مودی کو سب سے طویل عرصے تک انڈین وزیرِاعظم رہنے پر مبارکبادیں لیکن حقائق کیا کہتے ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Jun 11, 2026

Getty Images

کیا نریندر مودی واقعی انڈیا کے سب سے طویل عرصے تک رہنے والے منتخب وزیراعظم ہیں؟ یہ سوال ان دنوں انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

گذشتہ روز یعنی 10 جون کو مودی نے بحیثیت وزیر اعظم اپنے عہدے پر 4399 دن مکمل کیے جسے ایک سنگ میل کے طور پر دیکھا اور پیش کیا جا رہا ہے اور اس لحاظ سے مودی انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے 4398 دن تک وزیر اعظم رہنے کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔

اس موقع پر مودی کو اندرون ملک کے علاوہ دنیا بھر سے بھی مبارک باد کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔

وزیر اعظم مودی کو مبارکباد دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’میرے دوست، وزیر اعظم نریندر مودی کو مبارک باد، جو سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے انڈیا کے وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ وہ واقعی ایک عظیم شخصیت ہیں!‘

ٹرمپ نے مزید لکھا کہ وزیر اعظم مودی ’ایک مضبوط، صحت مند، اور دانا شخص ہیں‘ اور مستقبل میں ’عظیم کامیابیاں‘ ان کی منتظر ہیں۔

اس کے جواب میں مودی نے ان نیک خواہشات پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے لکھا کہ ’میں آپ کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں تاکہ دونوں ملکوں اور دنیا کے فائدے کے لیے انڈیا-امریکہ جوائنٹ ورلڈ سٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔‘

اٹلی کی وزیرِ اعظم جورجیا ملونی نے بھی مودی کو مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے مودی کو ایکس پر ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ’مبارک ہو نریندر مودی کو جو آج انڈیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصے تک ملک کی قیادت کرنے والے منتخب وزیر اعظم بن گئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’گزشتہ ہفتوں میں روم میں دوبارہ مل کر خوشی ہوئی اور ہم نے ایک خاص سٹریٹجک پارٹنر شپ شروع کی جو مستقبل کی طرف دیکھتی ہے تاکہ ہمارے لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔‘

Getty Images

تو کیا نریندر مودی واقعی سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے انڈیا کے منتخب وزیراعظم بن گئے ہیں؟

یہاں لفظ ’منتخب‘ انتہائی اہم ہے کیونکہ اس بحث کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آج بھی نہرو سب سے زیادہ دن تک خدمات دینے والے انڈین وزیراعظم ہیں کیونکہ وہ اگست 1947 میں انڈیا بننے سے لے کر مئی 1964 میں اپنی وفات تک بطور وزیراعظم خدمات انجام دیتے رہے۔

اس طرح نہرو کی وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے کی کل مدت چھ ہزار چھتیس دن بنتی ہے جو مودی کی وزارت عظمیٰ پر گزاری مدت سے بہت زیادہ ہے۔

Getty Imagesنہرو کی وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے کی کل مدت چھ ہزار چھتیس دن بنتی ہے

اس سلسلے میں سینیئر صحافی اور ہندی روزنامہ ’نئی دنیا‘ کے سابق مدیر انِل جین کا کہنا ہے درحقیقت 1947 سے 1952 تک نہرو منتخب وزیراعظم ہی تھے حالانکہ اُس وقت انتخاب کا طریقہ مختلف تھا۔

’پھر بھی اگر کوئی اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے 1947 سے 1952 تک نہرو کا دورِ حکومت نہیں مانتا تو اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ سردار پٹیل ملک کے پہلے وزیرِ داخلہ نہیں تھے اور ڈاکٹر امبیڈکر ملک کے پہلے وزیرِ قانون نہیں تھے۔ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ شیاما پرساد مکھرجی بھی کبھی مرکزی وزیر نہیں رہے تھے۔‘

اس سلسلے میں مودی کی جماعت کے ایک سینیئر لیڈر رام مادھو کے ایک مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار آکار پٹیل نے لکھا کہ ’بلا تعطل‘ جیسا عجیب لفظ اس لیے استعمال کیا گیا کیونکہ اندرا گاندھی تقریباً 6000 دن تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہیں۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ وقت کے ساتھ مودی اس عدد کو بھی پار کر لیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ مودی کے جانے کے چھ دہائیاں بعد انھیں کس طرح یاد کیا جائے گا؟‘

’سنہ 2086 کے انڈیا میں لوگ مودی کے بارے میں کیا لکھیں گے اور کیا کہیں گے؟ کیا یہ بالکل ویسا ہو گا جیسے آج نہرو کی وفات کے 62 برس بعد، ہم ان کے بارے میں بات کرتے اور لکھتے ہیں؟ مجھے اس بات کی فکر ہے کہ ممکن ہے ہم مودی کا ذکر ہی نہ کریں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ موجودہ چیزیں، لوگ اور واقعات وقت کے ساتھ بہت تیزی سے ماند پڑ جاتے ہیں۔‘

دریں اثنا اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایکس پر لکھا کہ مودی نے چاہے آج کامیابی حاصل کر لی ہو لیکن وہ انڈیا کے گلے کا بوجھ بن گئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت کا قتل ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

انھوں نے مزید لکھا کہ ’جواہر لال نہرو 15 اگست 1947 کو انڈیا کے وزیر اعظم بنے۔ انھوں نے ایک ایسی غیر معمولی کابینہ کی قیادت کی کہ اس جیسی مثال دنیا میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔‘

کیا انڈیا کے پاس 75 سالہ مودی کا کوئی متبادل موجود نہیں؟کیا مودی کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے؟نیتن یاہو اور مودی کی طالبان حمایت سے متعلق ’ڈیپ فیک ویڈیوز‘: ’یہ اے آئی ہے لیکن انڈیا اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ڈھکا چھپا نہیں‘’میں پیدا نہیں ہوا بلکہ بھیجا گیا ہوں‘: مودی کا بیان جسے ان کے ناقدین ’خود پسندی کی انتہا‘ قرار دے رہے ہیںمودی کی تصویر والے دو اشتہاروں پر آٹھ کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت کیسے آئی؟مودی نہیں تو کون؟ انڈیا کے طاقتور حکمران کی جانشینی کا سوال جو اب ان کے حامی بھی پوچھ رہے ہیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More