سن 1965 کا مبینہ جنسی حملہ ، بوب ڈلن کے خلاف مقدمہ اب

ڈی ڈبلیو اردو  |  Aug 17, 2021

بوب ڈیلن پر جنسی زیادتی کا الزام عائد  کرنے خاتون کی شناخت جے۔ سی کے نام سی کی گئی ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ جب وہ صرف بارہ برس کی بچی تھیں، جب بوب ڈلن نے انہیں جنسی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ نیو یارک کی سپریم کورٹ میں دائر کردہ اس سول مقدمے میں خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ بوب ڈلن نے انہیں چھ ہفتے تک نیو یارک میں ایک اپارٹمنٹ میں قید رکھا اور انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔

وکلا کا کہنا ہے کہ اس لرزہ خیز واردات نے ان کی مؤکلہ کو جذباتی سطح پر خوف زدہ کر دیا اور اس دوران انہیں جو نفیساتی نقصان پہنچا تھا، ابھی تک اس کا ازالہ نہیں ہو سکا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ڈلن نے اپنی مشہور شخصیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے، بارہ سالہ بچی کو شراب پلائی اور منشیات دیں اور اس دوران وہ اس لڑکی کو متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ بتایا گیا ہے کہ تب ڈلن کی عمر بیس سال کے لگ بھگ تھی۔

ڈلن نے الزامات مسترد کر دیے

اسی سالہ ڈلن کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ چھپن سالہ خاتون جے سی نے جو دعوے کیے ہیں وہ بالکل بے بنیاد ہیں اور ان الزامات کا بھرپور طریقے سے دفاع کیا جائے گا۔

متاثرہ خاتون نے ڈلن کے خلاف بھاری رقوم کا ہرجانہ کیا ہے تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کا مطالبہ کیا ہے۔

بوب ڈلن ساٹھ کی دہائی میں نیو یارک میں اپنی فولک گلوکاری اور نغمہ نگاری کی وجہ سے مشہور ہوئے اور بعد ازاں انہوں نے اپنے فن سے دنیا بھر میں مقبولیت پائی۔ عالمی سطح پر ان کے فروخت کردہ ریکارڈز کی تعداد ایک سو پچیس ملین سے زائد بنتی ہے، جو ایک ایک ریکارڈ ہے۔

سن دو ہزار سولہ میں ڈلن کو لٹریچر کے نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔ نوبل کمیٹی نے کہا تھا کہ نغمہ نگاری میں ایک نیا ایکسپرشن متعارف کرانے پر انہیں یہ اعزاز دیا گیا۔

ان کے شہرت یافتہ گانوں میں Blowin' In The Wind ، The Times  They Are a-Changin   اور مشہور زمانہ  Like A Rolling Stone سرفہرست ہیں۔

ع ب / ع ا ( خبر رساں ادارے)

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More