’سیکسومنیا‘: ’وہ دعویٰ جس نے میرا ریپ کیس خراب کر دیا‘

بی بی سی اردو  |  Oct 05, 2022

BBCجیڈ میکروسن

کراؤن پراسکیوشن سروس ( سی پی ایس) نے جیڈ میکروسن کے ریپ کے مقدمے کو اس دعوے کی وجہ سے خارج کر دیا تھا کہ وہ ایک خاص بیماری ’سیکسومنیا‘ (نیند میں جنسی عمل کرنا) کا شکار ہیں۔ اس کے نتیجے میں کراؤن پراسکیوشن سروس کو نہیں لگتا کہ وہ مجرم کو سزا دلوا پائیں گے۔ لیکن جیڈ نے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے اور اپنے مقدمے کی دوبارہ تفتیش کا آغاز کروانے میں مہینوں لگائے ہیں۔

کراؤن پراسکیوشن سروس نے تسلیم کیا کہ انھوں نے اس مقدمے کی سماعت نہ کر کے غلط کیا اور انھوں نے جیڈ سے غیر مشروط معافی مانگی ہے۔ لیکن اس سب میں غلطی کہا ہوئی تھی؟ بی بی سی نے جیڈ کے مقدمے کے واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔

BBC

یہ سنہ 2017 کے موسم بہار کی ایک رات تھی جب جیڈ نیند سے بیدار ہوئیں تو انھوں نے اپنے آپ کو نیم برہنہ حالت میں صوفے پر پڑا پایا۔ اُن کا گلے کا ہار ٹوٹ کر فرش پر بکھرا ہوا تھا۔

24 سالہ جیڈ کو شدت سے یہ احساس ہوا کہ نیند کی حالت میں اُن کے ساتھ ریپ کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے تین سال بعد، اور جس شخص پر انھوں نے ریپ کرنے کا الزام لگایا تھا اس کے خلاف ہونے والے مقدمے کی سماعت سے کچھ دن پہلے کراؤن پراسیکیوشن کے وکلا نے انھیں جنوبی لندن کے ایک پولیس سٹیشن میں ایک ہنگامی ملاقات کے لیے بلایا۔

اُن کے مبینہ ریپ کا مقدمہ خارج کیا جا رہا تھا۔ پراسیکیوشن کے وکیل نے انھیں وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ دو ماہرین نے ان کے مقدمے میں اپنے رائے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ جیڈ کو ’سیکسومنیا‘ کی بیماری لاحق ہو کیونکہ مقدمے کی تفصیلات سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریپ کے وقت جیڈ جاگ رہی تھیں اور اس میں ان کی رضامندی شامل تھی۔

سیکسومنیا نیند کی حالت کی ایک بیماری ہے۔ اس بیماری کا شکار افراد نیند میں جنسی عمل کرتے ہیں۔

انگلینڈ اور ویلز کے قانون کے مطابق اگر نیند کی حالت میں یا سوتے ہوئے کسی شخص کے ساتھ جنسی عمل یا تعلق قائم کیا جائے تو اس میں اس کی رضامندی کو شامل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم، اس قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر دو افراد کے درمیان جنسی تعلق کے لیے رضامندی کے ’معقول شواہد‘ ہوں تو یہ ریپ کے زمرے میں نہیں آتا۔

جیڈ نے اس سے قبل سیکسومنیا جیسی اصطلاح کے بارے میں کبھی کچھ نہیں سُنا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ پتہ نہیں کہاں سے اچانک سامنے آئی۔۔۔ یہ بہت عجیب تھا۔‘

’گذشتہ 13 برسوں کے دوران میرے دو طویل مدتی تعلقات رہے اور میں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔‘

کراؤن پراسیکیوشن کی جانب سے جیڈ کا مقدمہ خارج کرنے کا مطلب یہ تھا کہ اب ان کا کیس بند ہو جائے گا اور ملزم باضابطہ طور پر چھوٹ جائے گا۔

پہلی بار جب جیڈ سے ان کی نیند کے بارے میں پوچھا گیا تھا، اس وقت وہ تھانے میں باضابطہ بیان دینے گئی تھیں۔

ایک پولیس افسر کے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ ہمیشہ گہری نیند لیتی ہیں اور نوعمری میں کئی بار نیند میں چل چکی تھیں۔ ان کی طرف سے بولا جانے والا یہ ایک غیر ضروری فقرہ تھا اور وہ اسے اپنا مقدمہ خارج کیے جانے سے قبل بھول چکی تھیں۔

یہ جیڈ کی بہترین دوست بیل تھیں جنھوں نے پولیس کو ابتدائی اطلاع دے کر سارے عمل کا آغاز کیا تھا۔

ان کی دوست بیل کو اس دن ٹیلیفون لائن پر جیڈ کی آواز یاد ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ کچھ بھی ایسا نہیں تھا جو میں نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ وہ حواس باختہ تھی اور رو رہی تھی، اس نے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ میرا ریپ ہوا ہے۔‘ جب آپ کا بہترین دوست آپ سے یہ کہتا ہے، تو زمین ہل جاتی ہے۔‘

اس شام دونوں سہیلیاں جنوبی لندن کے ایک بار میں گئیں تھیں، انھوں نے وہاں وائن (شراب) پی اور ایک ساتھ میک اپ کیا اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے وہاں سے چل دی تھیں۔

یہ ان کے لیے ایک اچھی شام تھی، جس میں کھانا پینا اور ڈھیر ساری باتیں کرنا شامل تھا، لیکن جب جانے کا وقت قریب آیا تو بیل نے ٹیکسی بلائی جبکہ جیڈ نے آخری ڈرنک کے لیے کچھ لوگوں کے ساتھ ایک دوست کے فلیٹ پر جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

تقریباً دو بجے کے قریب جب ان کے گرد لوگ ابھی باتیں کر رہے تھے انھوں نے لونگ روم کے ایک صوفے پر لیٹتے ہوئے ایک کمبل اوڑھا اور سو گئیں، اس وقت انھوں نے پورا لباس پہن رکھا تھا۔

رات پانچ بجے جب اُن کی آنکھ کُھلی تو اُن کی پتلون اور زیر جامہ اُترے ہوئے تھے، اور انھوں نے اُس صوفے پر، جہاں وہ لیٹی ہوئی تھیں، ایک مرد کو بھی لیٹے ہوئے پایا۔

’میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ تم نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟ اور اس نے کچھ عجیب سے جواب دیا لیکن اس نے یہ کہا تھا کہ ’میں سمجھا تم جاگ رہی ہو۔‘

’اور وہ فوراً وہاں سے چلا گیا اور دروازہ کُھلا چھوڑ گیا، میں نے اپنا فون اٹھایا اور فوراً بیل کو کال کرنا شروع کر دی۔‘

بیل کے پولیس کے اطلاع دینے کے بعد دو مرد پولیس افسران وہاں پہنچے تھے اور جیڈ کو سیدھا فرانزک ٹیسٹ کے لیے لے گئے تھے۔ اندام نہانی کے طبی معائنے سے یہ ثابت ہو گیا تھا کہ ان کے ساتھ جنسی عمل ہوا تھا اورصوفے سے ملنے والے مادہ منویہ کے نمونے بھی اس شخص کے تھے۔

پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر پوچھ گچھ پر مشتبہ شخص نے کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔ کراؤن پراسیکیوشن نے اس پر ریپ کا باقاعدہ الزام ثابت کرنے کا فیصلہ کیا تاہم مشتبہ شخص نے صحت جرم سے انکار کیا اور اس طرح مقدمے کی تاریخ مقرر کی گئی۔

لیکن معاملہ کبھی اس سے آگے نہیں بڑھا۔

یہ بھی پڑھیے

مساج کے بہانے ریپ: ’جس شخص کو گھر میں آنے کی اجازت دی، اسی نے میرے ساتھ برا کیا‘

مقدمہ خارج: ’پولیس نے کہا وہ ریپ تو نہیں، بس پرتشدد سیکس تھا‘

’پورے فلیٹ کا ریپ کر دو، انھیں سبق سکھاؤ‘

’شیطان صفت جنسی شکاری جسے رہا کرنا خطرناک ہوگا‘

جیڈ یہ ثابت کرنے کے لیے پُرعزم تھیں کہ کراؤن پراسیکیوشن نے اُن کا کیس خارج کر کے غلط کیا تھا۔ لیکن ان کے پاس اپیل کرنے کے لیے محدود وقت تھا۔

انھوں نے تمام شواہد بشمول پولیس انٹرویوز، طبی معائنے کی رپورٹس، گواہوں کے بیانات اور ماہرین کی رپورٹس فراہم کرنے کی درخواست کی اور اسے غور سے پرکھنا شروع کر دیا۔

Reuters

انھوں نے جو پڑھا اسے جان کر انھیں صدمہ ہوا کہ اس مخصوص مقدمے میں حالتِ نیند کے ماہرین کے نظریوں کو بہت اہمیت دی گئی تھی۔

نہ تو کسی ماہر نے ذاتی طور پر اُن سے ملاقات کی تھی مگر ان کی رائے کو اتنی اہمیت دی گئی تھی کہ ان کا مقدمہ خارج کیا جا سکے۔

نیند کے پہلے ماہر نے، جسے وکیل دفاع کی طرف سے ہدایت دی گئی تھی، نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اس بات کا 'قوی امکان' ہے کہ جیڈ پر سیکسومنیا کا حملہ ہوا، اور کہا کہ ’اس کا رویہ کسی ایسے شخص کا ہو سکتا ہے جو کھلی آنکھوں کے ساتھ جنسی عمل میں مصروف ہو اور لطف کا اظہار کرتا ہو۔‘

اس کے جواب میں کراؤن پراسیکیوشننے خود بھی نیند کے ماہر کی خدمات حاصل کیں۔ اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’نیند میں چلنے کی پرانی عادت، نیند میں مسلسل باتیں کرنا یا خاندان کے کسی فرد میں ایسی کوئی علامات، کسی کے لیے بھی سیکس سومنیا کا شکار ہونے کے لیے کافی ہیں۔‘

جیڈ کے پاس الفاظ نہیں تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ [سیکسومنیا کا] ایک واقعہ کیسے ہو سکتا ہے، ایسا اس وقت ہی کیوں ہوا جب میں نے کسی ایسے شخص کو جنسی تعلق قائم کرنے کی رضامندی ظاہر نہیں کی جو میرے ساتھ جنسی عمل چاہتا تھا۔‘

جیڈ نے ذاتی حیثیت میں نیند کی حالت کے ماہر سے رائے لینے کا فیصلہ کیا۔ اور اس سلسلے میں لندن سلیپ سینٹر میں ڈاکٹر ارشاد ابراہیم سے رابطہ کیا۔ ڈاکٹر ارشاد ابراہیم ریپ کے معاملات میں ماہرانہ رائے دینے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔

جیڈ کا وہ پہلا مقدمہ تھا جو ان کے سامنے آیا تھا اور جس میں شکایت کنندہ کو ہی سیکسومنیا کا شکار قرار دیا گیا تھا۔ ریپ کے دیگر ایسے تمام مقدمات میں جو ان کے سامنے آئے تھے اس میں مدعا علیہ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ سیکسومنیا کے حملے کا شکار ہوا تھا۔

بی بی سی نے اس حوالے سے وسیع تحقیق کی اور اسے برطانیہ میں ریپ کا ایسا کوئی دوسرا کیس نہیں ملا جہاں وکیل دفاع نے استدلال کیا ہو کہ شکایت کنندہ کو سیکسومنیا کی بیماری ہے۔

ڈاکٹر ابراہیم نے وضاحت کی کہ سائنسی تحقیق محدود ہے اور سیکس سومنیا کی تشخیص کا کوئی درست طریقہ نہیں ہے۔ لیکن انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کو یہ مرض ہے وہ عام طور پر مرد ہوتے ہیں اور ان کی نیند میں جنسی رویے کی ایک تاریخ ہوتی ہے۔

اس کے بعد جیڈ نے نیند کی حالت میں ایک ٹیسٹ کروایا جسے پولوسومنوگرافی کہا جاتا ہے جس میں دماغ کو پیغام پہنچانے والی لہروں، سانس اور نیند کی حالت میں جسم کی حرکت کی نگرانی اور معائنہ کیا جاتا ہے۔

اس ٹیسٹ نے یہ ظاہر کیا کہ وہ نیند کے دوران خراٹے لیتی ہیں اور انھیں سلیپ اپنیا کی معمولی بیماری ہے، یہ گہری نیند میں ایک عام حالت ہے جس میں نیند کے دوران سانس کا رکنا اور چلنا شامل ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم کے مطابق یہ دونوں عوامل سیکسومنیا کے ممکنہ محرک ہو سکتے تھے، اس لیے وہ اس بات کو مسترد نہیں کر سکتے تھے کہ شاید اسے سیکسومنیا کا اچانک دورہ پڑا ہو۔

جیڈ جاننا چاہتی تھیں کہ کیا جو کچھ ان کے ساتھ ہوا اس کا ذمہ دار سیکسومنیا تھا۔

ڈاکٹر ابراہیم کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت ہی اہم سوال تھا اس پر واضح الفاظ میں جواب چاہنا کہ یہ ذمہ دار تھا کہ نہیں، یہ کہنا ممکن نہیں ہے۔‘

جیڈ کا اب بھی ماننا ہے کہ انھیں سیکسومنیا کا مرض نہیں ہے لیکن انھیں اس بات سے چڑ ہو گئی تھی کہ نیند کے ماہر اس بات کو خارج از امکان کیوں قرار نہیں دیتے۔

انھوں نے اس متعلق مزید جاننے کے لیے ایک وکیل سے رجوع کیا کہ عدالتیں اس مرض کو وکیل دفاع کے حق میں کیسے دیکھتی ہیں۔

بیریسٹر آلیسن سمرز نے ایسے ریپ مقدمات کا دفاع کیا تھا جہاں ملزم مردوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انھیں سیکسومنیا کا مرض لاحق ہے۔

انھوں نے جیڈ کو بتایا کہ نیند کے ماہرین کبھی بھی واضح طور پر کسی کی اس حالت کی تشخیص نہیں کر سکتے، لیکن ’یہ ممکن ہے‘ کہنا جیوری کے لیے مجرم کو سزا نہ دینے کے فیصلے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کیا مجھے لگتا ہے کہ اس کے نتیجے میں، کچھ قصوروار لوگ چھوٹ جاتے ہیں یا بری ہو جاتے ہیں؟ ہاں، مجھے لگتا ہے لیکن میں پھر وہ ہی بات کہنا چاہتی ہوں کہ میں ایسا ہی کرنا چاہوں گی کیونکہبجائے اس کے کہ ہم ان لوگوں کو سنگین جرائم کے مجرم قرار دے رہے ہوں، جو حقیقی طور پر مجرم نہیں ہیں۔'

'میں صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ آپ کو امید ہے کہ مجرمانہ مقدمے کی سماعت کا عمل ان حقیقی مقدمات کو ان کم حقیقی مقدمات سے نکالنے کے قابل بنائے گا۔'

سی پی ایس کےاصولوں کے مطابق، سیکسومنیا اور نیند میں چلنے کے دیگر دفاع کو ہمیشہ عدالت میں مضبوطی سے چیلنج کیا جانا چاہیے۔

لیکن جیڈ کا مقدمہ تو کبھی عدالت میں چلا ہی نہیں۔ اپنے تحقیق کے ساتھ انھوں نے عدالت میں اپنے مقدمے کے لیے اپیل دائر کر دی۔۔

چیف کراؤن پراسکیوٹر نے جو کہ مقدمہ خارج کرنے والے ادارے سی پی ایس سے آزاد ہیں نے دوبارہ تمام شواہد کا جائزہ لیا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اس مقدمے کی عدالت میں سماعت ہونی چاہیے تھی اور یہ کہ نیند کے ماہرین کی رائے، اور مدعا علیہ کے بیان کو عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا کہ جیوری کی جانب سے مدعا علیہ کو مجرم قرار دیے جانے کا زیادہ امکان تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ سی پی ایس اس مقدمے کو عدالت میں سماعت کے لیے داخل کرے۔

انھوں نے جیڈ کو لکھا کہ 'میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ آپ کس کرب سے گزری ہیں اور آپ نے کیا محسوس کیا ہے۔ میں نے اس کیس کی نظرثانی کے دوران آپ پر ہونے والے تباہ کن اثرات کو دیکھا ہے۔‘

’میں کراؤن پراسکیوشن سروس (سی پی ایس) کی طرف سے آپ سے معافی مانگتا ہو حالانکہ میں جانتا ہوں کہ یہ آپ کے لیے ناکافی ہو گا۔‘

جیڈ کے لیے اعتراف یہ تھا کہ یہ کیس جیوری کے سامنے لایا جانا چاہیے اور سی پی ایس اس کیس کو دوبارہ پیش نہیں کر سکتا۔

اس کیس میں ملزم کو سرکاری طور پر قصوروار نہیں پایا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ نئے ثبوت کے بغیر اس پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

جیڈ کہتی ہیں کہ ’میرے ساتھ جو ہوا اس میں انصاف کی کوئی امید نہیں ہے۔‘ لیکن وہ امید کرتی ہیں کہ سی پی ایس دوسروں کو اسی طرح کی آزمائشوں سے نہیں گزارے گی ۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ان کی حفاظت کے لیے بنائے گئے نظام نے ہی انھیں رسوا کیا اور انھوں (سی پی ایس) نے واضح طور پر اعتراف کیا کہ انھوں نے غلطی کی ہے۔‘

برطانیہ کے محکمہ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابقسال 2021 سے ستمبر تک، انگلینڈ اور ویلز میں ریپ کے مقدمات میں پولیس نے صرف 1.3 فیصد کیسز میں مشتبہ شخص کے خلاف مقدمہ چلایا۔

سی پی ایس کا کہنا ہے کہ ’وہ ریپ جیسے سنگین اور زندگی بدلنے دینے والے جرائم میں ہر پہلو سے اپنی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہیں اور پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ان سے نمٹنے کے طریقے کو بہتر بنایا جا سکے۔'

جیڈ اب سی پی ایس کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کر رہی ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More