انقرہ……ترکی میں ہونے والے انتخابات میں حکمراں جماعت 13برس بعد پارلیمانی اکثریت کھو بیٹھی ہے۔ آئندہ اتحادی حکومت بننے کا امکان ہے۔ نتائج ترکی کے صدر اور پارٹی سربراہ طیب اردوان کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں۔ ترکی انتخابات میں ریپبلکن پیپلز پارٹی کی کامیابی پر جشن جاری ہے۔ کردش پارٹی کے پہلی بار پارلیمنٹ میں پہننچے کی خوشی میں بھی حامی سڑکوں پر نکل آئے اور جشن منایا۔ 98فیصد ووٹوں کی گنتی کے مطابق حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیوپلمنٹ پارٹی کو 41فیصد ووٹ ملے، جبکہ گزشتہ انتخابات میں اسے49 فیصد ووٹ ملے تھے، نتائج ترکی کے صدر اور پارٹی سربراہ طیب اردوان کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں ہیں۔ 13برس بعد ان کی جماعت پارلیمنٹ میں اکثریت کھو بیٹھی ہے، جس کے بعد ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کا ان کا خواب اب پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، انتخابی نتائج کے بعد وزیر اعظم احمد داؤد اوگلو پارٹی ہیڈ کوارٹر کی بالکونی میں آئے اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے یقین دلایا کہ حکومت ان کے بہتر مستقبل کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی، دوسرے نمبر پر ریپبلکن پیپلز پارٹی ہے جسے 25فیصد ووٹ ملے ہیں، نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کو 16فیصد ووٹ ملے، جبکہ کردش پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے 12اعشاریہ 5فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں، سیٹوں کے تناسب سے 550سیٹوں کے ایوان میں حکمراں جماعت کو 259سیٹیں، ریپبلکن پیپلز پارٹی کو 131سیٹیں، جبکہ کردش پارٹی کو 80سیٹیں تک ملنے کی امید ہے۔ نتائج کے بعد صورت حال واضح ہوگئی ہے کہ ترکی میں 13برس اتحادی حکومت قائم ہوگی، انتخابات میں 86فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دیہی استعمال کیا۔