عید الاضحیٰ: گرم موسم اور ’اناڑی قصائیوں‘ کی وہ غلطیاں جو قربانی کے گوشت کو خراب اور بدبودار کر سکتی ہیں

بی بی سی اردو  |  May 27, 2026

Getty Images

’قربانی کے بعد سب سے بہتر تو یہ ہوتا ہے کہ گوشت کو پھیلا کر ہوا لگا کر ٹھنڈا کیا جائے، پھر اس کے پیکٹس بنائے جائیں۔ اس سے پہلے جب جانور ذبح کیا جائے تو کاٹنے کے بعد اسے الٹا کر کے لٹکایا جائے تاکہ خون گوشت سے نکل جائے۔ جتنا گوشت میں سے خون نکال دیں گے اتنا ہی وہ جلدی گلے گا اور بساند بھی نہیں ہو گی۔‘

آپ میں سے بہت سے لوگوں نے محبت سے پالے گئے یا خریدے گئے جانور کو یا تو اب تک قربان کر دیا ہو گا یا عنقریب باری آنے والی ہو گی۔ اور بڑی تعداد میں لوگ ایسے بھی ہوں گے جو قربانی کا گوشت آنے کے منتظر ہوں گے تاہم شدید گرمی کے موسم میں آنے والی اس عید پر تازہ گوشت کو محفوظ اور صحت بخش انداز میں سنبھالنا ہرگز اسان نہیں۔

مئی کے آخری ہفتے میں آنے والی عید پر اس بار گرمی بھی شدید ہے۔ کہیں درجہ حرارت 40 ڈگری سے اوپر ہے تو کہیں سورج سوا نیزے پر ہونے سے ساتھ بہت سے علاقوں میں ہوا میں نمی بہت ہے تو ایسے میں گوشت کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔

تو ایسے میں ہم نے سوچا کہ کیوں نہ ماہر خوراک اور غذائیت کے ایکسپرٹ سے تازہ اور کچے گوشت کو سنبھالنے، محفوظ کرنے اور زیادہ دیر تک قابلِ استعمال بنانے کے رہنما اصولوں سے متعلق آسان مگر حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق گائیڈ لائنز پر بات کی جائے۔

ٹی وی میں کئی کوکنگ شوز کی میزبانی کرنے والے ماہر شیف محبوب خان نے بی بی سی سے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے زور دیا کہ جیسے ہی قربانی ہو اور گوشت کے پیسز کٹ جائیں تو سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ گوشت پھیلا کر ہوا لگا کر ٹھنڈا کیا جائے پھر پیکٹس بنائے جائیں۔

دوسری جانب ماہر غذائیت زینب غیور نے فوڈ سیفٹی گائیڈ لائنز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’ضروری ہے کہ اس گرم موسم میں جانور ذبح ہونے کے دو گھنٹے تک گوشت کو بانٹ دیں یا اس کو فریز کر دیں ورنہ زیادہ دیر رُوم ٹمپریچر پر ہونے کی وجہ سے اس میں بیکٹیریا کی افزائش شروع ہو جاتی ہے۔‘

اس مضمون میں گوشت کو سنبھالنے سے متعلق ماہرین سے بات چیت کے ساتھ ساتھ ہم نے چند امور خانہ کی ماہر خواتین سے بھی بات کی تاکہ گوشت کو سنبھالنے سے متعلق ذہن میں موجود سوالوں کے ساتھ ان کے تجربات بھی جان سکیں۔

یاد رہے کہ خصوصاً گرم موسم میں گوشت کو ذخیرہ کرنے کے طریقوں میں معمولی غفلت، اور صفائی کے اصولوں کو نظر انداز کرنا نہ صرف گوشت کے معیار کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ صحت کے خطرات بھی پیدا کر سکتا ہے۔

تو ضروری ہے کہ دسترخوان کو گوشت کی ڈشز سے سجانے اور چٹ پٹے کھانے بنانے کے منصوبوں سے پہلے گوشت کو درست طریقے سے محفوظ کیا جائے۔

’گوشت سے جتنا خون نچڑ جائے گا اتنا ہی جلدی گلے گا‘

اسلام آباد کی رہائشی تسنیم شہناز کے لیے عید الضحیٰ بہت سی مصروفیات اور ذمہ داریاں لے کر آتی ہے۔ مہمانوں کی دعوتیں اور لذیز کھانوں سے مزین دسترخوان سجانے کے مرحلے سے کہیں پہلے انھیں گھر میں ہونے والی قربانی کے بعد گوشت سنبھالنے، حصے بنانے اور بانٹنے کے مرحلے سے گزرنے میں ہے گھنٹوں لگ جاتے ہیں تاہم یہ مرحلہ اس وقت ان کے لیے درد سر بن جاتا ہے جب قربانی کا جانور پیشہ ور کے بجائے موسمی قصائی کے ہتھے چڑھ جائے۔

ان کے مطابق ’بقرعید پر اس مہنگائی کے دور میں بغیر تجربے کے بہت سے لوگ قصائی بن جاتے ہیں اور اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ ذبح کیے گئے جانور کا گوشت خراب کر دیتے ہیں۔ تو قصائی پیشہ ور ہو تو سب سے اچھا ہے اس سے عید اچھی گزرتی ہے۔ ورنہ وہ تو گوشت کا کباڑا کر کے جاتا ہے اور آپ کے یہیں سے مسئلے شروع ہو جاتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’گوشت کے ٹکڑے بڑے ہوتے ہیں تو اس سارے گوشت کو لے کر اس کے ٹکڑے چھوٹے کرنا اس میں چربی الگ کرنا دقت طلب مسئلہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب گوشت سے خون نہ نکلنے کے باعث اس کو دھونا صاف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘

تسنیم شہناز کی اس بات سے شیف محبوب نے بھی اتفاق کیا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے عید پر پروفیشنل قصائی سے قربانی کروانے پر زور دیا اور کہا کہ ’گوشت کو بہترین حالت میں رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ قربانی کے بعد گھنٹہ آدھا گھنٹہ جانور کوالٹا لٹکا کے رکھیں۔‘

ان کے مطابق ’عام دنوں میں دکانوں میں بھی جانور کاٹنے کے بعد کچھ دیر الٹا کر کے لٹکایا جاتا ہے تاکہ خون گوشت سے نکلے۔اس سے ناگوار مہک بھی ختم ہوتی ہے اور اندر سے تمام خون بہہ جاتا ہے۔ تاہم ناتجربہ کار قصائی اس اہم بات سے صرف نظر کرتا ہے۔‘

شیف محبوب کے مطابق ’گوشت میں سے جتنا خون نکل جائے گا اتنا گوشت اچھا اور جلدی گلے گا۔‘

’گوشت کاٹتے جائیں اور پنکھے کے نیچے پھیلاتے جائیں‘

قربانی کے جانور کے گوشت کے حصے لگانے سے پہلے کا کچھ وقت اس گرم گوشت کا درجہ حرارت کم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

شیف محبوب گوشت کو پیک کرنے سے پہلے اسے ہوا میں پھیلا کر سکھانے پر زور دیتے ہیں جس سے ان کے بقول گوشت کی غذائیت اور لذت دیر تک برقرار رہ سکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جیسے ہی قربانی ہو اور گوشت کے پیسز کٹ جائیں تو اس کو پلاسٹک کی شیٹ یا سٹیل کے تھال میں پھیلا کر رکھیں اور اوپر سے پنکھا چلائیں تاکہ ہوا لگے اور گوشت ٹھنڈا ہو۔ تو آپ ہوا دار جگہ میں کاٹتے جائیں اور پھیلاتے جائیں تاکہ گوشت کا درجہ حرارت کم ہو۔‘

ان کے مطابق جانور ذبح ہونے کے بعد اس کا گوشت پھیلا کر رکھنا لازم ہوتا ہے۔ بہت سارے لوگ گوشت کے ٹکڑوں کو شاپرز میں بند کر کے فوری طور پر فرج یا فریزر میں رکھ دیتے ہیں جس کی وجہ سے اندر تک کولنگ فوری نہیں ہوتی اور گوشت کے خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔‘

شاپر، اخبار یا پلاسٹک کی موٹی تھیلی میں گوشت کو رکھنا؟Getty Images

ایک بار جب پنکھے کے نیچے گوشت خشک اور ٹھنڈا ہو جائے تو باری آتی ہے اس کو بانٹنے اور رکھنے کی۔

دو بچوں کی ماں نمرہ اپنے شوہر کے ساتھ نہ صرف قربانی کے جانور کا خیال رکھتی ہیں بلکہ اکلوتی بہو ہونے کے ناطے گوشت سنبھالنے اور حصے لگانے کی ذمہ داری بھی بخوبی ادا کرتی ہیں۔

نمرہ کے مطابق وہ گوشت کے ہر حصہ کو الگ الگ ٹرے میں رکھوا کر پھر اس کے پیکٹس بنا کر ان کو بڑے شاپر میں رکھ کر لکھ دیتی ہیں کہ یہ کس حصے کا گوشت ہے۔ یوں ان کو بانٹنے میں بھی آسانی ہوتی ہے اور رکھنے میں بھی۔

دیکھا گیا ہے کہ کئی لوگ حصہ بانٹنے کے لیے پلیٹس کے بجائے پلاسٹک کی تھیلی لیتے ہیں، کچھ لوگ کاغذ میں لپیٹ کر بھی گوشت بانٹتے ہیں جبکہ بعض زپ لاک بیگ کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔

ماہر غذائیت کے مطابق ’اخبار یا کاغذ کو گوشت رکھنے کے لیے کبھی محفوظ تصور نہیں کیا جاتا کیونکہ اخبار میں لپیٹنے سے پرنٹنگ انک اس میں لگتی ہے جبکہ براؤن پیپر بھی اس کی نمی کو جذب کر لیتا ہے اور اس سے باہر سے بھی آلودگی کو جذب کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ذیادہ تر شاپر یا ایئر ٹائیٹ میں گوشت کو بانٹا جاتا ہے تاہم اگر فریزر میں رکھنا ہے تو ایئر ٹائٹ بیگ میں رکھیں یا اگر فرج میں رکھنا ہے تو کوشش کریں کہ ایئر ٹائیٹ یا ڈھکن والے برتن میں رکھیں۔‘

شیف محبوب کے مطابق ’لوگ اخبار میں لپیٹتے ہیں تو وہ گوشت سے چپک جاتا ہے تو یہ نقصاندہ پہلو ہے تاہم بٹر پیپر کا استعمال گوشت لپیٹنے کے لیے بہت بہتر ہے۔ تھیلی ہوا کومکمل بند کر دیتی ہے جبکہ بٹر پیپر میں ایک بریتھنگ سپیس ہوتی ہے۔‘

ان کے مطابق ’میں اپنے گھر میں گوشت کی پیکنگ کے لیے موٹی تھیلی استعمال کرتا ہوں۔ اس سے فائدہ ہوتا ہے کہ فرج میں اس کی مہک نہیں پھیلتی اور گوشت کی تازگی برقرار رہتی ہے۔ اورہاں پیک کرنے کے بعد فریزر میں اس طرح رکھیں کہ ٹھنڈک یکساں ملنے کا موقع ملے۔‘

زینب غیور کے مطابق ’ گوشت محفوظ کرنے کے رولز یہ ہیں کہ چھوٹے پیکٹ میں چھوٹے پیسز میں محفوظ کریں تاکہ جلد ہی اندرونی سطح تک درجہ حرارت منجمد پر جانے میں زیادہ وقت نہ لگے ورنہ اس میں سیفٹی نہ ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔‘

گوشت پر لگا خون اور بال صاف کرنا

قربانی کے تازہ گوشت پر سے خون اور بال کو صاف کرنا بھی ایک وقت طلب کام ہوتا ہے۔

شیف محبوب سے جب ہم نے اس مسئلے کا ذکر کیا تو ان کہنا تھا کہ گوشت پر بال بھی ذیادہ جب ہی ہوتے ہیں جب قصائی ناتجربہ کار ہو۔ ان کے مطابق ’اگر پروفیشنل قصائی ہو گا تو بال نہیں لگے ہوتے۔ پردے اور ران کے گوشت کے پاس بال ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اس کےلیے گوشت کو روشن جگہ پر دھوئیں تاکہ بال چپکا رہ گیا ہو تو باآسانی نکال سکیں۔‘

دوسری جانب نمرہ گوشت خصوصا پائے پر سے بال ہٹانے کے لیے اپنی والدہ کا نسخہ استعمال کرتی ہیں۔

’امی خصوصا پائے میں یہ کرتی ہیں کہ اس کو آٹا لگا کر رکھیں تو بال اس آٹے پر چپک جاتے ہیں اور یوں ہم اسے باسانی دھو لیتے ہیں۔ میں خود عید پر ایک سخت برش گوشت کو صاف لینے کے لیے لیتی ہوں تاکہ ہڈی والا یا گوشت کا بڑا ٹکڑا دھونے میں زیادہ مشکل نہ ہو۔‘

تسنیم گوشت پر سے بال صاف کرنے کے لیے اپنا تجربہ بیان کرتی ہیں جس میں وہ گوشت کو ایک کھلے برتن میں ڈال کر پانی بھرتی ہیں جس سے بال اوپر آ جاتے ہیں۔

’پھر وہ پانی گرا کر دوبارہ یہی عمل دہرایں تو دو سے تین بار میں گوشت بہت حد تک بالوں اور خون سے پاک ہو جاتا ہے۔‘

ان کے مطابق گوشت میں سرکہ اور کٹا ہوا لہسن لگا کر 10/ 15 منٹ رکھ کر پھر اچھی طرح دھو لیں۔ یہی ٹوٹکہ وہ کلیجی کے لیے بھی آزماتی ہیں جس سے خون صاف ہو جاتا ہے اور بساند ختم ہو جاتی ہے اور ہاں ان کی بنائی کلیجی کی لوگ تعریف کرتے نہیں تھکتے۔

یہاں شیف محبوب نے ہمیں بتایا کہ کلیجی کو پکانے سے پہلے پانی میں تقریبا آدھا گھنٹہ چھوڑ دیں اور پھر اس کو چھلنی میں ڈال کر خون کواچھی طرح نکلنے دیں تو وہ صاف ہو جاتی ہے۔‘

منھ کو زخمی کرنے والا ہڈیوں کا چورا Getty Images

نمرہ کو بھی یہی شکایت ہے کہ قصائی جلد بازی میں آڑھا تیڑھا گوشت بناتے ہیں تو وہ حصے سمجھنے میں مشکل ہو جاتی ہے کہ کون سا گوشت کس حصے کا ہے۔ تاہم وہ کہتی ہیں بعض اوقات قصائی گوشت بنانے میں ہڈیوں کا چورا کر دیتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’گوشت میں ہڈیاں نوکیلی ہوتی ہیں تو اس کو دھوتے وقت اکثر جلد زخمی ہونے کا ڈر رہتا ہے تو اس کے لیے ربڑ کے موٹے دستانے رکھے ہوئے ہیں تاکہ ہاتھ محفوظ رہیں۔‘

لیکن یہی ہڈیاں اگر کھانے میں شامل ہو جائیں تو منہ یا مسھوڑے کو زخمی کر دیتی ہیں۔

شیف محبوب کے مطابق ’ ڈھنگ کا قصائی ہو گا تو وہ گوشت کو جھٹکتا رہتا ہے تاکہ چورا نکل جائے۔ اگر ہڈیاں چورا ہو گئی ہیں تو کوشش کریں کہ دھونے کے دوران ہڈی کو نکال دیں ورنہ بعض دفعہ چھوٹی ہڈی دانت کو اور مسوڑھوں کو پھنس کر بہت بڑا نقصان پہنچا دیتی ہے۔‘

’قربانی کے گوشت میں اگر دھونے کے بعد بھی احتمال ہو تو پکاتے وقت پلاؤ کی صورت میں یخنی لازمی چھانیں اور اگر قورمہ ہے تب بھی پہلے احتیاطا ابال کر چھان لیں اور پھر مسالحے ڈالیں تاکہ ہڈی کا چورا نیچے بیٹھ جائے اور آپ اس کو نکال سکیں۔‘

گوشت دھونا اور ای کولی، سالمونیلا جیسے بیکٹیریا بچاؤ

نمرہ کہتی ہیں کہ ان کے تجربے میں قربانی کے گوشت کو اگر دھو کر رکھا جائے تو وہ جلدی خراب ہو جاتا ہے۔گوشت کو دھو کر فریزر میں رکھنے میں شاپر یا تھیلی سے پانی رسنا شروع ہو جاتا اور گندگی پھیلتی۔ اس لیے وہ گوشت کو پنکھے میں سکھا کر پیکٹ بنا کر فرج میں رکھتی ہیں۔

’ہم بڑی سی چٹائی پر گوشت رکھ کر خشک کرتے ہیں اور پھر ان کے پیکٹس بنا کر محلے اور رشتہ داروں کے ہاں بھیجتے ہیں۔ اور جب پکانے کی باری آتی ہے تو اس سے پہلے گوشت کو گلوز پہن کر دھوتے ہیں۔ ‘

کئی لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا قربانی کا گوشت دھو کے فریز کیا جائے یا بغیر دھوئے؟

شیف محبوب اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ’اتنی بڑی مقدار میں گوشت کو دھو کے رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ کراچی اور بلوچستان کے اکثر علاقوں کی بات کریں تو وہاں اتنا تو پانی ہی نہیں ہے۔‘

قربانی کا گوشت کتنے دن تک فریج میں رکھ کر کھانا صحت کے لیے خطرہ نہیں بنتاکیا جانوروں کی کلیجی انسانی جگر کی خرابی دور کر سکتی ہے؟کیا ہم مرغی کے پنجے کھا سکتے ہیں اور یہ چکن کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں خاص کیوں ہیں؟جلد اور بالوں کو خوبصورت بنانے والا ریڈ میٹ دل کے لیے کب نقصان دہ ثابت ہوتا ہے؟

تاہم وہ کہتے ہیں کہ گوشت کی جس مقدار کو دھو کر رکھنا ہو تو اس میں فاضل چکنائی، غدود(گلینڈز) نکال دیں جو اکثر قصائی چھوڑ دیتے ہیں اور روشن جگہ گوشت کو دھوئیں تاکہ کوئی بال چپکا رہ گیا ہو تو وہ نکال سکیں۔

اسی سوال کے جواب میں ماہر غذائیت زینب غیور کہتی ہیں کہ ’بعض لوگ گوشت کو فورا دھونا شروع کر دیتے ہیں تاہم اس میں بیکٹیریا پھیل جا نے کا احتمال ہوتا ہے۔ پہلے گوشت کو لٹکا کر یا چھلنی میں ڈال کر اس کا خون نکلنے دیں کیونکہ اگر خون اندر جم جائے تو اس سے نقصان دہ بیکٹیریا ہو سکتے ہیں۔‘

تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ دھونے کے کچھ طریقہ کار ہیں۔

’لوگ اکثر بہت تیز پانی کے نیچے میں دھوتے ہیں تو اردگرد برتن اور سنک پر چھینٹیں پڑتی ہیں اور اس سےکا پھیلاؤ کی سورس بن کر پیٹ اور نظام ہضم پر برا اثر ڈالتی ہیں۔‘

جانور کوسٹریس سے بچانے اور پیار سے رکھنا ضروری کیوں

شیف محبوب نے گوشت کے سحت ہونے یا مخصوص مہک آنے کے سوال کے جواب میں ایک اہم مسئلے پر توجہ دلائی اور اس رویے کی شدید مخالفت کی جس میں قربانی کے جانور کو گھسیٹا جاتا ہے۔

’جب جانور کو ذبح کرتے ہیں تو اس سے پہلے اس کو گھسیٹ کے لاتے ہیں یا ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کرنا درست اس لیے نہیں کہ خوف یا سٹریس سے اور گھسیٹ کے لانے سے گائے کے اندر لیکٹک ایسڈ جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’عموماً ناتجربہ کار قصائی ایک بار میں گائے کو گرا نہیں سکتا توخصوصا گائے کے پیچھے بھاگتے ہیں گھسیٹتے ہیں تو اس خوف سے جانور کے اندر لیکٹک ایسڈ جمع ہوتا ہے اور اس کے گوشت میں ایک ناگوار مہک آتی ہے۔ تو بکرے یا گائے کے اندر اس خوف سے اس کے مسلز اور گوشت بھی سخت ہو جاتے ہیں تو اس کے گوشت کے سخت ہونے کی شکایت بھی اس لیے ہوتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’قربانی کے جانور کو پہلے ریلیکس کریں اس کو پانی پلائیں، پیار کریں تاکہ وہ سٹریس سے نکلے اور مہارت سے ذبح کروائیں تاکہ اس کا گوشت میں بو اور سخت نہ ہو۔‘

گوشت کو ٹچ کرنے کے بعد ہر بار صابن سے ہاتھ دھونا ضروری

قربانی کے گوشت کے حصے بنانے بانٹنے اور محفوظ کرنے کے دوران صفائی ستھرائی کا دھیان بھی خاص ضروری ہے۔

زینب غیور گوشت کو دھونے کے بعد ہر بار ہاتھ اچھی طرح دھونے پر زور دیتی ہیں۔

’کیونکہ عید پر بار بار ہمیں گوشت کو چھونا پڑتا ہے بار بار ہم گوشت کو ٹچ کرتے ہیں تو یہ بہت بہتر ہو گا کہ جب بھی کچا گوشت چھوئیں تو ہاتھوں کو عالمی ادارہ صحت کی گائیڈ لائن کے مطابق 20 سیکنڈ تک خوب اچھی طرح دھوئیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’گوشت کے استعمال میں آنے کے بعد چھری کو اچھی طرح پہلے ڈٹرجنٹ سے دھو کر فوری طور پر اس سے پھل یا سبزی کاٹنے سے گریز کریں۔ بہتر ہے کہ چھری کلورین یا جراثیم کش سے دھوئیں بصورت دیگر سادہ صابن یا سرف سے بھی دھویا جا سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ گوشت کی چھری الگ سے ہو۔‘

یہاں نمرہ اور تسنیم کی وہ چھوٹی چھوٹی مگر ٹپس جس سے قربانی کے بعد گھر اور ماحول کو صاف رکھا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق:

قربانی کے بعد صفائی کے لیے سکریپرز سے خون کو اٹھا کر مٹی یا کچی جگہ پر اکھٹا کریں اس طرح صفائی والوں کو اٹھانے میں آسانی رہتی ہے۔قربانی کا گوشت چکنا ہونے کے سبب کوشش کریں کہ سنک کے بجائے کھلے ایریا میں گوشت کو صاف کر کے دھویں پھر فرش اور وہ جگہ صاف کر کے گرم پانی اور سوڈا ڈال کر نالی میں بہا دیںسرکہ سوڈا اور ڈش واشر کا لیکویڈ بنا کر سپرے کر کے کچن کاؤنٹر کو بار بار صاف کرتے رہیں۔قربانی کا گوشت کتنے دن تک فریج میں رکھ کر کھانا صحت کے لیے خطرہ نہیں بنتاکیا ہم مرغی کے پنجے کھا سکتے ہیں اور یہ چکن کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں خاص کیوں ہیں؟کیا جانوروں کی کلیجی انسانی جگر کی خرابی دور کر سکتی ہے؟جلد اور بالوں کو خوبصورت بنانے والا ریڈ میٹ دل کے لیے کب نقصان دہ ثابت ہوتا ہے؟گوشت خوری سے تیزابیت، جوڑوں میں درد اور دیگر طبی مسائل سے کیسے بچا جائے؟آپ کی پلیٹ میں کتنا کھانا ہونا چاہیے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More