’واپسی کی تیاری‘ کرتا پاکستانی سفارتی عملہ اور تذبذب کا شکار صحافی: مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہو گئے، تو اب جمعہ کو سوئٹزر لینڈ میں کیا ہو گا؟

بی بی سی اردو  |  Jun 18, 2026

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے 15جون کو جب امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جانے کا اعلان کیا تھا تو ساتھ ہی یہ بھی بتایا تھا کہ ’امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو گی۔‘

تاہم امریکہ اور ایران کے صدور کی جانب سے بدھ کو رات گئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط اور خود شہباز شریف کی جانب سے جمعرات کو بطور ثالث اِس کی توثیق کے بعد جو سوال اِس وقت سب سے زیادہ پوچھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ اب جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں کیا ہونے جا رہا ہے۔

جمعہ کو جس تقریب کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا وہ تو پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق منسوخ کر دی گئی ہے اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ کا دورہ بھی ملتوی ہو چکا ہے، تاہم ان اعلانات سے پہلے ہی پاکستان اور دنیا بھر سے صحافیوں کی بڑی تعداد سوئٹزرلینڈ کا رُخ کر چکی تھی۔

بی بی سی اُردو کے نمائندے عمر دراز ننگیانہ اور خالد کرامت بھی اِس وقت برگن شٹاخ (سوئٹزر لینڈ) میں موجود ہیں۔

برگن سٹاخ میں موجود ایک پاکستانی سفارتی ذریعے نے بی بی سی کی ٹیم کو بتایا کہ انھیں پاکستانی اعلیٰ حکام کی جانب سے مطلع کیا گیا ہے کہ 19 جون کو کوئی باقاعدہ تقریب منعقد نہیں ہو رہی اور پاکستانی سفارتی عملہ اب ’واپسی کی تیاری‘ کر رہا ہے۔

پاکستان کے ایک اور اعلیٰ سفارتی ذریعے کا کہنا تھا کہ پاکستان کی انڈر سٹینڈنگ تھی کہ اس تقریب کا انعقاد ہو گا اور امریکہ، ایران اور پاکستان (بطور ثالث) کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر باقاعدہ دستخط یہیں برگن شٹاخ میں ہوں گے، اور اسی لیے پاکستان کی جانب سے بھرپور انتظامات کیے گئے تھے۔

انھوں نے کہا مگر پاکستان کی انڈرسٹینڈنگ کے برعکس صدر ٹرمپ اور صدر پزشکیان نے معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، جس کے بعد یہ یادداشت پاکستان کو بھی بھجوایا گئی جس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بطور ثالث دستخط کر دیے۔

سفارتی ذریعے کے مطابق پلان یہی تھا کہ باقاعدہ دستخط کی تقریب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ یہیں برگن شٹاخ میں ہو گا، مگر اب یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس ابتدائی مرحلے کا آغاز 19 جون (جمعہ) کو ہو پائے گا یا نہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم کے دورے کی منسوخی کا تو اعلان سامنے آ چکا لیکن اس معاہدے کے فریقین یعنی امریکہ اور ایران کی جانب سے تاحال واضح طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا وہ بھی جمعے کو برگن شٹاخ جائیں گے یا نہیں۔

جمعرات کو ایک پریس بریفنگ کے دوران جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے اِسی بارے میں سوال ہوا تو انھوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن یہ ملاقات کب ہو گی اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے۔

نائب صدر وینس نے کہا کہ ’ہمارا منصوبہ سوئٹزرلینڈ جانے کا ہے، لیکن مجھے درست طور پر معلوم نہیں کہ کب۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس سے متعلق وقت کا تعین جزوی طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ ایرانی نمائندے وہاں کب پہنچ سکتے ہیں۔

ایران کی جانب سے تاحال نہ تو یہ بتایا گیا ہے کہ ایرانی وفد کب سوئٹزرلینڈ کا سفر شروع کرے گا اور نہ ہی اس وفد کے ارکان کے بارے میں معلومات سامنے آئی ہیں۔

خیال رہے کہ 15 جون کو معاہدہ طے پانے کی تصدیق کے بعد ایران کی جانب سے اطلاع آئی تھی کہ ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف اس تقریب میں شریک ہوں گے۔

جمعرات کی شب اپنے ایک پیغام میں ایران کی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی حکام کو امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی اجازت بھی دی تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’آئندہ ہونے والے براہِ راست مذاکرات کا مقصد دشمن کے مؤقف کو تسلیم کرنا نہیں ہو گا۔‘

اس صورتحال میں یہ بات غیر واضح ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ٹیکنیکل مذاکرات کا آغاز بھی جمعہ کو ہو پائے گا یا نہیں۔

BBC

تاہم غیریقینی کے اس عالم میں جمعرات کی رات سوئٹزر لینڈ کی وزارت خارجہ کا ایک بیان سامنے آیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے نمائندے ابتدائی مذاکرات کے لیے 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ملاقات کریں گے۔

اس ضمن میں جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فی الوقت منصوبہ یہی ہے کہ امریکہ اور ایران، ثالثی کرنے والے ممالک پاکستان اور قطر اور دیگر ممالک کے ساتھ، معاہدے کے نفاذ سے متعلق ابتدائی مذاکرات کے لیے کل برگن شٹاخ میں ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کے ایجنڈے اور تفصیلات کے بارے میں اس وقت مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔‘

بی بی سی اُردو کی سوئٹزرلینڈ میں موجود ٹیم کے مطابق پاکستان کی طرح دنیا بھر سے میڈیا یہاں پہنچا ہے اور اُن میں سے بیشتر صحافیوں کو یہاں پہنچ کر ہی اطلاع ملی کہ دستخط کے حوالے سے تقریب اب منعقد نہیں ہو رہی۔

انھوں نے بتایا کہ سوئس حکام نے اس تقریب کے لیے انتظامات کر رکھے تھے اور میڈیا کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی سے منسلک صحافیوں کی ٹیم بھی اس تقریب کی کوریج کے لیے سوئٹزر لینڈ پہنچی تھی تاہم پی ٹی وی کے ایک سینیئر عہدیدار نے بی بی سی اُردو کو تصدیق کی کہ اس ٹیم کو اب واپس بُلا لیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس تقریب سے متعلق سرکاری ٹی وی کا مکمل کوریج پلان تھا جسے اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اُن کے مطابق پی ٹی وی سے منسلک صحافی جمعہ کو واپس آ رہے ہیں۔

300 ارب ڈالر کا سوال: ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے اربوں ڈالرز کی ادائیگی کون کرے گا؟تین صفحات پر مشتمل امریکہ، ایران ’مفاہمتی یادداشت‘ کے اہم نکات کیا ہیں؟سستا ایرانی تیل یا امریکہ سے سفارتی فوائد، کیا ’مرکزی ثالث‘ پاکستان کو امن معاہدے سے کچھ ملے گا؟امریکہ، ایران امن معاہدہ نیتن یاہو کے لیے ڈراؤنا خواب کیسے ثابت ہو رہا ہے؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More