AFPریلیف پیکج کے تحت گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7.41 روپے فی یونٹ جبکہ صنعتی صارفین کے لیے 7.69 روپے فی یونٹ کی کمی کی گئی ہے
پاکستان میں چھوٹی عید سے قبل ہی حکومت کی جانب سے ایک ’بڑے تحفے‘ کی چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں تھیں۔ اور آج وزیر اعظم پاکستان نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے فی یونٹ قیمت میں سات روپے سے زیادہ کی کمی کا اعلان کیا ہے۔یہ وہ ریلیف ہے جس کے لیے پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف کو قائل کیا ہے۔
چونکہ پاکستان میں آئی ایم ایف کا سات ارب ڈالر کا قرض پروگرام جاری ہے جس کے تحت کسی قسم کی مراعات دینے کی ممانعت ہوتی ہے، اس لیے وزیر اعظم شہباز شریف کے بقول آئی ایم ایف کو رضامند کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔
اس کے باوجود ملک میں گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں سات روپے سے زیادہ کی کمی کی گئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اس کے بغیر ملک میں ترقی ممکن نہیں۔
اس حکومت اعلانپر سوشل میڈیا صارفین ملا جلا ردعمل ظاہر کرتے نظر آئے۔ جہاں ایک طرف حکومتی عہدیداران نے اس کا جشن منایا تو دوسری طرف ناقدین نے اس طرف توجہ دلائی کہ گذشتہ برسوں کے دوران بجلی کی قیمتوں میں کئی گناہ اضافہ ہوا تھا جس کے بعد یہ کمی ناکافی ہے۔
ادھر کاروباری طبقے نے اس حکومتی اعلان پر مثبت ردعمل دیا ہے جبکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر ایک ہزار سے زیادہ پوائنٹس کا اضافہ بھی ہوا ہے۔
سولر نیٹ میٹرنگ کی نئی پالیسی: پاکستانی صارفین کیسے متاثر ہوں گے؟بجلی کی اوور بلنگ: صارفین کے بِلوں میں اضافی یونٹس کیسے شامل کیے گئے اور اس سے کیسے بچا جائےہائبرڈ نظام کی معاشی شکل اور فوج کا کردار: زراعت اور سیاحت سے متعلق ’ایس آئی ایف سی‘ کے منصوبوں پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟چھتوں پر سفید پینٹ گرمی کی شدت سے کس حد تک محفوظ رکھ سکتا ہے؟پاکستان نے آئی ایم ایف کو کیسے قائل کیا؟
اسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے تسلیم کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں ریلیف کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کرنا کافی مشکل تھا۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں مہنگی بجلی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور جب تک بجلی کی قیمت میں کمی نہیں آئے گی تب تک تجارت، ایکسپورٹ، زراعت یا دیگر شعبوں میں پیداوار میں اضافہ ممکن نہیں ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ جب عید سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی آئی تو پاکستان میں سستی بجلی کے لیے اس پیکج کا منصوبہ بنایا گیا۔
انھوں نے کہا کہ تیل کی قیمت میں کمی پاس آن نہیں کی گئی بلکہ اسے بجلی کو سستا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ’آئی ایم ایف نے انکار کر دیا کہ یہ نہیں ہو سکتا اور یہ بالکل ممکن نہیں۔ (لیکن) ہم نے ہمت نہیں ہاری، پورا زور لگایا۔‘
Getty Imagesشہباز شریف کے بقول اس ریلیف کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کیا گیا جس نے ابتدائی طور پر ’صاف انکار کر دیا تھا‘
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پوری ٹیم نے محنت کی اور ’میں نے یہاں تک کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو میں خود آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے بات کروں گا کہ ہم کوئی سبسڈی نہیں دے رہے، ہم صرف تیل کی قیمتوں میں کمی کو ایک اچھے کام کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔۔۔ خدا خدا کر کے کفر ٹوٹا اور آئی ایم ایف قائل ہوا۔ یہ سمجھ لیں کہ انھوں نے ہم پر احسان کیا۔‘
دریں اثنا شہباز شریف نے ملک میں توانائی کے شعبے کو درپیش کئی چیلنجز کا ادراک کیا، جیسے گردشی قرضے۔ انھوں نے کہا کہ اس میں بتدریج کمی کے لیے پانچ سال کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
شہباز شریف نے وعدہ کیا کہ ملک میں گردشی قرضوں میں کمی لائی جائے گی، اوپن مارکیٹ قائم کر کے بجلی کو مزید سستا کیا جائے گا اور ڈسکوز کی فوری نجکاری کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت میں ریلیف ’قوم کو مبارک ہو۔ آئندہ بھی اس طرح کے بے شمار ریلیف دیں گے۔‘
شہباز شریف کی ’خوشخبری‘ پر ملا جلا ردعمل
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسے بجلی کا ’تاریخی ریلیف پیکج‘ قرار دیا ہے۔ تاہم ناقدین اس سے متفق نہیں۔
جیسے حزب اختلاف کی جماعت پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے معاشی ماہر مزمل اسلم نے کہا کہ ’عمران خان کے دور میں جب تیل 124 ڈالر فی بیرل تھا اس وقت بجلی کی قیمت تمام ٹیکس کے بعد 25 روپے فی یونٹ تھی اور آج 65 روپے فی یونٹ۔ وزیر اعظم بتائیں کیا 25 روپے سے قمیت میں کمی کی یا 65 روپے سے؟‘
معاشی ماہر خرم حسین نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ پاور ٹیرف میں کمی کے لیے وفاقی کابینہ کو اجتماعی طور پر کوششیں کرنا پڑیں جو حکومتی نااہلی کو ظاہر کرتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے توانائی کے شعبے میں چیلنجز اور ان کے حل کا ذکر ضرور کیا مگر یہ نہیں بتایا کہ یہ کیسے ممکن ہوگا۔ ’امید ہے ٹیرف میں کمی کو آئی ایم ایف نے بھی منظور کیا ہے۔‘
جبکہ صحافی عمر دراز گوندل نے کہا کہ ’پی ڈی ایم حکومت نے اپنے دور میں بجلی جتنی مہنگی کی ہے بس وہ اضافہ واپس لے کر بجلی سستی کی جائے تو پھر ریلیف مانا جائے گا۔ ورنہ تو ایسے ہی ہے جیسے پٹرولیم مصنوعات 25 روپے مہنگی کرو اور پھر سات روپے سستی کر کے آسمان سر پر اٹھا لو۔‘
صارف عدنان عادل نے کہا کہ ’مجھے تین سال پہلے کے مقابلہ میں بجلی کا ایک یونٹ صرف ساڑھے 22 روپے مہنگا پڑے گا۔ موجودہ کمی کے بعد۔ کیسے؟‘
وہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مارچ، اپریل 2022 میں مجھے بجلی کا ایک یونٹ سارے ٹیکس ملا کر تقریبا 26 روپے کا پڑتا تھا۔ اب تقریبا 56 روپے تک پہنچ گیا تھا۔ یعنی 30 روپے فی یونٹ کا اضافہ۔ حکومت نے کمال مہربانی کر کے اس میں ساڑھے سات روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کر دیا ہے۔‘
ادھر صارف نجم علی کی رائے ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی اور روپے کی قدر میں استحکام ’ایکسپورٹرز کے لیے ایک موقع ہے۔‘
تجزیہ کار افتخار احمد کی رائے ہے کہ ’سیاسی مخالفین کے تمام تر دباؤ کے باوجود وزیراعظم پاکستان نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا جو فیصلہ کیا اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔‘
جبکہ حسین حقانی نے کہا کہ ’وہ دوست جو سمجھ رہے تھے کہ وہ (شہباز شریف) قومی مفاہمت یا کسی کی قید سے رہائی کے بارے میں کوئی خوشخبری سنائیں گے، پھر مایوس ہوں گے۔‘
صحافی سرل المیڈا نے طنز کیا کہ ’بجلی مہنگی ہونے کی بنیادی وجہ خود شہباز شریف ہیں۔‘
ہائبرڈ نظام کی معاشی شکل اور فوج کا کردار: زراعت اور سیاحت سے متعلق ’ایس آئی ایف سی‘ کے منصوبوں پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟بجلی کی اوور بلنگ: صارفین کے بِلوں میں اضافی یونٹس کیسے شامل کیے گئے اور اس سے کیسے بچا جائےپاکستان میں نجی بجلی گھروں کا مالک کون ہے اور کیا بِیگاس سے چلنے والے پلانٹس کو بھی کپیسٹی پیمنٹ کی جاتی ہے؟سولر نیٹ میٹرنگ کی نئی پالیسی: پاکستانی صارفین کیسے متاثر ہوں گے؟پاکستان میں بجلی کے بلوں سے تنگ افراد کے لیے سورج امید کی کرن، مگر اس پر کتنا خرچہ آتا ہے؟