News Search
Home News Dictionary TV Channels Names Weather Live Cricket Videos Photos Results Naats
Home Taza Tareen
افغان فورسز کی چمن میں بلااشتعال فائرنگ، 1 شہری شہید، 18 افراد زخمی     چمن بارڈر پر افغان فورسز کی فائرنگ، 4 ایف سی جوان زخمی، آئی ایس پی آر     راجن پور: تھانہ محمد پور کی حدود میں فائرنگ،4افراد جاں بحق 1زخمی     وزیراعظم کا ویژن پاکستان کو لوڈ شیڈنگ فری بنانا ہے، عابد شیرعلی     آخری دن میزبان بولنگ کا ہمارے پاس جواب نہ تھا، مصباح الحق     بارباڈوس:ویسٹ انڈیزکےہاتھوں پاکستان کوعبرتناک شکست     سرحد پار سے مردم شماری ٹیم پر فائرنگ، چمن سرحد بند     ’مکی‘ اور ’منی‘ حقیقی زندگی میں میاں بیوی تھے     پاناما کیس، سپریم کورٹ کا آج ہی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ     پنجاب: مختلف اضلاع میں سرچ آپریشن، 41 افراد گرفتار     
Urdu News
Maulana Tariq Jamil
a
Naat Khawan
Amjad Sabri Farhan Ali Qadri
Fasih Uddin Soharwardi Ghulam Mustafa Qadri
Imran sheikh Attari Junaid Jamshed
Owais Raza Qadri Shahbaz Qamar Faridi
Syed Mohammad Furqan Qadri Ummeh Habiba
Waheed Zafar Qasmi Zulfiqar Ali
UrduWire Names Directory
Muslim Names Arabic Names
Muslim Boy Names Muslim Girl Names
Pictures Gallery
Cleaning The Kaaba Area - One Of The Best Jobs In The World Cleaning The Kaaba Area - One Of The Best Jobs In The World
Dream World Water Park Resort Hotel Ticket & Membership Price 2017 Karachi Dream World Water Park Resort Hotel Ticket & Membership Price 2017 Karachi
Cosy Water Park Karachi - Cozy Ticket Price 2015 & Location Pictures Cosy Water Park Karachi - Cozy Ticket Price 2015 & Location Pictures
View all Pictures

 

Home >> Urdu News >> BBC Urdu
عالمی خبریں Share your views
جرمنی آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی [بی بی سی اردو] 11 Jan, 2017
تارکینِ وطن

سنہ 2015 برس جرمنی میں مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور افریقہ سے 10 لاکھ سے زائد تارکین وطن داخل ہوئے تھے

جرمنی کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ 2016 میں جرمنی میں آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں 2015 کے مقابلے میں چھ لاکھ کی کمی ہوئی ہے۔

گذشتہ سال جرمنی پہچنے والے تارکین وطن کی تعداد2,80,000 تھی جبکہ سنہ 2015 میں آنےوالوں سے چھ لاکھ سے کم ہے۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ بلقان روٹ کی بندش اور ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہے۔

جرمنی کو تارکین وطن کی زیادہ ضرورت کیوں؟

جرمنی میں تارکین وطن کے حق میں ریلی، سینکڑوں افراد شریک

واضح رہے کہ 8,90,000 تارکینِ وطن کی ریکارڈ تعداد نے یونان اور بلقان کی ریاستوں سے جرمنی کا سفر کیا تھا۔

یہ تارکینِ وطن جرمنی چانسلر انگیلا میرکل کی جانب سے عارضی سیاہ پناہ کی پالیسی کھولنے کے حکم جاری کرنے کے بعد وہاں پہنچے تھے۔

انگیلا میرکل کی تارکینِ وطن پالیسی پر تنقید کی گئی تھی اور گذشتہ سال ہونے والے وفاقی انتخابات سے پہلےتارکینِ وطن کا موضوع ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن گیا تھا۔

جرمنی کے ووٹروں نے انگیلا میرکل کی جماعت سی ڈی یو کو علاقائی انتحابات میں ووٹ نہیں دیا تھا جس کے بعد انھوں نے تسلیم کیا تھا کہ تارکینِ وطن کا مسئلہ بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا تھا۔

جرمنی کے وزیرِ داخلہ تھامس ڈی میزیئر کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور یورپی یونین کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے فائدہ ہو رہا ہے اور ہم پناہ گزینوں کے معاملے کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

جرمن وزیرِ داخلہ تارکینِ وطن کے حوالے سے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے معاہدے کا حوالہ دے رہے تھے۔

تھامس ڈی میزیئر نے کہا کہ سنہ 2016 میں 2,70,000 خواہشمند افراد نے درخواستیں دیں جب کہ سنہ 2015 میں یہ تعداد 7,45, 545 رہی۔

سنہ 2015 برس جرمنی میں مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور افریقہ سے 10 لاکھ سے زائد تارکین وطن داخل ہوئے تھے۔

جرمن حکومت نے البانیہ سے آنے والے تارکینِ وطن کی پناہ کی درخواستوں کو 'محفوظ ملک' قرار دے کر مسترد کر دیا تھا اور وہ افغان باشندوں کو بھی ڈی پورٹ کر رہی ہے۔

حکومت نے گذشتہ برس کہا تھا کہ جرمنی سے واپس آنے والے زیادہ تر تارکینِ وطن عراق اور افغانستان واپس جا رہے ہیں۔


View News As Image
Post Your Comments
Select Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

Name: Email:(Will not be shown) City:
Enter The Code:

 
Home | About Us | Contact Us |  Profiles |  Privacy Policy & Disclaimer | What is Meta News?
Top Searches: Jang News Cricinfo Express Tribune,  , SSC Part 1 Results 2016   Dunya News Bol News Live Samaa News Live Metro 1 News Waqt News Hum TV PTV Sports Live KTN News
Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on "as it is" based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Please read more!

UrduWire.com - First ever Urdu Meta News portal