Getty Imagesانڈین بارڈر سکیورٹی فورس پر الزام ہے کہ وہ لوگوں کو زبردستی بنگلہ دیش کی جانب دھکیل رہے ہیں (فائل فوٹو)
انڈین ریاست مغربی بنگال میں مئی 2026 میں ممتا بینر جی کی حکومت کی تبدیلی کے بعد سے بنگلہ دیش سے ملحق سرحدی علاقوں میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال کے انتخابات میں ریاست میں مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی کو اپنے اہم انتخابی وعدوں میں شامل کیا تھا۔ بی جے پی کا مؤقف تھا کہ بنگلہ دیش سے آنے والے ایسے غیرقانونی افراد کی نشاندہی کر کے انھیں واپس بھیجا جائے گا۔
اب حکومت سنبھالنے کے چند ہی ہفتوں بعد سرحدی علاقوں میں ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جنھوں نے بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات کو مزید تناؤ کا شکار کر دیا ہے۔
بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان چار ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل سرحد قائم ہے، جو دنیا کی طویل ترین بین الاقوامی سرحدوں میں شمار کی جاتی ہے۔
بنگلہ دیش کی سرحدی محافظ فورس ’بی جی بی‘ کا الزام ہے کہ انڈیا کی سرحدی فورس ’بی ایس ایف‘ رات کے اندھیرے میں سرحدی علاقے کی لائٹس بند کرتی ہے، خاردار باڑ میں نصب گیٹ کھولتی ہے اور لوگوں (مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی شہری) کو دھکیل کر ’نو مینز لینڈ‘ پر چھوڑ دیتی ہے۔
کسی بھی بین الاقوامی سرحد پر ’نو مینز لینڈ‘ اُس علاقے کو کہا جاتا ہے جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو اور جو دو ممالک کی سرحدوں کے درمیان واقع ہوتا ہے۔
بنگلہ دیش کی سرحدی محافظ فورس (بی جی بی) کے مطابق مئی کے آخر سے جون کے اوائل تک کم از کم 20 سرحدی مقامات پر تقریباً 200 افراد کو انڈین سرحدی فورس (بی ایس ایف) کی جانب سے بنگلہ دیش میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی۔
انڈین بارڈر فورس یعنی بی ایس ایف نے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
گذشتہ سال سے بنگلہ دیشی حکام اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے ایسے الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ انڈین حکام بنگالی زبان بولنے والے بعض مسلمانوں کو ’غیر قانونی درانداز‘ قرار دے کر بنگلہ دیش بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صرف غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کر رہی ہے۔
حال ہی میں مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ اور بی جے پی رہنما سوویندو ادھیکاری نے اس معاملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’مغربی بنگال کے لوگ آخر کب تک ایسے افراد کو خوراک، رہائش اور دیگر سہولتیں فراہم کرتے رہیں گے جو انڈیا کے شہری ہی نہیں؟ ہمیں انھیں واپس بھیجنا ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ باہر سے آنے والے وہ افراد جو نئے شہریت کے قانون (سی اے اے) کے تحت شہریت حاصل کرنے کے اہل نہیں ہوں گے، انھیں ’غیر قانونی درانداز‘ تصور کیا جائے گا۔
سوویندو ادھیکاری کے مطابق ’ریاستی پولیس ایسے افراد کو گرفتار کرے گی، انھیں حراست میں لے گی اور پھر بی ایس ایف کے حوالے کرے گی۔ اس کے بعد بی ایس ایف بنگلہ دیشی حکام سے رابطہ کر کے انھیں واپس بھیجنے کا انتظام کرے گی۔‘
گذشتہ ہفتے سوویندو ادھیکاری نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ مئی میں اُن کی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے تقریباً پانچ ہزار ’بنگلہ دیشیوں‘ کو سرحد پار واپس بھیجا گیا جبکہ تقریباً ایک ہزار افراد اب بھی حراستی مراکز میں موجود ہیں۔
اس سے قبل انڈین ریاست آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہمانتا بسوعہ شرما بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت نے متعدد افراد کو حراست میں لینے کے بعد بی ایس ایف کی مدد سے بنگلہ دیشی سرحد تک پہنچایا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق ہونے چاہییں۔
گذشتہ کچھ عرصے سے سرحدی علاقوں میں ’پُش اِن‘ یا ’پُش بیک‘ (یعنی لوگوں کو بغیر کسی باقاعدہ اجازت کے کسی دوسرے ملک کی حدود میں داخل ہونے پر مجبور کرنا یا واپس دھکیلنا) کے معاملے پر کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
اس معاملے پر انڈین اور بنگلہ دیشی بارڈر سکیورٹی فورسز کے درمیان کئی مرتبہ فلیگ میٹنگز ہو چکی ہیں اور دونوں جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
یہاں تک کہ بعض سرحدی علاقوں میں بنگلہ دیشی لوگوں نے بی ایس ایف اہلکاروں کا پیچھا کیا اور انھیں واپس جانے پر مجبور کیا اور ایسے واقعات تواتر سے پیش آ رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کی بارڈر فورس (بی جی بی) کے مطابق ہر سرحدی ضلع میں ایسے واقعات کا انداز اور طریقہ تقریباً ایک جیسا رہا ہے۔
بی جی بی کے جنوب مغربی ریجن کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمود الحسن کہتے ہیں کہ ’ہر پُش اِن سے پہلے متعلقہ سرحدی علاقے کی لائٹیں بند کر دی جاتی ہیں اور یہی سب سے بڑا اشارہ ہوتا ہے۔‘
ان کے مطابق بنگلہ دیش کے سرحدی علاقوں کے مقامی لوگوں کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ایسے واقعات روکنے میں فورس کی مدد کر سکیں۔
دلی ایئرپورٹ پر بنگلہ دیشی وزیر اعظم کے مشیر سے ’پوچھ گچھ‘ پر ڈھاکہ کا احتجاج: ’یہ شیخ حسینہ کی حکومت نہیں‘’دہلی نہیں، ڈھاکہ‘: بنگلہ دیش کی نوجوان نسل میں ’انڈیا مخالف جذبات‘ کیوں بڑھ رہے ہیں؟’لگتا ہے امریکہ کو خطے میں انڈیا کی ضرورت نہیں رہی‘: اِنڈو پیسیفک کمانڈ کا نام تبدیل کیے جانے پر انڈیا میں خدشات کا اظہار کیوں؟’ایران، قطر میں زمینی سرحد‘ اور ’ٹرمپ کو مودی کی کلائی کا سہارا‘: جی سیون اجلاس میں عالمی رہنماؤں کے درمیان دلچسپ گفتگو اور لمحات
اسی معاملے پر 11 جون کو بی ایس ایف اور بی جی بی کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے، جس کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ فریقوں نے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے، مبینہ طور پر لوگوں کو زبردستی سرحد پار بھیجنے اور سرحدی خلاف ورزیوں سے متعلق معاملات پر تبادلۂ خیال کیا۔
دونوں سرحدی فورسز نے ایسے واقعات کے بارے میں ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی اپنانے، سرحد پر امن و استحکام برقرار رکھنے، نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور بروقت معلومات کے تبادلے کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
سرحد پر کیسی صورتحال دیکھنے میں آئی؟Getty Imagesانڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان 4000 کلومیٹر سے زیادہ طویل سرحد ہے
ضلع جیسور کے علاقے ’بیناپول‘ میں سرحدی گاؤں رگھوناتھ پور جانے والی سڑک عین سرحد کے ساتھ ساتھ گزرتی ہے۔
دو جون کی شام جب بی بی سی بنگلہ کی ٹیم اِس سڑک پر پہنچی تو ایسا محسوس ہوا جیسے پورا علاقہ ایک طرح کے سیاحتی مقام میں تبدیل ہو چکا ہو۔
آس پاس کے کئی دیہات سے لوگ وہاں جمع تھے تاکہ اُن افراد کی حالت دیکھ سکیں جنھیں انڈیا سے بنگلہ دیش کی طرف دھکیلے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واقع علاقے، جسے عام طور پر ’نو مینز لینڈ‘ کہا جاتا ہے، میں رُکنا پڑا تھا۔
شدید گرمی کے موسم میں 36 گھنٹے سے زیادہ وقت تک دونوں ملکوں کے درمیان پھنسے رہنے والے دس سے بارہ افراد انڈیا کی جانب خاردار باڑ کے قریب درختوں کے نیچے پناہ لیے ہوئے تھے۔
نو مینز لینڈ میں ان کے کچھ کپڑے، بیگ اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا پڑی ہوئی تھیں۔
بی جی بی کا الزام ہے کہ 31 مئی کی رات بی ایس ایف نے اس گروہ کو سرحدی باڑ کے ایک گیٹ کے ذریعے بنگلہ دیش کی طرف دھکیل دیا تھا۔
بی جی بی کی نوگاں بٹالین کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل عارف الاسلام مسعود کہتے ہیں کہ ’ہم سکولوں، مساجد اور مقامی بازاروں میں جا کر مسلسل اعلانات کرتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اگر وہ کچھ مخصوص علامات دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ پُش اِن ہو سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق چند ہی دنوں میں اس کا فائدہ بھی سامنے آ گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بنگاباڑی سرحد پر تین جون کی رات جب لائٹیں بند ہوئیں اور کچھ لوگوں کو بنگلہ دیش کی طرف دھکیلا جا رہا تھا تو اس کی پہلی اطلاع ہمیں وہاں کے ایک چوکیدار نے دی تھی۔‘
بی جی بی کے ڈائریکٹر جنرل کی انڈین وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ 10 جون کو بنگلہ دیش بارڈر گارڈ (بی جی بی) کے ڈائریکٹر جنرل محمد اشرف الزمان صدیقی نے نئی دہلی کا دورہ کیا، جہاں اُن کی انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ سے ملاقات ہوئی اور سرحدی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا تاہم اس ملاقات کو دونوں ممالک نے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا۔
بنگلہ دیش نے انڈیا پر زور دیا کہ وہ مردوں، خواتین اور بچوں کو ان کی شناخت کی تصدیق کے بغیر رات کے وقت سرحدی باڑ کی جانب سے بنگلہ دیش کی طرف نہ دھکیلے۔
بنگلہ دیش نے یہ بھی یاد دہانی کرائی کہ غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کی واپسی کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ایک طے شدہ طریقۂ کار موجود ہے، جس پر عمل کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب نو جون کو انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ سرحدی معاملات پر بی ایس ایف اور بی جی بی کے ڈائریکٹر جنرلز کے درمیان بات چیت جاری ہے۔
بی جی بی کے الزامات پر بی ایس ایف نے اب تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا تاہم بی جی بی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ مختلف سطحوں پر ہونے والی ملاقاتوں میں بی ایس ایف بارہا ان الزامات کی تردید کر چکی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل محمود الحسن کہتے ہیں کہ ’بی ایس ایف کا مؤقف ہے کہ اس کا ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں اور اسے معلوم نہیں کہ یہ لوگ زیرو لائن کے اس پار کیسے پہنچے۔‘
دلی ایئرپورٹ پر بنگلہ دیشی وزیر اعظم کے مشیر سے ’پوچھ گچھ‘ پر ڈھاکہ کا احتجاج: ’یہ شیخ حسینہ کی حکومت نہیں‘’دہلی نہیں، ڈھاکہ‘: بنگلہ دیش کی نوجوان نسل میں ’انڈیا مخالف جذبات‘ کیوں بڑھ رہے ہیں؟’لگتا ہے امریکہ کو خطے میں انڈیا کی ضرورت نہیں رہی‘: اِنڈو پیسیفک کمانڈ کا نام تبدیل کیے جانے پر انڈیا میں خدشات کا اظہار کیوں؟’ایران، قطر میں زمینی سرحد‘ اور ’ٹرمپ کو مودی کی کلائی کا سہارا‘: جی سیون اجلاس میں عالمی رہنماؤں کے درمیان دلچسپ گفتگو اور لمحات