Getty Images
پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان کے شہر ہنزہ میں اسماعیلی برادری کے 50ویں امام اور روحانی پیشوا شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم کے پہلے دیدار کی تقریب کا گذشتہ روز (جمعہ) انعقاد ہوا، جس میں شمولیت کے لیے پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک سے اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
فروری 2025 میں امام کے منصب پر تقرری کے بعد پرنس رحیم آغا خان کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے اور ’جشن دیدار‘ کے لیے ہنزہ کے علاقے گوجال میں باقاعدہ دربار کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر گوجال میں واقع تمام ہوٹل اور رہائشی گھر دوسرے شہروں اور ممالک سے آنے والوں کے لیے وقف کر دیے گئے جبکہ پرنس رحیم کی آمد سے قبل اس علاقے میں بڑے پیمانے پر تیاریاں کی گئیں۔
شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم کی اس منصب پر تقرری گذشتہ سال کے آغاز میں وفات پانے والے اسماعیلی برادری کے 49ویں امام پرنس کریم آغا خان کی وصیت کے مطابق کی گئی تھی۔
اسماعیلی شیعہ روایت میں ’حاضر امام‘ کے دیدار کا تجربہ جسمانی (فزیکلی) اور روحانی دونوں طور پر کیا جا سکتا ہے۔ جسمانی دیدار (جسے دیدار یا دربار کہا جاتا ہے) سے مراد وہ موقع ہیں جب اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو یہ سعادت حاصل ہوتی ہے کہ وہ اپنے دور کے اسماعیلی امام کی موجودگی میں براہ راست اُن کی زیارت کریں۔
مقامی افراد کے مطابق اس موقع کی مناسبت سے گلگت بلتستان میں زبردست قسم کا بین الامذاہب رویہ دیکھنے میں آیا۔
ہنزہ میں اہل تشیع (اثنا عشری) نے اس تقریب میں شرکت کے لیے آنے والوں کو مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جبکہ گلگت میں اہلسنت افراد کی جانب سے مہمانوں کے لیے سبیلوں کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ہنزہ بھر میں عمارتوں پر چراغاں اور روشنیوں کا بندوبست کیا گیا۔
رمیز علیہنزہ میں اسماعیلی کمیونٹی کے منتظم ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس موقع پر 3700 رجسڑڈ رضا کار مختلف خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ، اُن کے مطابق، گوجال میں دیدار کی تقریب میں کم از کم 70 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔
پرنس رحیم الحسینی آغا خان کا دورہ پاکستان ایک ہفتے تک جاری رہے گا جس کے دوران چترال میں جشن دیدار کا انعقاد کیا جائے گا۔ وہ بدھ (20 اپریل) کو پاکستان پہنچے تھے اور اسلام آباد میں انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور اُن کی صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان سے ملاقاتیں ہوئیں۔
اطلاعات کے مطابق گلگت سٹی، ہنزہ، پاسو، غذر، گاہکوچ بالا، یاسین، اشکومن، گوپس، اپر چترال اور لوئر چترال میں مختلف اجتماعات ہوں گے، جن میں ہزاروں اسماعیلی جمع ہوں گے۔
رمیز علی کے مطابق مختلف وجوہات کی بناء پر امام کے دورے اور دیدار کی تقریبات کے انعقاد کی مختلف علاقوں میں تاریخوں میں ردبدل ہوئی ہے، تاہم یہ معمولی بات ہے اور اس کے لیے پہلے سے تیاری کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دورے میں کئی سرگرمیاں رکھی گئی ہیں جن میں اجتماعی دیدار، روحانی اجتماعات، جماعت سے ملاقاتیں، دعائیں، مختلف تقریبات سے خطاب، مقامی عمائدین اور حکومتی نمائندوں سے ملاقاتیں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے منصوبوں کا جائزہ بھی لیا جائے گا، خاص طور پر تعلیم، صحت، ماحولیات، دیہی ترقی، بجلی، انٹرنیٹ اور روزگار سے متعلق منصوبوں پر۔
رمیز علی کا کہنا تھا کہ ’اس دورے کے دوران ہم دیکھ رہے ہیں کہ اہل تشیع اور اہلسنت کی جانب سے شاندار پزیرائی کی جا رہی ہے اور تمام تیاریوں میں ساتھ دیا جا رہا ہے۔ اگر ہنزہ اور گوجال میں اسماعیلی شہریوں نے اپنے گھر باہر سے آنے والے مہمانوں کو دیے ہیں، تو اہل تشیع او اہلسنت نے بھی اپنے ہوٹل اور گھر مہمانوں کو فراہم کیے ہیں۔‘
’ہماری تو عید ہی عید ہے‘
نسیمہ ہنزہ میں کریم آباد کی رہائشی ہیں مگر اُن کے والدین روزگار کے سلسلے میں لاہور میں مقیم ہیں۔ نسیمہ خود یونیورسٹی کی طالبہ ہے۔
نسیمہکہتی ہیں کہ ’یہ پہلا موقع ہے کہ ہم اپنے امام حاضر کا دیدار کرئیں گے۔ یہ ہمارے لیے موقع ہے کہ ہم اُن کا دیدار کر کے برکت، قربت اور روحانی تعلق قائم کرنےکے ساتھ ساھ اپنی عقیدت اور وفاداری کا اظہار کریں۔ ہم لوگ دو دن پہلے ہنزہ پہنچے مگر کریم آباد نہیں گے بلکہ سیدھا گوجال پہنچے، جہاں پر گوجال کی ایک فیملی نے ہمیں شوق سے اپنا مہمان بنایا اور ہمارے کھانے، پینے اور رہائش کا انتظام وہ ہی کر رہے ہیں۔‘
نسیمہ کہتی ہیں کہ ’گوجال میں ہمارے جاننے والے اور رشتہ دار نہیں ہیں۔ جب ہم گوجال جا رہے تھے، تو ہمارا خیال تھا کہ ہم کسی جاننے والے یا رشتہ دار کے گھر میں رہائش اختیار کریں یا گوجال کے جو ہوٹل اس وقت وقف ہو چکے ہیں وہاں پر رہائش اختیار کریں گے، مگر جب ہم گوجال پہنچے تو ہمیں ہمارے اِن میزبانوں نے اپنا مہمان بنایا اور کہا کہ امام کا دیدار کرنے کے لیے آنے والوں کے لیے مہمان نوازی کرنا اعزاز کی بات ہے۔‘
ارسلان علی ہنزہ کے رہائشی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شہر میںموبائل سگنلز، انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا متاثر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پورے ہنزہ میں اس وقت رات جاگ رہی ہے۔ ہر طرف روشنیاں ہیں، چراغاں کیا گیا ہے اور سڑکوں اور گلی محلوں میں ہر جگہ لوگ ہی لوگ موجود ہیں۔ لوگ مختلف طریقوں سے اپنے امام سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔ لوگوں نے اس موقع کی مناسبت سے نئے کپڑے بنوائے ہیں اور بہت سا اہتمام کیا ہے۔‘
ارسلان علی کا کہنا تھا کہ ’ایسا منظر صرف امام کے دیدار ہی کے موقع پر ہوتا ہے اور یہ تو خاص موقع ہے کہ تخت نشینی کے بعد پہلی مرتبہ امام کا دیدار ہو گا، اس لیے ہماری عید ہی عید ہے۔‘
شہزادہ رحیم الحسینی کون ہیں؟Getty Imagesشہزادہ رحیم الحسینی
شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم کو چھ فروری 2025 کو اسماعیلی برادری کا 50واں امام مقرر کیا گیا تھا۔
ان کی تقرری اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا اور دنیا بھر میں فلاحی کاموں کے لیے جانے جانے والے ارب پتی پرنس کریم آغا خان کی وفات کے بعد ہوئی تھی۔ شہزادہ کریم آغا خان تقریباً سات دہائیوں تک اسماعیلی شیعہ برادری کے امام رہے تھے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان 12 اکتوبر 1971 کو پیدا ہوئے تھے اور وہ شہزادہ کریم آغا خان چہارم اور اُن کی اہلیہ شہزادی سلیمہ کے بڑے بیٹے ہیں۔
یاد رہے کہ سنہ 1969 میں پرنس کریم آغا خان نے ایک انگریز خاتون سے شادی کی تھی جن کا اسلامی نام سلیمہ رکھا گیا تھا۔ سلیمہ سے شہزادہ کریم آغا خان کے تین بچے زہرہ آغا خان، رحیم آغا خان اور حسین آغا خان پیدا ہوئے۔ شادی کے 26 سال بعد سنہ 1995 میں پرنس کریم آغا خان اور سلیمہ کے درمیان طلاق ہو گئی تھی۔
شہزادہ رحیم آغا خان نے امریکہ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ شہزادہ رحیم آغا خان نے سابق امریکی فیشن ماڈل کینڈرا سپیئرز سے شادی کی، جن سے اُن کے دو بیٹے ہیں۔
شہزادہ رحیم کا اپنے والد کی جانب سے قائم کردہ فلاحی اداروں اور تنظیموں سے گہرا تعلق ہے۔
آغا خان ڈویلمپنٹ نیٹ ورک کی ویب سائٹ کے مطابق شہزادہ رحیم آغا خان نیٹ ورک کی مختلف تنظمیوں کے بورڈز میں شامل ہیں اور اس وقت وہ آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی ماحولیات اور موسمیاتی کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی ویب سائٹ کے مطابق ’شہزادہ رحیم ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں نیٹ ورک کے اقدامات میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔‘
آغا خان نیٹ ورک کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ان کی توجہ ’انتہائی غربت میں رہنے والوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام‘ کرنے پر بھی مرکوز ہے۔
اسماعیلی برادری میں امام کا تقرر کیسے کیا جاتا ہے؟Getty Imagesاسماعیلی برادری کے 49ویں امام پرنس کریم آغا خان کی وفات گذشتہ سال ہوئی تھی
اسماعیلی ایک مسلم فرقہ ہے جس کی دنیا بھر میں آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے۔ ان میں پاکستان میں مقیم پانچ لاکھ سے زائد افراد بھی شامل ہیں جبکہ انڈیا، افغانستان اور افریقہ میں بھی اس فرقے کی بڑی آبادی موجود ہے۔
اس برادری کا ماننا ہے کہ اُن کے امام کا شجرۂ نسب براہ راست پیغمبرِ اسلام سے ملتا ہے، اسماعیلی برادری کی امامت کا سلسلہ امام جعفر صادق (چھٹے امام) کے بعد شیعہ اثنا عشری مسلمانوں سے مختلف ہو جاتا ہے۔
شیعہ اثنا عشری جعفر صادق کے بعد اُن کے فرزند موسیٰ کاظم اور ان کی اولاد کی امامت کے قائل ہیں جبکہ اسماعیلی مسلمان جعفر صادق کے بڑے فرزند اسماعیل بن جعفر (جن کی وفات امام جعفر صادق ؑکی زندگی میں ہی ہو گئی تھی) کو اپنے ساتویں امام کا درجہ دیتے ہیں اور ان کی اولاد کو سلسلہ وار اپنا امام مانتے ہیں۔
اسماعیلی برادری کی روایات کے مطابق ہر اسماعیلی امام اپنی زندگی کے دوران ہی اپنا جانشین یعنی اسماعیلی برادری کا اگلا امام نامزد کرتا ہے۔ اور نئے روحانی پیشوا کی تقرری امام کی وفات کے فوراً بعد ہی ہو جاتی ہے۔
یاد رہے کہ کریم آغا خان کو اُن کے دادا سر سلطان محمد آغا خان سوم نے روایات کے برعکس وصیت میں اپنے بیٹے شہزادہ علی خان کی جگہ اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔
سنہ 1957 میں آغا خان سوم کی وفات کے بعد کریم آغا خان نے 20 سال کی عمر میں اسماعیلی برادری کے روحانی سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ وہ آغا خانی یا اسماعیلی مسلمانوں کے 49ویں امام تھے اور آغا خان چہارم کے لقب سے پہچانے گئے تھے۔
اسماعیلی برادری کے 50ویں امام شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان کی تقرری ان کے والد کریم آغا خان کی وصیت کے مطابق کی گئی ہے۔
اسماعیلی برادری کی ویب سائٹ کے مطابق ’یہ اعلان پانچ فروری 2025 کو لزبن میں کریم آغا خان کی وصیت کے بعد امام کے اہل خانہ اور سینیئر جماعتی رہنماؤں کی موجودگی میں کیا گیا تھا۔‘
شہزادہ رحیم الحسینی: اسماعیلی برادری کے 50ویں امام کون ہیں اور روحانی پیشوا کا تقرر کیسے کیا جاتا ہے؟کریم آغا خان کی وفات: 68 برس تک اسماعیلی برادری کا روحانی پیشوا رہنے والا مخیر ’شہزادہ‘جب ایک شہزادہ عام سی لڑکی کے لیے بارات لے کر پاکستان آیاآغا خان: سر سلطان محمد سے شہزادہ کریم تک، اسماعیلی برادری کے خاندانِ اوّل کی دلچسپ تاریخدو ریاستوں کی وارث ’غیرمعمولی‘ شہزادی جو صرف دو سوٹ کیس لے کر پاکستان آ گئیں