Getty Images
’ہم زہر کھانے کے لیے تیار ہیں۔ اگر ہماری گائیں نہیں بکیں تو ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا۔ ہم غریب لوگ ہیں اور دن میں صرف چار سو روپے کماتے ہیں۔ ہمیں صرف گائے پالنا ہی آتا ہے۔ ہم سپریم کورٹ اور وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بچا لیں۔‘
یہ کہنا ہے مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ کے نواح کے ایک گاؤں میں رہنے والے 22 سالہ گھوش بابو کا جو کہ ایک کھیت میں مزدوری کرتے ہیں۔
اسی گاؤں کی سنگیتا گھوش کہتی ہیں کہ ’میں ایک بھی گائے نہیں بیچ سکی۔ میرے پاس پانچ گائیں ہیں جن میں سے صرف دو تھوڑا بہت دودھ دیتی ہیں۔ ہر گائے کی قیمت تقریباً دو لاکھ روپے ہے۔ مجھے انھیں چارہ دینا ہی پڑتا ہے لیکن بدلے میں مجھے کچھ نہیں ملتا۔ گذشتہ برسوں میں ہم اپنی گائیں بیچ دیا کرتے تھے لیکن اس مرتبہ کوئی خریدار نہیں ہے۔ لوگ خالی ہاتھ لوٹ رہے ہیں۔‘
گھوش بابو اور سنگیتا گھوش کی طرح ریاست کے دوسرے علاقوں میں بھی گائیں پال کر بیچنے والوں کو خریدار نہیں مل رہے ہیں۔ وہ اس لیے کہ اس بار ریاست کے مسلمان قربانی کے لیے گائے خریدنے سے گریز کر رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بیچنے والوں میں سے ایک بڑی تعداد کا تعلق ہندو مذہب سے ہے۔
کنہائی گھوش نامی ایک تاجر کا کہنا ہے کہ گائے پالنے اور بیچنے کا کام ’زیادہ تر ہندو ہی کرتے ہیں۔ ہم قربانی کے لیے انھیں مسلمانوں کو بیچتے ہیں۔ اگر وہ ہی نہیں خریدیں گے تو ہم ان کا کیا کریں گے؟‘
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے جو پابندیاں عائد کی ہیں وہ ’ٹھیک نہیں ہیں۔‘
’اگر ہم اپنی گایوں کو بیچ نہیں پائے تو ہمیں بہت نقصان ہوگا۔ میرے پاس 40 گائیں ہیں، جنھیں بیچنے پر مجھے کم سے کم چالیس لاکھ روپے ملتے۔ ہم نے قرض لے رکھا ہے اور گائیں بیچ کر ہی ہم یہ قرض ادا کرتے۔ باقی جو پیسے بچتے، ان سے ہم اور بچھڑے خریدتے۔ اب میں اپنا کاروبار کیسے چلاؤں؟‘
BBCسنگیتا گھوش کہتی ہیں کہ ’میں ایک بھی گائے نہیں بیچ سکی۔ میرے پاس پانچ گائیں ہیں‘یہ صورت حال کیوں پیدا ہوئی ؟
دراصل ریاست میں اقتدار میں آنے کے فوراً بعد نریندر مودی کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی حکومت نے ایک عوامی نوٹس جاری کیا جس کے ذریعے اس نے 1950 کے ایک قانون اور 2018 کے کولکتہ ہائی کورٹ کے ایک حکم کو سختی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
13 مئی کو جاری اس حکم کے بعد بنگال میں 14 سال سے کم عمر کے جانوروں کے ذبح کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ذبح کرنے کے لیے ویٹرنری سرٹیفکیٹ حاصل کرنا بھی لازم قرار دے دیا گیا ہے۔
حکم نامے کے مطابق ’کوئی بھی شخص کسی بھی جانور (جس میں بیل، گائے، بچھڑے، بھینس کے بچھڑے اور نیوٹرد بھینسیں شامل ہیں) کو تب تک ذبح نہیں کرے گا جب تک کہ اس نے اس کے متعلق ایک سرٹیفکیٹ حاصل نہ کیا ہو کہ وہ جانور ذبح کے لیے موزوں ہے۔‘
نوٹس کے مطابق متعلقہ میونسپلٹی کے چیئرمین یا پنچایت کے سربراہ، ایک ویٹرنری ڈاکٹر کے ساتھ، جانور کو ذبح کے قابل قرار دینے کے لیے مشترکہ سرٹیفکیٹ جاری کر سکتے ہیں۔
اس حکم نے اب بنگال میں ان لوگوں کے لیے پریشانی پیدا کر دی ہے جو بقر عید سے پہلے گائے بیچ کر قابلِ ذکر آمدنی حاصل کرتے ہیں۔
تازہ حکم نامے کے بعد ریاست کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں نے گائے کی خریداری بند کر دی ہے۔ وہ مویشی بازار جہاں ان دنوں رونق رہتی تھی، وہاں ویرانی کا عالم ہے۔
Getty Imagesکاکروچ جنتا پارٹی کے ایکس اکاؤنٹ کی معطلی: ’یہ ایک سنجیدہ تبدیلی کی شروعات ہو سکتی ہے‘جب ’ویج بریانی‘ سے سبزی کی بجائے بوٹی نکلنے پر معاملہ عدالت جا پہنچاخودکشی یا جہیز پر قتل: ایک ماڈل کی شادی کے پانچ ماہ بعد سسرال میں ’پراسرار موت‘ کا معمہ انڈیا کی سپریم کورٹ جا پہنچا’مجھے پتا ہے وزیر اعظم مودی کو سوال پسند نہیں لیکن یہ میری ذمہ داری تھی‘: ناروے کی صحافی ہیلی لینگ کا انڈیا میں چرچاGetty Imagesعدالتی فیصلہ اور مسلمانوں کا ردعمل
اس حکم نامے کو جب کولکتہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو کورٹ نے جمعرات کو نوٹیفکیشن پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ 13 مئی کا نوٹیفکیشن دراصل عدالت کی جانب سے 2018 میں جاری کیے گئے ان ہدایات پر عمل درآمد ہے جنھیں پہلے کبھی چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ چونکہ 2018 کا حکم حتمی حیثیت اختیار کر چکا ہے اس لیے ہمیں 13 مئی کے عوامی نوٹس کو معطل یا منسوخ کرنے کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی۔
متعدد درخواست گزاروں، جن میں اپوزیشن کی لیڈر و رکن پارلیمان مہوا موئترا اور مسلم تنظیموں و مویشی تاجروں کی نمائندہ تنظیمیں شامل تھیں، نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نوٹیفکیشن نے بقرعید کی قربانی کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے اور اس سے مذہبی رسومات اور دیہی معیشت شدید متاثر ہوگی۔
چیف جسٹس سجئے پال اور جسٹس پارتھا سارتھی سین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کہا کہ ’گائے کی قربانی عیدالاضحیٰ کا لازمی حصہ نہیں ہے‘ اور اسلام میں ’یہ کوئی مذہبی تقاضا نہیں ہے جیسا کہ سپریم کورٹ نے حنیف قریشی بنام ریاست بہار کیس میں قرار دیا تھا۔‘
کولکتہ سے کوئی 30 کلو میٹر دور مسلم آبادی نواپاڑا کے 36 سالہ رہائشی محمد نصیر الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے گائے خریدنے کے لیے پانچ ہزار روپے ایڈوانس دیے تھے۔ لیکن اب وہ حکومت کی عائد کردہ پابندیوں پر عمل کریں گے اور صرف بکرے کی قربانی کریں گے۔
اسی علاقے کے ایک بزرگ عزیز الحق کہتے ہیں کہ ’گائے ہی کیوں؟ کام تو بکروں سے بھی ہو جاتا ہے۔۔۔ اب حکومت نے نئی شرائط لگا دی ہیں۔ ہم بھی گائے کی قربانی نہیں کریں گے۔ بحث ختم۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ کوئی خوف نہیں ہے۔ ’میں 67 سال کا ہوں اور ہم نے یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں میں ہمیشہ بھائی چارہ دیکھا ہے۔ حکومت ہمارے بیچ اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر اس سے باہمی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو ہم نہیں کریں گے۔‘
تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت ان شرائط پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
بالی پور کی 26 سالہ حلیمہ خاتون کا کہنا ہے کہ ’ہم عرصے سے گائے کی قربانی کرتے آ رہے ہیں۔ لیکن نئی پابندیوں کی وجہ سے اس مرتبہ نہیں کر پائیں گے۔ میں حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ ان پابندیوں پر نظر ثانی کرے تاکہ ہم ہمیشہ کی طرح قربانی کر سکیں۔‘
BBCحلیمہ خاتون کا کہنا ہے کہ ’ہم عرصے سے گائے کی قربانی کرتے آ رہے ہیں۔ لیکن نئی پابندیوں کی وجہ سے اس مرتبہ نہیں کر پائیں گے۔‘حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن کا موقف
خیال رہے کہ ہندو مذہب میں گائے کو مقدس جانور سمجھا جاتا ہے اور انڈیا کی بیشتر ریاستوں میں اس کو ذبح کرنے پر پابندی ہے۔ تاہم مغربی بنگال میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے تک ریاست میں ایسی کوئی پابندی نہیں تھی۔
اس تبدیلی کے سلسلے میں حکمران بی جے پی کے ترجمان دیبجیت سرکار کا کہنا ہے کہ ’اگر اکثریت گوکشی پر پابندی چاہتی ہے تو گوکشی پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔‘
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی عوام کی خواہشات کے مطابق بنتی ہے۔ ’اگر ملک کی اکثریت ایک پارٹی کو منتخب کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ گوکشی پر مکمل پابندی لگے تو حکومت کو اس پر غور کرنا چاہیے۔‘
دوسری جانب حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے ریاستی حکومت کے حالیہ فیصلے پر سوال اٹھایا ہے۔
ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ترنمول کانگریس کے رہنما کنال گھوش نے کہا ہے کہ ’مودی کی مرکزی حکومت بیف کا ایکسپورٹ کرتی ہے اور غیر ملکی زرمبادلہ کماتی ہے۔ ریاستی حکومت نے اسے مغربی بنگال میں بند کر دیا ہے۔‘
انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’برآمدات پر بھی پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟ اگر برآمدات اور قصاب خانے جاری رہیں تو صرف بنگال میں پابندی کیوں لگائی جائے؟‘
’ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس سے جڑے کاروبار چلاتے ہیں اور یہ پابندی دونوں کاروبار اور معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے۔‘
Getty Imagesگائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ
اسی اثنا کچھ مسلم حلقوں اور جماعتوں کی طرف سے گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ بھی اٹھنے لگا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس کی شروعات بنگال سے ہی ہوئی تاہم جلد ہی قومی سطح کی مسلم تنظیمیں اور رہنما اس کا مطالبہ کرنے لگے۔
یہ مطالبہ سب سے پہلے کولکتہ کی مشہور ناخدا مسجد کے امام محمد شفیق قاسمی کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ گائے کی تمام خرید و فروخت پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ گائے کی قربانی نہ ہونے سے مسلمانوں کا اتنا بڑا نقصان نہیں ہے جتنا کہ ہندو بھائیوں کا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گو کشی کی وجہ سے مسلمانوں کو ’مجرم کے زمرے میں ڈال دیا جاتا ہے‘ جبکہ اس سے ’مالی فائدہ ہندوؤں کو ہوتا ہے۔‘
بعد ازاں انڈیا میں مسلمانوں کی نمایاں اور بااثر تنظیم جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بھی گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں گائے کے نام پر ہونے والے ہجومی تشدد، نفرت کی سیاست اور بے قصور لوگوں کے قتل جیسے واقعات بند ہونے چاہییں۔
ان کا خیال ہے کہ اگر گائے کو قومی جانور قرار دے دیا جائے اور اس سے متعلق قانون پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ ہوں تو اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکتا ہے۔
تاہم دوسری مسلم رہنما اور سابق رکن پارلیمان عبید اللہ خان اعظمی نے اس مطالبے کو ’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘ سے تعبیر کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کل اگر مکمل پابندیاں نافذ ہو گئیں تو نقصان صرف قربانی کا نہیں ہوگا بلکہ آئے دن جھوٹے مقدمات، شکایات اور قانونی ہراسانی کے نئے دروازے کھلیں گے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’عادتیں ایک دن میں ختم نہیں ہوتیں مگر قانون کی آڑ میں کمزور طبقات کو نشانہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ اس لیے مسئلہ صرف ایک جانور کا نہیں، بلکہ پورے سماجی و معاشی مستقبل کا ہے۔‘
خودکشی یا جہیز پر قتل: ایک ماڈل کی شادی کے پانچ ماہ بعد سسرال میں ’پراسرار موت‘ کا معمہ انڈیا کی سپریم کورٹ جا پہنچاجب ’ویج بریانی‘ سے سبزی کی بجائے بوٹی نکلنے پر معاملہ عدالت جا پہنچاکاکروچ جنتا پارٹی کے ایکس اکاؤنٹ کی معطلی: ’یہ ایک سنجیدہ تبدیلی کی شروعات ہو سکتی ہے‘’مجھے پتا ہے وزیر اعظم مودی کو سوال پسند نہیں لیکن یہ میری ذمہ داری تھی‘: ناروے کی صحافی ہیلی لینگ کا انڈیا میں چرچاانڈین آرمی چیف کی پاکستان کو ’جغرافیے سے مٹانے‘ کی دھمکی: اس طرح کا خاتمہ یقیناً دو طرفہ ہو گا، پاکستانی فوج کا جواب