@FSUIINDIAتین روز کے اندر یہ دوسری بار ہے جب امریکہ نے انڈین عملے والے جہاز پر حملہ کیا ہے
انڈیا نے عمان کے ساحل پر آئل ٹینکر پر امریکی بحریہ کے حملے میں دو انڈین ملاحوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے نئی دہلی میں قائم مقام امریکی سفیر کو طلب کیا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز امریکی بحریہ نے آئل ٹینکر ’سیٹبیلو‘ پر حملہ کیا جس میں دو انڈین ملاح ہلاک ہو گئے جبکہ ایک لاپتا ہے۔
’فارورڈ سی مین یونین آف انڈیا‘ کے جنرل سیکریٹری منوج یادو کے مطابق اس حملے میں دو ملاح ہلاک ہوئے ہیں، تاہم انڈین حکومت نے تینوں ملاحوں کو لاپتا قرار دیا ہے۔
انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کی مذمت کی ہے لیکن اپنے بیان میں امریکہ کا نام نہیں لیا۔ تاہم سوموار کو آئل ٹینکر ایم ٹی میریویکس پر امریکی حملے کے برعکس انڈیا نے بدھ کے حملے کی کھل کر مذمت کی۔
انڈیا میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور قازقستان کے دورے پر تھے، اس لیے امریکی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ کو طلب کیا گیا۔
میریویکس پر موجود 24 انڈین ملاحوں کو عمانی فوج نے بچا لیا تھا۔ امریکہ اس جہاز پر پہلے ہی پابندی عائد کر چکا تھا۔
انڈیا کا احتجاج@FSUIINDIA
’سیٹبیلو‘ نامی آئل ٹینکر پر موجود 21 ملاحوں کو بچا لیا گیا ہے، یہ جہاز امریکی فوج کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی زد میں آیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ آئل ٹینکر سیٹبیلو نے ایران سے تیل لے جاتے ہوئے جاری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’امریکی افواج کی جانب سے بار بار وارننگ دینے کے باوجود جہاز کے عملے نے اسے نظرانداز کیا۔ اس کے بعد ایک امریکی طیارے نے جہاز کے انجن کو نشانہ بناتے ہوئے درست ہتھیاروں سے حملہ کیا۔‘
امریکی فوج نے اس کارروائی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور سمندری تجارتی راستوں کی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے، خاص طور پر جب اس حملے میں انڈین ملاحوں کی جانیں گئیں۔
آئل ٹینکر سیٹبیلو پر حملے کے بعد انڈیا نے امریکہ کے ساتھ سخت احتجاج کیا ہے۔
انڈین حکومت نے نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے نائب سربراہ جیسن میکس کو طلب کیا اور اس واقعے پر اعتراض کیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب صرف دو دن قبل ہی عمان کے ساحل کے قریب امریکی افواج نے ایک اور آئل ٹینکر میریویکس کو نشانہ بنایا تھا۔ اس میں سے 24 انڈین ملاحوں کو نکال لیا گیا تھا۔
ٹرمپ کی خواہش کے راستے میں تہران اور نیتن یاہو کیسے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں؟نئے حملے، پاکستان کی پیچیدہ سفارت کاری اور ٹرمپ کی مشکل: امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ ہونے جا رہا ہے یا دوبارہ جنگ چھڑ سکتی ہے؟روسی تیل نہ خریدنے کی شرط: امریکہ کا انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدہ جو نئی امیدیں اور خدشات پیدا کر رہا ہےپاکستان کو ملنے والی امریکی فوجی امداد جس نے انڈیا کو روسی ہتھیاروں کی جانب راغب کیا
انڈین وزارت خارجہ نے بدھ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’عمان میں انڈین سفارت خانہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ تلاش اور بچاؤ کی کارروائی کے لیے عمانی حکام کے ساتھ فعال رابطہ برقرار ہے۔‘
سمندری انٹیلیجنس ویب سائٹ لائیڈز لسٹ کے مطابق، سیٹبیلو ان کئی جہازوں میں شامل تھا جو حالیہ دنوں میں عمان کے دُقْم بندرگاہ کے قریب رکے ہوئے تھے اور بظاہر امریکی بحریہ کی نگرانی میں تھے۔
اس سے قبل یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے ایک الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عمان کے سوحر سے تقریباً 20 سمندری میل شمال مشرق میں ایک ٹینکر کے انجن روم میں آگ لگ گئی ہے اور مقامی حکام عملے کو نکالنے میں مدد کر رہے ہیں۔
الرٹ کے مطابق، جہاز پر ایک شخص ہلاک ہوا تھا اور دو دیگر لاپتہ بتائے گئے تھے۔
انڈین وزارتِ خارجہ نے کہا کہ خطے میں تجارتی جہازوں پر مسلسل حملے شدید تشویش کا باعث ہیں۔ انڈیا نے زور دیا کہ خطے میں تجارتی جہازوں اور سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا سلسلہ رُکنا چاہیے۔
فوجی تصادم کا خدشہ @CENTCOM
جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق، سیٹبیلو اس سے قبل چین جا چکا تھا۔ اس نے مارچ اور اپریل میں دو بار چین کا سفر کیا تھا۔ اپریل کے آخر سے مئی کے آغاز تک اس نے لیانیونگانگ بندرگاہ پر سامان اتارا تھا اور 12 مئی کو سنگاپور سے روانہ ہوا تھا۔
13 اپریل سے امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کی تھی، جب تہران نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت پر پابندیاں اور کنٹرول سخت کر دیا تھا۔
اس واقعے نے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی، سمندری تجارت کے تحفظ اور بیرونی تنازعات میں پھنسے انڈین ملاحوں کی سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
اس دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔
ٹرمپ نے الزام لگایا ہے کہ ایران امن معاہدے پر دستخط کرنے میں ’بہت زیادہ وقت‘ لے رہا ہے اور ’امریکہ کو بیوقوف بنا رہا ہے۔‘
یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فوجی حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت ہوئی تھی۔
اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔
جلد ہی یہ تنازع تیزی سے پورے خطے میں پھیل گیا اور مارچ میں لبنان بھی اس کی زد میں آ گیا۔
اپریل میں امریکہ اور ایران جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، جسے ابتدائی طور پر دو ہفتوں کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔
تاہم مسلسل الزامات، نئے حملوں اور بڑھتے عدم اعتماد نے اس جنگ بندی کو انتہائی نازک بنا دیا ہے جس کے باعث خطے میں دوبارہ بڑے فوجی تصادم کا خدشہ برقرار ہے۔
کیا ٹرمپ اور مودی کے درمیان خوش کلامی تعلقات میں بہتری لا سکے گی؟ٹرمپ کی بے رخی کے بعد مودی کی نظریں چین پر: بدلتی صورتحال میں انڈیا کے پاس کیا راستے ہیں؟ٹرمپ، پوتن ملاقات اور انڈیا کا ’انتظار‘: ’لگتا ہے امریکی صدر دلی کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں‘آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد پائلٹوں کو سمندری ڈرون کی مدد سے کیسے بچایا گیا؟لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز: ایران جنگ میں امریکہ کے فضائی نقصانات سے متعلق کانگریس کی رپورٹ میں کیا ہے؟