’مجھے ڈر لگ رہا ہے، مجھے بچا لیں‘: چھ سالہ ہند رجب کی آخری کال پر بننے والی فلم، کیا انڈیا-اسرائیل تعلقات ریلیز میں تاخیر کی وجہ بنے؟

بی بی سی اردو  |  Jun 20, 2026

’براہِ کرم مجھے یہاں سے نکال لیں۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ وہ مجھ پر گولیاں چلا رہے ہیں۔۔۔‘

یہ الفاظ اس فلم کے ایک نہایت دل دہلا دینے والے منظر کا حصہ ہیں، جس میں چھ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب ایک گاڑی میں اکیلی پھنسی ہوئی ہے جبکہ باہر فائرنگ جاری ہے۔ گاڑی میں موجود اس کے تمام قریبی رشتہ دار ہلاک ہو چکے ہیں اور وہ ان کی لاشوں کے درمیان چھپ کر اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ خوف زدہ ہند رجب امدادی تنظیم ریڈ کریسنٹ کے رضاکاروں کو فون کرکے مدد کی اپیل کرتی ہے۔ شدید خوف کے باوجود وہ زندہ رہنے کی امید نہیں چھوڑتی۔

بظاہر یہ منظر کسی فرضی فلم کا حصہ محسوس ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی آپ سینما کے تاریک ہال اور سرد ماحول میں ’دی وائس آف ہند رجب‘ دیکھتے ہیں تب آپ کو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک حقیقی سانحہ ہے۔ فلم میں سنائی دینے والی آواز کسی اداکارہ کی نہیں بلکہ خود ہند رجب کی اصل آواز ہے۔

میڈیا تحقیقات کے مطابق جنوری سنہ 2024 میں غزہ میں جاری جنگ کے دوران ہند رجب اور ان کا خاندان بمباری سے بچنے کے لیے نقل مکانی کی کوشش کر رہا تھا، تاہم وہ مبینہ طور پر اسرائیلی فائرنگ کی زد میں آ گئے اور ہند کو بچایا نہ جا سکا۔

کئی ماہ کی تاخیر اور تنازعات کے بعد آسکر کے لیے نامزد ہونے والی یہ فلم اب انڈیا میں ’اے‘ سرٹیفکیٹ کے ساتھ ریلیز کر دی گئی ہے۔

فلم دستاویزی انداز اور ڈرامائی منظرکشی کے امتزاج پر مبنی ہے۔ اگرچہ ناظرین پہلے ہی جانتے ہیں کہ ہند رجب زندہ نہیں بچ سکی، لیکن فلم ہر لمحہ یہ امید پیدا کرتی ہے کہ شاید وہ بچ جائے۔

فلم میں ہند رجب اور امدادی کارکنوں کے درمیان ہونے والی حقیقی آڈیو گفتگو سنائی جاتی ہے، جو ناظرین کو ایک سنسنی خیز تھرلر جیسا احساس دلاتی ہے۔ امید اور ناگزیر انجام کے درمیان یہی کشمکش اس فلم کو انتہائی مؤثر اور جذباتی بنا دیتی ہے۔

جب ہند کہتی ہیں کہ میرا سکول ’اے ہیپی چائلڈہڈ‘ ہے

فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ میں ایک جانب خود ہند رجب کی اصل آواز سنائی دیتی ہے جو خوف، بے بسی اور جینے کی امید دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب فلسطینی اداکار ان فلسطینی ریڈ کریسنٹ رضاکاروں کا کردار ادا کرتے ہیں جو حقیقت میں ہند کے ساتھ فون پر رابطے میں تھے۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ رضاکار لمحہ بہ لمحہ ہند سے بات کرتے ہیں اور انھیں تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ خطرہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہوتا ہے۔

ہند کی توجہ بٹانے کے لیے امدادی کارکن انھیں بتاتے ہیں کہ گاڑی میں خون میں لت پت اس کے رشتہ دار صرف سو رہے ہیں، لیکن جنگی ماحول میں پلنے والی ہند اپنے جواب سے سب کو خاموش کر دیتی ہے جب وہ کہتی ہے کہ ’نہیں، وہ مر چکے ہیں۔‘

ان دل خراش لمحات کے درمیان معصومیت کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ ہند رضاکاروں کو بتاتی ہے کہ اس کے سکول کا نام ’اے ہیپی چائلڈہڈ‘ ہے اور اس کی کلاس کا نام ’بٹر فلائی‘ یعنی ’تتلی‘ ہے۔ یہ مناظر فلم ختم ہونے کے بعد بھی ناظرین کے ذہنوں میں نقش رہتے ہیں۔

انڈیا میں ریلیز پر تنازع

ہند رجب کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی فوج نے ابتدائی طور پر اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

اس فلم کی انڈیا میں ریلیز رواں سال مارچ میں آسکر ایوارڈز کے موقع پر متوقع تھی، تاہم اسے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

فلم کے ڈسٹری بیوٹر منوج نندوانا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’فلم فروری میں انڈین سنسر بورڈ کو جمع کرائی گئی تھی۔‘ ان کے مطابق ’جیسا کہ میڈیا میں رپورٹ ہوا، بورڈ کے ایک رکن نے غیر رسمی طور پر ہمیں بتایا کہ اگر فلم ریلیز کی گئی تو اس سے انڈیا اور اسرائیل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں تاہم وہ یہ بات باضابطہ طور پر نہیں کہہ سکتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’انھیں خوشی ہے کہ فلم اب بغیر کسی کٹ یا سنسرشپ کے ریلیز ہو گئی ہے اور اسے بالغ ناظرین یعنی اے کیٹگری کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے۔‘

انڈین سنسر بورڈ نے تاخیر سے متعلق الزامات یا بی بی سی کے سوالات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

’ٹینک بہت قریب ہے، مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔‘ کار میں چھپی فلسطینی بچی کی آخری کال جو فائرنگ کے دوران کٹ گئی’میرا بیٹا اپنے کھلونوں سے زیادہ بم کی آواز کو پہچانتا ہے‘چار سال کے دو بچوں کی موت پر پراپیگنڈے اور الزامات کی جنگ کیسے لڑی گئی؟فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا سامنا کرنے والے فلسطینی بچے: ’رہائی کے بعد میرا بھائی محمد وہ نہیں رہا جسے ہم جانتے تھے‘

فلم کی ریلیز میں تاخیر کے خلاف متعدد انڈین فلم سازوں اور فنکاروں نے احتجاج کیا، جبکہ اپوزیشن کے آٹھ ارکانِ پارلیمان نے انڈین وزیر اطلاعات و نشریات کو بھی خط لکھا۔

سابق انڈین وزیر خارجہ ششی تھرور نے اس صورتحال کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’فلموں کی نمائش کو سفارتی تعلقات سے جوڑنا مناسب نہیں۔‘

یہ فلم تیونس سے تعلق رکھنے والی ہدایت کارہ کاوثر بن ہنیہ نے بنائی ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب انھوں نے انٹرنیٹ پر ہند رجب کی مدد کی اپیل والی آڈیو سنی تو وہ اس کے اثر سے باہر نہ نکل سکیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں خود کو بے بس محسوس کر رہی تھی۔ یہ واقعہ مسلسل میرے ذہن میں گردش کرتا رہا۔ اگر میں یہ فلم نہ بناتی تو مجھے محسوس ہوتا کہ میں بھی اس المیے میں کسی حد تک شریک ہوں۔‘

غزہ میں کیا ہوا؟

ہند رجب اس حملے میں اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ ہلاک ہوئیں تھیں، انھیں بچانے کے لیے پہنچنے والے ایمبولینس کے دو امدادی کارکن بھی اس کوشش کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

اسرائیلی دفاعی افواج نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ جس علاقے میں ہند اور دیگر افراد مارے گئے وہاں اس کے کوئی فوجی موجود نہیں تھے۔ تاہم بعد میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ ’اس نے غزہ شہر کے مختلف علاقوں، جن میں تل الہویٰ بھی شامل ہے، میں ’شدت پسندوں کی تنصیبات اور ٹھکانوں‘ کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔ یہی وہ علاقہ تھا جہاں سے ہند رجب نے مدد کے لیے اپنی آخری فون کال کی تھی۔

اکتوبر 2024 میں اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے اسرائیل پر غزہ کے طبی نظام کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ہند رجب کے واقعے اور امدادی کارکنوں کی ہلاکت سمیت متعدد واقعات کا حوالہ دیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد غزہ میں وسیع فوجی کارروائی شروع کی تھی۔

ایک ماں کا غم

ہند رجب کی والدہ دنیا بھر میں فلم کی متعدد خصوصی نمائشوں میں شریک ہو چکی ہیں۔

ایک جذباتی انٹرویو میں انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’روزِ قیامت میں ان لوگوں سے سوال کروں گی جنھوں نے میری بیٹی کی آواز سنی لیکن اسے بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ آخر کتنی ماؤں کو یہ درد سہنا پڑے گا؟ اور کتنے بچوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑیں گے؟‘

فلم کے ڈسٹری بیوٹر منوج نندوانا نے بتایا کہ وہ فلم کے پریمیئر کے موقع پر ہند کی والدہ سے ملے تھے، تاہم ان سے بات نہ کر سکے۔

انھوں نے کہا کہ ’آپ ایسی ماں سے کیا کہہ سکتے ہیں جس نے اپنی بیٹی کھو دی ہو؟ اس کے چہرے پر درد صاف دکھائی دیتا ہے۔ کچھ لوگ اس فلم کو پروپیگنڈا قرار دے سکتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فلم دکھاتی ہے کہ جنگ دنیا کے کسی بھی حصے میں انسانوں کے ساتھ کیا کرتی ہے۔‘

Getty Imagesہند رجب فلم کی کاسٹسیاست سے بالاتر ایک کہانی

فلم مذہب، سیاست اور جغرافیائی تقسیم سے ہٹ کر ہند رجب اور ان امدادی کارکنوں کی جدوجہد پر بنائی گئی ہے کہ جو حالات اور وقت سے لڑتے اور ایک معصوم بچی کی جانب بچانے کی کوشش میں تھے۔

جب آپ ایک فلم بین ہوتے ہوئے یہ حقیقت قبول کر لیتے ہیں کہ ہند اب اس دنیا میں نہیں رہی، تو فلم ایک نیا رخ اختیار کر لیتی ہے۔

آخری مناظر میں ہند رجب کو حقیقی گھریلو ویڈیوز میں دکھایا جاتا ہے، جہاں وہ ساحلِ سمندر پر کھیلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے انھوں نے اپنی آخری گفتگو میں امدادی کارکنوں کو بتایا تھا اس کی زندگی بھی ایک ’خوشگوار بچپن‘ کی تصویر پیش کرتی دکھائی دیتی ہے۔

دل و دماغ پر نقش ہو جانے والا تجربہ

حقیقی آڈیو ریکارڈنگز اور ڈرامائی منظرکشی کو یکجا کرنے والی اس فلم کا انداز ناظرین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو انسان کو غمزدہ، بے چین، جذباتی اور بعض اوقات خاموش کر دیتا ہے۔

فلم کے ڈسٹری بیوٹر منوج نندوانا کے مطابق انھوں نے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی اس فلم کی تقسیم کے حقوق حاصل کر لیے ہیں۔

’ٹینک بہت قریب ہے، مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔‘ کار میں چھپی فلسطینی بچی کی آخری کال جو فائرنگ کے دوران کٹ گئیغزہ میں زمینی حملہ: ’پہلے بچوں اور مغویوں کو بازیاب کروایا جائے‘ ’میرا بیٹا اپنے کھلونوں سے زیادہ بم کی آواز کو پہچانتا ہے‘چار سال کے دو بچوں کی موت پر پراپیگنڈے اور الزامات کی جنگ کیسے لڑی گئی؟غزہ میں ’صرف ایک تہائی ہسپتال فعال‘، فیشن برانڈ زارا کو تشہیری مہم پر ’افسوس‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More