ریاض فتیانہ کو پبلک اکاونٹس کمیٹی سے نکالے جانے کا امکان

بول نیوز  |  Dec 01, 2021

وزیراعظم عمران خان نے ریاض فتیانہ کے معاملے پبلک اکاونٹس کمیٹی کے حکومتی ممبران کو کل طلب کرلیا۔

پی اے سی کے حکومتی ممبران کل وزیراعظم ہاوس میں وزیراعظم سے ملاقات کریں گے، ملاقات میں حکومتی ارکان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

پبلک اکاونٹس کمیٹی کے حکومتی ارکان سے وزیر اعظم کی ملاقات کل دوپہر ڈیڑھ بجے ہوگی، وزیر اعظم پی اے سی ارکان کی فہرست کا بھی جائزہ لیں گے۔

ملاقات  کے بعد بعض ارکان کو پبلک اکاونٹس کمیٹی سے نکالے جانے کا امکان ہے۔ ریاض فتیانہ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کی رکنیت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

ریاض فتیانہ کو پارٹی کی احتساب و انصباطی کمیٹی کی تحقیقات کا بھی سامنا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز بھی وزراء پر لڑائی کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔

وزیر اعظم نے کوپ 26 میں بعض پارٹی رہنماوں کی طرف سے وزراء پر تنقید کو بلاجواز قرار دیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی احتساب و ڈسپلن کمیٹی کی جانب سے ریاض فتیانہ کو گلاسگو معاملے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

کمیٹی نے نوٹس میں ریاض فتیانہ کو ہدایت کی کہ آپ نے بطور رکن پی اے سی حکومتی وفد پر لڑائی سمیت جو دیگر الزامات لگائے اس کا ثبوت دیں، ساتھ ہی الزامات کے تحریری شواہد، کوائف اور دیگر ثبوت بھی فراہم کریں۔

معاملے کا پس منظر

گزشتہ ماہ ہونے والے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے انکشاف کیا تھا کہ وزیرِ مملکت زرتاج گل اور وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کے درمیان اقوامِ متحدہ کی ماحولیات کانفرنس میں لڑائی ہوئی تھی۔

ریاض فتیانہ نے اجلاس کو بتایا کہ گلاسگو میں زرتاج گُل معاونِ خصوصی امین اسلم کے ساتھ جھگڑا کر کے وطن واپس آئی تھیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ریاض فتیانہ نے کہا کہ گلاسگو کانفرنس میں افسران کی نااہلی کے باعث پاکستان کی نمائندگی غیر معیاری رہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ نیپال اور دوسرے ممالک کے وفد کو پاکستان کیمپ میں کسی افسر نے ریسیو نہیں کیا۔ ریاض فتیانہ نے یہ بھی بتایا کہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے نااہل افسران کے باعث کروڑوں روپے ضائع ہوئے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More