کرونا وائرس جاپان اور جنوبی کوریا میں امریکی فوجی مشن کو مشکل بنا سکتا ہے

وائس آف امریکہ اردو  |  Jul 13, 2020

واشنگٹن — چند تجزیہ کاروں نے پیر کے روز متنبہ کیا ہے کہ امریکہ کے اندر، کرونا وائرس کے بے قابو ہونے کے اثرات، اب سمندر پار امریکہ کے فوجی مشنوں پر بھی مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں، کیونکہ جاپان اور جنوبی کوریا میں کرونا وائرس کی لپیٹ میں آنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

اتوار کے روز، اوکی ناوا علاقے کے جاپانی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ دو امریکی میرین چھاؤنیوں میں 60 سے زیادہ کرونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں۔

اس کے ردِ عمل میں، امریکی فوج نے اوکی ناوا چھاؤنی میں متاثرہ فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ اور کنٹریکٹ ملازمین کی نقل و حمل کو سختی سے گھروں تک محدود کر دیا ہے، اور انہیں کسی بھی حال میں چھاؤنی سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اتوار کے روز، اوکی ناوا کے گورنر ڈینی ٹماکی کا ایک پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ نئے مریضوں کے سامنے آنے پر وہ سخت حیران ہیں، اور انہیں امریکی فوج کی جانب سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر شک ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نئے کرونا مریضوں نے یہ مرض کہاں سے لیا۔

جنوبی کوریا میں امریکی افواج کے ارکان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ کسی حد تک قابو میں ہے، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ سے آنے والے نئے فوجی اس کے پھیلاؤ کا سبب ہیں۔

جنوبی کوریا میں تعینات امریکی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران، امریکہ سے جنوبی کوریا آنے والے کم از کم 34 فوجیوں یا کنٹریکٹ ملازمین میں کرونا وائرس پایا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپ اور جاپان سے آنے والے فوج سے منسلک چار دیگر ارکان میں بھی کرونا وائرس پایا گیا ہے۔

جنوبی کوریا میں امریکی فوج میں یہ گزشتہ مہینوں کی نسبت زبردست اضافہ ہے، کیونکہ وہاں کی چھاؤنی میں کم تعداد میں مریض تھے۔

جنوبی کوریا اور جاپان میں کرونا وائرس پر قابو پانے میں نسبتاً کامیابی حاصل کی گئی تھی، لیکن نئے مریض سامنے آنے سے، صورت حال غیر یقینی ہو گئی ہے۔

جاپان میں اب تک کرونا وائرس سے ایک ہزار اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جب کہ جنوبی کوریا میں تین سو سے کم۔ اسی دوران امریکہ میں ایک لاکھ 35 ہزار اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

امریکہ میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات اور مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے، چند تجزیہ کار متنبہ کر رہے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے کرونا وائرس کو قابو کرنے میں ناکامی سے، جاپان اور جنوبی کوریا میں امریکہ کے فوجی مشنوں میں پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں، جہاں مشرقی ایشیا میں سیکiورٹی کیلئے امریکی قیادت میں اس کی اپنی فوج کے 80 ہزار اہل کار تعینات ہیں۔

امریکی فضائیہ کے سابق ماہر لسانِیات، اور آج کل سیول میں قائم تروئے یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے استاد ڈینئل پنک سٹِن کا کہنا ہے کہ صحت سے متعلق، امریکہ کی کمزور پالیسی اور کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں اس کی کمزوری سے فوج کے تیار رہنے کا عمل متاثر ہوا ہے۔

پنک سٹن کا کہنا ہے کہ امریکی افواج میں وائرس کے پھیلنے سے اتحادیوں کے ساتھ فوجی مشقیں متاثر ہو سکتی ہیں، اور امریکہ کیلئے اپنی اتحادی ذمہ داریاں نبھانا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

تاہم امریکی افواج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے اس کے اعلیٰ درجے پر تیار رہنے میں کوئی فرق نہیں، اور اس کی فوج سے منسلک صرف ایک فیصد کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج ہر طرح کے حفاظتی انتظامات کا خیال رکھتی ہے، جس میں جنوبی کوریا پہنچنے پر، تمام امریکی افواج اور کنٹریکٹ ملازمین کو کرونا وائرس کا ٹیسٹ کروانا پڑتا ہے، اور ٹیسٹ مثبت آنے کی صورت میں لازمی طور پر کوارینٹائن ہونا پڑتا ہے۔ وہ صرف اس وقت ڈیوٹی پر آتے ہیں جب ان کا ٹیسٹ منفی ہو۔

نئے مریض سامنے آنے سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی سالانہ مشترکہ فوجی مشق کے مؤخر ہونے کا بھی امکان ہے۔ گزشتہ ہفتے، جنوبی کوریا کی یون ہاپ نامی خبر رساں ادارے نے خبر دی تھی کہ دونوں ممالک کی جانب سے فوجی مشق کو مؤخر یا منسوخ کرنے کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔ دونوں ممالک اس سال پہلے ہی ایک بڑی فوجی مشق کو منسوخ کر چکے ہیں۔

جنوبی کوریا کے ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل چُن اِن بَم کا کہنا ہے کہ دوبارہ منسوخ یا مؤخر کرنے سے مشترکہ دفاعی عکس پر سنجیدہ اثرات مرتب ہوں گے۔ فوجی مشقیں بہت اہم ہیں، اور سال میں صرف دو بار ہوتی ہیں۔ پہلے وہ چار دفعہ ہوا کرتی تھیں۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا اس معاملے پر قریبی مشاورت کر رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

اتوار کے روز ایک بریفنگ کے دوران، جنوبی کوریا کے وزیر اعظم، چُنگ سے کیون کا کہنا تھا کہ امریکی افواج میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر انہیں تشویش ہے۔ انہوں نے جنوبی کوریا کے حکام سے کہا ہے کہ وہ امریکی عہدیداروں کے ساتھ مل کر کواریناٹائن جیسے اقدامات کو مضبوط بنانے پر کام کریں۔

واشنگٹن میں قائم، فاؤنڈیشن فار ڈیفینس اینڈ ڈیموکریسیز سے منسلک امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات کے ماہر، ڈیوڈ میکس ویلکا کہنا ہے کہ اگر مشق کو مؤخر کر دیا گیا انہیں کوئی حیرانی نہیں ہو گی۔

میکسویل کہتے ہیں کہ ہمیں تربیت کی ضرورت ہے۔ تاہم اگر وبا پھیل گئی ہے اور اس سے امریکی قیادت میں فوجی اتحاد کا تمام عملہ متاثر ہوتا ہے، تو پھر اس کے اثرات تیار رہنے سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More