اومیکرون: برطانیہ میں کووڈ کی نئی قسم کے تین متاثرین کی تصدیق، جنوبی افریقہ کا سفری پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ

بی بی سی اردو  |  Nov 29, 2021

Getty Images

برطانیہ میں ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے تین مصدقہ متاثرین سامنے آچکے ہیں۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب انگلینڈ کی حکومت نے بازاروں، پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی اداروں میں ماسک پہننا لازم بنا دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کینیڈا میں حکام کا کہنا ہے کہ اومیکرون کے دو متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

ادھر جنوبی افریقہ کے صدر نے اومیکرون کے پھیلاؤ کے سبب اپنے اور ہمسایہ ممالک پر سفری پابندیوں کی مذمت کی ہے۔ صدر سیرل راماپوسا نے کہا ہے کہ انھیں عالمی ردعمل پر 'شدید افسوس ہے' جو نااصافی پر مبنی ہے۔ انھوں نے سفری پابندیاں فوراً ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

امریکہ، برطانیہ، پاکستان اور یورپی یونین اب تک جنوبی افریقہ پر سفری پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔

طبی حلقوں نے اومیکرون پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ابتدائی شواہد سے پتا چلتا ہے کہ اس کے ری انفیکشن یعنی پھیلاؤ کا خطرہ دیگر اقسام کی نسبت زیادہ ہے۔

جنوبی افریقہ نے 24 نومبر کو عالمی ادارہ صحت کو بتایا تھا کہ ان کے ملک میں کورونا کی ایک نئی قسم کی تشخیص کی گئی ہے۔

Reuters

گذشتہ دو ہفتوں کے دوران جنوبی افریقہ کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے گوٹنگ میں اومیکرون کے متعدد متاثرین سامنے آئے ہیں۔ اب یہ قسم دیگر صوبوں میں بھی پھیل چکی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ صرف سفری پابندی عائد کرنے کی بجائے حکومتوں کو سائنسی بنیادوں پر فیصلہ لینا چاہیے۔

مگر اتوار کو اپنے خطاب میں جنوبی افریقہ کے صدر نے کہا ہے کہ سفری پابندیوں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں۔ 'جنوبی افریقی ممالک غیر منصفانہ امتیازی سلوک کا شکار بنے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ ان پابندیوں سے اومیکرون کی روک تھام موثر ثابت نہیں ہوگی۔ 'سفری پابندیوں سے متاثرہ ممالک کی معیشت کو مزید نقصان ہوگا اور اس سے عالمی وبا سے نمٹنے اور ردعمل کی صلاحیت کم ہوجائے گی۔'

راماپوسا کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کی نئی قسم دنیا کے لیے ویکسین کی عدم مساوات کے حوالے سے ایک 'ویک اپ کال' ہے۔

اسرائیل میں غیر ملکیوں کی آمد پر پابندی، برطانیہ میں پبلک ٹرانسپورٹ پر ماسک لازمReuters

اسرائیل نے ملک میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون سے متاثرہ ہونے والے پہلے مریض کی تشخیص کے بعد اگلے 14 دن کے لیے ملک میں غیر ملکیوں کی آمد پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔

مقامی میڈیا میں خبروں کے مطابق اس پابندی کا اطلاق ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب سے ہوا ہے اور وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری دی ہے۔

دوسری جانب انگلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والوں اور دکانوں میں ماسک پہننا لازمی ہو گا جبکہ منگل کے روز سے برطانیہ آنے والوں کو پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہو گا۔

برطانیہ میں اب تک اومیکرون کے تین مصدقہ متاثرین سامنے آچکے ہیں۔

وزیر صحت ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اس لیے کیے جار ہے ہیں تاکہ ’لوگ اپنی خاندانوں کے ساتھ کرسمس منا سکیں۔‘

اس کے علاوہ نیدرلینڈز میں بھی کووڈ کے متاثرین میں اضافے اور اومیکرون کے باعث ملک میں پابندیوں میں اضافے کے اعلان کیے گئے ہیں۔

Getty Images

نئے اقدامات کے مطابق اگلے تین ہفتے تک ملک بھر میں ریستوران، کیفے، میوزیم، سنیما گھر وغیرہ مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے بند ہو جائیں گے۔

اس کے علاوہ 61 افراد جو حال ہی میں جنوبی افریقہ سے سفر کر کے نیدرلینڈز پہنچے تھے ان کے بھی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں تاکہ جانچا جا سکے کہ کہیں وہ اومیکرون سے متاثر تو نہیں ہوئے۔

اسرائیل نے اور کیا اقدامات کیے؟

اسرائیلی حکومت نے غیر ملکیوں کی آمد پر پابندی کے علاوہ ان تمام اسرائیلی افراد پر تین دن کا قرنطینہ کرنا لازمی قرار دیا ہے جنھیں ویکسین کی دو خوراکیں لگ چکی ہیں جبکہ وہ اسرائیلی جنھیں ویکسین نہیں لگی انھیں سات دن قرنطینہ کرنا ہوگا۔

کابینہ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ ملک کی سکیورٹی ایجنسی شن بیتکورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی نگرانی کرے گی جس کے بارے میں وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ اس عمل کے لیے فون ٹریکنگ کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔

BBC

کورونا کی ’باعثِ تشویش‘ نئی قسم اومیکرون کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں

کورونا وائرس کی نئی انڈین قسم: کیا ویکسینز اس کے خلاف مؤثر ہوں گی؟

ڈبل میوٹینٹ: انڈیا میں کورونا وائرس کی نئی قسم کتنی خطرناک ہے؟

کووڈ 19 کی ویکسین سے متعلق خدشات میں کتنا سچ کتنا جھوٹ؟

مزید برآں یہ کہ اسرائیل نے 50 افریقی ممالک کو 'ریڈ لسٹ' پر شامل کر دیا ہے۔

ان ممالک سے سفر کر کے اسرائیل آنے والے اسرائیلی شہریوں کو حکومت کی طرف سے متعین کردہ ہوٹلوں میں لازمی قرنطینہ کرنا ہوگا اور ٹیسٹس کروانے ہوں گے۔

Getty Imagesپاکستان کی سات ممالک پر سفری پابندیاں

پاکستان نے کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے پھیلاؤ کے پیش نظر سات ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

ملک میں کورونا کی صورتحال کے نگراں ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق جن ممالک پر سفری پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں ہانگ کانگ، جنوبی افریقہ، موزمبیق، نمیبیا، لیسوتھو، ایسواتینی اور بوٹسوانا شامل ہیں۔

این سی او سی کا کہنا ہے کہ ان ممالک سے آنے والے ’‏پاکستانی مسافروں کو ہنگامی صورتحال میں پروٹوکول کے تحت سفر کی اجازت ہوگی۔ ‏مسافروں کے لیے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ، منفی پی سی آر اور ریپڈ ٹیسٹ رپورٹ درکار ہو گی۔‘

’‏منفی رپورٹ والے مسافروں کو تین روز کا لازمی قرنطینہ کرنا ہو گا۔ ‏مذکورہ ممالک میں پھنسے پاکستانی پانچ دسمبر تک سفری پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے۔‘

نوٹیفکیشن کے تحت ‏سفری پابندیوں سے مستثنیٰ مسافروں پر ہیلتھ پروٹوکول کا اطلاق لازمی ہو گا۔

این سی او سی نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ کووڈ کی نئی قسم اومیکرون کی آمد کے ساتھ اب ایک بار پھر ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں جس میں ویکسینیشن، ماسک اور سماجی فاصلہ ضروری ہیں۔

این سی او سی کے چیئرمین اسد عمر کہتے ہیں کہ اومیکرون کے پھیلاؤ کی وجہ سے اب 12 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کو جلد ویکسین لگانا اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔

’جنوبی افریقہ کو اومیکرون کی دریافت پر سزا دی گئی‘

ادھر جنوبی افریقہ نے شکایت کی ہے کہ اسے کووڈ 19 کی نئی قسم اومیکرون کی دریافت پر داد دینے کی بجائے سزا دی جا رہی ہے۔

جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے کہ جب دنیا کے کئی ممالک نے جنوبی افریقی ممالک میں وائرس کی نئی قسم کے پھیلاؤ کو بنیاد بنا کر ان پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

یورپ میں اومیکرون کے متعدد متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان میں برطانیہ میں دو، جرمنی میں دو، بیلجیئم میں ایک، اٹلی میں بھی ایک جبکہ چیک ریپبلک میں ایک مشتبہ کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔

کورونا کی نئی قسم کے متاثرین بوٹسوانا، ہانگ کانگ اور اسرائیل میں بھی پائے گئے ہیں۔ جنوبی افریقہ سے نیدرلینڈز آنے والے سینکڑوں مسافروں میں اومیکرون کی تشخیص کی گئی ہے۔

جنوبی افریقہ نے 24 نومبر کو عالمی ادارہ صحت کو بتایا تھا کہ ان کے ملک میں کورونا کی ایک نئی قسم کی تشخیص کی گئی ہے۔

Reutersجنوبی افریقہ میں اب تک صرف 24 فیصد آبادی کو مکمل ویکسین دی جاچکی ہے

اپنے بیان میں جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’زبردست سائنس پر داد ملنی چاہیے، نہ کہ سزا۔‘

’یہ پابندیاں جنوبی افریقہ کو اس کی جدید جینومک سیکوئنسنگ اور جلد نئی اقسام کی تشخیص کی صلاحیت پرسزا دینے کے مترادف ہیں۔‘

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کووڈ کی نئی قسم دنیا میں کہیں اور دریافت ہوئی ہوتی تو اس پر عالمی ردعمل بالکل مختلف ہوتا۔

افریقی یونین کے ایک اہکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کووڈ کی نئی قسم کی آمد کے قصوروار ترقی یافتہ ممالک ہیں۔

خیال رہے کہ متعدد ممالک بشمول برطانیہ، کینیڈا، اور امریکہ نے جنوبی افریقہ اور اس کے اردگرد خطے کے ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ جبکہ یورپی یونین کی پابندیوں کا اطلاق پیر سے ہوگا۔ انڈیا نے بھی تمام ریاستوں کو الرٹ جاری کیا ہے کہ جنوبی افریقہ سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ کو لازم بنایا جائے۔

برطانیہ میں صحت کے شعبے سے منسلک پروفیسر جیمز نیسمتھ نے متنبہ کیا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ موجودہ ویکسینز وائرس کی اس نئی قسم کے خلاف اتنی موثر ثابت نہ ہوں۔ ’یہ بُری خبر ہے لیکن ابھی قیامت نہیں ٹوٹ پڑی۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More