ایف آئی اے کے ساتھ اب وہی ہوگا جو ایم کیو ایم نے پولیس کے ساتھ کیا: عمران خان

اردو نیوز  |  May 16, 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شرکت کی تو امریکیوں کی جنگ میں خیبر پخونخوا کے لوگوں اور پاکستانیوں نے قربانیاں دیں، لیکن کیا کسی نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

پیر کو صوابی میں جلسہ عام سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ کیا امریکہ نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔؟ امریکہ کے مقابلے میں اس جنگ میں پاکستانیوں نے زیادہ قربانیاں دیں۔

’امریکہ نے کہا کہ افغانستان میں وہ پاکستان کی وجہ سے جنگ ہارا۔ غلاموں کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ اس لیے یہ امپورٹڈ حکومت امریکی سازش کے تحت آئی۔‘

عمران خان نے کہا کہ ہم نے کسی صورت امریکہ کے غلاموں کو قبول نہیں کرنا۔ ’ہم نے اس امپورٹڈ حکومت اور اس کو مسلط کرنے والوں کو پیغام دینا ہے کہ ہم آزاد قوم ہیں۔‘

عمران خان نے کہا کہ ان تھری سٹوجز نے مل کر دس سال تک حکومت کی۔

’پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چار سو ڈرون حملے ہوئے۔ نہ زراداری کے منہ سے کوئی بات نکلی نہ نواز شریف نے کچھ کہا۔ ان کو چاہیے تھا کہ امریکہ کو بتاتے یہ غیر قانونی ہے جس کی دنیا کا کوئی قانون اجازت نہیں دیتا۔‘

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ان کو اسی لیے منتخب کیا گیا کہ پیسے کی پوجا کرنے والے ہیں۔ ’ان کے لندن میں امریکہ میں پیسے پڑے ہیں۔ یہ کبھی اپنے لوگوں کے حقوق کےلیے اپنی زبان نہیں کھولیں گے۔ اسی لیے ان کو پاکستان پر مسلط کیا گیا۔‘

’ان کو پتا تھا کہ عمران خان اپنے ملک کے لیے فیصلے کرے گا۔ اس لیے یہ سازش کی گئی۔‘

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ  یہ دو خاندان 30 سال سے اس ملک پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ ’ان کی وجہ سے آج شہباز شریف کہتا ہے کہ ہم تو بھکاری ہیں۔ ایک وزیر کہتا ہے ہم وینٹی لیٹر پر ہیں۔یہ لوگ دو بتوں  کی پوجا کرتے ہیں۔ ایک بت خوف کا اور دوسرا ہے پیسے کا۔‘

عمران خان کے مطابق ایف آئی اے نے دونوں کے اوپر اربوں روپے کی کیسز بنائے۔ ’ایک افسر ہارٹ اٹیک سے مر چکا ہے۔ دوسرا افسر اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ایف آئی اے تباہ ہو گئی۔ اس کے اوپر رانا ثنااللہ بٹھا دیا۔ اب ایف آئی اے کے ساتھ وہی ہوگا جو ایم کیو ایم نے پولیس کے ساتھ کیا تھا۔‘

عمران خان نے کہا کہ ہم صرف ایک چیز چاہتے ہیں کہ الیکشن کی تاریخ دو، الیکشن کراؤ۔ ہم کسی امپورٹڈ حکومت کو نہیں مانتے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More