BBCامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد ممالک سے امریکہ میں درآمد ہونے والی اشیا پر نئے ٹیرف (ٹیکس) کے نفاذ کا اعلان کیا ہے اور ان ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے، جس پر 29 فیصد ٹیرف عائد ہو گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد ممالک سے امریکہ میں درآمد ہونے والی اشیا پر نئے ٹیرف (ٹیکس) کے نفاذ کا اعلان کیا ہے اور ان ممالک کی فہرست میں پاکستان کو بھی شامل کرتے ہوئے اس کی امریکہ برآمد کی گئی مصنوعات پر 29 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا کہا گیا ہے۔
پاکستان کے علاوہ انڈیا اور بنگلہ دیش کی امریکہ برآمد کی جانے والی مصنوعات پر نئے ٹیرف کا اعلان کیا گیا ہے جس میں انڈیا پر 26 فیصد اور بنگلہ دیش پر 37 ٹیرف عائد ہو گا۔
یہ دونوں ممالک عالمی سطح پر دو بڑی برآمدی مارکیٹوں امریکہ اور یورپی یونین میں پاکستان کا مقابلہ کرتے ہیں۔
اسی طرح امریکی صدر کی جانب سے ویتنام اور چین پر بھی بالترتیب 46 فیصد اور 34 فیصد نیا ٹیرف نافذ ہو گا۔
امریکہ کی جانب سے پاکستان پر نئے ٹیرف کا نفاذ ایک ایسے وقت میں ہو گا جب پاکستان کی معیشت کو مختلف مسائل کا شکار ہے جس میں سے ایک درآمدات میں اضافہ بھی ہے۔ پاکستان کو زیادہ درآمدات کی وجہ سے ایک بڑے تجارتی خسارے کا سامنا ہے اور اسے کم کرنے کے لیے برآمدات میں بڑے اضافے کی ضرورت ہے۔
موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں ملک کا تجارتی خسارہ پندرہ ارب ڈالر سے زیادہ رہا جس کی وجہ ان مہینوں میں 22 ارب ڈالر کی برآمدات اور 37 ارب ڈالر کی درآمدات رہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی امریکہ ہے جہاں دنیا کے کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں پاکستان کی سب سے برآمدات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی مصنوعات پر نئے ٹیرف کے نفاذ کے بعد امریکہ میں درآمد ہونے والی پاکستانی مصنوعات کی امریکی مارکیٹ میں قیمت زیادہ ہو جائے گی تاہم صرف پاکستانی مصنوعات ہی مہنگی نہیں ہوں گی بلکہ بنگلہ دیش، انڈیا ، چین اور ویت نام کی مصنوعات بھی زیادہ قیمت پر امریکی منڈی میں مل پائیں گی۔
نئے ٹیرف ک اعلان کے بعد اس کا پاکستان سے امریکہ برآمد ہونے والی مصنوعات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں معیشت اور بیرونی تجارت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے پاکستانی مصنوعات پر منفی اثرات تو یقینی طور پر مرتب ہوں گے تاہم امریکہ کی جانب سے صرف پاکستان پر ٹیرف کا نفاذ نہیں کیا گیا ہے بلکہ دوسرے ممالک بھی اس کا شکار ہوں گے۔
تاہم پاکستان کی موجودہ کمزور معیشتکی وجہ سے ملک پر اس کا منفی اثر زیادہ محسوس ہو گا۔
واضح رہے کہ درآمدات پر ٹیرف میں کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری شامل ہوتی ہے جسے بڑھا کر کسی ملک میں باہر سے چیزیں منگوانے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔
Getty Imagesتاہم پاکستان کی امریکہ کے ساتھ تجارت کا جائزہ لیا جائے تو تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں ہے یعنی پاکستان کی امریکہ کو برآمدات زیادہ اور وہاں سے درآمدات کم ہیں۔امریکہ پاکستان کا کتنا بڑا تجارتی پارٹنر ہے؟
پاکستان کی بیرونی تجارت کا جائزہ لیا جائے تو مجموعی طور پر پاکستان تجارتی خسارے کا شکار ہے۔
بیرونی تجارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں تجارتی خسارہ پندرہ ارب ڈالر رہا جس کی وجہ برآمدات کا کم اور درآمدات کا زیادہ حجم تھا۔
تاہم پاکستان کی امریکہ کے ساتھ تجارت کا جائزہ لیا جائے تو تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں ہے یعنی پاکستان کی امریکہ کو برآمدات زیادہ اور وہاں سے درآمدات کم ہیں۔
فروری کے مہینے میں پاکستان نے امریکہ کو 40 کروڑڈالر سے زائد کی مصنوعات برآمد کیں اور 13 کروڑ ڈالر کی اشیا درآمد کیں۔ دوسری جانب چین سے پاکستان نے اس مہینے میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی چیزیں منگوائیں اور پاکستان سے چین جانے والی اشیا کا حجم صرف 16 کروڑ ڈالر رہا۔
موجودہ مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں پاکستان نے امریکہ کو تقریباً تین ارب ڈالر کی اشیا برآمد کیں۔ گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی امریکہ بھیجی جانے والی اشیا کی مالیت پانچ ارب ڈالر سے زائد تھی۔
ٹرمپ کی برکس ممالک کو ’دھمکی‘ لیکن کیا امریکی ڈالر کی جگہ کوئی اور کرنسی لے سکتی ہے؟نئی تجارتی جنگ کا خدشہ: ٹرمپ کی جانب سے درآمدات پر عائد ٹیکس امریکہ کی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟ٹرمپ انتظامیہ کا امریکی امداد بند کرنے کا فیصلہ: پاکستان کس حد تک متاثر ہو گا؟40 سال قبل جاپان کا وہ دورہ جس نے ٹرمپ کی آج کی تجارتی پالیسی تشکیل دیپاکستان اور امریکہ کے درمیان کن اشیا کی تجارت ہے؟
پاکستان کی امریکہ کے ساتھ تجارت میں پاکستان سے امریکہ کو بھیجی جانے والی اشیا میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل مصنوعات کا ہے جو کل تجارت کا نوے فیصد بنتا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان سے امریکہ چمڑے کی مصنوعات، فرنیچر، پلاسٹک، سلفر، نمک، سیمنٹ، کھیلوں کا سامان، قالین، فٹ ویئر اور دوسری اشیا برآمد کی جاتی ہیں۔
جبکہ پاکستان سے امریکہ جانے والی اشیا کے مقابلے میں امریکہ سے پاکستان درآمد کی جانے والی اشیا کا حجم کم ہے۔ امریکہ سے پاکستان آنے والی اشیا میں خام کپاس، لوہا اور سٹیل، مشینری، بوائلرز، پرانے کپڑے، کیمیکلز، ادویات اور کچھ دیگر اشیا شامل ہیں۔
Getty Imagesامریکی صدر کی جانب سے پاکستان پر 29 فیصد ، انڈیا پر 26 فیصد اور بنگلہ دیش پر 37 فیصد ٹیرف کا نفاذ کیا گیا ہے یہ دونوں ممالک پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کے عالمی منڈی میں مقابل ہیں۔امریکہ کی جانب سے نئے ٹیرف کے بعد پاکستانی مصنوعات کتنی مسابقتی رہ جائیں گی؟
امریکی صدر کی جانب سے پاکستان پر 29 فیصد ، انڈیا پر 26 فیصد اور بنگلہ دیش پر 37 فیصد ٹیرف کا نفاذ کیا گیا ہے یہ دونوں ممالک پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کے عالمی منڈی میں مقابل ہیں۔
بیرونی تجارت کے شعبے کے ماہر اقبال تابش نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستان پر لگنے والا نیا ٹیرف کافی زیادہ ہے تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ ٹیرف پورے ٹیرف لائن پر لگے گا یعنی امریکہ جانے والی تمام اشیا پر اس کا اطلاق ہوگا یا یہ کہ نیا ٹیرف بلند ترین سطح ہو گی۔
انھوں نے کہا پاکستان کا امریکہ سے آزادانہ تجارت کا کوئی معاہدہ نہیں ہے کہ جس میں تجارتی رعایت حاصل ہوتی ہے اس لیے نئے ٹیرف سے خدشہ ہے کہ پاکستان کی اشیا مسابقتی نہیں رہیں گی۔
ماہر معیشت علی خضر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نئے ٹیرف میں انڈیا کو پاکستان پر برتری حاصل ہے تاہم بنگلہ دیش اور ویتنام کو نقصان ہوا ہے کہ ان پر پاکستان سے زیادہ ٹیرف لگا ہے اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان دوسروں کے مقابلے میں مکمل طور پر نقصان میں ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستان میں بجلی کی قیمت اور پیداواری لاگت زیادہ ہے اور نئے ٹیرف سے کیا پاکستان کی اشیا کم مسابقتی ہو جائیں گی تو ان کا کہنا ہے کہ پاکستان سے پہلے جو برآمد ہو رہی ہے اس میں یہ پیداواری لاگت شامل ہے اور پاکستانی اشیا امریکہ جا رہی ہیں اس لیے نئے ٹیرف کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ زیادہ پیداواری لاگت اور نئے ٹیرف کے بعد پاکستان اشیا انڈیا اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں بہت کم مسابقتی رہ جائیں گی۔
Getty Imagesمعاشی ماہر کے مطابق پاکستان سے امریکہ برآمد کی جانے والی اشیا پر پہلے 17 فیصد کے لگ بھگ ٹیرف تھا اور اب اس میں 12 فیصد کا اضافہ پاکستان مصنوعات کو مزید مہنگا کر دے گا جس کی وجہ سے یہ خدشہ ہے کہ ملک کی برآمدات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔نئے ٹیرف کے بعد کیا پاکستانی برآمدات گرنے کا خدشہ ہے؟
امریکی صدر کی جانب سے نئے ٹیرف کے بعد پاکستان سے امریکہ برآمد کی جانے والی اشیا کے مستقبل کے بارے میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے سابق چیف ایگزیکٹو زبیر موتی والا نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے برآمدی شعبے کے لیے یہ ایک بری خبر ہے کیونکہ پاکستان کی برآمدات کو پہلے سے سخت مقابلے کا سامنا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ اب نئے ٹیرف کے بعد اس کی لاگت امریکی مارکیٹ میں بڑھ جائے گی۔
انھوں نے کہا پہلے پاکستان سے امریکہ برآمد کی جانے والی اشیا پر 17 فیصد کے لگ بھگ ٹیرف تھا اور اب اس میں 12 فیصد کا اضافہ پاکستان مصنوعات کو مزید مہنگا کر دے گا جس کی وجہ سے یہ خدشہ ہے کہ ملک کی برآمدات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انسٹیوٹ برائے پائیدار ترقی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے اس سلسلے میں بتایا کہ امریکہ کی جانب سے جو نیا ٹیرف لگایا گیا ہے اس میں چین اور انڈیا جیسے ممالک تو جوابی ٹیرف لگا کر امریکی مصنوعات کو مہنگا کریں گے لیکن ہمارے پاس یہ آپشن نہیں کیونکہ امریکہ سے پاکستان آنے والی اشیا کا حجم کم ہے۔
انھوں نے کہ امریکہ کی جانب سے نئے ٹیرف کے نفاذ کے بعد امریکی صارفین کے لیے یہ مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی اور جس میں پاکستان کی مصنوعات بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا یہ صورتحال یقینی طور پر ایک نقصان دہ صورتحال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
ماہر معیشت علی خضر نے کہا نئے ٹیرف سے مصنوعات مہنگی ہو ں گی تو ان کی سیل کم ہو گی اور جس سے خدشہ ہے کہ پاکستان کی امریکہ میں جانے والی مصنوعات پر اس کے منفی اثر پڑنے کا امکان موجود ہے
انھوں نے کہا امریکہ نے چین اور ویت نام پر بھی ٹیرف بڑھا دیا ہے اور ایسی صورتحال میں یہ ممالک پاکستان میں اپنی مصنوعات بھیج سکتے ہیں جسے ڈمپنگ کہا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ڈمپنگ میں ایک ملک کی جانب سے دوسرے ملک میں اشیا کو اس ملک میں ان اشیا کی قیمت سے کم پر بھیجا جاتا ہے تاکہ ان چیزوں کی وہاں پر فروخت کو ممکن بنایا جا سکے جس سے اس ملک کا صنعتی شعبہ متاثر ہوتا ہے کیونکہ ان شعبے کی مصنوعات کی فروخت میں کمی ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں اس ملک کی جانب سے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی لگا کر ان کی درآمدی لاگت کو مہنگا کیا جاتا ہے تاکہ اس کی درآمد کی حوصلہ شکنی ہو اور ان کی کم درآمد ہو۔
انھوں نے کہا کیونکہ ان ملکوں میں پیداواری لاگت کم ہے اس لیے یہ پاکستان جیسے ملکوں میں ڈمپ کر دی جاتی ہیں جس سے پاکستان کی انڈسٹری پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ انھوں نےکہا لیکن اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
ٹرمپ کا ’یوم آزادی‘ اور پاکستان سمیت 100 ممالک پر نئے ٹیرف کا اعلان جسے ’عالمی تجارتی نظام پر ایٹم بم گرانے جیسا عمل‘ قرار دیا گیا’میں مذاق نہیں کر رہا‘: آئینی پابندی کے باوجود ٹرمپ ابھی سے تیسری بار امریکہ کے صدر بننے کی بات کیوں کر رہے ہیں اور کیا یہ ممکن ہے؟وہ پانچ کرپٹو کرنسیاں جنھیں ٹرمپ ’امریکی ڈیجیٹل ذخیرے‘ کا حصہ بنانا چاہتے ہیںٹرمپ انتظامیہ کا امریکی امداد بند کرنے کا فیصلہ: پاکستان کس حد تک متاثر ہو گا؟پاکستانی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کا سلسلہ جاری: جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟