میرا قد اتنا لمبا ہے کہ میں گاڑی میں بیٹھ بھی نہیں سکتا ۔۔ بڑے قد والے آدمی نے اپنی زندگی کی حیرت انگیز کہانی سنا دی

ہماری ویب  |  Oct 06, 2022

دنیا میں ہر طرح کے انسان ہوتے ہیں اور ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبی یا خامی ہوتی ہے، لیکن ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن میں پیدائشی طور پر کچھ خاص صلاحیتں یا منفرد اور انوکھی بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ آج ہم آپکو ایسے ہی ایک شخص کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جو اس وقت دنیا کا بلند قامت آدمی ہے، اسکا قد اتنا کیسے بڑھا اور اسکے ساتھ کیا ہوا یہ آپ آگے پڑھیں گے۔

ترکی کا ایک چھوٹا سا شہر ماردِن جو کہ شام اور ترکی کی سرحد پر واقع ہے وہاں سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان سلطان دنیا کا بلند قامت انسان ہے۔ وہ اتنا لمبا ہے کہ ایک عام دروازہ اسکے لیئے بہت چھوٹا ہے، ایک عام گاڑی بہت چھوٹی ہے، ایک عام بستر کافی نہیں اسکے سونے کیلیئے یہاں تک کہ ایک عام آدمی بھی اس کے سامنے بہت ہی چھوٹا ہے۔

سلطان کا قد 2 میٹر اور 51 سینٹی میٹر ہے اور اس کے ہاتھ کا پنجا اور پاؤں کے تلّے دنیا میں سب سے بڑے ہیں۔ یہ بات اتنی سادہ نہیں جتنی لگ رہی ہے کیونکہ سلطان جب 10 سال کا تھا تو ڈاکٹرز کو پتہ چلا کہ وہ ایک نایاب بیماری میں مبتلہ ہے۔ اسکے دماغ میں ٹیومر تھا جو اسے ضرورت سے زیادہ لمبا کر رہا تھا۔

سلطان نے بتایا کہ " معاشرے کے قبول کرنے سے پہلے میں نے کافی مشکلات کا سامنا کیا تھا"۔ سلطان ایک نارمل زندگی نہیں گزار سکا کیونکہ وہ نہ تو اسکول جا سکتا تھا نہ ہی گاڑی چلا سکتا تھا اور نہ ہی آدھے گھنٹے سے زیادہ کھڑا رہ سکتا تھا اسی لیئے وہ اسٹیک کے سہارے چلتا ہے۔

سلطان بتاتے ہیں "ایک دفعہ وہ پھسل گئے تھے اور ان کا پاؤں فریکچر ہوگیا تھا لیکن 10 دنوں تک کسی ہسپتال والوں نے انکا علاج نہیں کیا"۔ سلطان اس بیماری کو برا نہیں مانتے ان کے لیئے یہ ایک تحفہ ہے جو انھیں ملا ہے۔

سلطان کا نام جب گینیس بُک آف ورلڈ ریکارڈز میں درج ہوا تو اسکے بعد وہ کافی مشہور ہوگئے اور اب تک وہ 128 ممالک گھوم چکے ہیں سلطان کی مکمل اسٹوری جاننے کیلیئے آپ نیچے دی گئی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں۔

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More