ہے؟
اس وقت ایک جنگ بندی نافذ ہے جس کا مقصد فریقین کو لڑائی کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کا موقع دینا ہے، تاہم اب تک بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔
ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی پر شدید اعتراض کیا ہے جس کے تحت ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بی بی سی نے اتوار کے روز پھنسے ہوئے تیل بردار جہاز کے کپتان رامون کپور سے بات کی، جنھوں نے بتایا کہ وہ ’مختلف حملوں، میزائلوں اور دھماکوں‘ کے عینی شاہد رہے ہیں اور حالات ’انتہائی تناؤ کا شکار‘ ہیں۔
ان کے مطابق عملے کو شدید دباؤ اور اضطراب کا سامنا ہے۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ انھیں ’جاری علاقائی فوجی کارروائیوں‘، ’راستوں کے قریب بارودی سرنگوں‘ اور دیگر خطرات کے باعث ’انتہائی سنگین سکیورٹی خطرات‘ لاحق ہیں۔
موجودہ تنازع کے دوران صدر ٹرمپ کے اعلانات اکثر عالمی منڈیوں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں، پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ تاہم ’پراجیکٹ فریڈم‘ کے اعلان پر فوری ردِعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔
ایران کے اس دعوے کے بعد کہ اس نے ایک امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا ہے، اور پھر امریکہ کی تردید کے بعد قیمتوں میں وقتی اضافہ ہوا۔ لیکن مجموعی طور پر برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے، جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ ہے۔
’کیا ٹرمپ ذہنی طور پر کمانڈر اِن چیف ہونے کے لیے موزوں ہیں؟‘: ایران جنگ پر چھ گھنٹے طویل سماعت میں سخت جملوں کا تبادلہایرانی سفارت خانوں نے دورانِ جنگ ’ایکس‘ کو ہتھیار کیسے بنایا؟’تین دن گزر گئے، ابھی تک کوئی کنواں نہیں پھٹا‘: کیا ایران میں تیل کے کنویں واقعی بند ہونے کے قریب ہیں؟ایران جنگ: خلیجی ممالک میں سوشل میڈیا پوسٹس کا نتیجہ قید، شہریت کی منسوخی یا ملک بدری کی شکل میں کیوں نکل رہا ہےایران میں فیصلے کون کر رہا ہے؟