ماہ رنگ، دیگر خواتین کی رہائی کے لیے بی این پی کا دھرنا، ’کوئٹہ کی طرف مارچ کریں گے‘

اردو نیوز  |  Apr 03, 2025

بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر گرفتار خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے مستونگ میں احتجاجی دھرنا ایک ہفتے سے جاری ہے۔

بی این پی کی جانب سے گرفتار افراد کی رہائی کے لیے حکومت کودی گئی دو دن کی مہلت آج ختم ہو رہی ہے۔ سردار اخترمینگل نے مہلت ختم ہونے کی صورت میں دوبارہ کوئٹہ کی طرف مارچ شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اس اعلان کے پیش نظر حکومت نے کوئٹہ کے داخلی راستے پر لکپاس کے قریب رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں ۔ لکپاس ٹنل کو کنٹینر کھڑی کرکے بند کیا گیا ہے جبکہ اس سے ملحقہ پہاڑی راستے پر مشنری کے ذریعے بڑی خندقیں کھود دی ہیں۔

اسی طرح مستونگ، کوئٹہ اور اطراف کے علاقوں میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس بھی تین دنوں سے معطل ہے۔

کوئٹہ پولیس کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ پولیس کی بھاری نفری لکپاس پر موجود ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی نے 28 مارچ کو خضدار کے علاقے وڈھ سے کوئٹہ کے لیے لانگ مارچ شروع کر رکھا تھا۔ سردار اخترمینگل کی سربراہی میں لانگ مارچ کے شرکا کو ضلع مستونگ کی حدود میں لکپاس کے مقام پر کوئٹہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا جس پر انہوں نے وہی دھرنا دے دیا۔

گذشتہ روز مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے مستونگ پہنچ کر سرداراختر مینگل اور دھرنے کے شرکا سے یکجہتی کا اظہار کیا۔  بدھ کو لاپتہ افراد کے لواحقین کی بڑی تعداد نے بھی دھرنے میں شرکت کی۔

حکومت کی جانب سے دو بار صوبائی وزرا اور سرکاری افسران پر مشتمل وفود مذاکرات کے لیے بھیجے گئے تاہم مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے۔

سردار اختر مینگل کا اصرار ہے کہ بلوچ خواتین سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار رہنما اور کارکنوں کو رہا کیا جائے ۔انہوں نے یہ مطالبہ تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

سرداراخترمینگل نے گذشتہ روز حکومت کو گرفتار افراد کی رہائی کے لیے دو دن کی مہلت دی تھی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کوئٹہ کے صدر غلام نبی مری نے اردونیوز کو بتایا کہ یہ مہلت آج جمعرات کو ختم ہورہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم دوبارہ کوئٹہ کی طرف لانگ مارچ کریں گے تاہم اس سلسلے میں باقاعدہ لائحہ عمل کا اعلان سردار اختر مینگل جمعرات کی شام کو کریں گے۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More