انڈیا میں قبولِ اسلام پر تنازعے کے بعد نوجوان آیوش ملک نے ’دوبارہ ہندو مذہب اپنا لیا‘

بی بی سی اردو  |  Jun 30, 2026

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے ضلع شاملی میں دوا کے تاجر آیوش ملک کی جانب سے اسلام قبول کرنے اور اس پر جنم لینے والے تنازعے کے بعد اب ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں آیوش ملک پوجا کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ شاملی پولیس نے مبینہ طور پر ’سازش کے تحت مذہب تبدیل کرانے‘ کے الزام میں آیوش کی بیوی چاندنی قریشی اور سسُر اسلام قریشی کو گرفتار کر لیا تھا۔

جون کے اوائل میں جب یہ تنازع سامنے آیا تو آیوش ملک نے کہا تھا کہ اسلام کی جانب ان کا شروع سے ہی رجحان تھا اور یہ کہ انھوں نے بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا۔

اس کے بعد وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز میں آیوش ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے اسلام قبول کر کے اپنا نام محمد علی رکھ لیا ہے۔

لیکن اب جو ویڈیو سامنے آئی ہے، اس میں آیوش ملک دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے آیوش ملک کے والد دیوراج ملک نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے۔ تاہم شاملی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نریندر پرتاپ سنگھ کا کہنا ہے کہ انھیں اب تک اس معاملے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔

ویڈیو میں کیا ہے؟

آیوش ملک کی جو نئی ویڈیو سامنے آئی ہے، اس میں ان کے سر اور منھ کے بال ہلکے ہیں۔

اس ویڈیو میں آیوش ملک کہتے ہیں کہ ’میرا نام آیوش ملک ہے۔ میں نے اسلام مذہب اپنا لیا تھا۔۔۔ لیکن آپ سب کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے، خاندان کا خیال کرتے ہوئے اپنی مرضی سے، میں خاندان کے اصل مذہب ہندو دھرم میں واپس آ کر اپنے والد کی محبت اور خواہشات کے مطابق رہنا چاہتا ہوں۔

’آپ مجھے معاف کر دیں۔‘

اس بیان کے بعد آیوش ملک پوجا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ویڈیو میں ان کے ساتھ ان کے والد دیوراج ملک بھی دکھائی دے رہے ہیں۔

آیوش کے والد دیوراج ملک نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’آیوش دوبارہ ہندو بن گیا ہے۔ یہ ویڈیو صحیح ہے اور ہماری موجودگی میں بنائی گئی ہے۔ مذہب تبدیل کرنے کے بعد سے آیوش اپنی بہن کے گھر پر ہے۔ وہ بہت حساس طبیعت کا ہے اور اس وقت میڈیا سے بات کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔‘

مقامی ہندوتوا مذہبی رہنما یشویر مہاراج کے مطابق، آیوش ملک نے اپنے اہلِ خانہ کی موجودگی میں اپنے گھر پر ہندو مذہب میں واپسی کی ہے۔ انھوں نے آیوش ملک کی ایک ویڈیو بھی میڈیا کے ساتھ شیئر کی ہے۔

یشویر مہاراج کے مطابق، آیوش ملک نے ہندو مذہبی رہنماؤں کی موجودگی میں دوبارہ مذہب تبدیل کیا۔

دوسری جانب، 8 جون کے بعد سے آیوش ملک کا کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ جب بی بی سی کی ٹیم ان سے ملنے پہنچی تھی تو وہ پولیس کی موجودگی میں اپنے گھر تک محدود نظر آئے تھے۔

تاہم، مقامی پولیس نے انھیں نظر بند کیے جانے کی تردید کی تھی۔

بی بی سی سے گفتگو میں یشویر مہاراج نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ آیوش ملک کی ہندو مذہب میں واپسی یقینی بنا کر رہیں گے۔

اسلام قبول کرنے کے بعد تنازع

اس سے قبل آیوش ملک نے کہاتھا کہ انھوں نے اسلام قبول کر کے اپنا نیا نام محمد علی رکھ لیا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’میں بچپن سے ہی اسلام کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ سنہ 2013 میں میری دلچسپی مزید بڑھ گئی اور میں اسلامی کلچر اپنانے لگا۔‘

اترپردیش کے ضلع شاملی کے ادویات فروش آیوش ملک نے یہ بات اپنی اہلیہ چاندنی قریشی اور سسُر اسلام قریشی کی گرفتاری کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہی تھی۔

پولیس نے چاندنی قریشی اور اسلام قریشی کو مبینہ طور پر محمد علی کا جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

چاندنی اور اسلام قریشی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے پولیس سپرنٹنڈنٹ نریندر پرتاپ سنگھ نے میڈیا کو بتایا ’جائیداد حاصل کرنے کی غرض سے مبینہ سازش کے تحت مذہب تبدیل کروانے کے الزام میں چاندنی اور اس کے والد کو گرفتار کیا گیا۔ اس مقدمے میں مزید کئی افراد کو بھی نامزد کیا گیا۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ’سخت ترین کارروائی کرے گی تاہم محمد علی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ چاندنی ان کی قانونی اہلیہ ہیں اور انھوں نے اپنی مرضی سے نکاح کیا۔

محمد علی کے والد الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کے بیٹے کو ڈرایا گیا لیکن محمد علی کا کہنا ہے کہ انھیں کسی کا خوف نہیں۔ ’میں حق کے راستے پر ہوں، مجھے کسی کا کوئی ڈر نہیں۔‘

جب محمد علی سے اسلام قبول کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’میں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور آئین مجھے اس کی اجازت دیتا ہے۔‘

چاندنی سے ملاقات اور شادی

چاندنی سے شادی اور پہلی ملاقات کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ’میری فزیوتھراپی سینٹر میں چاندنی سے ملاقات ہوئی۔ میں نے نکاح کی پیشکش کی لیکن ابتدا میں وہ تیار نہیں تھیں۔ جب وہ آمادہ ہوئیں اور نکاح ہوا تو حالات اس قدر خراب ہو گئے کہ وہ آج جیل میں ہیں۔‘

چاندنی کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ ’میں اپنی بیوی کے ساتھ نہیں رہتا، میں اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہا تھا۔ چاندنی اور میں ایک ساتھ رہنا چاہتے تھے اور بچے پیدا کرنا چاہتے تھے لیکن حالات اب سنگین ہو گئے ہیں، یہاں تک کہ اسے جیل بھیج دیا گیا۔‘

جب صحافیوں نے محمد علی سے پوچھا کہ وہ اپنی بیوی یا اپنے خاندان میں سے کس کو اپنائیں گے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’دونوں ہی میرے خاندان ہیں، میں اپنے رشتہ داروں اور اپنی بیوی دونوں کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں۔ اگر میرا خاندان مجھ سے الگ ہونے کا انتخاب کرتا ہے تو ہو جائے لیکن میں خود کو اپنے خاندان سے الگ نہیں کروں گا۔‘

محمد علی نے کہا کہ ’میں نے مذہب کی تبدیلی کے بارے میں اپنے اہلخانہ کو کبھی نہیں بتایا۔ میں نے ان سے اپنی مذہبی شناخت چھپائی۔ فروری میں ہی میں نے انھیں بتایا کہ میں اسلام پر عمل پیرا ہوں۔‘

10 افراد کے خلاف مقدمہ درج

پولیس نے 6 جون کو محمد علی کے والد دیوراج ملک کی شکایت پر مقدمہ درج کیا۔

پولیس نے اس مقدمے میں محمد علی کی اہلیہ چاندنی قریشی کے علاوہ نو نامزد افراد اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ اس میں چاندنی کے اہلِخانہ کے علاوہ ایک مولوی کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔

ایس پی نریندر پرتاپ سنگھ کا کہنا ہے کہ ’تقریباً 30 سالہ آیُش ایک خوشحال خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد دیوراج ملک شہر کے بڑے دوا فروش ہیں۔ آیُش اپنے چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے اور واحد بیٹے ہیں۔‘

پولیس کے مطابق دیوراج ملک نے شکایت میں کہا کہ ’ان کے بیٹے کو ان کی جائیداد ہتھیانے کے مقصد سے چاندنی قریشی کے ذریعے سازش کے تحت پھنسایا گیا اور اس کا مذہب تبدیل کرایا گیا۔‘

دیوراج ملک نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’آیُش اور چاندنی کا جعلی نکاح نامہ تقریباً چار سال قبل تیار کیا گیا تھا۔‘

پولیس اس دستاویز کی بھی جانچ کر رہی ہے جبکہ محمد علی نے واضح کیا کہ نکاح ان کی مرضی سے ہوا۔

ادھر اس معاملے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد چاندنی قریشی کا خاندان خوف کے باعث زیادہ تر اپنے گھر سے باہر رہ رہا ہے۔

ان کے چچا فرمان علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے بھائی پھلوں کے تاجر ہیں اور ان کی بیٹی فزیوتھراپیسٹ ہے۔ محمد علی نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا اور شادی کی پیشکش بھی خود ہی کی۔ پولیس یکطرفہ کارروائی کر رہی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تو حقیقت سامنے آ جائے گی کہ مذہب کی تبدیلی مرضی سے تھی یا نہیں۔‘

دوسری جانب محمد علی کے والد دیوراج ملک کا کہنا ہے کہ ’ہمیں پولیس تحقیقات پر مکمل اعتماد ہے اور سچ ضرور سامنے آئے گا۔‘

پولیس نے اس معاملے میں درج ایف آئی آر میں دھوکہ دہی، جعل سازی، جعلی دستاویز کے استعمال، مجرمانہ سازش، دھمکی اور ناجائز دباؤ کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کرنے سے متعلق دفعات عائد کی ہیں۔

پولیس کا مؤقف ہے کہ مذہب کی تبدیلی اور نکاح ایک منظم سازش کا حصہ تھے جبکہ محمد علی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور نکاح کیا۔

انڈین آئین ہر شہری کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق دیتا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 25 تا 28 مذہبی آزادی کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کرتے ہیں تاہم آئین ریاست کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ جہاں مذہب کے نام پر جبر، دھوکہ یا غیر قانونی طریقے استعمال کیے جائیں، وہاں مداخلت کرے۔

فی الحال اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ طے ہونا باقی ہے کہ تبدیلی مذہب رضامندی سے ہوئی یا کسی سازش کا نتیجہ تھی۔

کیا انڈیا میں تبدیلی مذہب کے قوانین کو مسلمانوں کے خلاف زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے؟انڈیا میں ملک اور مذہب میں سے ایک کے انتخاب کی بحث کیوں چِھڑ گئی ہے؟مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن کی رپورٹ: انڈین خفیہ ادارے ’را‘ اور آر ایس ایس پر پابندی کی تجویز، انڈیا کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہاسلام ترک کرنے والے متنازع انڈین یوٹیوبر 26 سال بعد قتل کے معاملے میں دوبارہ کیسے گرفتار ہوئے؟انڈین کمپنی کے مسلمان عہدیدار کے خلاف مبینہ ریپ کی ایک شکایت، جس نے ’کارپوریٹ جہاد‘ کے بیانیے کو جنم دیاایک ہندو کے قبولِ اسلام کی وائرل ویڈیو جو درگاہ حضرت بل کے امام پر پابندی کا باعث بنی: ’اب میں درگاہ کا پانی کے راستے دیدار کرتا ہوں‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More