AFP via Getty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے دستخط کی جانے والی مفاہمتی یادداشت 28 فروری کو ایران پر حملہ کرنے کے غلط فیصلے کے سیاسی، فوجی اور معاشی نتائج بیان کرتی ہے۔
انسانی جانی نقصان پہلے ہی واضح ہو چکا ہے۔ ایران اور لبنان میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں بہت سے عام شہری ہیں۔
امریکہ، اور اس کے نتیجے میں اسرائیل، کو ایک سٹریٹجک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تہران کی حکومت نے اپنے بدترین خدشے کا سامنا کیا، امریکہ، جو دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے، اور اسرائیل، جو مشرقِ وسطیٰ کی بڑی طاقت ہے، کی جانب سے اسے کمزور یا تباہ کرنے کے لیے مشترکہ فوجی کارروائی کی گئی۔
حکومت نہ صرف بچ گئی ہے بلکہ مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
ایران کی حکمتِ عملی، یعنی آبنائے ہرمز کو بند کرنا اور اس کے ساتھ دنیا کی تیل اور گیس کی ایک پانچویں فراہمی کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے دیگر اہم اجزا کو روک دینا، اس سب نے ٹرمپ کو کئی رعایتیں دینے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے امریکہ میں ایران کے مخالف سخت موقف رکھنے والے افراد اور اسرائیلی حکومت غصے اور تشویش کا شکار ہیں۔
مفاہمتی یادداشت یا ایم او یو لبنان میں جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں۔ وہ لبنان میں کھلی کارروائی کی آزادی چاہتا ہے، اور یہ معاملہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان مزید گہرے اختلاف کا سبب بن سکتا ہے، اور ان ایرانی سخت گیر عناصر کے حق میں جا سکتا ہے جو امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بدلے میں، ایم او یوکے مطابق امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے گا، پابندیاں نرم کرے گا تاکہ ایران تیل برآمد کر کے اربوں ڈالر کما سکے اور بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کو بحال کر کے ایران کو مزید اربوں ڈالر واپس دینے کے عمل کا آغاز کرے گا۔
یہ سب اس سے پہلے کی بات ہے جب وہ جوہری معاہدے پر اصل اور مشکل مذاکرات شروع کریں گے۔ یہ اس حالت میں واپس جانے کی قیمت ہے جو 27 فروری کو تھی، یعنی جنگ شروع ہونے سے ایک دن پہلے۔
اس دن آبنائے ہرمز جہاز رانی کے لیے کھلی تھی اور امریکی و ایرانی مذاکرات کار جوہری معاہدے پر بات کر رہے تھے۔
ایم او یو پر دستخط کا مطلب ہے کہ مذاکرات کار دوبارہ کام شروع کریں گے اور جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے۔
جو بائیڈن کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے ایکس پر لکھا کہ ’جنگ بندی کی واحد ’کامیابی‘ غالباً آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا ہے جو جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی کھلی ہوئی تھی۔ اور اب بظاہر ہم اس کے لیے ایران کو ادائیگی بھی کریں گے۔‘
یہ سوال کہ آخر یہ جنگ کس لیے تھی، ایسا ہے جس سے بچا نہیں جا سکتا اور یہ ختم نہیں ہوگا۔ یہ ٹرمپ کی اب تک کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی غلطی ہے۔
یہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے طویل سیاسی کیریئر کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
انھیں اکتوبر میں انتخابات کا سامنا ہے، اور اسرائیلی ووٹرز کی جانب سے ان سے جواب طلبی ہوگی، خاص طور پر سکیورٹی میں ان ناکامیوں پر جو اسرائیل کی تاریخ کی بدترین ناکامیاں تھیں، جن کے باعث اس کی مشہور فوج اور خفیہ ادارے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ سے اسرائیل پر حماس کے حملے کے منصوبے کو نہ بھانپ سکے۔
نتن یاہو کی سخت گیر فوجی پالیسیاں اور سفارت کاری کو نظر انداز کرنا کم از کم جزوی طور پر اس لیے تھا کہ وہ خود کو دوبارہ اسرائیل کے ’مسٹر سکیورٹی‘ کے طور پر منوا سکیں۔
تہران ہمیشہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی ممکنہ طاقت سے آگاہ تھا۔ امریکی فوج، اس کے سفارت کار اور خفیہ ادارے بھی اس بات سے واقف تھے۔
مگر ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای، جو ایک محتاط اور عمر رسیدہ شخص تھے، انھوں نے آبنائے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا خطرہ مول نہیں لیا۔
جب اسرائیل نے جنگ کے ابتدائی فضائی حملوں میں انہیں اور ان کے قریبی مشیروں کو ہلاک کر دیا، تو ان کے جانشینوں نے یہ سمجھ لیا اور درست سمجھا کہ وہ ایک وجودی جنگ میں ہیں اور انھوں نے آبنائے کو بند کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں دکھائی۔
300 ارب ڈالر کا سوال: ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے اربوں ڈالرز کی ادائیگی کون کرے گا؟تین صفحات پر مشتمل امریکہ، ایران ’مفاہمتی یادداشت‘ کے اہم نکات کیا ہیں؟
انھوں نے یہ دریافت کیا ہے کہ عالمی معیشت کی ایک اہم گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو استعمال میں زیادہ آسان اور اس وسیع اتحادی اور نمائندہ نیٹ ورک کے مقابلے میں بہت سستا ہے جسے بنانے پر اس نے مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں اور اربوں خرچ کیے۔
سوائے شام میں اسد حکومت کے، جو 2024 کے آخر میں ختم ہو گئی، ایران کا نام نہاد مزاحمتی محور مشکل سے ہی سہی مگر قائم ہے۔ تاہم اسرائیل کی کارروائیوں سے اسے اتنا نقصان پہنچا ہے کہ آیا وہ واقعی ’مزاحمت‘ کر سکتا ہے یا نہیں، یہ ایک کھلا سوال ہے۔
ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بھی بہت زیادہ سرمایہ خرچ کیا ہے، جس کے بارے میں وہ مسلسل انکار کرتا ہے کہ اس کا مقصد ہتھیار بنانا تھا، مگر اس نے تہران کو ایک آپشن اور خطرے کی صورت ضرور دی۔ لیکن اس نے ایک ایسی جنگ کو جنم دیا جس نے، حکومت کے باقی رہنے کے باوجود، ایران کو بہت بڑا نقصان پہنچایا۔
اس کے برعکس، آبنائے کو بند کرنا آسان تھا اور اس کے فوری اور تباہ کن اثرات سامنے آئے، جس سے عرب تیل پیدا کرنے والے ممالک اور دنیا کے دیگر حصے بھی متاثر ہوئے۔
امریکہ اور اسرائیل کی فضائی افواج کی طاقت نے کئی حربی کامیابیاں حاصل کیں۔ مگر یہ ایک سٹریٹجک شکست سے بچنے کے لیے کافی نہیں تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکہ اور اسرائیل کی حکومت کی تبدیلی کی حکمت عملی کئی سادہ اور غلط بنیادوں پر مبنی تھی۔
انھوں نے یہ فرض کیا کہ سپریم لیڈر کو قتل کرنے سے حکومت گر جائے گی۔ مگر تقریباً نصف صدی کے دوران ایران کے اداروں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ انھیں ختم کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کر سکیں۔
یہ وینزویلا جیسا نہیں تھا، جو ایک بدعنوان لاطینی امریکی آمریت ہے، جہاں اس کا لیڈر اغوا ہو کر امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنے کے بعد حکومت بکھر گئی۔
ایرانی حکومت بلاشبہ بدعنوان اور سخت جابرانہ ہے اس کے اہلکاروں نے جنوری میں ایران کی سڑکوں پر ہزاروں مظاہرین کو قتل کیا لیکن یہ نظریے، مذہبی عقیدے، اور قومی سلامتی، قربانی اور بقا کے اس تصور پر بھی قائم ہے جو 1980 کی دہائی میں صدام حسین کے عراق کے ساتھ تباہ کن جنگ کے دوران پروان چڑھا۔
Reutersاسرائیل کی لبنان میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں
جب وہ جنگ پر گئے تو صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران کی حکومت گر جائے گی۔ انھوں نے ایرانی عوام سے کہا تھا کہ وہ ایک ایسی نسل میں ایک بار ملنے والے موقع کے لیے تیار ہو جائیں جس میں وہ اپنا ملک واپس لے سکتے ہیں۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد انھوں نے اس کی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی اپیل بھی کی۔
نتن یاہو، جو بار بار وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے پیش روؤں کو ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے تھے، نے اس وقت کی سنگینی بیان کرنے کے لیے بائبل کی زبان استعمال کی: ’یہ اتحاد ہمیں وہ کرنے کی اجازت دیتا ہے جس کی میں 40 سال سے خواہش کر رہا تھا: دہشت گرد حکومت کو مکمل طور پر تباہ کر دینا۔‘
دونوں میں سے کوئی بھی اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکا۔
مفاہمتی یادداشت کوئی آخری معاہدہ نہیں ہے۔ یہ ان کے درمیان سب سے بڑے مسئلے یعنی ایران کے جوہری پروگرامپر بات کرنے کا ایک معاہدہ ہے۔ مگر اس میں شروع ہی میں ایران کے لیے اہم مراعات شامل ہیں۔ اگر بات چیت آگے بڑھی تو امریکہ نے کہا ہے کہ وہ پابندیاں ختم کر دے گا۔
یہ سب 60 دن تک جاری رہنے والی جوہری معاہدے پر بات چیت کی کامیابی پر منحصر ہے جنہیں بڑھایا بھی جا سکتا ہے اور غالباً بڑھایا جائے گا، کیونکہ مسائل پیچیدہ ہیں۔ دونوں ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔ بہت کچھ غلط ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن، تہران اور اسرائیل کے سخت گیر عناصر نہیں چاہتے کہ یہ معاہدہ کامیاب ہو۔
ایران شاید اپنی حد سے زیادہ سخت مؤقف اختیار کرے، آئندہ مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ مطالبات پیش کرے اور اس طرح ان معاشی فوائد کو خطرے میں ڈال دے جو اس کی کمزور معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں۔
مگر یہ معاہدہ اس جنگ سے کہیں بہتر ہے جس نے ہزاروں جانیں لے لیں اور عالمی معاشی کساد بازاری کا خطرہ پیدا کر دیا۔
اگر کوئی جوہری معاہدہ ہو جاتا ہے، جو امریکہ اور ایران دونوں کو قبول ہو، اور اگر دونوں اپنے وعدے پورے کریں، تو مشرقِ وسطیٰ بدل سکتا ہے۔ مگر یہ ایک بڑا ’اگر‘ ہے، جو ایک طویل اور مشکل مذاکرات کے بعد ہی ممکن ہو سکتا ہے۔
300 ارب ڈالر کا سوال: ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے اربوں ڈالرز کی ادائیگی کون کرے گا؟تین صفحات پر مشتمل امریکہ، ایران ’مفاہمتی یادداشت‘ کے اہم نکات کیا ہیں؟’لگتا ہے امریکہ کو خطے میں انڈیا کی ضرورت نہیں رہی‘: اِنڈو پیسیفک کمانڈ کا نام تبدیل کیے جانے پر انڈیا میں خدشات کا اظہار کیوں؟امریکہ، ایران امن معاہدہ نیتن یاہو کے لیے ڈراؤنا خواب کیسے ثابت ہو رہا ہے؟ایران میں امریکہ سے معاہدے کی مخالفت: ’یہ دستاویز ملک کو امریکی کالونی بنا دے گی‘