BBCڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ٹیکساس کے نمائندے اس قانون کے خلاف آواز اُٹھا رہے ہیں
امریکی ریاست ٹیکساس میں جیس یوآن پرانی گاڑیوں کی دکان کے مالک ہیں، اپنے معمول کے مطابق انھوں نے گاڑی میں بیٹری ٹرمینل کا پیچ کسا اور بونٹ بند کر دیا۔
چین کی شہریت ترک کر کے امریکی شہری بننے کے بعد کافی عرصے سے ٹیکساس ہی اُن کا گھر ہے لیکن حال ہی میں منظور ہونے والے ریاستی قانون کے بعد سے وہ پریشان ہیں۔
ٹیکساس میں ایس بی 17 نامی قانون کا اطلاق یکم ستمبر سے ہو گا۔ اس قانون کے تحت چین، شمالی کوریا، روس اور ایران سے تعلق رکھنے والے افراد اور کمپنیاں جائیداد نہیں خرید سکتے اور نہ ہی املاککرائے پر لے سکیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے لیکن جیس یوآنجیسے افراد کے لیے یہ ایک امتیازی پیغام ہے کہ بظاہر اُن جیسے افراد کے لیے اب ٹیکساس کے دروازے بند ہیں۔
اس قانون کے خلاف آواز اٹھانے والے ٹیکساس سے ڈیموکریٹ نمائندہ جینی وو کا کہنا ہے کہ ’یہ امیگریشن اور ایشیا مخالف قانون ہے خاص کر چینی نژاد امریکیوں کے لیے۔‘
جینی وو کا کہنا ہے کہ نئے قانون سے ٹیکساس میں کاروبار کو نقصان پہنچے گا اور کمپنیاں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری لاسکتی ہیں وہ کہیں اور مواقع تلاش کریں گی۔
یہ قانون کیا ہے؟
اس قانون کے تحت وہ مخصوصممالک اور افراد جو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، ٹیکساس میں جائیداد جن میں مکانات، تجارتی جگہ اور زرعی زمین شامل ہے، نہیں خرید سکتے اور کرائے پر لینے کا دورانیہ ایک سال سے کم ہو گا۔
اس قانون میں جن ممالک کے نام ہیں اُن میں چین سرفہرست ہے کیونکہ بیجنگ پر الزام ہے کہ وہ امریکہ کو اقتصادی، عسکری اور سیاسی طور پر پیچھے چھوڑنے کے لیے ’دھمکی آمیز، تخریبی اور مہلک سرگرمیوں‘ مییں ملوث ہے۔
قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قید اورزیادہ سے زیادہ ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا ہو گی لیکن امریکی شہری اور گرین کارڈ ہولڈرز اس پابندی سے مستشنیٰ ہیں جبکہ ویزا ہولڈرز ایک پراپرٹی رکھ سکتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کی بنیاد امتیاز پر مبنی ہے یعنی کوئی بھی شخص جو اگر دیکھنے میں چینی لگتا ہے اُس کی غیر ضروری جانچ پڑتال ہو سکتی ہے۔
رواں سال جولائی میں ایک غیر سرکاری تنظیم نے چین سے تعلق رکھنے والے تین ویزا ہولڈز کی جانب سے اس قانون کی ’غیر آئینی‘ چیثیت کو عدالت میں چیلنج کیا تھا لیکن جج نے اُن کی اپیل یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ چینی شہری قانونی طریقے سے سٹوڈنٹ اور ورک ویزا پر رہ رہے ہیں اور وہ اس قانون سے متاثر نہیں ہوں گے۔
لیکن پابندی کی زد میں آنے والے چاروں ملکوں سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں ویزا ہولڈرز کو اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں۔
Office of the Texas Governorٹیکساس کے گورنر گریگ ابیٹ نے 26 اگست کو اس قانون پر دستخط کیےکیا یہ قانون چینی افراد کو نکالنے کے لیے ہے؟
نئے قانون سے زیادہ متاثر چین سے تعلق رکھنے والے افراد ہوں گے اور امریکی ریاست ٹیکساس میں سنہ 2023 تک ایک لاکھ 20 ہزار چینی شہری رہتے تھے۔
ایس بی 17 کو عدالت میں چیلنج کرنے والی وکیل کنلن لی کا کہنا جب انھوں نے پہلی بار یہ قانون دیکھا تو وہ حیران ہو گئیں تھیں۔
لی نے کہا کہ ’اگر کوئی انسانی حقوق نہیں تو پھر ہم 150 سال پرانی زندگیوں میں واپس چلے گئے ہیں۔‘
لی آسٹن کے مضافات میں ایک پرسکون رہائشی علاقے میں واقع کرائے کے اپارٹمنٹ میں رہتی تھیں۔ اپنے کام اور مقدمات کی مصروفیت کے باعث اُن کے پاس نئے اپارٹمنٹ کی تلاش کا وقت نہیں تھا کیونکہ ان کی لیز کی میعاد ختم ہونے میں دو ہفتے رہ گئے ہیں۔
جب عدالت نے اُن کا مقدمہ خارج کیا تو وہ اپارٹمنٹ کی تبدیلی کے لیے آدھا کام مکمل کر چکی تھی۔ اگرچہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ وہ قانون سے متاثر نہیں ہوں گی لیکن اس سارے عمل نے اُن کی ذہنی صحت کو متاثر کیا۔
جیسن یوآن دکان بند کرنے کے بعد باقی تمام وقت کمیونٹی کے ساتھ گزارتے ہیں۔ انھوں نےٹیکساس کے دارالحکومت کے باہر ریلیوں کی قیادت کی اور عوامی سماعت (پبلک ہیرنگ) میں شرکت کی اور کمیٹی کو بتایا کہ نئے لینڈ بل کو ’چینیوں کے اخراج کا ایکٹ 2025‘ کہا جانا چاہیے۔
امریکہ میں 1882 میں، چینی اخراج ایکٹ، منظور کیا گیا تھا۔ اس متنازعہ قانون نے چینی مزدوروں کی امریکہ میں امیگریشن پر پابندی لگا دی تھی۔
’قیمتی‘ معدنیات، ایف 35 طیارے اور جدید ہتھیار: امریکہ کی وہ کمزوری جو تجارتی جنگ میں چین کو سبقت دلا سکتی ہےتجارتی جنگ: کیا صدر ٹرمپ کے ٹیرف منصوبے کا واحد مقصد چین کو نشانہ بنانا تھا؟عالمی معیشت کی سب سے بڑی طاقت بننے کی دوڑ: کیا ٹرمپ کی ’ٹیرف جنگ‘ کا اصل ہدف صرف چین ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟کیا 100 سالہ ’چین کے دوست‘ ہنری کسنجر امریکہ اور چین کو پھر سے نزدیک لا سکتے ہیں؟
گاڑیوں کی دکان کے مالک یوآن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اپنے آبائی ملکوں کی وجہ سے مجھ جیسے افراد پر جائیداد کی خریداری پر پابندی عائد کرنے کا عمل امتیازی ہے۔‘
یوآن اپنے دو بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ قانون کے خلاف حالیہ ریلی میں ان کا 13 سالہ بیٹا بھی اُن کے ساتھتھا۔
جیسن یوآن کا کہنا ہے کہ ’میں سب کو کہتا ہوں کہ یہ ضروری (احتجاج کرنا) ہے۔ میں اپنے بچوں کو بتاؤں گا کہ جب انھیں امتیازی سلوک کو سامنا کرنا پڑے تو یہ پیچھے دھکیلنے کا طریقہ ہے۔‘
چینی کمپنیوں کی دیگر مواقعوں کی تلاش
اس قانون سے چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد اور چین سے لین دین کرنے والی کمپنیاں بھی متاثر ہوں گی۔
سنہ 2011 سے 2021 کے دوران چین کی 34 کمپنیوں نے 38 منصوبوں کے تحت دو ارب 70 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور ٹیکساس میں ساڑھے چار ہزار سے زائد ملازمتیں پیدا کیں۔
چین کی کمپیناں اب متبادل مواقع تلاش کر رہی ہیں۔
ٹیکساس کے اہم شہر ڈیلس میں مقیم کمرشل سٹیٹ ایجنٹ نینسی لن نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کی ممکنہ چینی کلائنٹس سے ہونے والی بات چیت کے مطابق وہ الیکٹرک گاڑیوں اور سولر پینل کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے منصوبے روک رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو میرے خیال میں چینی کمپنیوں کی ٹیکساس میں آمد مشکل ہو جائے گی۔ جو پہلے سے موجود ہیں اُن کی لیز کی مدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ لیز نہیں ہو گی اور اگر ہوئی بھی تو ایک سال سے زیادہ عرصے کی نہیں ہو گی۔‘
چینی نژاد امریکیوں کے لیے زمین کی ملکیت رکھنے کی جدوجہد ایک صدی پرانی ہے۔
ٹیکساس میں زمین سے متعلق ایک سابقہ قانون کے تحت سنہ 1965 تک غیر ملکی شہری جائیداد نہیں خرید سکتے تھے۔ اسے ’نامعقول اور امتیازی‘ اور’معاشی ترقی‘ کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔
ائیر بیس کے قریب چینی منصوبے کو خطرہ کیوں؟
ٹیکساس کے گورنر ایبٹ کے مطابق سکیورٹی اُن کی ترجیح ہے۔ بی بی سی نے جب اُن کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تو ان کے دفتر نے اس معاملے میں پہلے سے جاری پریس ریلیز بھیجی، جس میں کہا گیا کہ چین سمیت ’غیر ملکی دشمنوں‘ کو ’ٹیکساس میں زمین خریدنے نہیں دی جائے گی۔‘
قدامت پرست تھنک ٹینک ٹیکساس پبلک پالیسی فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والے چک ڈیوور اس قانون کے حامی ہیں، انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’دشمن حکومتوں کو ہمارے فوجی اڈوں، کھیتوں اور بنیادی ڈھانچے سے دور رکھا جائے۔‘
اس قانون سازی کا مطالبہ اُس وقت زور پکڑا جب سنہ 2016 سے 2018 کے دوران چینی تاجر سن گوانگسن نے ٹیکساس میں ونڈ فام لگانے کے لیے 140000 ایکڑ اراضی خریدی جو ائیر فورس کی بیس کے قریب تھی۔
اگرچہ امریکہ کیکمیٹی برائے غیر ملکی سرمایہ کاری نے ابتدائی طور پر اس سرمایہ کاری کی منظوری دی لیکن ٹیکساس نے 2021 میں ایک قانون پاس کیا جس میں کچھ غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ ’اہم انفراسٹرکچر‘ کے معاہدوں پر پابندی عائد کی گئی تھی اور چینی سرمایہ کار سن گوانگسنکا منصوبہ بھی ختم ہو گیا۔
2024 میں ٹیکساس کے سینیٹر جان نے کہا تھا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کے رکن اور چینی فوج کے سابق سینیئر رہنما سن گوانگس کو ممکنہ طور پر چینی حکومت نے جاسوس کا کام دیا ہو۔
چینی تاجر سن گوانگس نے ان الزامات کی تردید کی اور اُنھوں نے اپنی ذیلی کمپنی کے ذریعے 2024 میں دائر کیے گئے مقدمے میں کہا کہ امریکی حکام نے اس منصوبے کو قومی سلامتی کے معاملے میں کلئیر قرار کر دیا تھا۔
واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کی جانب سے کیے گئے سروے میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2000 سے 2023 کے دوارن امریکہ کے خلاف جاسوسی کے 224 کیسز درج ہوئے ہیں۔
امریکی میں قومی سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں چین کی کیمونسٹ پارٹی کی جانب سے امریکہ کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا۔
بیجنگ میں ایف بی آئی کے سابق سربراہ ہولڈن ٹرپلیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ حقیقی خطرہ ہے۔‘
امریکہ کی سول لیبرٹی یونین فاؤنڈیشن سے وابستہ پیٹرک ٹومے کا کہنا ہے کہ ’کچھ حکام غلطی کر رہے ہیں، اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ چینی افراد کی ٹیکساس میں رہائشی املاک رکھنے یا لیز پر دینے سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچا۔‘
ایس بی 17امریکہ میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون نہیں۔
چائینز امریکن غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کو ہدف بنانے کے لیے ربپلکنز کی حامی 26 ریاستوں نے پہلے ہی ایسے قوانین کی منظوری دی ہے جس کے تحت سنہ 2021 سے غیر ملکی شہریوں پر جائیداد خریدنے پر پابندی عائد ہے۔
زیادہ تر ریاستوں میں یہ قانون سنہ 2023 میں اُس وقت منظور ہوا جب چین کی جانب سے جاسوسی کے لیے بھیجا گیا غبارہ امریکی فضائی حدود میں داخل ہوا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا بھی کہنا ہےکہ وہ چینی شہریوں پر امریکہ میں زرعی زمین خریدنے پر پابندی لگانے چاہتی ہے۔
امریکہ کی سول لیبرٹی یونین فاؤنڈیشن سے وابستہ پیٹرک ٹومے کا کہنا ہے کہ ’ٹیکساس کے قانون سے خطرے کی گھنٹی بجنی چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ قانون سازی کے لیے ایشیائی تارکین وطن اور دیگر کمیونٹیز کے خلاف قومی سلامتی کے جھوٹے دعووں کا سہارا لیا گیا۔
جیسن یوآن کا ماننا ہے کہ اگر چینی نژاد امریکیوں نے مقابلہ نہ کیا تو ٹیکساس کا یہ قانون دیگر ریاستوں میں بھی متعارف کروایا جا سکتا ہے۔
یوآن نے کہا کہ ’یہ جمہوریت کے اُصولوں کو دوبارہ لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم اسے تبدیل کر دیں نہیں تو امریکہ بھی بالکل چین جیسا ہو جائے گا۔‘
کیا 100 سالہ ’چین کے دوست‘ ہنری کسنجر امریکہ اور چین کو پھر سے نزدیک لا سکتے ہیں؟امریکہ میں فنگس لے جانے پر چینی خاتون کی گرفتاری کا معاملہ: زرعی دہشت گردی کیا ہے؟’قیمتی‘ معدنیات، ایف 35 طیارے اور جدید ہتھیار: امریکہ کی وہ کمزوری جو تجارتی جنگ میں چین کو سبقت دلا سکتی ہےعالمی معیشت کی سب سے بڑی طاقت بننے کی دوڑ: کیا ٹرمپ کی ’ٹیرف جنگ‘ کا اصل ہدف صرف چین ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟چین نے اہم منصوبوں میں امریکی کمپنی کی میموری چپس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی