28 جنوری 1928 کو ہونے والی اس کشتی کی ایسی دھوم تھی کہ کئی ہندوستانی ریاستوں کے حکمران اور برطانوی حکام سمیت ہزاروں لوگ پنجاب کی ریاست پٹیالے میں امڈ آئے تھے۔ مقابل تھے ’زبشکوہ‘ کہلاتے پولینڈ کے پہلوان سٹینسلاو سائگانیووِچ اور ’گاما‘ کے نام سے معروف برطانوی ہندوستان کے پہلوان غلام حسین۔
ہوسکتا ہے کہ بعض پڑھنے والے کہیں کہ گاما کا اصل نام غلام محمد تھا۔
لیکن سید آغا اشعر لکھنوی کی کتاب ’گاما گمک‘ میں فہیم الدین فہمی کی لکھی گاما کی سوانح عمری ’رستمِ زماں گاما‘ اور اختر حسین شیخ کی کتاب ’داستانِ تاریخِ پہلوانی‘ سے علم ہوتا ہے کہ گاما کا اصل نام غلام حسین ہی تھا۔ یہ تمام کتابیں ریاستی، سرکاری اور مالیاتی دستاویزات اور خود گاما اور ان کے عزیز و اقارب سے ملیں اور پھر دوبارہ تصدیق کی گئی معلومات پر مبنی ہیں۔
غلام حسین عرف گاما 22 مئی 1878 کو عزیز (پورا نام عبد العزیزیا عزیز بخش) کے ہاں ریاست دتیا میں پیدا ہوئے جو اب موجودہ مدھیا پردیش کا حصہ ہے۔ عزیز کے والد نے کشمیر سے امرتسر ہجرت کی تھی۔ گاما کی پیدائش کے وقت عزیز ریاست دتیا سے بطور پہلوان وابستہ تھے۔
اختر شیخ کے مطابق گاما کی عمر، چند ماہ کم، چھ برس تھی جب والد کی وفات ہو گئی۔ انھیں تب تک ان کے والد نے کشتی سے متعارف کروا دیا تھا۔
گاما کے چھوٹے بھائی امام بخش والد کی وفات کے دو ماہ بعد پیدا ہوئے۔ اپنے نانا نون (امیر بخش) پہلوان کے پاس پلنے کی وجہ سے گاما کو ’گاما نون والا‘ بھی کہا جاتا تھا۔
نون پہلوان قتل ہوئے تو ان کے بیٹے یعنی گاما کے ماموں عیدا پہلوان نے ان کی سرپرستی کی۔
پرشانت کِڈامبی اپنی کتاب ’کرکٹ کنٹری: این انڈین اوڈیسی ان دی ایج آف ایمپائر‘ میں لکھتے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ عیدا پہلوان نے عہد کیا تھا کہ وہ گاما کو ’وہ چیمپیئن پہلوان بنائیں گے جو ان کے والد انھیں دیکھنا چاہتے تھے۔‘
اپنے والد کی خواہش پوری کرنے کے لیے گاما نے نہایت سخت ورزش کا معمول اپنایا۔
دس سال کی عمر میں 400 پہلوانوں میں سب سے زیادہ بیٹھکیں
جوزف آلٹر نے اپنی کتاب ’گاندھیز باڈی‘ کے ایک باب ’گاما دی گریٹ‘ میں لکھا کہ گاما نے صرف دس برس کی عمر میں 400 پہلوانوں کے مجمع میں سب سے زیادہ بیٹھکیں لگائیں۔
رونوجوئے سین لکھتے ہیں کہ اس مقابلے میں چار سو سے زائد پہلوانوں میں سے آخری 15 پہلوانوں میں شامل تھے۔ کم عمری کے باعث جودھپور کے مہاراجا جسونت سنگھ نے اُنھیں فاتح قرار دیا اور اپنی سرپرستی میں لے لیا۔
شیخ اور فہمی کے مطابق عمر کے آخری حصے میں گاما نے کہا تھا کہ ’مجھے یہ تو اندازہ نہیں کہ کتنے سپاٹے لگائے لیکن میرے تمام رگ پٹھے اکڑ گئے تھے اور میں ایک ہفتہ چارپائی سے نہ اٹھ سکا تھا۔‘
لکھنوی نے لکھا کہ جودھ پور میں گاما کے دوسرے ماموں بوٹا پہلوان نے راجا جسونت سنگھ کی رائے سے گاما اور امام بخش دونوں کو استاد مادھو سنگھ کی شاگردی میں دے دیا۔ تربیت کا یہ دورانیہ چار برس پر محیط ہے۔
والی جودھ پور کی وفات کے بعد گاما پھر دتیا واپس آگئے۔
15 گھنٹے ورزش
لکھنوی لکھتے ہیں کہ دتیا کے باہر وسیع باغ میں سرکاری پیلی کوٹھی میں گاما نے اکھاڑا بنایا تھا۔
’گاما روزانہ دو ہزار ڈنڈ (پش اپس یا ڈِپس)، (ٹانگوں اور کولھوں کے پٹھوں کو مضبوط بنانے کے لیے) پانچ ہزار بیٹھکیں (سکواٹس) اور دو ہزار ہاتھ مُگدر (پہلوانی میں ورزش کے لیے استعمال ہونے والا ڈنڈا جو ایک جانب وزنی ہوتا ہے) نکالتے تھے۔
’پتھر کا ایک پاٹ جس کا وزن تقریباً پانچ من ہوگا (میں نے دیکھا) گاما اپنے گلے میں ڈال کر باغ کا پورا چکر دوڑ کر لگاتے تھے جس کا دَور ایک میل سے کسی طرح کم نہیں۔ تیل کی مالش بہت کم کراتے تھے۔‘
کتاب ’پہلوانوں کی دنیا‘ کے مصنف اور انڈیا کے پہلوان برکت علی لکھتے ہیں کہ صبح دو سے دس بجے تک ہر روز گاما جسم کے نچلے حصے کی اور دو بجے سہ پہر سے سات بجے شام تک جسم کے اوپری حصے کی ورزش کرتے۔
’ہر شام وہ دو گھنٹے پیدل چلتے۔ سو ہم کہہ سکتے ہیں کہ گاما 24 گھنٹے میں 15 گھنٹے ورزش کرتے۔‘
خوراک: 20 لیٹر دودھ، چھ مرغے اور بہت کچھ
کڈامبی کے مطابق اس قدر مشقت طلب جسمانی سرگرمی کے لیے اپنے جسم کو طاقت فراہم کرنے کی خاطر وہ یخنیجو گوشت اور ہڈیوں سے تیار کردہ شوربہ تھی، وافر مقدار میں پیتے۔ اس کے علاوہ روزانہ 20 لیٹر دودھ، آدھ لیٹر گھی، تین چوتھائی کلو مکھن اور چار کلو پھل استعمال کرتے تھے۔
اختر حسین شیخ کے مطابق گاما بچپن میں روزانہ 500 ڈنٹر (ڈنڈ) اور اتنے ہی سپاٹے (بیٹھکیں) لگاتے۔ 15 برس کی عمر میں وہ تین ہزار سپاٹے اور اتنے ہی ڈنٹر پیلتے۔ 20 برس کی عمر میں یہ تعداد بڑھ کر پانچ ہزار ڈنٹر اور تین سے چار ہزار سپاٹوں تک پہنچ گئی۔ 25 سے 50 برس کی عمر تک وہ عموماً روزانہ چھ ہزار سپاٹے اور پانچ ہزار ڈنٹر پیلتے۔
’خوراک روزانہ کے چھ مرغے یا پانچ سیر چھوٹے گوشت کی یخنی مع ایک پاؤ گھی، 10 سیر دودھ، آدھ سیر گھی، پون سیر بادام اور مختلف مربہ جات پر مشتمل تھی۔‘
گاما بھوپال کے قریب ریاست ریواں کے راجا پرتاب سنگھ کی سرپرستی میں بھی رہے جہاں میراں سنگھ بھکھی والا نے ان کے فن کی نوک پلک درست کی۔
کڈامبی نے لکھا کہ صدی کے ابتدائی برسوں میں گاما دتیا کے دربار میں پہلوان مقرر ہوئے۔ انھوں نے مختلف ریاستوں کے نامور پہلوانوں کو مسلسل شکست دے کر اپنی شہرت قائم کی۔
’ان کی سب سے نمایاں فتح غلام محی الدین پر تھی، جو خود بھی ایک باصلاحیت ہم عصر پہلوان تھے۔‘
’ان برسوں میں صرف رحیم سلطانی والا ہی ایسے پہلوان تھے جو گاما کے مقابل ڈٹ سکے۔ 1907 سے 1909 کے درمیان ان دونوں پہلوانوں کے درمیان تین مقابلے ہوئے مگر کوئی بھی واضح فاتح نہ بن سکا۔ اس کے باوجود دہائی کے اختتام تک بیشتر مبصرین گاما کو ہندوستان کا سب سے بڑا پہلوان ماننے لگے تھے۔‘
لکھنوی کے مطابق خود گاما نے اپنی 16 بڑی کشتیوں کا بیان کرتے ہوئے 12 سال کی عمر میں پہلی کشتی جیتنے کا تذکرہ کیا۔
شیخ نے لکھا کہ غلام محی الدین کے خلاف اس کشتی کو اساتذہ ’ادھ منٹی‘ کشتی قرار دیتے ہیں۔ اس فتح پر ولی ریاست دتیا نے گاما کو 20 ہزار روپے اور 22 سیر وزنی چاندی کا گرز انعام میں دیے۔
جب ضیا الحق نے بھولو برادران کے انڈیا جانے پر پابندی عائد کر دیجب انڈیا کی پہلی خاتون پہلوان حمیدہ بانو نے کہا ’مجھے دنگل میں ہرانے والا مجھ سے شادی کر سکتا ہے‘پاکستان کے لیے پہلا گولڈ میڈل جیتنے والے پہلوان کا شکوہجھارا: 19 برس کی عمر میں جاپان کے انوکی کو شکست دینے والے پہلوان جو ’جوانی میں نشے کی لت‘ میں پڑگئے’مقابلہ صرف رحیم سلطانی والا کر پائے‘
گاما نے رحیم سلطانی والا سے پہلی بار برابر رہنے کو ’ایک طرح کی جیت ‘ قرار دیا کیونکہ ان کے مطابق ’ہندوستان میں اس وقت دوسرا اس کی ٹکر کا پہلوان نہیں تھا۔‘
بعد میں اِندور اور لاہور میں بھی ان ہی سے برابر رہے لیکن ان کے مطابق الہ آباد میں ’خدا نے مجھے فتح دی اور رستم ہند کا گرز مجھے مل گیا۔‘
شیخ نے لکھا کہ رحیم ، رستم زماں کی زد میں آ گئے۔ داؤ اتنا کامیاب تھا، ضرب اتنی کاری تھی کہ حریف اپنے بے مثل فن سمیت دھڑام سے اکھاڑے میں چاروں شانے چت گرا اور برسوں کی کشمکش کا فیصلہ ہوگیا۔ یہ کشتی کا پینتالیسواں منٹ تھا۔ رحیم نے اپنی شکست تسلیم کرلی۔‘
گاما کا کہنا تھا کہ ’میرا مقابلہ اگر کوئی کر سکا تو وہ رحیم بخش تھےاور وہی میری شہرت کا باعث ہوئے۔‘
’حسین بخش ملتانی کو ایک سے زیادہ بار ہرایا۔ پرنس آف ویلز کی لاہور آمد پر ہاتو خاں ملتانی سے کشتی تھی لیکن وہ مقابلے میں نہ آئے۔ پرنس بہادر نے رستم ہند کا گرز مجھے دیا۔‘
Getty Imagesجب 8 اگست 1910 کو امریکی حریف بینجامن ’ڈاک‘ رولر سے مقابلہ جس میں گاما دو منٹ سے بھی کم وقت میں جیت گئے تھےدنیا میں بھی ناقابلِ شکست
گاما نے عالمی سطح پر بھی اپنا نام پیدا کیا اور ناقابل شکست رہے۔
سنہ 1910 میں گاما کو جان بُل ورلڈ چیمپیئن شپ مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے لندن بھیجا گیا۔ گاما، ان کے بھائی، اور دو دوسرے پہلوانوں کی سرپرستی ایک بنگالی کروڑ پتی، سرت کمار مترا، نے کی۔ آلٹر نے لکھا کہ بدقسمتی سے گاما کا قد اتنا کم تھا کہ انھیں باضابطہ طور پر مقابلے کا امیدوار تسلیم نہیں کیا گیا۔
’تاہم ایک مقامی تھیٹر نے انھیں ہفتہ وار 250 پاؤنڈ سٹرلنگ کے عوض نمائشی مقابلوں میں حصہ لینے کی پیشکش کی۔ اسی غیر رسمی پلیٹ فارم سے گاما نے لندن کے تمام عالمی معیار کے پہلوانوں کو مقابلے کا چیلنج دیا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ جو بھی پانچ منٹ تک ان کے سامنے ٹھہر گیا، اسے وہ پانچ پاؤنڈ ادا کریں گے۔‘
’گاما تمام حریفوں کو نہایت مختصر وقت میں پچھاڑتے رہے۔ اس طرح انھیں باضابطہ ٹورنامنٹ میں رسائی مل گئی جہاں ان کا مقابلہ عالمی چیمپیئن زبشکوہ سے ہوا۔‘
کڈامبی کے مطابق جونہی دونوں پہلوان آمنے سامنے آئے، پولش پہلوان فوراً زمین پر لیٹ گیا اور باقاعدہ کشتی لڑنے کی تمام کوششوں سے گریز کیا۔
’گاما کی بھرپور کوششوں اور سٹیڈیم میں موجود آٹھ ہزار تماشائیوں کے نعروں کے باوجود وہ اپنی اس حالت سے نہ ہلا۔ آخرکار ڈھائی گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت گزرنے کے بعد اس ’بے نتیجہ‘ مقابلے کو ختم کردیا گیا جب مشتعل تماشائیوں کے کچھ گروہ احتجاج کے لیے میدان میں اتر آئے۔ نتیجہ حاصل کرنے کی غرض سے اگلے ہفتے دوبارہ مقابلہ طے کیا گیا۔
’اگرچہ گاما مقررہ وقت پرسٹیڈیم پہنچ گئے، زبشکوہ کا کہیں پتا نہ تھا۔ چنانچہ گاما کو فاتح قرار دے دیا گیا اور انھیں 250 پاؤنڈ انعام دیا گیا۔ رکنِ پارلیمنٹ ہوریشیو بوٹملی نے انھیں جان بُل طلائی بیلٹ بھی پیش کی جو رستم زمانی کی سند قرار دی جا چکی تھی۔‘
گاما اور ان کے ساتھی پٹیالہ کے راجا بھوپندر سنگھ کے پاس 1912 میں ملازم ہو گئے۔ ان کی تنخواہ 500 روپے ماہانہ مقرر ہوئی اور دیگر پہلوانوں کی سو روپے سے تیس روپے تک۔
اٹھارہ سال بعد زبشکوہ کی پھر للکار
پٹیالے ہی میں زبشکوہ کی شکست کے 18 سال بعد ان ہی کے چیلنج پر مقابلے کا دوبارہ اہتمام کیا گیا۔
اس مقابلے کے لیے تعمیر کیے گئے سٹیڈیم میں، تب کے اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق ’ایک لاکھ سے زیادہ لوگ‘ نعرے لگا رہے تھے۔
جوزف آلٹر نے اپنی کتاب ’گاندھیز باڈی‘ کے ایک باب ’گاما دی گریٹ‘ میں لکھا کہ مقابلہ چار بجے شروع ہونا تھا، لیکن زبشکوہ کے دیر سے پہنچنے کے باعث سوا چار بجے شروع ہوا۔
’آغاز ہوا ہی تھا کہ گاما نے تین سو پاؤنڈ وزنی پولش پہلوان کی ایک ٹانگ پکڑی اور دوسری کو اُکھیڑ لگا دی۔ لمحوں میں زبشکوہ زمین پر چت پڑے تھے۔‘
اپنی کتاب ’نیشن ایٹ پلے: اے ہسٹری آف اسپورٹ ان انڈیا‘ میں رونوجوئے سین لکھتے ہیں کہ ’گاما شیر کی مانند جھپٹے اور صرف 30 سیکنڈ میں زبشکوہ کو زمین پر گرا دیا۔‘
’چاروں طرف زور دار اور مسلسل نعروں کی گونج تھی۔ گاما آدھ منٹ زبشکوہ کے اوپر بیٹھے رہے جب ریفری نے انھیں فاتح اور عالمی چیمپئن قرار دے دیا۔‘
آلٹر کے مطابق ’پٹیالہ کے مہاراجا نے گاما کو گلے لگا لیا اور قیمتی موتیوں کا ایک ہار اپنے گلے سے اتار کر انھیں پہنایا۔‘
ایک جلوس کا اہتمام کیا گیا جس کے قائد مہاراجا کے ہاتھی پر سوار گاما تھے۔ انھیں ایک چاندی کا گُرز، چھ ہزار روپے سالانہ وظیفہ اور ایک گاؤں انعام میں دیے گئے۔
اخبارات میں گاما کی دھوم تھی۔ زبشکوہ کے یہ الفاظ چھپے کہ ’گاما آپ واقعی شیر ہیں۔‘
گاما کے رستمِ زمان کے خطاب کی توثیق کرتا یہ مقابلہ غیر متوقع حد تک مختصر ثابت ہوا تھا۔
فنِ پہلوانی کے مورخ اختر حسین شیخ کے مطابق خود گاما کہا کرتے تھے کہ ’جس نے گھڑی دیکھی، وہ کشتی نہ دیکھ سکا، جس نے سگریٹ سلگایا، وہ بھی کشتی نہ دیکھ سکا۔‘
سین نے لکھا کہ منتظمین نے برقی قمقمے اور سرچ لائٹ نصب کر رکھیے تھے کہ اگر مقابلہ 1910 کے لندن مقابلے کی طرح دو گھنٹے سے زائد جاری رہا تو روشنی کی ضرورت پڑے گی۔
پیٹرسن کی شکست
پٹیالہ مقابلے کے بعد جیس پیٹرسن، جو خود کو دنیا کے تمام چیمپئنز کے چیمپئن کہتے تھے، نے ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مدیر کے نام خط لکھ کر گاما کو چیلنج کیا۔
پیرس میں مقیم پیٹرسن کا دعویٰ تھا کہ وہ زبشکو کو تین مرتبہ شکست دے چکے ہیں اور انھوں نے مہاراجا سے مقابلے کا انتظام کرنے کی اپیل کی۔
یہ مقابلہ 1929 کے اوائل میں پٹیالہ میں 10,000 تماشائیوں اور پٹیالے اور اس کی قریبی ریاستوں کی شاہی شخصیات کے سامنے ہوا، تو گاما نے آسانی سے کامیابی حاصل کی۔
اس نوعیت کے چیلنجز بیرون اور اندرون ملک سے گاما کے پاس آتے رہے لیکن گاما ناقابلِ شکست رہے۔
یکم اپریل 1912 کو شاہی قلعہ کے سامنے منٹو پارک میں گاما اور بدھو برہمن کا مقابلہ ہوا۔
اختر شیخ لکھتے ہیں کہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالتے ہی گاما نے ’اکہرا پٹ‘ کھینچ لیا اور اڑنگا لگا کر حریف کو نیچے رکھ لیا۔ پھر گردن پر ہاتھ رکھ کر بدھو کی قلابازی لگوا دی۔ اساتذہ اسے یوں بیان کرتے ہیں کہ گامے نے آگے رکھا، کنڈا ڈالا اور سیدھا کر دیا۔‘
برکت علی بتاتے ہیں کہ پچپن سے پینسٹھ سال کی عمر میں گاما نے کچھ ورزشوں میں تھوڑی سی کمی کی۔
لکھنوی کے مطابق جیکو فوڈ نے 1940 میں مانچسٹر گارڈین میں لکھا کہ گاما موجودہ وقت کا سب سے بڑا پہلوان ہے۔ تب گاما کی عمر ساٹھ سال تھی۔
’وہ تین ہزار کشتیاں لڑ چکے ہیں لیکن کبھی شکست نہیں کھائی۔‘
گاما کچھ عرصہ لاہور اور کچھ پٹیالے میں رہتے تھے۔ سنہ 1947 میں برصغیر تقسیم ہوا تو گاما پٹیالے سے لاہور آ گئے۔
شیخ کے مطابق گاما کے ساتھ ان کے بھائی امام بخش اور بھتیجے بھولو برادران نے بھی لاہور ہی میں قیام کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بھائی امام بخش گاما کی رستم زمانی کے محافظ بن گئے۔
گاما لاہور آ گئے تو ان کا مکان کیسر سنگھ پہلوان کو ملا جو بعد میں رستمِ انڈیا ہوئے۔
گاما کے آخری سال
گاما اور فہیم الدین فہمی کے نانا کریم بخش میں دوستی تھی۔ لڑکپن کے بعد ان کی گاما سے ملاقات کراچی میں ہوئی جہاں انھوں نے ٹرانسپورٹ سروس شروع کی تھی جس کے لیے انھوں نے فہمی کو مینیجر رکھ لیا۔
فہمی لکھتے ہیں کہ ’بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام غلام محمد تھا، بعض کا خیال ہے غلام بخش، مگر ان کا نام غلام حسین تھا۔‘
’جن دنوں انھوں نے ٹرانسپورٹ کے کاروبار کے لیے ریفیوجی ری ہیبلیٹیشن فائنانس کارپوریشن سے دس ہزار روپے قرض لیا تو تمام کاغذات پر ’غلام حسین عرف گاما‘ کے نام کا اندراج ہوا تھا۔‘
لیکن 1954 میں انھیں ہائی بلڈ پریشر کی شکایت ہو گئی۔ کراچی کا کاروبار ختم کر کے لاہور لوٹ گئے اور فہمی کو بھی ساتھ لے گئے۔ گاما فہمی کو پیار سے چچا کہتے تھے۔
دل کا پہلا دورہ پڑنے سے قبل آخری بار دنیا کے تمام پہلوانوں کو کشتی کا عام چیلنج لاہور ہی سے کیا تھا۔
فہمی نے گاما پہلوان کے ساتھ لاہور ہی میں رہتے ہوئے ان کی سوانح حیات مکمل کی۔
’کچی پاس، پکی فیل‘ لیکن شعر و ادب سے دلچسپی
فہمی کے مطابق وہ اکثر بڑے شوخ اور فخریہ لہجے میں کہتے کہ وہ ’کچی پاس، پکی فیل‘ ہیں لیکن اردو بولتے تو نستعلیق، پنجابی بولتے تو ٹھیٹھ۔ خود گاما کے مطابق چار ماہ لندن میں رہنے سے انگریزی زبان میں کچھ سوجھ بوجھ پیدا ہو گئی تھی۔
’اگر آج شعر و شاعری کی محفل گرم ہے تو کل کسی اچھے افسانہ نگار کا افسانہ مزے لے لے کر سنا جا رہا ہے۔ کبھی اقبال کی بانگِ درا کا دور ہے تو کبھی دیوانِ بیدم کا! ہندی شعرا کے دوہے بھی انھیں یاد تھے'‘
فہمی کے مطابق میں جب تک رستمِ زماں کے ساتھ رہا وہ چار بجے صبح اٹھنے کے عادی تھے۔ موسم کیسا بھی ہو، جسم پر صرف ایک لنگوٹ میں اکھاڑے پہنچ جاتے، ریاض سے فارغ ہو کر تازہ پانی سے غسل کرتے اور پھر کسی کام پر توجہ دیتے۔
لکھنوی لکھتے ہیں کہ بعد کو راوی کے کنارے ایک پھوس کا بنگلہ ڈلوایا تھا۔ ٹھنڈے وقت ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹے رہتے تھے۔
لیکن پھر اے بی راجپوت، جو لاہور جا کر بیمار گاما سے ملے، نے انگریزی ہفتہ وار ’السٹریٹڈ بمبئی‘ کے 7 فروری 1960 کے پرچے میں لکھا کہ فنِ کشتی کی دنیا بھر کی نگاہوں کو خیرہ کر دینے والی شمع آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔
گاما کی علالت کی خبر سن کر زبشکوہ نے عیادت کا خط لکھا۔ انھوں نے لکھا ’میں نے ہزاروں شہ زوروں سے معرکے کیے لیکن جس آسانی سے گاما نے مجھے معذور کیا ایسا کوئی نہ کر سکا۔‘
گاما نے جواباً عیادت کا شکریہ ادا کیا۔
Getty Imagesگاما کی ایک بیٹی رضیہ بیگم کی شادی ڈاکٹر محمد حفیظ سے ہوئی۔ ان کی بیٹی،یعنی گاما کی نواسی کلثوم کی شادی سابق وزیرِ اعظم نواز شریف سے ہوئیگاما کا کلثوم نواز سے کیا رشتہ تھا؟
گاما کی پہلی بیوی کی وفات کے بعد دوسری بیوی وزیر بیگم سے پانچ بیٹے پیدا ہوئے، زندہ ایک بھی نہ بچا۔ چار بیٹیاں تھیں۔
گاما کی ایک بیٹی رضیہ بیگم کی شادی ڈاکٹر محمد حفیظ سے ہوئی۔ ان کی بیٹی، یعنی گاما کی نواسی کلثوم کی شادی سابق وزیرِ اعظم نواز شریف سے ہوئی۔
اختر شیخ لکھتے ہیں کہ 22 مئی 1960 کو بیگم گاما کو راوی پار والے باغ جانا پڑا۔ گاما کے پاس ان کی بیٹی گیتی آرا موجود تھیں۔ ان سے وعدہ لیا کہ ان کے بعد ماں کا خیال رکھیں گی اور ان کے سامنے آنسو نہیں بہائیں گی۔ گاما نے ہاتھ اٹھا کر انھیں دعا دی۔
دو لڈو کھائے
اتنی دیر میں وزیر بیگم بھی آ گئیں۔ گاما نے کہا بڑا لمبا سفر ہے نہا دھو لینا چاہیے۔ گاما نے غسل کیا، اہلِخانہ کی مدد سے کپڑے بدلے، لنگوٹ بطورِ خاص تبدیل کیا (وہ ہر وقت لنگوٹ پہنے رہتے تھے)۔ گیتی آرا نے بالوں میں کنگھی کی۔ دوائیں بند کرنے کا کہا اور دو لڈو بڑی رغبت سے کھائے۔
23 مئی 1960 کو گاما نے معمول کے مطابق فجر کی اذان سے پہلے اٹھ کر غٹا غٹ پانی پیا۔ پھر بیٹی سے کہا کہ’ اب جا کر سو جاؤ، میں مزید کسی کو بے آرام نہیں کروں گا۔‘
یہ رستمِ زماں کے آخری الفاظ تھے۔ تین بار لمبی لمبی سانس لی۔ وزیر بیگم اچانک قریب آ گئیں۔ کہا کہ اگر تکلیف محسوس ہو رہی ہے تو چت لیٹ جائیں۔
یہ اس شخص کو چت لیٹنے کا مشورہ تھا جس نے کبھی چت ہونا سیکھا ہی نہ تھا مگر اب وہ ایسا چت ہوا کہ پھر کبھی نہ اٹھ سکا۔
لاہور، دربار پیر مکی کے قریب ایک چھوٹے سے قبرستان میں غلام حسین عرف گاما نون والا، رستمِ زماں زیرِ زمین ہے۔ ایک طرف شیر ببر امام بخش رستم ہے تو دوسری طرف حمیدا رحمانی والا رستمِ ہند۔ قریب ہی گاما کلو والا کی قبر بھی ہے۔ گاما کلو والا ہی وہ گاما ہیں جن کا اصل نام غلام محمد تھا۔
سنہ 1879 میں پیدا ہونے والے زبشکوہ گاما کے لگ بھگ ہم عمر ہی تھے لیکن ان کی وفات 1967 میں ہوئی، گاما کی وفات سے سات سال بعد۔
جھارا: 19 برس کی عمر میں جاپان کے انوکی کو شکست دینے والے پہلوان جو ’جوانی میں نشے کی لت‘ میں پڑگئے’ڈاکٹر، انجینیئر کیا بننا، بیٹا پہلوانی میں نام کرنا‘انڈیا کا دل جیتنے والا پاکستانی صادق پہلوانجب ضیا الحق نے بھولو برادران کے انڈیا جانے پر پابندی عائد کر دیپاکستان کے لیے پہلا گولڈ میڈل جیتنے والے پہلوان کا شکوہجب انڈیا کی پہلی خاتون پہلوان حمیدہ بانو نے کہا ’مجھے دنگل میں ہرانے والا مجھ سے شادی کر سکتا ہے‘