برآمد کنندگان کو کنٹینرز کیوں نہیں مل رہے؟

سماء نیوز  |  Dec 06, 2021

فوٹو: اے ایف پی

برآمد کنندگان کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ انہیں ملک سے سامان باہر بھجوانے کیلئے کنٹینرز نہیں مل رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے برآمد ی آرڈرز متاثر ہورہے ہیں، خاص طور پر چاول کے ایکسپورٹرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر انہیں بروقت کنٹینرز نہیں ملے تو ان کے نیو ایئر سیزن سے متعلق چاول کے برآمدی آرڈرز کینسل ہوسکتے ہیں۔

رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (ریپ)کے وائس چیئرمین محمد انور میاں نور نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پیر کو کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) ہیڈ آفس میں وزیراعظم کے مشیر برائے بحری امور محمود مولوی سے ملاقات کی اور انہیں چاول کی برآمدات میں درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔

 اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے محمد انور میاں نور کا کہنا تھا کہ چاول کی بمپر پیدوار ہوئی ہے اور چین سمیت مختلف ممالک کے نیو ایئر پر بڑے آرڈرز بھی ہیں لیکن ہمیں کنٹینرز نہیں مل رہے۔

انہوں نے کہا کہ شپنگ کمپنیاں جہاں سے زیادہ چارجز مل رہے ہیں وہاں خالی کنٹینرز منتقل کررہی ہیں، اس کے علاوہ جو کنٹینرز دستیاب ہیں وہ بھی ڈالر کی قدر سے تین، چار روپے زیادہ یعنی 181.182 روپے کے حساب  سے چارج کررہے ہیں۔

محمد انور میاں نے الزام عائد کیا کہ شپنگ کمپنیاں ڈالر کی قدر سے زیادہ و اضافی رقم الگ سے وصول کرکے غیر قانونی چینل سے بھیج رہے ہیں جو منی لانڈرنگ کے زُمرے میں آتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شپنگ کمپنیاں بھارت اور دیگر ممالک کے کہنے پر پاکستان کیخلاف سازش کررہی ہیں۔

وفاقی وزیر محمود مولوی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ریپ کے وفد نے ڈالر کی قدر سے اضافی وصولی کی شکایت کی ہے لیکن اس میں بینکنگ کے علاوہ چینل استعمال ہونے اور منی لانڈرنگ کے الزام کے حوالے سے ثبوت مانگے ہیں، اگر انہیں تحریری شکایت اور ثبوت فراہم کردیئے جاتے ہیں تو وہ اس کو ضرور اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خالی کنٹینر لے جانے سے قانونی طور پر روکنا اور چارجز کم کرنا مشکل ہے لیکن ہم اس کا جائزہ لیں گے کہ اس کا کیا حل نکالا جاسکتا ہے، شپنگ کمپنیوں کا بھی اجلاس طلب کررہے ہیں کہ جب انہیں شپمنٹ مل رہی ہے تو وہ خالی کنٹینرز کیوں لے کر جارہے ہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے ذریعے کنٹینر سروس شروع کررہے ہیں، اس کے علاوہ شپنگ لائنز یا کنٹینرز سروسز میں مقامی نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ کرونا وباء اور لاک ڈاؤن کے باعث دنیا بھر میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد حالات معمول پر آرہے ہیں اور تجارتی سرگرمیاں شروع ہوگئیں ہیں لیکن سامان کی منتقلی کیلئے خالی کنٹینرز کی قلت ہے جس کا برآمد کنندگان کے مطابق شپنگ لائنز فائدہ اٹھارہی ہیں اور اضافی چارجز وصول کررہی ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More