پاسدار سے ’جان‌ِ فدا‘ تک: ایران میں نئی یکجہتی مہم جس میں حکومت کے بقول تین کروڑ سے زائد لوگ شامل ہو چکے ہیں

بی بی سی اردو  |  May 23, 2026

JANFADAA.IR

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے عروج کے دوران، ایران کی مذہبی مجالس اور تنظیموں سے متعلق تنظیم نے ایک نئی مہم شروع کی ہے جسے ’جان‌فدا‘ کا نام دیاگیا ہے۔ اس کا مقصد ’دشمنوں کے خطرات کا مقابلہ اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ‘ کرنا قرار دیا گیا ہے۔

ایران کے عہدیداران کہتے ہیں کہ ’جان‌فدا‘ مہم ’ایرانی قوم کی حقیقی تصویر‘ اور ’جمہوریت اور قومی استقامت کا مظاہرہ‘ ہے، جبکہ حکومت کے مخالفین حکومت کی جانب سے بتائے گئے تین کروڑ 10 لاکھ ’جان‌فدا‘ افراد کے اعداد و شمار پر شک و شبہ ظاہر کرتے ہیں اور اسے ایک ’جعلی تصویر‘ اور کھوئی ہوئی حیثیت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، خصوصاً 2025 میں مظاہرین کے خونی قتل عام کے بعد۔

سوال ہے ہے کہ ’جان‌فدا‘ مہم حکومت کے لیے کیوں اہم ہے اور ناقدین اس مہم کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیتے؟

کچھ ہفتوں سے حکومتی عہدیداران اور حکومت کے قریب میڈیا نے ’جان‌فدا‘ مہم کے لیے وسیع پیمانے پر تشہیر شروع کر رکھی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای ’جان‌فدا‘ افراد کی تعداد کو ’حیران کن عدد‘ قرار دیتے ہیں۔ ایران کی جمہوریہ اسلامی کے تینوں اداروں کے سربراہان نے بھی ’جان‌فدا‘ افراد سے کہا ہے کہ وہ عوامی معیشت اور توانائی کے استعمال کے انتظام میں بھی مدد کریں اور ملک کے مسائل کے لیے ’ایران ہمدل‘ مہم بھی شروع کی جائے۔

یہ مہم ایسے حالات میں سامنے آئی ہے جب جمہوریہ اسلامی ایران گذشتہ چند سالوں کے دوران سیاسی اور معاشی بحرانوں، اندرونی وسیع احتجاجات اور حالیہ دو جنگوں کا سامنا کر چکا ہے اور پہلے سے زیادہ ایک مسئلے یعنی مشروعیت اور ’نظام کے ساتھ قوم کی ہمراہی‘ سے دوچار ہے۔

لفظ ’جان‌فدا‘ کا استعمال اسی زاویے سے ایک سادہ نام رکھنے سے کہیں زیادہ معنی اور کارکردگی رکھتا ہے۔

یہ لفظ قربانی، ایثار اور خود کو نچھاور کرنے کے لیے آمادگی پر زور دیتے ہوئے ایران کی لسانی اور نظریاتی روایت کے ایک حصے کو دوبارہ پیدا کرتا ہے، وہ روایت جو ایران-عراق جنگ اور اس کے بعد کے برسوں میں ’بسیج‘ اور ’پاسدار‘ جیسے الفاظ کے ساتھ تشکیل پائی تھی۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران کی حکومت ایسے الفاظ کے ذریعے نہ صرف سیاسی حمایت پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے بلکہ اپنے حامیوں اور اقتدار کے ڈھانچے کے درمیان ایک طرح کا جذباتی اور شناختی رشتہ بھی قائم کرنا چاہتی ہے۔

Getty Imagesحالیہ ہفتوں میں، ایران میں ’ جان فدا ایران کی بیٹیوں کی عظیم ریہرسل‘ کے عنوان سے سٹریٹ ایونٹس کا انعقاد کیا گیا ہے ’جان‌فدا‘ کا ایران سے تعلق

لفظ ’جان‌فدا‘ فدائی، جانباز اور جاں نثار کے مترادف ہے۔ ’جان‌فدا‘ کے اگرچہ نظریاتی معنی کم ہیں، مگر اس کی جڑیں ایرانیوں کی رزمیہ ادب اور حب الوطنی کی ثقافت میں پیوست ہیں۔

یہ لفظ فارسی اور عربی کے دو الفاظ ’جان‘ اور ’فداء‘ کے امتزاج سے بنا ایک مرکب صفت ہے اور عزم اور خود کو قربان کرنے کی اعلیٰ ترین سطح کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ بیان کرتا ہے کہ فرد اپنی جان کسی سرزمین یا اپنے سے بڑے عہد کے لیے قربان کرنے کو تیار ہے۔

اسی وجہ سے ’جان‌فدا‘ ایک ایسا لفظ ہے جس میں جذباتی اور رزمیہ شدت پائی جاتی ہے اور ایرانیوں کی تاریخی و ثقافتی یادداشت میں یہ اساطیر، ہیرو ازم اور وطن سے وفاداری کی یاد دلاتا ہے۔

مثال کے طور پر اگرچہ لفظ ’جان‌فدا‘ ایران کے عظیم شاعر ابوالقاسم فردوسی کی شاعری براہ راست نہیں ملتا، لیکن اس کا مفہوم شاہنامہ کے بنیادی موضوعات میں سے ایک ہے۔

فردوسی بارہا ایسے تعبیرات استعمال کرتے ہیں جیسے ’جان بر سر نهادن‘ (جان کو سر پر رکھنا) ، ’سر دینا‘ ، ’سر باختن‘ ( سر کھونا) اور ’جان باختن‘ (ہم سب جان نام اور ننگ پر نثار کرتے ہیں)، جہاں رزمیہ زبان میں ’سر‘ دراصل ’جان‘ کا متبادل بن جاتا ہے اور کردار ’نام، وطن اور عہد‘ کے لیے اپنی جان قربان کرتے ہیں۔

لہٰذا رستم، سیاوش اور گردآفرید جیسے کردار اسی زاویے سے قابلِ قدر ہیں کیونکہ وہ ایران اور عہد کی وفاداری کے لیے اپنی جان دینے کو تیار ہیں۔

’جان‌فدا‘ کا استعمال نیا نہیں ہے اور حکومت کے مخالفین بھی اس لفظ کو ہلاک شدہ مظاہرین کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ لیکن جمہوریہ اسلامی ایران کی سیاسی زبان میں ’جان‌فدا‘ صرف ایک رزمیہ لفظ سے بڑھ کر معنی رکھتا ہے۔

ایران کی حکومت نے کوشش کی ہے کہ اس لفظ کی اپنے نظریاتی لسانی ڈھانچے کے اندر دوبارہ تعریف کرے؛ ایک ایسی زبان جو ایک سیاسی فلسفہ کے محقق کے مطابق، مطلق العنان اور نیم مطلق العنان حکومتوں کے سماج کو کنٹرول کرنے کے اولین آلات میں سے ایک ہوتی ہے۔

آرش جودکی نے بی‌بی‌سی فارسی سے گفتگو میں ’زبان کی آلودگی‘ کے تصور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ اسلامی جیسی حکومتیں ’زبان کو اپنے تابع کر لیتی ہیں اور اس کے نتیجے میں زبان اب حقیقت کے اظہار کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ طاقت کو بڑھانے کا ایک آلہ بن جاتی ہے‘۔

یہ فلسفے کے محقق بیسویں صدی کی مطلق العنان حکومتوں کے تجربے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نازی جرمنی میں بھی زبان منظم طریقے سے ’نظریات سے آلودہ‘ ہو گئی تھی۔

آقای جودکی کے مطابق، ایک جرمن ماہرِ لسانیات ویکتور کلمپرر نے اپنی کتابوں اور تحقیقات میں دکھایا کہ نازی حکومت کس طرح الفاظ کو ان کے اصل معانی سے خالی کر کے انھیں اپنے نظریات کے تابع کر دیتی تھی۔

محقق کے مطابق ایران نے بھی گذشتہ چار دہائیوں میں ’بسیج‘ اور ’پاسدار‘ جیسے الفاظ کے ساتھ یہی عمل کیا ہے، اور وہ الفاظ جو انقلاب سے پہلے عمومی اور غیر نظریاتی معانی رکھتے تھے، آہستہ آہستہ اقتدار کی سرکاری زبان کا حصہ بن گئے۔

آرش جودکی کا خیال ہے کہ ’جان‌فدا‘ بھی اسی راہ پر گامزن ہے۔ ان کے مطابق، ایران کی حکومت اس لفظ کے ذریعے ایثار اور مطلق وفاداری جیسے تصورات کو دوبارہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس بار محض مذہبی نٌظریات کے تحت نہیں بلکہ قوم پرستی، حب الوطنی اور رزمیہ زبان کے امتزاج کے ساتھ۔

ان کے نظر میں، جمہوریہ اسلامی اپنی سیاسی مشروعیت کے زوال اور سماجی بنیاد کے کمزور ہونے کے بعد اب ایسے الفاظ کے ذریعے، جو ایرانیوں کی تاریخی یادداشت میں جڑے ہوئے ہیں، ایک نئی یکجہتی اور مشروعیت پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ محقق جمہوریہ اسلامی اور کلاسیکی مطلق العنان حکومتوں جیسے اسٹالن ازم کے درمیان فرق پر بھی زور دیتے ہیں۔

ان کے مطابق، جدید مطلق العنان حکومتیں عموماً ’دنیاوی زبان‘ رکھتی تھیں اور ’نظریاتی جدید انسان‘ بنانے کے درپے تھیں، جبکہ ایران کی زبان فطری طور پر ’ماورائی‘ اور موت اندیشی سے جڑی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے ’شہید‘ اور ’شہادت‘ جیسے الفاظ اس نظام میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

آقای جودکی کے مطابق ’جان‌فد‘ کا استعمال بھی اسی لسانی روایت کا تسلسل ہے، اس فرق کے ساتھ کہ اب حکومت اس لفظ کی قومی اور عظیم صلاحیتوں سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے تاکہ اس کے اثر کے دائرے کو اپنی روایتی نظریاتی بنیاد سے آگے بڑھایا جا سکے۔

آرش جودکی کے خیال میں، ایران کی حکومت بحرانی حالات میں پہلے سے زیادہ زبان اور علامت سازی کی محتاج ہو جاتی ہے، کیونکہ نظریاتی زبان صرف ایک تبلیغی ہتھیار نہیں بلکہ شناخت کی تشکیل، ’ہم‘ اور ’دوسروں‘ کی تعریف اور سیاسی جواز کے اظہار کا ذریعہ بھی ہوتی ہے۔

اس زاویے سے ’جان‌فدا‘ مہم کو اسی ’وفاداری کی زبان‘ کے فروغ کی کوشش سمجھا جا سکتا ہے، ایک ایسی زبان جس کے ذریعے ملک نے ایران-عراق جنگ کے دوران معاشرے کے ایک حصے کو متحرک کیا تھا، لیکن اب ایک مختلف اور منقسم معاشرے میں اسے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

’آپ ایک سر کاٹیں تو دوسرا پیدا ہو جاتا ہے‘: ایران کے حکمران اقتدار پر اپنی گرفت کیسے مضبوط رکھے ہوئے ہیں؟’مجاہدینِ خلق‘: ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے گھر پر حملے کا دعویٰ کرنے والی تنظیم کیا ہے؟جارحانہ بیانات، ’وسیع فوجی تیاریاں‘ اور محسن نقوی کا ’غیر اعلانیہ دورہِ ایران‘: کیا امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کا ارادہ کر رہا ہے؟امریکہ اور اسرائیل جیسی بڑی فوجی طاقتوں کے مقابلے میں ایران کی جنگی حکمتِ عملی کیا ہے؟IRNA’ جان فدا برائے ایران‘ ویب سائٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اب تک تین کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد نے رجسٹریشن کرائی ہے، لیکن کچھ انفارمیشن ٹیکنالوجی ماہرین نے اس مہم کے ڈیٹا پر سوال اٹھایا ہے’جان‌فدا‘مہم کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

اسلامی تبلیغاتی تنظیم کے ذیلی ادارے ’جان‌فدا برائے ایران‘ مہم کے ذمہ دار ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ مہم فروردین ماہ کے وسط سے مذہبی مجالس اور دینی تنظیموں سے متعلق تنظیم کی جانب سے شروع کی گئی اور اس کا مقصد ’دشمنوں کے خطرات کا مقابلہ اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ‘ بیان کیا گیا ہے۔ ایک ایسی مہم جس کے بارے میں اس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ’قومی سلامتی کے بنیادی ستون کے طور پر عوام کے کردار‘ پر زور دیتی ہے۔

’جان‌فدا برائے ایران‘ ویب سائٹ کے مطابق اب تک اس میںتین کروڑ 10 لاکھسے زیادہ افراد رجسٹر ہو چکے ہیں۔ اس مہم کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کی آبادی میں 12 سے 60 سال کی عمر کے تقریباً دو کروڑ افراد شامل ہیں۔ اس حساب سے، اور اگر یہ اعداد درست ہوں، تو ’اہل افراد میں سے 50 فیصد سے زیادہ‘ اس مہم میں رجسٹر ہو چکے ہیں۔

قرارگاه بقیة الله کے ثقافتی نائب اور سپاہ پاسداران سے وابستہ سابقہ فنّی تنظیم ’اوج‘ کے مدیران میں سے ایک ساسان زارعنے تین مئی کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ’ 98 فیصد رجسٹر ہونے والوں نے رضاکارانہ اور جہادی سرگرمیوں کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے‘ اور رجسٹر ہونے والوں میں تقریباً 60 فیصد خواتین ہیں۔

’جان‌فدا‘ مہم میں رجسٹریشن کے لیے شناختی معلومات دینا لازمی نہیں ہے۔ مہم کی سرکاری ویب سائٹ پر نام، خاندانی نام اور حتیٰ کہ رہائش کی جگہ درج کرنا بھی ’اختیاری‘ ہے اور صرف ایک ٹیلیفون نمبر درج کر کے مہم کا حصہ بنا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک مخصوص نمبر پر ’1‘ بھیج کر بھی رجسٹریشن کی جا سکتی ہے۔

مہم کی ویب سائٹ پر یہ بھی زور دیا گیا ہے کہ ایک شخص کئی بار رجسٹر ہو سکتا ہے لیکن ’ہر نمبر صرف ایک بار شمار ہوگا‘۔

دوسری جانب، بیرونِ ملک ایرانیوں کے لیے بھی ایک علیحدہ ویب سائٹ بنائی گئی ہے جہاں صرف ایک ای میل ایڈریس درج کرنا کافی ہے اور رجسٹر کرنے والے سے کوئی دیگر معلومات نہیں لی جاتی۔

گذشتہ دنوں ایران کے بعض سفارت خانوں کی ویب سائٹس پراس مہم کی تشہیر کی گئی جن میں برطانیہ اور جرمنی شامل ہیں، یہ مہم بحث و تنقید کا سبب بنی۔

برطانیہ کی وزارت خارجہ نے لندن میں ایران کے سفیر علی موسوی کو طلب کر کے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی سفارت خانے کو ’ہر اس قسم کے رابطے کو بند کرنا چاہیے جسے برطانیہ یا بین الاقوامی سطح پر تشدد کی ترغیب کے طور پر تعبیر کیا جا سکتا ہو۔‘

ایک دن بعد موسوی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ برطانیہ کے قوانین اور ضوابط کا احترام کرتے ہیں اور ’کسی بھی صورت میں غیرقانونی یا پرتشدد رویے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔‘

ایرانی سفارت خانے کے بیان میں ’جان‌فدا‘ مہم کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ ’محض ایک علامتی اقدام ہے اور اس کی کوئی عملی نوعیت نہیں ہے، اور یہ کسی بھی طرح برطانیہ یا دیگر ممالک میں تشدد، خود کو نقصان پہنچانے یا غیرقانونی رویے کی ترویج نہیں کرتی۔‘

اس مہم کی شماریاتی ساخت اور تفصیلات کے بارے میں کوئی شفاف معلومات شائع نہیں کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ واضح نہیں ہے کہ جب نام اور ذاتی معلومات درج کرنا اختیاری ہے تو منتظمین کس طرح اس نتیجے پر پہنچے کہ رجسٹر ہونے والوں میں سے 60 فیصد خواتین ہیں۔

اسی دوران، ڈیٹا اور ریاضی کے شعبے کے بعض ماہرین نے ’جان‌فدا‘ مہم کے شماریاتی عمل کی صحت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

علی شریفی زارچی، جو کہ یونیورسٹی کے استاد اور مصنوعی ذہانت اور بایوانفورمیٹکس کے شعبے میں سرگرم ہیں اور ایران سے باہر مقیم ہیں، نے سوشل میڈیا پر ایک تجزیے میں کہا ہے کہ تین کروڑسے زیادہ افراد کی رجسٹریشن کے بارے میں ایران کے دعوے ’عوامی مہمات کی تاریخ میں عدد سازی کی سب سے بڑی مثالوں میں سے ایک‘ ہیں۔

علی شریفی زارچی وضاحت کرتے ہوئے چند نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ نو اور 10 اپریل کو ایران کے شہریوں کو ایک پیغام (SMS) بھیجا گیا جس میں کہا گیا کہ صارفین صرف عدد ’۱‘ بھیج کر چند سیکنڈ میں رجسٹر ہو سکتے تھے۔

اسی وقت اندرونی سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور سرکاری میڈیا میں وسیع پیمانے پر تشہیر بھی کی گئی۔

علی شریفی زارچی کے مطابق، ایسے حالات میں جب انٹرنیٹ پر پابندیاں اور خلل موجود تھے، توقع کی جا رہی تھی کہ اس قسم کی وسیع تشہیر رجسٹریشن کے اعداد و شمار میں اچانک اضافہ کرے گی، لیکن چارٹس میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں دکھائی دیا اور یہی رجحان بعد کے دنوں میں برقرار رہا۔

ان کے مطابق دوسرا مسئلہ اعداد و شمار ’مستقل اور یکساں شرح سے بڑھے‘ ہے۔ زیادہ تر مہمات میں جب کوئی موضوع میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس پر وائرل ہوتا ہے تو ابتدا میں رجسٹریشن تیزی سے بڑھتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ اشباع کے مرحلے پر پہنچ کر کم ہو جاتی ہے۔

ان کے بقول، یہ پیٹرن ایران کی مہمات جیسے گشت ارشاد کی معطلی کی مہم یا بین الاقوامی مثالوں جیسے برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ’جان‌فدا‘ مہم میں 18 دن کے دوران رجسٹریشن تقریباً یکساں اور ایک ہی سطح میں بڑھی ہے، ایک ایسا رجحان جو ان کے مطابق حقیقی صارفین کے رویے اور معروف سماجی پیٹرنز سے مطابقت نہیں رکھتا۔

علی شریفی زارچی یہ بھی کہتے ہیں کہ اعداد میں اضافہ اہم سماجی اور سیاسی واقعات سے بھی متاثر نہیں ہوا؛ مثال کے طور پر نوروز کی تعطیلات کے اختتام یا جنگ بندی کے اعلان کے باوجود شرح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے خیال میں یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ظاہر کیا گیا رجحان حقیقی عوامی رویے کے بجائے پہلے سے طے شدہ انداز سے مشابہت رکھتا ہے۔

اسی حوالے سے ایک ریاضی اور طبیعیات کے استاد نے بھی بی‌بی‌سی فارسی سے گفتگو میں شماریاتی ماڈلز اور ’لوجسٹک گروتھ‘ کے نظریے کی مدد سے ’جان‌فدا‘ مہم کے رجسٹریشن رجحان کا جائزہ لیا۔

وہ کہتے ہیں کہ کسی بھی محدود آبادی والے معاشرے میں، کسی کمپنی، سوشل نیٹ ورک یا مہم کے لوگوں کی تعداد عام طور پر ایک خاص انداز سے بڑھتی ہے۔ شروع میں اضافہ آہستہ ہوتا ہے، پھر اچانک تیزی سے بڑھتا ہے، اور آخر میں حد کے قریب پہنچ کر دوبارہ سست ہو کر رکنے لگتا ہے۔

ان کے بقول، ایسا پیٹرن فیس بک جیسے بڑے سوشل نیٹ ورکس یا نیٹ فلکس جیسے پلیٹ فارمز کے صارفین کی بڑھوتری میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ استاد، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کو کہا، کہتے ہیں کہ اگر شروع میں اضافہ سیدھی رفتار سے ہوتا بھی نظر آئے، تو جب لوگوں کی تعداد آدھی حد تک پہنچتی ہے تو اس کی رفتار بدلنی چاہیے اور آہستہ آہستہ رکنے لگتی ہے۔

ان کے مطابق ’جان‌فدا‘ مہم میں ایسا کوئی تغیر نظر نہیں آتا اور اعداد ’قدرتی کمی‘ دکھائے بغیر مسلسل یکساں انداز میں بڑھتے رہے ہیں۔ ان کی نظر میں یہ بھی ان عوامل میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے بعض ماہرین سرکاری اعداد و شمار کی درستگی پر شک کرتے ہیں۔

فیکٹ نامه، جو کہ ایک حقائق کی جانچ کرنے والی ویب سائٹ ہے، اس نے ایک رپورٹ میں تین کروڑ ’جان‌فدا‘ کے اعداد کو ’غلط‘ قرار دیا ہے اور پانچ وجوہات کی بنیاد پر اسے ’عدد سازی‘ کہا ہے۔

فیکٹ نامہ نے اپنی رپورٹ کے ایک حصے میں لکھا کہ ’اب تک اس اعداد و شمار کی تصدیق کے لیے کوئی دستاویز شائع نہیں ہوئی اور ’جان‌فدا مہم‘ کے منتظمین نے صارفین کی رازداری کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی قابلِ تصدیق ڈیٹا فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔‘

اسی رپورٹ میں ایک اور دلیل یہ دی گئی کہ ’اس سے پہلے علی شریفی زارچی نے ’جان‌فدا‘ ویب سائٹ کے بیک اینڈ ڈیٹا کے تجزیے سے دکھایا تھا کہ ویب سائٹ کے آخری تبصرے کا شناختی نمبر 40 لاکھ سے کم ہے، اس لیے اس مہم کے شرکا کی تعداد اس سے بھی کم ہے۔

مخالفین اس تجزیے کو درست نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ 40 لاکھ کا عدد تبصروں کا شناختی نمبر ہے نہ کہ صارفین کی تعداد لیکن فیکٹ نامه کی فنی جانچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شریفی زارچی کی بات درست ہے۔

دوسری طرف، ’جان‌فدا‘ مہم کے ناقدین کے مقابلے میں اسلامی تبلیغاتی تنظیم کے شعبہ تعلقات عامہ کے مدیر علی مرادخانی نے علی شریفی زارچی کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’جان‌فدا نظام دہرائے گئے نمبروں کو حتمی اعداد سے خارج کرتا ہے، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے بہت سے نمبر مختلف افراد کے ہوتے ہیں، مثلاً کسی خاندان کا بچہ اپنے نمبر سے والدین کے لیے بھی رجسٹریشن کر دیتا ہے۔ لیکن مکمل امانت داری اور دیانت برقرار رکھنے کے لیے ان نمبروں کو بھی حتمی اعداد میں شامل نہیں کیا گیا، جو خود تقریباً 20 لاکھ بنتے ہیں۔‘

KEYHAN/TASNIM’قدس آزادی مشق‘ سے ’جان فدا مہم تک، ایران کی سیاسی اور سماجی فضا میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیںدو کروڑ فوج سے ’گلابی جیپ والی جان‌فدا لڑکیوں‘ تک

ایران عراق جنگ کے آغاز کے ساتھ، آیت‌الله روح‌ الله خمینی، جو اسلامی جمہوریہ کے بانی تھے، نے ایک حکم میں دو کروڑ فوج کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔

جمہوریہ اسلامی ایران کے پہلے رہبر نے کہا تھا کہ جس ملک میں دو کروڑ نوجوان ہوں، اسےدو کروڑ بندوق برداربھی رکھنے چاہئیں۔ یہ حکم حکومت کی بہت سی تشہیر کا بنیاد بنا۔

سنہ 1983 میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک بیان میں ’آزادی قدس‘ کے انعقاد کی خبر دی، اور اس وقت کے اخبارات جیسے ’کیهان‘ میں رضاکاروں کی رجسٹریشن کے لیے ’لبیک یا خمینی منصوبہ‘ کے عنوان سے فارم شائع کیا گیا، اور سپاہ پاسداران نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس منصوبے کا مقصد دشمنوں کے خطرات کا مقابلہ اور علاقے میں امریکہ کی ’برائٹ سٹار‘ نامی مشق کے جواب میں دو کرو، ملین فوج کی تشکیل ہے۔

البتہ اُن برسوں کا انقلابی ماحول ہر لحاظ سے اور خاص طور پر ظاہری طور پر آج کے ایران سے مکمل طور پر مختلف تھا۔

آج کل حکومت کے حامی خبررساں ادارے، جیسے خبرگزاری تسنیم، حامیوں کو ’جان‌فدا‘ مہم کے تحت ایک مختلف انداز میں پیش کرتے ہیں، اور وہ سیاہ رنگ جو انقلاب کے ابتدائی برسوں میں عام تھا، اس کی جگہ گلابی رنگ نے لے لی ہے۔

تسنیم نے اس بارے میں لکھا کہ ’گلابی میزائل کے بعد، اس بار جان‌فدا لڑکیاں گلابی جیپ کے ساتھ میدان میں آئیں۔‘

گذشتہ گرمیوں میں 12 روزہ جنگ کے بعد، جب یہ جنگ تھم چکی تھی، جمہوریہ اسلامی ایران کے رہبر علی خامنہ‌ای نے چند ہفتوں کی غیرحاضری کے بعد عاشورہ کی رات محمود کریمی، ایک حکومتی مداح، سے ’یہ ایران‘ ترانہ پڑھنے کو کہا۔

گذشتہ سال کے عاشورہ کے مراسم میں ایران کا پرچم ماتمی پرچموں سے زیادہ نمایاں تھا اور قومی و حب الوھنی کی علامات زیادہ ابھر کر سامنے آئیں۔

دیواروں پر بناے نقش و نگار اور مجسموں میں رستم، آرش کمانگیر اور دیگر ایرانی اساطیری کرداروں کی بھی نقاب کشائی کی گئی۔

12 روزہ جنگ کے تقریباً گیارہ ماہ گزرنے کے بعد اب ایک اور حکومتی تشہیری لہر دیکھنے کو مل رہی ہے جو قوم پرستی اور حب الوطنی سے بھی آگے جا چکی ہے۔

مثال کے طور پر خواتین کے حجاب اور لباس سے متعلق وہ سرخ لکیریں جو پہلے حکومت مقرر کرتی تھی، اب نرم پڑ گئی ہیں، اور حکومتی مداح سڑکوں پر رات کے اجتماعات میں کم حجاب لڑکیوں کو ’آنکھوں کا نور اور ملک کی بیٹیاں‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ یہ اجتماعات ’جان‌فدا‘ مہم کے تحت منعقد ہوتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

دوسری جانب ’جان‌فدا‘ مہم میں رجسٹر ہونے والوں کے سرکاری اعداد و شمار نے ملک کی سکیورٹی صورتحال، خصوصاً انٹرنیٹ کی بندش کے مسئلے پر تنقید کو جنم دیا ہے۔

تحقیقاتی صحافی یاشار سلطانی نے انٹرنیٹ کی مسلسل بندش پر تنقید کرتے ہوئے سماجی نیٹ ورک ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’1344 گھنٹوں سے زیادہ وقت سے انٹرنیٹ بند ہے اور اسی دوران تین کروڑ افراد کے جان‌فدا مہم میں رجسٹر ہونے کی بات کی جاتی ہے۔ اگر ایسا عوامی تعاون موجود ہے، تو پھر انٹرنیٹ کا سکیورٹی خطرہ آخر کہاں ہے؟‘

درحقیقت، ’جان‌فدا‘ مہم کو ایران کی اس کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس کے ذریعے وہ ایسے دور میں اپنے جواز اور علامتوں کو ازسرنو بیان کرنا چاہتی ہے جب عوام کو متحرک کرنے کے روایتی ذرائع اپنی سابقہ تاثیر کھو چکے ہیں۔

انقلاب 1979 کے ابتدائی برسوں میں حکومت زیادہ تر مذہبی زبان اور ’شہادت‘ اور ’امت‘ جیسے تصورات پر زور دیتی تھی، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اپنی سماجی بنیاد کے کمزور ہونے کی تلافی کے لیے وہ مذہب، قوم پرستی، ایرانی اساطیر اور جذباتی زبان کے امتزاج کی طرف بڑھ رہی ہے، ایک ایسا امتزاج جس میں ’ایران‘، ’جان‌فدا‘، ’رستم‘ اور حتیٰ کہ فیشن اور ماڈلنگ سے وابستہ افراد بھی ایک ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔

بیسویں صدی کی نظریاتی حکومتوں کے تجربے سے ظاہر ہوا ہے کہ زبان اور علامت سازی اگرچہ بعض اوقات یکجہتی اور ہم آہنگی کا احساس پیدا کر سکتی ہے، لیکن جب سرکاری بیانیہ اور عوام کی روزمرہ زندگی کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے، تو یہی الفاظ اور علامتیں الٹا اثر ڈال سکتی ہیں، اور وہ الفاظ جو کبھی وفاداری کی علامت تھے، آہستہ آہستہ بےاعتمادی اور سماجی تقسیم کی نشانی بن سکتے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب دراصل کون ہیں؟ایران کا میزائل سسٹم کتنا مؤثر ہے اور اس کی افواج کتنی طاقتور ہیں؟امریکہ اور اسرائیل جیسی بڑی فوجی طاقتوں کے مقابلے میں ایران کی جنگی حکمتِ عملی کیا ہے؟جارحانہ بیانات، ’وسیع فوجی تیاریاں‘ اور محسن نقوی کا ’غیر اعلانیہ دورہِ ایران‘: کیا امریکہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کا ارادہ کر رہا ہے؟’مجاہدینِ خلق‘: ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے گھر پر حملے کا دعویٰ کرنے والی تنظیم کیا ہے؟’آپ ایک سر کاٹیں تو دوسرا پیدا ہو جاتا ہے‘: ایران کے حکمران اقتدار پر اپنی گرفت کیسے مضبوط رکھے ہوئے ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More