اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین کی غیر جانبداری یقینی بنانے کے لیے آزادانہ جائزے کی سفارشات قبول کر لیں

اے پی پی  |  Apr 23, 2024

اقوام متحدہ۔23اپریل (اے پی پی):اقوام متحدہ نے عالمی ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین ( انروا)کی غیر جانبداری کو یقینی بنانے اور خلاف ورزیوں کے الزامات کا جواب دینے کی صلاحیت کے آزادانہ جائزے کی سفارشات کو قبول کر لیا ہے۔ یواین سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے گزشتہ روز جاری بیان میں کہا کہ سیکرٹری جنرل نے انروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ سیکرٹری جنرل کی معاونت سے سفارشات پر عملدرآمد کے لیے ایک ایکشن پلان تشکیل دیا جائے گا جو اس ادارے کی غیر جانبداری اور خلاف ورزیوں کا جائزہ لے گا۔

ترجمان نے کہا کہ سیکرٹری جنرل تمام سٹیک ہولڈرز سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ انروا کی فعال انداز میں معاونت کریں کیونکہ یہ فلسطینی پناہ گزینوں کی زندگی کےلیے ضروری ہے۔فرانس کی سابق وزیر خارجہ کیتھرین کولونا کی سربراہی میں یہ جائزہ گزشتہ روز جاری کیا گیا۔آزاد جائزہ گروپ نے چار ہفتے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو عبوری رپورٹ کے نتائج اور سفارشات پیش کی تھیں۔ ان میں یہ شواہد شامل تھے کہ انروا کے پاس غیرجانبداری کے انسانی اصول کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے کافی تعداد میں میکانزم اور طریقہ کار موجود ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے ابھی تک اپنے اس دعوے کے تائیدی ثبوت فراہم نہیں کیے کہ انروا کے ملازمین دہشت گرد تنظیموں کے رکن ہیں۔کولونا رپورٹ( جسے اقوام متحدہ نے اسرائیلی الزامات کے تناظر میں بنایا تھا) سے معلوم ہوا ہے کہ یو این آر ڈبلیو اے باقاعدگی سے اسرائیل کو جانچ کے لیے اپنے ملازمین کی فہرستیں فراہم کرتا ہے اور یہ کہ اسرائیلی حکومت نے ادارے کو کسی بھی اہلکار سے متعلق خدشات سے آگاہ نہیں کیا ہے۔

اسرائیلی الزامات کی وجہ سے جنوری میں بڑے عطیہ دہندگان نے انروا کے لیے اپنی فنڈنگ میں کمی کی جو کہ نہ صرف غزہ میں فلسطینیوں بلکہ پورے خطے میں فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کا مرکزی ذریعہ ہے۔غزہ کے 2.3 ملین افراد کی شدید ضروریات کے باوجود فنڈز میں کٹوتی کی گئی جن میں سے زیادہ تر 7 اکتوبر سے اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے اور پانی، خوراک، پناہ گاہ یا طبی دیکھ بھال کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔زیادہ تر ڈونر ممالک نے حالیہ ہفتوں میں اپنی فنڈنگ دوبارہ شروع کر دی ہے۔ برطانیہ کے وزرا نے کہا تھا کہ وہ فنڈنگ دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے کولونا کی رپورٹ کا انتظار کریں گے۔ ان الزامات کے تناظر میں کانگریس نے انروا کی امریکی مالی مدد کو کم از کم ایک سال کے لیے روک دیا ہے۔ہیومن رائٹس واچ کے اقوام متحدہ کے ڈائریکٹر لوئس چاربونیو نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ کولونا رپورٹ میں پائے جانے والے نتائج خاص طور پر حیران کن ہیں۔

مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More