’بوائے فرینڈ کو یہ بتانا بہت خوفناک تھا‘: وہ خواتین جو بچے پیدا نہیں کرنا چاہتیں

بی بی سی اردو  |  Jun 28, 2026

BBC 32 سالہ جیس بچے نہیں پیدا کرنا چاہتیں

جیس کنگ ہمیشہ سمجھتی تھیں کہ وہ بچے ضرور پیدا کریں گی۔ ان کے نزدیک یہ ایک قدرتی راستہ تھا جس پر آخرکار تمام خواتین چلتی ہیں۔

لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ وہ اس احساس سے پیچھا نہ چھڑا سکیں کہ وہ تیار نہیں تھیں۔ وقت کے ساتھ ان کے شکوک بڑھتے گئے۔

’پھر یہ سوال بن گیا کہ: کیا میں اس کے لیے تیار نہیں ہوں، یا میں یہ چاہتی ہی نہیں؟‘

وہ کہتی ہیں کہ جن لوگوں سے بھی اُںھوں نے بات کی جن کے بچے تھے، وہ اس فیصلے کے بارے میں بہت پُریقین تھے اور ان میں مادری جذبہ موجود تھا۔

’میرے اندر وہ احساس نہیں تھا اور اسی نے مجھے اس پر سوال اٹھانے پر مجبور کیا۔‘

جیس کی طرح، برطانیہ میں زیادہ سے زیادہ خواتین بچے نہ پیدا کرنے کا انتخاب کر رہی ہیں۔

سینٹر فار سوشل جسٹس (سی ایس جے) کی تحقیق کے مطابق 16 سے 45 سال کی عمر کی تقریباً 30 لاکھ خواتین کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ بغیر بچوں کے رہیں گی۔

اگر اس عمر کی خواتین اپنی دادیوں کی طرح بچوں کی پیدائش کی شرح برقرار رکھتیں، تو مزید چھ لاکھ خواتین بچے پیدا کر رہی ہوتیں۔

برطانیہ میں دفتر برائے قومی اعداد و شمار (او این ایس) کے مطابق سنہ 2025 میں انگلینڈ اینڈ ویلز میں شرح پیدائش مسلسل چوتھے سال کم ہوئی اور تقریباً 50 برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔

جیس کا کہنا ہے کہ اپنے بوائے فرینڈ کو یہ بتانا کہ وہ بچے نہیں چاہتیں ’بہت خوفناک‘ تھا۔

BBCمالی دباؤ جیس کے لیے بھی ایک اہم وجہ ہے، جو مغربی لندن میں اپنے پارٹنر اولی کے ساتھ رہتی ہیں۔

سی ایس جے کی رپورٹ کے مطابق اس رجحان کے پیچھے ’سماجی اور معاشی دباؤ کارفرما ہے۔

اس میں بڑھتی ہوئی رہائشی لاگت، مالی خود مختاری میں تاخیر، دیر سے شادی اور کیریئر کے حوالے سے بڑھتی غیر یقینی صورتحال شامل ہے۔

مالی دباؤ جیس کے لیے بھی ایک اہم وجہ ہے، جو مغربی لندن میں اپنے پارٹنر اولی کے ساتھ رہتی ہیں۔

جیس کانٹینٹ کریٹر ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کی آمدنی میں تسلسل نہیں ہے اور یہی وجہ ہے جو بچوں کے حوالے سے ان کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’بہت سے لوگ بمشکل گزارہ کر رہے ہیں۔ کچھ مہینے ہم واقعی پیسے گن گن کر خرچ کرتے ہیں اور یہ مشکل ہو جاتا ہے۔‘

جیس کی طرح کے خیالات رکھنے والی کئی خواتین سے ہم نے بات کی، جنھوں نے مالی مسائل کو ایک رکاوٹ قرار دیا۔

دنیا کے کئی ممالک شرح پیدائش میں کمی سے کیوں پریشان ہیں اور اس کا حل کیا ہےسمارٹ فیصلے جن میں لمبی عمر پانے کا راز پوشیدہ ہے اور وہ 10 ممالک جہاں لوگوں کی عمریں زیادہ ہیں؟جاپان میں کمپنیاں بچوں کی جگہ بڑوں کے ڈائپرز کیوں بنا رہی ہیں؟کیا دنیا میں واقعی آٹھ ارب افراد موجود ہیں؟

لیکن اُنھوں نے اس کے ساتھ دیگر عوامل کی نشاندہی بھی جن میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق خدشات، کیریئر، سفر کا شوق اور یہ احساس کے اس طرح رہنے میں انھیں زیادہ آزادی حاصل ہے۔

جیس اور 33 سالہ چی دونوں کا کہنا ہے کہ انھیں ایسے لوگوں کی آن لائن کمیونٹیز سے مدد ملی جنھوں نے بغیر بچوں کے خوشگوار زندگی بنائی ہے۔

ٹک ٹاک پر مختلف ہیش ٹیگز کے ساتھ ہزاروں ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں خواتین بچے پیدا نہ کرنے کی اپنی وجوہات کا ذکر کر رہی ہیں۔

جیس کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا نے ان کے فیصلے پر اثر نہیں ڈالا، لیکن اس نے ’اس کی توثیق کی‘ اور انھیں اس موضوع پر بات کرنے میں زیادہ اعتماد دیا۔

33 سالہ چائی بلیک کہتی ہیں کہ بچے کی موجودگی ان کی بہت سی سرگرمیوں کو محدود کر دے گی۔

Chy Black 33 سالہ چائی بلیک کہتی ہیں کہ بچے کی موجودگی ان کی بہت سی سرگرمیوں کو محدود کر دے گی۔

33 سالہ چی کا تعلق مڈلینڈز سے ہے اور وہ ایک کمپنی میں اکاؤنٹ مینیجر ہیں۔ اُنھوں نے اپنی ہم خیال خواتین کی ایک کمیونٹی تشکیل دی ہے۔

اگرچہ حقیقی زندگی میں ان کے والدین اور قریبی دوست ان کے فیصلے کے حامی ہیں، لیکن وسیع خاندان اس کو سمجھ نہیں پایا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرا تعلق افریقی پس منظر سے ہے، جہاں خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بچے پیدا کریں۔ اس خیال کی مخالفت کرنا لوگوں کے لیے حیران کن تھا۔‘

چی کہتی ہیں کہ وہ ’کسی اور کی ذمہ داری‘ اٹھانے میں آسودہ محسوس نہیں کرتیں۔

ان کے مطابق ایک بچے کو ’وہ محبت درکار ہو گی جو شاید میں بھرپور طور پر فراہم نہ کر سکوں۔‘

ان کی ترجیحات میں کیریئر اور سفر شامل ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ بچوں کے ساتھ یہ زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

سی ایس جے کی رپورٹ کے مطابق کیریئر پر توجہ دینے کی خواہش بھی ایک بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر خواتین بچے نہیں چاہتیں۔

سنہ 2023 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق برطانیہ کی 1500 سے زائد 18 سے 35 سال کی خواتین میں سے 38 فیصد نے کہا کہ وہ اپنے کیریئر کو آگے بڑھانا چاہتی ہیں۔

تقریباً نصف نے بچوں کی نگہداشت کی بڑھتی لاگت کا ذکر کیا اور 41 فیصد نے کہا کہ بچے ہونے کی صورت میں انھیں بڑا گھر درکار ہو گا۔

چی کا خیال ہے کہ ماؤں کو کافی حمایت نہیں ملتی اور بچوں کی دیکھ بھال کی لاگت اور دفتروں میں کام کرنے والی خواتین کو ملنے والی چھٹیوں کا موجودہ نظام ماں ہونے کے علاوہ زندگی گزارنا مشکل بنا دیتا ہے۔

اُنھوں نے اپنی ایک دوست کی مثال دی جسے سکول کے اوقات کے باعث اپنی ملازمت کے گھنٹے کم کرنا پڑے۔

سی ایس جے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ماں کے کردار کو سماجی اور پالیسی سطح پر زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے اور ماضی میں اس کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

Sasha Thomas28 سالہ ساشا تھامس ٹک ٹاک پر بغیر بچوں کے زندگی کے بارے میں ویڈیوز شیئر کرتی ہیں ’کیا میں اس دنیا میں بچے لانا چاہتی ہوں؟‘

جن خواتین سے ہم نے بات کی، ان میں سے کئی نے بتایا کہ انھیں دوسروں کی جانب سے یہ کہا گیا کہ وہ اپنا فیصلہ بدل لیں گی یا وہ غلطی کر رہی ہیں۔

ساشا، جو ویلز کے ایک چھوٹے گاؤں میں رہتی ہیں اور ایک کاک ٹیل بار میں اسسٹنٹ مینیجر ہیں، کہتی ہیں کہ یہ دباؤ وہاں زیادہ محسوس ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہاں ہر کسی کے بچے ہیں، بوائے فرینڈ ہے اور کچھ شادی شدہ ہیں جس کی وجہ سے مجھے لوگوں کی طرف سے کچھردِعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘

ساشا اور ان کے 31 سالہ بوائے فرینڈ اپنی آمدنی دُنیا کی سیر پر خرچ کرنا چاہتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم اس سال مالدیپ جا رہے ہیں، اگر ہمارے بچے ہوتے تو ہم یہ ہرگز افورڈ نہ کر پاتے۔‘

اس کے باوجود، مجموعی طور پر کئی خواتین کا کہنا تھا کہ اب بچوں کی پیدائش لازمی نہیں رہی۔

سیان، جو کتوں کی ٹرینر ہیں، کو بچپن سے یہی سکھایا گیا تھا کہ بچے پیدا کرنا ضروری ہے، حالانکہ انھیں ’ماں بننے کی شدید خواہش‘ کبھی محسوس نہیں ہوئی۔

لیکن 37 سال کی عمر میں وہ اب اپنے فیصلے پر مطمئن ہیں۔

Sian Lawley-Rudd37 سالہ سیان لاولی بچوں کی زندگی پر سوشل میڈیا کے اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔

روس اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات اور ماحولیاتی تبدیلی ان کے فیصلے پر اثرانداز ہوئے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کیا میں اس دنیا میں بچے لانا چاہتی ہوں جیسی یہ اب ہے؟ نہیں۔ میرا جواب یہی تھا اور میں نے اپنی رائے نہیں بدلی۔‘

جیس بھی سیان سے متفق ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ماحولیات کے لحاظ سے کیا مستقبل میں کوئی دُنیا باقی رہے گی؟ پہلے ہی زمین پر بہت زیادہ لوگ ہیں، کیا میں واقعی اس میں اضافہ کرنا چاہتی ہوں۔

جیس کہتی ہیں کہ ’میں اس بات پر زیادہ افسوس کرنا پسند کروں گی کہ میرے بچے نہیں ہوئے، بجائے اس کے کہ میرے بچے ہوں اور پھر مجھے ان پر افسوس ہو۔‘

سیان، جو سٹافورڈشائر میں رہتی ہیں، کے پاس بونی اور اولیور نامی دو کتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں اپنے کتوں کے ساتھ خوش ہوں۔ میں ان کی دیکھ بھال کرتی ہوں اور وہ میرے لیے خاندان جیسے ہیں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ میں اپنے کام کے بارے میں پُرجوش ہوں اور یہ میری جذباتی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ شاید دوسروں کے لیے یہ ضرورت ایک بچہ پوری کرتا ہے۔

چین: مرد جو سنگل ہیں اور خواتین جو بچے پیدا کرنا نہیں چاہتیںایک ماں جو 32 برس کی تلاش کے بعد لاپتہ بیٹے سے ملیدو بچہ دانیاں اور دونوں میں حمل، وہ خاتون جس نے دو دن میں دو بچوں کو جنم دیاوہ مانع حمل دوا جو پیدائش میں وقفہ تو نہ کروا سکی لیکن لاکھوں زندگیاں بچانے میں مددگار ثابت ہوئی'بچپن میں شادی کرا دی، اب بس بچے پیدا کرتے رہتے ہیں'
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More