Getty Images
گیس خارج ہونا جسم کا ایک نہایت عام مگر کم زیر بحث آنے والا عمل ہے۔
ہر کوئی گیس خارج کرتا ہے۔ بعض مطالعات کے مطابق زیادہ تر لوگ دن میں آٹھ سے 25 بار تک گیس خارج کرتے ہیں مگر زیادہ تر مواقع پر یہ دوسروں کو محسوس نہیں ہوتی۔
بعض اوقات گیس آواز یا بدبو کے ساتھ خارج ہو سکتی ہے جس سے آس پاس کے افراد کو ناگواری محسوس ہوتی ہے۔
جب ہمارے جسم سے گیس خارج ہوتی ہے تو کبھی کبھار بدبو کیوں آتی ہے؟ بدبودار گیس کیا صحت کے بارے میں کچھ بتاتی ہے اور کیا اس پر قابو پایا جا سکتا ہے؟
گیس کیوں خارج ہوتی ہے؟
طبی اصطلاح میں اس عمل کو فلیٹولینس یا فلیٹس کہا جاتا ہے، جس میں نظامِ ہضم سے گیس مقعد کے ذریعے خارج ہوتی ہے۔
امریکی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے میڈ لائن پلس اور جانز ہاپکنز میڈیسن کے مطابق گیس دو بنیادی طریقوں سے بنتی ہے: ہوا نگلنے سے یا بڑی آنت میں خوراک میں بیکٹیریا شامل ہونے سے۔
زیادہ تر آنتوں کی گیس میں بدبو نہیں ہوتی۔ اس میں بنیادی طور پر نائٹروجن، آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ، ہائیڈروجن اور کبھی کبھار میتھین شامل ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس بدبو ان گیسوں سے آتی ہے جن میں گندھک (سلفر) کی معمولی مقدار ہوتی ہے جسے آنتوں کے بیکٹیریا پیدا کرتے ہیں۔
گندھک والی ان گیسوں میں ہائیڈروجن سلفائیڈ اپنی شدید بدبو کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہی مرکب سڑے ہوئے انڈوں جیسی بو پیدا کرتا ہے۔
Getty Images
گيسٹرو اِنٹیرولوجی کے مطالعات میں محققین نے نوٹ کیا ہے کہ گندھک والے مرکبات، خاص طور پر ہائیڈروجن سلفائیڈ، جو بہت کم مقدار میں آنتوں کی گیس میں موجود ہوتے ہیں، زیادہ تر بدبو کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
یہ بات جریدہ دی جرنل آف کلینیکل انویسٹی گیشن میں شائع ایک تحقیق میں بھی بتائی گئی جس کی قیادت گيسٹرو اِنٹیرولوجسٹ ڈاکٹر مائیکل لیویٹ نے کی۔ انھوں نے آنتوں کی گیس پر ابتدائی تحقیق کی تھی۔
محققین کے مطابق آنتوں کی گیس کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ بدبو پیدا کرنے والے مرکبات پر مشتمل ہوتا ہے مگر یہ انتہائی کم مقدار میں بھی شدید بدبو پیدا کر سکتے ہیں۔
وہ آٹھ چیزیں جو پیٹ میں موجود گیس کے اخراج کی وجہ بن سکتی ہیںکیا ایک ہی جانور پر قربانی اور عقیقہ دونوں کیے جا سکتے ہیں؟سائنسدانوں کے لیے معمہ بننے والی وہ مچھلیاں جو ایک لاکھ سال سے سیکس کے بغیر اپنی نسل بڑھا رہی ہیں’جی پی ایس کی خاموش جنگ‘: جو پاکستان سمیت جنگ کے خطرے والے علاقوں میں پروازوں کو متاثر کر رہی ہےاس گیس میں بدبو کیوں ہوتی ہے؟
ماہرین کہتے ہیں کہ اس کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوتا ہے کہ کوئی شخص کیا کھاتا ہے اور اس کی آنتوں میں موجود بیکٹیریا اسے کس طرح توڑتے ہیں۔
کچھ غذائیں گندھک سے بھرپور مرکبات یا کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہوتی ہیں۔
چھوٹی آنت کے لیے انھیں ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب غیر ہضم شدہ ذرات بڑی آنت تک پہنچتے ہیں تو بیکٹیریا انھیں خمیر کر کے گیس خارج کرتے ہیں۔
امریکی نیشنل ڈایابیٹیز، ڈائجسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیزز انسٹیٹیوٹ کے مطابق کچھ کاربوہائیڈریٹس چھوٹی آنت میں مکمل طور پر جذب نہیں ہوتے بلکہ بڑی آنت تک پہنچ جاتے ہیں۔
پھلیاں، کچھ سبزیاں اور مکمل اناج عام طور پر گیس بننے کا سبب بنتے ہیں۔ بند گوبھی اور پھول گوبھی جیسی گندھک والی غذائیں ہضم کیے جانے کے دوران گندھک کے مرکبات خارج کرنے کی وجہ سے بدبودار گیس پیدا کر سکتی ہیں۔
Getty Images
برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق انڈے، گوشت، بروکلی، بند گوبھی اور پھول گوبھی جیسی گندھک سے بھرپور غذائیں بدبودار گیس پیدا کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ دودھ سے بنی اشیا بھی ان افراد میں کردار ادا کر سکتی ہیں جو لیکٹوز برداشت نہیں کر سکتے۔
ڈاکٹر مائیکل لیویٹ کے مطابق گندھک والی غذائیں ایسے بیکٹیریا کو توانائی فراہم کرتی ہیں جو ہائیڈروجن سلفائیڈ اور اس سے ملتے جلتے مرکبات پیدا کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بدبو کا تعلق گیس کی مقدار سے زیادہ اس کی نوعیت سے ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ممکن ہے کہ کوئی شخص زیادہ مقدار میں گیس خارج کرے مگر اس میں بدبو نہ ہو جبکہ بہت کم مقدار میں گیس شدید بدبو پیدا کر سکتی ہے۔ یہ فرق آنتوں کے مائیکرو بایوم کی ساخت پر منحصر ہوتا ہے جہاں کھربوں مائیکروبز رہتے ہیں۔
جنوری 2023 میں جرنل آف فنکشنل فوڈز میں شائع ایک مقالے میں کہا گیا کہ بیکٹیروئیڈز، کلوسٹریڈیم، دیسلفووِبریو اور میتھانوپروویبیکٹر آنتوں میں گیس کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
Getty Imagesآنتوں کے مائیکرو بایوم کا اہم کردار
گذشتہ دس برسوں میں سائنس دانوں نے یہ سمجھا کہ گیس کا مسئلہ صرف خوراک سے متعلق نہیں بلکہ نظامِ ہضم میں موجود بیکٹیریا کے توازن سے بھی ہے۔
بڑی آنت میں مائیکروبز کی ایک بڑی آبادی موجود ہوتی ہے۔ یہ جسم کے لیے ایسے کاربوہائیڈریٹس کو توڑنے میں مدد دیتی ہے جنھیں جسم خود ہضم نہیں کر سکتا۔ اس عمل کے دوران قدرتی طور پر گیسیں خارج ہوتی ہیں۔
امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ڈایابیٹیز ڈائجیسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیزز کے مطابق شکر، نشاستہ اور ریشہ جیسے غیر ہضم شدہ کاربوہائیڈریٹس بڑی آنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ’وہاں بیکٹیریا انھیں خمیر کرتے ہیں اور گیس پیدا ہوتی ہے۔‘
کچھ لوگوں کے آنتوں کے بیکٹیریا زیادہ میتھین گیس پیدا کرتے ہیں جبکہ بعض میں یہ زیادہ سلفر والی گیسیں پیدا کر سکتے ہیں۔ کچھ
بیکٹیریا ہائیڈروجن جیسی گیسیں بناتے ہیں جبکہ دوسرے مائیکروبز انھیں استعمال کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق مائیکروبز کے درمیان یہ توازن بدبو کی شدت میں کردار ادا کرتا ہے۔
نیچر ریویوز گیسٹرواینٹرالوجی اینڈ ہیپاٹالوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق آنتوں کی گیسیں ہائیڈروجن پیدا کرنے والے بیکٹیریا اور ہائیڈروجن استعمال کرنے والے مائیکروبز، جیسے میتھینو جینز اور سلفیٹ کو کم کرنے والے بیکٹیریا، کے درمیان تعامل کے نتیجے میں بنتی ہیں۔
سائنس دان ابھی تک اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ لوگوں میں آنتوں کے یہ مائیکروبز مختلف کیوں ہوتے ہیں۔
محققین کے مطابق جینیات، خوراک، مائیکروبز، انفیکشنز اور طویل عرصے تک قائم رہنے والی غذائی عادات سمیت کئی عوامل کسی فرد کے آنتوں کے ماحول کو تشکیل دیتے ہیں۔
Getty Imagesکیا ہوا نگلنے سے بھی گیس بنتی ہے؟
گیس کے مسائل کی ہر صورت میں وجہ صرف بیکٹیریا کی خمیری عمل نہیں۔ بعض اوقات کھانا کھاتے یا مشروبات پیتے وقت لوگ تھوڑی مقدار میں ہوا بھی نگل لیتے ہیں۔
اسی طرح بہت تیزی سے کھانا کھانا، چیونگم چبانا، سگریٹ نوشی اور کاربونیٹیڈ مشروبات پینا بھی نگلی جانے والی ہوا کی مقدار کو بڑھا سکتے ہیں۔
جان ہاپکنز میڈیسن اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ڈایابیٹیز، ڈائجیسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیزز کے مطابق یہ اضافی ہوا نظامِ ہاضمہ کے راستے سفر کرتی ہے اور آخرکار گیس کی صورت میں خارج ہو سکتی ہے۔
ذہنی دباؤ اور بے چینی بھی اس کی ایک وجہ ہو سکتے ہیں۔
کلیولینڈ کلینک کے مطابق بے چین افراد غیر محسوس کردہ طریقے سے زیادہ ہوا نگل سکتے ہیں جس سے پیٹ کے پھولنے اور گیس کی علامات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
کیا بدبودار گیس کسی عارضے کی علامت ہے؟
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گیس کا اخراج ایک مکمل طور پر معمول کا حیاتیاتی عمل ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق کبھی کبھار بدبو دار گیس کا اخراج عام طور پر بیماری کے بجائے غذائی عادات کی وجہ سے ہوتا ہے۔
تاہم برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق اگر گیس کے اخراج میں مسلسل تبدیلیاں آئیں، خاص طور پر جب اس کے ساتھ پیٹ میں درد، اسہال، قبض، وزن میں کمی یا پیٹ پھولنے جیسی علامات بھی موجود ہوں تو یہ کسی بنیادی نظامِ ہاضمہ کے عارضے کی علامت ہو سکتی ہیں۔
Getty Images
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ڈایابیٹیز، ڈائجیسٹو اینڈ کڈنی ڈیزیزز کے مطابق آنتوں کی جلن کا سنڈروم، لیکٹوز برداشت نہ ہونا، سیلیک بیماری اور معدے اور آنتوں کے بعض انفیکشنز جیسی حالتیں گیس کی پیداوار یا آنتوں کی گیس کے لیے حساسیت کو بڑھا سکتی ہیں۔
لیکٹوز برداشت نہ ہونا ایک عام مسئلہ ہے۔ جب دودھ کی مصنوعات میں موجود شکر یعنی لیکٹوز درست طور پر ہضم نہیں ہوتی تو بڑی آنت کے بیکٹیریا اسے خمیر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں گیس، پیٹ پھولنا اور اسہال ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ اگر گیس کا زیادہ اخراج پاخانے میں خون، مسلسل پیٹ درد، بغیر کسی واضح وجہ کے اچانک وزن میں کمی، دائمی اسہال، قے یا شدید پیٹ پھولنے جیسی علامات کے ساتھ ہو تو نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق طبی مدد حاصل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
کیا خوراک میں تبدیلی سے نتائج میں فرق آ سکتا ہے؟
زیادہ گیس یا بدبو دار گیس کے اخراج کے مسئلے کو کم کرنے کے لیے نیشنل ہیلتھ سروس متعدد عملی اور قابلِ عمل طریقے تجویز کرتی ہے۔
ان میں ’کم مقدار میں کھانا کھانا، آہستہ آہستہ چبا کر کھانا، باقاعدگی سے ورزش کرنا اور ایسے کھانوں سے پرہیز کرنا شامل ہے جو بار بار ان علامات کو بڑھاتے ہیں۔‘
Getty Images
پانی کا مناسب استعمال بھی اہم ہے کیونکہ یہ ہاضمے کو بہتر بناتا ہے اور آنتوں کی حرکت کو آسان بناتا ہے۔ کچھ افراد کو کاربونیٹیڈ مشروبات، مصنوعی مٹھاس اور زیادہ پراسیسڈ غذاؤں میں کمی سے فائدہ ہوتا ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بغیر رہنمائی کے خوراک میں بڑی تبدیلیاں نہ کی جائیں کیونکہ اس سے غذائی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔ مناسب طریقہ یہ ہے کہ کسی مستند ماہرِ غذائیت سے مشورہ کیا جائے۔
بنیادی طور پر ماہرین گیس کو اس بات کی علامت سمجھتے ہیں کہ نظامِ ہضم کام کر رہا ہے۔ وہ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ گیس کو روکنے کی کوشش اپھارے اور تکلیف کا باعث بن سکتی ہے۔
آنتوں میں پھنسنے والی گیس سے اپھارہ (بلوٹنگ)، پٹھوں میں درد اور پیٹ پر دباؤ ہو سکتا ہے۔
وہ آٹھ چیزیں جو پیٹ میں موجود گیس کے اخراج کی وجہ بن سکتی ہیںسائنسدانوں کے لیے معمہ بننے والی وہ مچھلیاں جو ایک لاکھ سال سے سیکس کے بغیر اپنی نسل بڑھا رہی ہیںابنِ سہل: وہ مسلم ریاضی دان جن کا سینکڑوں سال پہلے دریافت کیا گیا قانون عینک، کیمروں اور فائبرآپٹک کی بنیاد بنا’جی پی ایس کی خاموش جنگ‘: جو پاکستان سمیت جنگ کے خطرے والے علاقوں میں پروازوں کو متاثر کر رہی ہےکیا ایک ہی جانور پر قربانی اور عقیقہ دونوں کیے جا سکتے ہیں؟