نئی رینکنگ، بابر اعظم ون ڈے اور ٹی 20 میں بدستور نمبر ون

اردو نیوز  |  Aug 12, 2022

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بدھ کے روز اپنی تازہ رینکنگ جاری کی ہے۔آئی سی سی کی رینکنگ کے مطابق پاکستانی ٹیم کے کپتان بابر اعظم ون ڈے اور ٹی20 کرکٹ میں پہلے نمبر پر ہیں جبکہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی رینکنگ تیسری ہے۔ٹی20 کی رینکنگ میں انڈین بیٹر سوریا کمار جادھو بابر اعظم سے چند پوائنٹس کے فرق سے دوسرے نمبر پر ہیں۔

آئی سی سی کی رینکنگ کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ میں بیٹرز کی رینکنگ میں انگلینڈ کے بیٹر جو روٹ پہلے نمبر پر موجود ہیں۔ آسٹریلیا کے مارنس لبھوشین دوسرے، بابر اعظم تیسرے اور سٹیو سمتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔اسی طرح ٹیسٹ کرکٹ کی بولرز کی رینکنگ میں آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز پہلے، روی ایشون دوسرے، شاہین شاہ آفریدی تیسرے اور جسپریت بمراہ چوتھے نمبر پر ہیں۔ٹیسٹ کرکٹ میں آل راؤنڈرز کی رینکنگ میں انڈین کھلاڑی رویندرا جڈیجا پہلے، روی ایشون دوسرے، شکیب الحسن تیسرے اور جیسن ہولڈر چوتھے نمبر پر ہیں۔ون ڈے کرکٹ کی رینکنگ میں بیٹرز کی فہرست میں بابر اعظم پہلے نمبر پر موجود ہیں جبکہ پاکستان ہی کے امام الحق دوسرے، جنوبی افریقہ کے رسی وینڈر ڈسن تیسرے اور جنوبی افریقہ ہی کے کوئنٹن ڈی کوک چوتھے نمبر پر ہیں۔ون ڈے کرکٹ میں بولرز کی رینکنگ میں کیوی بولر ٹرینٹ بولٹ پہلے نمبر پر ہیں، انڈیا کے جسپریت بمراہ دوسرے، پاکستان کے شاہین شاہ آفریدی تیسرے اور آسٹریلیا کے جوش ہیزل وُڈ چوتھے نمبر پر ہیں۔ون ڈے کرکٹ میں آل راؤنڈرز کی فہرست میں بنگلہ دیش کے خلاف شاندار کارکردگی دکھانے والے زمبابوے کے آل راؤنڈر سکندر رضا نے ٹاپ 5 میں جگہ بنا لی ہے۔

آئی سی سی کی ٹیسٹ رینکنگ میں بابر اعظم تیسرے نمبر پر ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)ون ڈے کرکٹ میں آل راؤنڈرز کی رینکنگ میں بنگلہ دیش کے شکیب الحسن پہلے، افغانستان کے محمد نبی دوسرے، راشد خان تیسرے جبکہ سکندر رضا چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔آئی سی سی کی ٹی20 رینکنگ میں بیٹرز کی فہرست میں بابر اعظم پہلے، سوریا کمار جادھو دوسرے، محمد رضوان تیسرے اور ایڈن مارکرم چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔ٹی20 کی بولرز کی فہرست میں جوش ہیزل وُڈ کا پہلا، تبریز شمسی کا دوسرا، راشد خان کا تیسرا جبکہ عادل رشید کا چوتھا نمبر ہے۔ٹی 20 کرکٹ کے آل راؤنڈرز کی رینکنگ میں افغانستان کے محمد نبی پہلے، شکیب الحسن دوسرے، معین علی تیسرے اور گلین میکسویل چوتھے نمبر پر ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More