کہا جاتا ہے کہ محبت نہ کسی بندھن کو مانتی ہے اور نہ ہی کسی سرحد کو۔ انڈین ریاست گجرات کے آنند ضلع کے لمبھویل گاؤں میں رہنے والے ترون پٹیل کی زندگی میں یہی سرحد ان کی سب سے بڑی دشمن بن گئی ہے۔
بنگلہ دیش کی ایک نوجوان خاتون سے محبت، پھر شادی اور برسوں تک خوشحال خاندان بسانے کے بعد اب وہ اپنے گھر کو بکھرنے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تقریباً ایک دہائی قبل ہونے والی اس سرحد پار شادی نے پورے خاندان کو قانونی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب ترون پٹیل کی اہلیہ کو غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم رہنے کے الزام میں ملک بدر کیے جا سکتا ہے۔
اور ترون کی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ کسی بھی طرح وہ اپنے بچوں کو ان کی ماں سے دوبارہ ملوا دیں۔
وہ کال جو گرفتاری کا باعث بنی
ترون پٹیل کو آج بھی دو جون کا وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب پولیس ان کے گھر آئی تھی۔ ان کے مطابق ’یہ سب اس وقت شروع ہوا جب ان کی اہلیہ کاجولی نے اپنی والدہ کی خیریت جاننے کے لیے بنگلہ دیش فون کیا۔ کاجولی کی والدہ بنگلہ دیش میں رہتی ہیں اور وہاں کی خراب صورتحال کے باعث وہ کافی پریشان تھیں۔‘
ترون کا کہنا ہے کہ کاجولی کی اپنی والدہ کو کی جانے والی فون کال ٹریس کیے جانے کے بعد پولیس ان کے گھر پہنچی اور پولیس نے ان کے موبائل میں محفوظ ایک نمبر کے بارے میں پوچھا جو ’کاجولی ممی‘ کے نام سے محفوظ تھا۔
انھوں نے پولیس کو بتایا کہ یہ نمبر ان کی ساس کا ہے جو بنگلہ دیش میں رہتی ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ بنگلہ دیشی شہری ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے کاجولی سے پوچھ گچھ کی اور دونوں میاں، بیوی کو پولیس سٹیشن لے گئی۔
ترون کا کہنا ہے کہ پولیس سٹیشن میں مزید تفتیش کے بعد انھیں تو جانے کی اجازت دے دی گئی لیکن کاجولی کو روک لیا گیا۔
ان کے مطابق پولیس نے بتایا کہ کاجولی کے پاس انڈیا میں رہائش سے متعلق کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں اس لیے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
AFP via Getty Images
ترون کا کہنا ہے کہ ’کاجولی کبھی کبھار اپنی والدہ سے فون پر بات کرتی تھیں۔ جس وقت یہ فون کال کی گئی اس سے کچھ عرصہ پہلے ان کی والدہ کا آپریشن ہوا تھا جبکہ بنگلہ دیش میں حالات بھی خراب تھے۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ کاجولی صرف اپنی والدہ کی خیریت دریافت کرنا چاہتی تھیں اور بات چیت چند لمحوں تک محدود رہی۔
دوسری جانب آنند کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جی جی جسانی نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ ’تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ کاجولی غیر قانونی طور پر گجرات میں مقیم تھیں۔‘
ان کے مطابق کاجولی کے پاس بنگلہ دیش سے انڈیا آنے کا پاسپورٹ، ویزا یا دیگر قانونی سفری دستاویزات موجود نہیں جبکہ شادی سے متعلق بھی کوئی قانونی دستاویز پیش نہیں کیے گئے۔
فیس بک پر ملاقات اور محبت کی شادی
سال 2012 میں بنگلہ دیش کے گاؤں گوپال پور میں رہنے والی کاجولی اور گجرات کے ترون کی ملاقات فیس بک پر ہوئی اور وہیں سے دونوں کی دوستی شروع ہوئی جو بعد میں محبت میں بدل گئی۔
ترون بتاتے ہیں کہ ’ہماری دوستی آہستہ آہستہ محبت میں بدل گئی اور ہم نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے کاجولی سے کہا کہ وہ پاسپورٹ بنوا کر گجرات آ جائے، اس کے بعد ہم شادی کر لیں گے۔‘
اسی دوران کاجولی کے والدین اس پر ایک بنگلہ دیشی نوجوان سے شادی کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاسپورٹ بنوانے کے لیے کاجولی نے ایک ایجنٹ کو 12 سے 13 ہزار روپے دیے لیکن ایجنٹ نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا اور اسے پاسپورٹ نہیں ملا۔
ترون کے مطابق تقریباً دو سے تین ماہ بعد جب خاندان نے دوبارہ شادی کے لیے دباؤ ڈالا تو کاجولی بنگلہ دیش سے بھاگ کر پہلے کولکتہ اور وہاں سے آنند پہنچی۔ ’آنند پہنچنے کے بعد ہم نے ایک دوسرے کو پھولوں کے ہار پہنائے اور شادی کر لی۔‘
ووٹر آئی ڈی، آدھار کارڈ یا پاسپورٹ، وزارتِ خارجہ کے بیان نے انڈیا میں شہریت پر بحث کیوں چھیڑ دی؟انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس نے فوجی افسران سمیت 24 اہلکاروں کے خلاف مقدمہ کیوں درج کیا؟20 سالہ لڑکی پر منگیتر کو قلعے سے دھکا دے کر قتل کرنے کا الزام: ’میں نے اس لڑکی کو بہو سمجھا، اس نے مجھے دھوکہ دیا‘انڈین سکول کے شو میں مبینہ طور پر ’پاکستانی گانے پر پرفارمنس اور ممتاز قادری کی تصویر‘ دکھانے کے الزام میں پرنسپل اور اساتذہ کے خلاف مقدمہ
شادی کے بعد کاجولی نے اپنا نام بدل کر کاجل رکھ لیا۔ کاجل اور ترون پٹیل نے شادی تو کر لی لیکن اس شادی کو قانونی حیثیت حاصل نہ ہو سکی۔
ترون پٹیل بتاتے ہیں ’15-2014 میں جب ہماری شادی ہوئی تب ہی ہمیں اس کی رجسٹریشن کروا لینی چاہیے تھی لیکن کاجل کے پاس ضروری دستاویزات نہیں تھے جس کی وجہ سے ہماری شادی رجسٹر نہیں ہو سکی۔‘
’ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ آگے چل کر اتنی بڑی مشکل کھڑی ہو جائے گی۔ جن حالات میں کاجل بنگلہ دیش سے انڈیا آئی تھی وہ اپنے دستاویزات ساتھ نہیں لا سکی تھی۔‘
انھوں نے بتایا دکہ ’کاجل بنگلہ دیشی مسلمان لڑکی تھیں اور مجھ سے شادی کے بعد انھوں نے ہندو مذہب اختیار کر لیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اگر اب کاجل کو واپس بنگلہ دیش بھیجا گیا تو اس کے والدین اسے قبول نہیں کریں گےجبکہ وہاں کے انتہا پسند عناصر بھی اسے سکون سے جینے نہیں دیں گے۔
انھوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ کاجل کو انڈیا سے بے دخل کرکے بنگلہ دیش نہ بھیجا جائے۔
’ہم صرف محبت کے ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ اتنے برسوں میں نہ میرا اور نہ ہی کاجل کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ ہے۔‘
’اگر کاجل کو بنگلہ دیش بھیج دیا گیا تو میری فیملی بکھر جائے گی‘
کاجل کی گرفتاری کے بعد سے ترون اور ان کا پورا خاندان شدید صدمے میں ہے۔ ترون اپنی بیوی اور بچوں کے مستقبل کو لے کر بہت فکر مند ہیں۔
ترون کہتے ہیں، ’جس دن سے پولیس کاجل کو اپنے ساتھ لے کر گئی ہے میرے دونوں بچے مسلسل رو رہے ہیں۔ وہ بار بار کہتے ہیں کہ انھیں اپنی ماں سے ملنا ہے۔ ان کا ایک ہی سوال ہوتا ہے، ’ممی کو گھر کب لاؤ گے؟‘ میرے پاس ان کے اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔‘
’اگر کاجل کو بنگلہ دیش بھیج دیا گیا تو میں اور میری فیملی پوری طرح سے بکھر جائےگی۔‘
ترون کی والدہ اِندو بین کہتی ہیں، ’جو کچھ ہوا، وہ غلط ہوا۔ جب سے کاجل گھر سے گئی ہے، کسی کے گلے سے نوالہ نہیں اترتا۔‘
’بس یہی دعا ہے کہ کاجل جلد گھر واپس آ جائے۔ اس کے بغیر گھر میں بالکل دل نہیں لگتا۔ میرا اور کاجل کا رشتہ ساس بہو کا نہیں بلکہ ماںبیٹی جیسا تھا۔‘
دوسری جانب کاجل بھی اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔ وہ فی الحال آنند کے جاگرت مہیلا سنگٹھن کے تحت چلنے والے ایک ویمن پروٹیکشن ہوم میں رہ رہی ہیں۔ انھیں امید ہے کہ عدالت یا حکومت ان کے حق میں کوئی ایسا فیصلہ کرے گی جس سے وہ دوبارہ اپنے خاندان سے مل سکیں گی۔
بی بی سی نیوز گجراتی سے گفتگو میں جاگرت مہیلا سنگٹھن کی صدر آشا بین دلال نے بتایا کہ کاجل شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اکثر اپنے دونوں بیٹوں کو یاد کر کے رو پڑتی ہیں۔
’انھیں سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ اگر انھیں بنگلہ دیش بھیج دیا گیا تو شاید وہ دوبارہ اپنے خاندان سے نہ مل سکیں۔ اجازت ملنے پر کبھی کبھار بچوں کو دور سے دکھایا جاتا ہے تاکہ انھیں کچھ تسلی ملے۔‘
آشا بین کے مطابق ’یہاں دیگر خواتین کے ساتھ مل جل کر رہتی ہیں اور ان کی مکمل دیکھ بھال کی جا رہی ہے، جبکہ آگے کی کارروائی حکومت اور عدالت کی ہدایات کے مطابق کے جائے گی۔‘
اس وقت ترون کا واحد مقصد کسی بھی طرح کاجل کو بنگلہ دیش بھیجے جانے سے روکنا ہے۔ اس کے لیے وہ ہر سطح پر رجوع کر رہے ہیں۔ انھوں نے گجرات ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی ہے۔
کاجل کی وکیل زینب سید نے بی بی سی نیوز گجراتی کو بتایا کہ ’عدالت میں آئین اور شہریت سے متعلق قابلِ اطلاق قوانین کی بنیاد پر کاجل کا مقدمہ پیش کیا جائے گا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ انڈیا کے آئین کا آرٹیکل 21 ہر شخص، خواہ وہ انڈین شہری ہو یا غیر شہری، کو زندگی اور شخصی آزادی کا حق دیتا ہے۔
زینب کے مطابق انڈین شہری سے شادی کرنے والے کو خودبخود انڈیا کی شہریت نہیں مل جاتی تاہم یہ شہریت کے لیے درخواست دینے کی بنیاد بن سکتی ہے بشرطیکہ قانونی شرائط پوری ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت سے درخواست کی جائے گی کہ کاجل کو بنگلہ دیش واپس نہ بھیجا جائے اور انھیں انڈین قانون کے مطابق شہریت حاصل کرنے کا موقع دیا جائے۔
ترون پٹیل نے اس معاملے میں آنند سے رکنِ پارلیمان مِتیش پٹیل سے بھی مداخلت کی اپیل کی ہے۔ مِتیش پٹیل نے بی بی سی نیوز گجراتی سے بات کرتے ہوئے کہا وہ دہلی میں اس معاملے کو مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کے سامنے اٹھائیں گے۔
آپریشن ڈیلٹا ہنٹ
گجرات کی حکومت کے مطابق ریاست کی ’داخلی سلامتی، امن اور تحفظ کو یقینی بنانے‘ کے لیے گجرات پولیس نے ایک خصوصی مہم ’آپریشن ڈیلٹا ہنٹ‘ شروع کیا تھا جس کے تحت جون کے پہلے ہفتے میں مبینہ طور پر 362 غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ حراست میں لیے گئے افراد میں 103 مرد، 188 خواتین اور 71 بچے شامل تھے۔
اس کے علاوہ 782 سے زائد مشتبہ بنگلہ دیشی شہریوں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔
گجرات حکومت کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق، ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے گجرات پولیس کی فیلڈ یونٹس نے ان افراد کے ساتھ ساتھ جعلی دستاویزات فراہم کرنے والے مقامی ایجنٹوں اور سہولت کاروں کے خلاف بھی تحقیقات شروع کی ہیں۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی گجرات میں مبینہ طور پر مقیم بنگلہ دیشی شہریوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ احمد آباد کے چنڈولا تالاب علاقے میں پولیس نے ایک 'میگا ڈیمولیشن' مہم بھی چلائی تھی۔
انڈیا، بنگلہ دیش سرحد پر کشیدگی: ’بارڈر پر لائٹس بند کی جاتی ہیں اور گیٹ کھول کر لوگوں کو بنگلہ دیش کی جانب دھکیل دیا جاتا ہے‘19 سال میں 14 زچگیاں: لازوال محبت کا استعارہ سمجھے جانے والے تاج محل میں چھپی ممتاز محل کی المناک موت کی کہانی’سٹاک مارکیٹ میں نقصان‘ سے دلبرداشتہ سکول پرنسپل نے بیوی بچوں کو قتل کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ’بچپن سے ہی اسلام کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا‘: انڈیا میں مذہب تبدیل کرنے والے نوجوان کی اہلیہ اور سسر کو کیوں گرفتار کیا گیا؟’آئی لَو محمد لکھنا جُرم بن گیا ہے‘: انڈیا میں مسجد سے پوسٹرز اور پرچم برآمد ہونے پر مقدمہ اور سوشل میڈیا پر بحث’اجتماعی شادی‘ جہاں 42 دلہوں میں سے کسی کو بھی دلہن نہ ملی: ’ہمیں خواب دکھایا گیا لڑکیاں اچھی ہیں اور شادی کریں گی‘