’ساہیوال اور اوکاڑہ میں جنگ چھڑ گئی ہے جس سے خطے بھر میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔۔۔ پاکپتن اور ملتان سمیت دیگر شہر بھی جھڑپوں میں شامل ہو گئے ہیں جبکہ تنازع کے اثرات سینکڑوں کلومیٹر دور کراچی تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔‘
ساہیوال اور اوکاڑہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ہیں، دونوں میں لگ بھگ 37 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں ان دونوں قریبی شہروں میں ہونے والی ’جنگ‘ توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
تاہم یہ معرکہ میدان جنگ میں نہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر برپا ہے۔ اور دونوں شہروں کے حامی سپاہی اپنے ہاتھوں میں کی بورڈ تھامے ایک دوسرے پر گولہ باری کر رہے ہیں، جبکہ دیگر شہروں میں رہنے والے، نہ چاہتے ہوئے بھی، اس جنگ کا حصہ بننے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اس سوشل میڈیا جنگ میں مبالغے کے ڈرون اور مزاح کے بیلسٹک میزائلوں کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ فریقین نے ایک دوسرے پر طنز کے بھی تابڑ توڑ حملے کیے ہیں۔
اس جنگ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اسلحے کے اندھا دھند استعمال کے باوجود تخلیق اور تخیل کے ذخائر میں کوئی کمی نہیں آ رہی، تاہم ڈیٹا پیکج کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
سوشل میڈیا پر جہاں کئی صارفین اس ’جنگ‘ کے حوالے سے اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں، وہیں کچھ ایسے صارفین ہیں جو پوچھ رہے ہیں کہ یہ سارا معاملہ ہے کیا۔
حتمی طور پر تو معلوم نہیں کہ یہ جنگ شروع کیسے ہوئی، تاہم دستیاب معلومات کا تجزیہ کرنے سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا آغاز ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ سے ہوا۔
یہ اکاؤنٹ اسی سال مارچ میں بنایا گیا اور دو مئی کو اس پر پہلی پوسٹ ہوئی۔ یہ ایک ویڈیو تھی جس میں ایک شخص نہر کے دو کناروں سے باندھی گئی رسی پر چلنے کی کوشش کرتے ہوئے پانی میں جا گرتا ہے۔ اس پر کیپشن درج ہے ’اوکاڑہ نہر پر بنائے گئے نئے پل پر دوبارہ تجربات۔‘
چینل سے پوسٹ کی جانے والی تمام پوسٹیں ہی مزاحیہ نوعیت کی ہیں اور سبھی میں شہر کے حوالے سے ہنسی مذاق کیا گیا ہے۔
کسی ویڈیو میں ایک دیسی ساختہ ہوائی جہاز اڑان بھرنے سے پہلے ہی گر جاتا ہے اور نیچے درج ہے ’اوکاڑہ کی فضائی فوج میں چھٹی جنریشن کا خفیہ جنگی طیارہ شامل کر لیا گیا۔‘ کسی ویڈیو میں موبائل فون پکڑے بلی کی ویڈیو پر درج ہے ’اوکاڑہ کی خصوصی افواج کو تربیت دی جا رہی ہے۔‘
اسی اکاؤنٹ سے چار جون کو ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی۔ اس میں ایک میزائل کسی جگہ گرتے دکھایا گیا ہے اور لکھا ہے ’اوکاڑہ کی جانب سے ساہیوال پر حملوں کی نئی لہر۔‘
دستیاب شواہد بتاتے ہیں کہ یہی پوسٹ وہ پہلی گولی تھی جس نے اوکاڑہ بمقابلہ ساہیوال جنگ کو جنم دیا اور بعد میں جنگی طیارے، بیلسٹک میزائل، یہاں تک کہ ہائپرسونک میزائل بھی اس جنگ میں جھونک دیے گئے۔
سوشل میڈیا پر اس ’تنازع‘ سے متعلق کوئی بھی پوسٹ چار جون سے پہلے کی نہیں ملتی، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ اسی پوسٹ نے جنگ کا آغاز کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کے طرح طرح کے تبصرے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
سوشل پر صارفین اس ’جنگ‘ سے خوب محظوظ ہو رہے ہیں۔
ایک صارف نے تصویر پوسٹ کی جس میں کوئی شخص سڑک پر ایک سائن بورڈ کے پاس کھڑا ہے۔ سائن بورڈ پر تیر کے اشارے سے معلوم ہوتا ہے کہ سڑک ساہیوال کی طرف جا رہی ہے۔ پس منظر میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے آسمان سے برستے میزائل دکھائے گئے ہیں۔ اس تصویر کے ساتھ درج ہے کہ ’اوکاڑہ کی جانب سے ساہیوال پر داغے گئے میزائل فضا میں نظر آ رہے ہیں۔‘
راؤ فصیح نے برستے میزائلوں کی ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے ’آگاہ‘ کیا کہ اوکاڑہ نے سب سونک میزائل داغے تھے، جن کے جواب میں ساہیوال نے بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کر دیا ہے۔
ساتھ ہی انھوں نے جارحیت کی ’مذمت‘ کرتے ہوئے دونوں فریقوں سے جنگ بند کرنے کی اپیل کی۔
ایک صارف نے عسکری ساز و سامان سے لیس فوجی گاڑیوں کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: ’بڑھتی کشیدگی کے سبب کراچی سے فوج ساہیوال روانہ کر دی گئی۔‘
نماز کے طبی فوائد بتانے کے بعد ’شارک ٹینک انڈیا‘ کی جج کو آن لائن ہراسانی کا سامنامریم نواز سے متعلق پوسٹ: دو کروڑ جرمانے کے بعد نسیم شاہ کی معذرت، ’وہ ٹویٹ میرے خیالات کی عکاسی نہیں کرتی تھی‘سوشل میڈیا ایپس کے خلاف ’گیم چینجر‘ فیصلہ: ’بچوں کے معاملے میں کوئی بھی کمپنی احتساب سے بالاتر نہیں‘فیس بُک کی انفلوئنسرز کو ماہانہ تین ہزار ڈالر دینے کی پیشکش: اس سکیم سے کون فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
ایکس پروفائل پر خود کو ماہر دفاعی امور لکھنے والے صارف ایم راد کا کہنا ہے کہ چین نے ساہیوال کے خلاف استعمال کرنے کے لیے اوکاڑہ کو چھ جے 35 لڑاکا طیارے فراہم کر دیے ہیں۔
آرمڈ فورسز اپ ڈیٹس نامی ایک صارف نے ایکس پر کئی طیاروں کی تصاویر پوسٹ کیں اور بتایا کہ یہ تمام طیارے تو چین نے ساہیوال کو دے دیے ہیں اس وجہ سے پاک فضائیہ کو جو طیارے فراہم کیے جانے تھے، ان میں تاخیر ہو جائے گی۔
لائل پوریا چٹھہ نامی صارف نے پوسٹ کیا: ’فیصل آباد نے اوکاڑہ اور ساہیوال سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔‘
لائل پور فیصل آباد کا پرانا نام تھا، لہذا ان صارف کا ایکس ہینڈل ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ لائل پوریا چٹھہ فیصل آباد سے تعلق رکھتے ہوں گے۔
اپنی پوسٹ میں انھوں نے مزید لکھا: ’فیصل آباد نے ثالثی کی پیشکش کی ہے، اور اگرچہ وہ اس وقت واحد ثالث کے طور پر فعال کردار ادا کر رہا ہے، اس نے خبردار کیا ہے کہ پتوکی پر کسی بھی حملے کو فیصل آباد پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘
ساہیوال نسل کی گائے دودھ دینے والے جانوروں میں ایک معروف مقام رکھتی ہے۔ اسی کے پیش نظر کئی صارفین نے گائے کی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: ’اوکاڑہ میں ساہیوال کا جاسوس پکڑ لیا گیا۔‘
تبصرہ کرنے والوں میں ایک صارف ثوبیہ عابد بھی ہیں جن کے مطابق وہ پیدا ساہیوال میں ہوئیں، بچپن وہیں گزارا اور نوکری کے لیے چند سال اوکاڑہ میں مقیم رہیں۔ انھیں یہ فیصلہ کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کہ وہ اس ’مزے دار جنگِ عظیم‘ میں کس شہر کا ساتھ دیں۔
جبکہ قطرینہ نامی صارف بھی ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائیں کہ ساہیوال یا اوکاڑہ میں سے انھوں نے کس کی طرف داری کرنی ہے۔ اپنا فیصلہ وہ اس بات پر چھوڑ رہی ہیں کہ کون سا فریق بہتر میمز بناتا ہے۔
’میمز تو مجھے وائٹ ہاوس بھی لے گئیں‘انٹرنیٹ کی مقبول ’ناراض بلی‘ چل بسیمیمز کے سو دن’صنم سعید تو ٹھیک ہے پر عمران خان کب رہا ہو گا؟‘ارشاد بھٹی کی معافی اور میرا کی وضاحت: ’اکیلی عورت ہوں اور میرا سفر سب کے سامنے ہے‘