BBC/Rashedul Hasan
سمندر بعض اوقات اتنا پُرسکون ہوتا ہے کہ کیپٹن حسن خان (فرضی نام) بھول جاتے ہیں کہ ان کا جہاز گذشتہ تین ماہ سے ایک جنگی علاقے کے درمیان پھنس چکا ہے۔
ایک پاکستانی ملاح اپنی اصل شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتاتے ہیں کہ ’یہ واقعی عجیب بات ہے کہ باہر سب کچھ نارمل دکھائی دیتا ہے، لیکن اندر لوگ پرسکون نہیں ہیں۔'
بظاہر حالات معمول کے مطابق نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ خان اور ان کے ساتھ تقریباً 20 ہزار دیگر ملاح امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور کشیدگی کے باعث فروری کے آخر سے آبنائے ہرمز کے اندر یا اس کے قریب پھنسے ہوئے ہیں۔
یہ علاقہ جو کبھی دنیا کے مصروف ترین آبی راستوں میں شمار ہوتا تھا اور جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی تھی، اب تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ فضا میں میزائلوں کی پرواز اور سمندر کی تہہ میں بارودی سرنگوں کی موجودگی بتائی جاتی ہے۔
اس کے باوجود، خان کے جہاز کا عملہ معمول کے مطابق کام کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم عملے کا کوئی بھی رکن شاذ و نادر ہی اجازت ملنے کے باوجود ساحل پر جانے کے لیے تیار ہوتا۔ خوش مزاج گفتگو کی جگہ اب ایک بے چینی بھری خاموشی نے لے لی ہے جو صرف موبائل فون کی گھنٹیوں سے ٹوٹتی ہے۔ لوگ معمولی سی آواز پر بھی نیند میں چونک جاتے ہیں۔
خان کہتے ہیں کہ ’یہ دباؤ ہمارے ذہن پر ہر وقت رہتا ہے۔ سب لوگ تھک چکے ہیں جسمانی اور ذہنی دونوں طرح سے۔‘
BBCآمد و رفت اور رسد
میزائلوں اور سمندری بارودی سرنگوں سے لاحق خطرات کے علاوہ بھی ایک بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق آبنائے ہرمز کے اُس جانب پھنسے تقریباً 1,600 جہاز اب تک وہاں سے نکلنے سے قاصر ہیں۔
جنگ کے آغاز کے چند روز بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جو خلیج سے باہر نکلنے کا واحد سمندری راستہ ہے اور واضح اجازت کے بغیر کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
ایک اور ملاح، کیپٹن شفیق الاسلام کہتے ہیں ’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی تالاب میں قید ہو گئے ہوں۔ باہر نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ آبنائے ہرمز ہے۔‘
بنگلہ دیشی ملکیت کے جہاز بنگلار جوئے جاترا کے کپتان شفیق الاسلام کے مطابق ان کا جہاز تقریباً 37 ہزار ٹن کھاد لے کر جنوبی افریقہ جا رہا تھا، تاہم گزشتہ چند ماہ کے دوران وہ دو مرتبہ آبنائے ہرمز عبور کرکے نکلنے کی کوشش کر چکے ہیں۔
دونوں کوششوں کے دوران ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
آٹھ اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد الاسلام کو اطلاع ملی کہ ایک اور جہاز کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے جہاز سمیت مزید چار بحری جہازوں کا رخ اس اہم آبی گزرگاہ کی جانب موڑ دیا۔
تاہم کچھ ہی دیر بعد انھیں آگے نہ بڑھنے کی وارننگ موصول ہوئی۔
نو روز بعد الاسلام نے ایک مرتبہ پھر کوشش کی جب ایران نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے تناظر میں اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے ’مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔‘
تاہم امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھنے کے بعد ایران نے جلد ہی اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔
اس وقت تک الاسلام کا جہاز آبنائے ہرمز سے صرف 30 بحری میل (تقریباً 55 کلومیٹر) کے فاصلے تک پہنچ چکا تھا، لیکن مسلسل حملوں کی وارننگز ریڈیو پر موصول ہونے کے باعث انھیں مجبوراً جہاز کا رخ واپس موڑنا پڑا۔
ایرانی کشتیوں کے ’مچھر بیڑے‘ نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کو کیسے مشکل میں ڈالا؟’خاموش ہتھیار‘: کیا ایران آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے؟دنیا کو ایک ارب بیرل سے زائد تیل کی قلت کا سامنا: پہلے جنگ ختم ہو گی یا عالمی طاقتوں کے سٹریٹجک ذخائر؟انڈین بحری جہاز کے کپتان نے آبنائے ہرمز میں کیا دیکھا؟Rashedul Hasanبنگلار جوئی جاترا کے کیپٹن اسلام (سامنے والی قطار میں دائیں سے دوسرے) اور چیف انجینئر راشد الحسن (کیپٹن کے بائیں) عملے کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ویڈیو ریکارڈ کرتے ہیں۔
جنگی صورتحال کے باعث خلیج میں پھنسے متعدد جہازوں نے حفاظتی اقدامات کے تحت مختلف بندرگاہوں کا رخ کر لیا ہے یا ساحل سے دور لنگر انداز ہو گئے ہیں تاہم اب خوراک اور پینے کے پانی کی فراہمی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
اگرچہ بندرگاہوں میں داخل ہوئے بغیر بھی ضروری سامان کی فراہمی ممکن ہے، کیونکہ خلیجی خطے خصوصاً دبئی، ابوظہبی اور کویت کے اطراف میں سپلائی کی مؤثر سہولیات موجود ہیں لیکن موجودہ حالات میں سامان کی ترسیل غیر یقینی ہو چکی ہے۔
بنگلار جوئے جاترا کے چیف انجینئر راشد الحسن کے مطابق ضروری اشیاء میں سب سے زیادہ اضافہ پانی کی قیمت میں ہوا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’دو روز قبل ہم نے جہاز کے لیے تقریباً 180 ٹن پانی خریدا۔ پہلے اس پر 1,500 سے 2,000 ڈالر تک لاگت آتی تھی، لیکن اب اسی مقدار کے لیے 11 ہزار ڈالر ادا کرنا پڑے۔‘
جنوبی کوریائی ملاح، جنھوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، کا کہنا ہے کہ بعض خوراک اور پانی فراہم کرنے والی کمپنیاں موجودہ بحران سے فائدہ اٹھا کر غیر معمولی منافع کمانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ سپلائرز حالات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے جا اضافہ کر رہے ہیں۔‘
دوسری جانب موسمِ گرما کی آمد کے ساتھ پھنسے ہوئے جہازوں کو پانی کی مزید ضرورت پیش آئے گی۔ مئی کے دوران خطے میں درجہ حرارت پہلے ہی 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ گرمی کی شدت بڑھنے پر یہ 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتی ہے۔
کیپٹن حسن خان کے مطابق ان کے جہاز پر فی الحال خوراک اور پانی موجود ہے، تاہم اب راشن پہلے کے مقابلے میں محدود ہو گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ گائے اور مرغی کا گوشت تو کسی حد تک دستیاب ہے، لیکن سبزیوں اور دالوں کا حصول دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
موت اور سفارت کاریRashedul Hasanبنگلار جوئی جاترا جنوری کے آخر میں بنگلہ دیش سے روانہ ہوا تھا اور اب متحدہ عرب امارات کی شارجہ بندرگاہ پر لنگر انداز ہے۔
اگرچہ کیپٹن شفیق الاسلام خود کو نسبتاً خوش قسمت سمجھتے ہیں، لیکن ان کے مطابق جنگ کے دوسرے ہی روز ان کا جہاز دبئی کی جبل علی بندرگاہ سے صرف 200 میٹر کے فاصلے پر موجود تھا، جب اس بندرگاہ کو ایرانی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
کیپٹن الاسلام کے مطابق اس واقعے کے بعد وہ اور ان کے 30 رکنی عملے نے اتنے حملے دیکھے ہیں کہ اب ان کی گنتی بھی یاد نہیں رہی۔
انھوں نے کہا کہ ’کبھی میزائل ایک جہاز کے اوپر سے گزرتے ہیں اور کبھی ان کا ملبہ دوسرے جہاز کے قریب آ گرتا ہے۔‘
جہاز کے چیف انجینئر راشد الحسن کا کہنا ہے کہ جب رات بھر حملے جاری رہتے تھے تو عملے کا کوئی فرد سو نہیں پاتا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے اپنی آنکھوں سے خوف اور تباہی کے مناظر دیکھے ہیں۔‘
ملاحوں کے خوف کی ایک بڑی وجہ جانی نقصان بھی ہے۔ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق اب تک تصدیق شدہ 39 مختلف واقعات میں کم از کم 11 ملاح ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایک شخص اب بھی لاپتا ہے۔
جنگ بندی کے بعد اگرچہ کشیدگی میں کسی حد تک کمی آئی، تاہم آبنائے ہرمز میں جاری فوجی سرگرمیاں اس صورتحال کی نازک نوعیت کی مسلسل یاد دہانی کراتی ہیں۔
بعض ملاح اب بھی ڈرونز اور جنگی طیاروں کی پروازیں دیکھتے ہیں، جبکہ دیگر کے مطابق جنگی بحری جہاز اور آبدوزیں معمول کے مطابق علاقے میں گشت کر رہی ہیں۔
ایک پاکستانی ملاح ساجد مسعود (فرضی نام)، جو ایک آئل ٹینکر پر باورچی کے فرائض انجام دے رہے ہیں، نے بتایا کہ ’یہ جنگی جہاز تیز روشنیاں استعمال کرتے ہیں اور لاؤڈ سپیکرز پر مسلسل اعلانات بھی سنائی دیتے ہیں۔‘ کپتان کا کہنا ہے کہ ’ایرانی حکام ایسا اس لیے کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے نہ دیا جا سکے۔‘
Reutersامریکہ-اسرائیل حملوں کے بعد ایران نے خلیجی ممالک، خصوصاً یو اے ای کی جبل علی بندرگاہ، پر حملے کیے۔
آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہزاروں ملاحوں کے لیے فی الحال کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دیتا، جبکہ شپنگ کمپنیاں بڑھتے ہوئے نقصانات کے باعث اخراجات کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
پاکستانی ملاح کامل (فرضی نام) کے مطابق جنگ کے آغاز میں متعدد شپنگ کمپنیوں نے اپنے عملے کو جہازوں پر برقرار رکھنے کے لیے اضافی تنخواہوں اور خصوصی مراعات کی پیشکش کی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ اب صورتحال بدل چکی ہے۔ کمپنیاں بھاری مالی نقصانات کا سامنا کر رہی ہیں، اس لیے عملے کو بتایا جا رہا ہے کہ جو ملازم ملازمت چھوڑنا چاہے، وہ چھوڑ سکتا ہے، جبکہ تنخواہوں اور دیگر مراعات میں بھی کمی کی جا رہی ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ عملہ رخصت ہو جاتا ہے تو ان کی جگہ کون لے گا؟
بہت سے ملاحوں کے معاہدوں کی مدت ختم ہو چکی ہے اور عملے کی تبدیلی کا عمل کافی عرصے سے مؤخر ہے، لیکن موجودہ حالات میں اتنی بڑی تعداد میں نئے ملاحوں کی دستیابی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، حتیٰ کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی۔
کامل کہتے ہیں کہ ’اس بحران نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ یہ پیشہ کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ بہت سے ملاح اب اس پیشے کے بارے میں مختلف انداز میں سوچنے لگے ہیں۔‘
ان کے بقول انھیں یہ خدشہ بھی ہے کہ مستقبل کے تنازعات میں بین الاقوامی آبی گزرگاہوں تک رسائی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب آئل ٹینکر پر باورچی کے فرائض انجام دینے والے پاکستانی ملاح ساجد مسعود (فرضی نام) بھی سمندری زندگی جاری رکھنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں، حالانکہ ان کے معاہدے میں صرف ایک ماہ باقی رہ گیا ہے۔
تاہم کسی حتمی فیصلے سے پہلے ان کی سب سے بڑی خواہش اپنے وطن پاکستان واپس لوٹنا ہے، جہاں وہ اپنے اہلِ خانہ کے لیے دبئی سے خریدے گئے تحائف لے جانا چاہتے ہیں۔
وہ اپنی بیٹیوں کے لیے باربی ڈولز اور بیٹے کے لیے ایک کھلونا ہوائی جہاز خرید چکے ہیں۔
ساجد مسعود کہتے ہیں کہ ’میں سمجھتا تھا کہ جلد گھر پہنچ جاؤں گا، لیکن اب بھی ہم آبنائے ہرمز کے قریب پھنسے ہوئے ہیں اور مستقبل کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میرے گھر والے روز پوچھتے ہیں کہ میں کب واپس آؤں گا، لیکن میرے پاس ان کے لیے کوئی جواب نہیں۔‘
Rashedul Hasanراشد الحسن کہتے ہیں کہ انھیں یقین ہے کہ یہ ’اہم مرحلہ‘ گزر جائے گا
بحری نقل و حمل کے اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنی کیپلر کے مطابق 28 فروری سے اب تک تقریباً 750 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم تحقیقی ادارے سی این اے سے وابستہ ماہر جوناتھن شروڈن کے مطابق ان جہازوں کے مالکان نے غالباً ایران کے ساتھ براہِ راست بین الاقوامی سفارتی رابطوں کا سہارا لیا۔ ان کے بقول زیادہ تر ایسے جہاز چین، انڈیا اور پاکستان سے تعلق رکھتے تھے۔
ڈاکٹر جوناتھن شروڈن نے مزید کہا کہ بظاہر ان جہازوں کو گزرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے ’فی جہاز کئی ملین ڈالر‘ فیس بھی ادا کرنا پڑی۔
اس صورتحال میں بنگلار جوئے جاترا نامی جہاز کی سب سے بڑی امید بھی سفارتی کوششیں ہی ہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت اور جہاز کی مالک کمپنی بنگلہ دیش شپنگ کارپوریشن مشترکہ طور پر جہاز کو محفوظ راستہ دلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
تاہم یہ عمل بھی آسان ثابت نہیں ہوا۔
کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر محمودالملک نے بتایا کہ بنگلہ دیش ابتدا میں ایران کی جانب سے طلب کردہ ٹول یا فیس ادا کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا، لیکن بعد ازاں یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا۔
ان کے مطابق اس کی وجہ امریکہ کی جانب سے دی گئی وہ وارننگ تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کو ایسی ادائیگی کرنے والے کسی بھی ملک پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
محمودالملک نے صورتحال کی سنگینی بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس وقت دوہرے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
دنیا کو ایک ارب بیرل سے زائد تیل کی قلت کا سامنا: پہلے جنگ ختم ہو گی یا عالمی طاقتوں کے سٹریٹجک ذخائر؟ایرانی کشتیوں کے ’مچھر بیڑے‘ نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کو کیسے مشکل میں ڈالا؟’خاموش ہتھیار‘: کیا ایران آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے؟آبنائے ہرمز بند ہوئی ہو کیا ہو گا؟انڈین بحری جہاز کے کپتان نے آبنائے ہرمز میں کیا دیکھا؟