سیلاب سے پہلے اور بعد کی صورتحال: پنجاب کے دریاؤں نے کیسے مختلف شہروں میں تباہی مچائی؟

بی بی سی اردو  |  Aug 30, 2025

AFP via Getty Imagesپنجاب سے گزرنے والے دریا چناب، راوی اور ستلج مختلف علاقوں میں تباہی مچاتے ہوئے جنوبی پنجاب اور سندھ کی جانب بڑھ رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب سے گزرنے والے دریائے چناب، روای اور ستلج مختلف علاقوں میں تباہی مچاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ حکام کے مطابق پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے اب تک کم از کم 30 افراد ہلاک جبکہ 15 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق تینوں دریا مختلف ہیڈ ورکس اور بیراجز سے گزرتے ہوئے جنوبی پنجاب اور سندھ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 1988 کے بعد ان تینوں دریاؤں میں آنے والی سب سے بڑی طغیانی ہے۔ دریائے چناب کے سیلابی ریلے سے گجرات، جھنگ اور چنیوٹ اور دیگر اضلاع میں نقصان ہوا ہے تو وہیں دریائے راوی نے لاہور شہر اور اس کے مضافات میں تباہی مچائی ہے۔

اُدھر دریائے ستلج بھی بپھرا ہوا ہے اور قصور سمیت دیگر ملحقہ اضلاع میں سیلابی صورتحال ہے۔

حکومت نے آٹھ اضلاع سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد، سرگودھا، لاہور، قصور، اوکاڑہ اور فیصل آباد میں فوج کو بھی مدد کے لیے بلا رکھا ہے۔

آئیے سیٹلائیٹ تصاویر کے ذریعے جائزہ لیتے ہیں کہ ان تینوں دریاؤں نے حالیہ چند روز کے دوران کتنی تباہی مچائی اور اس وقت ان تینوں دریاؤں کی کیا صورتحال ہے۔

دریائے چناب

دریائے چناب کی بات کی جائے تو گجرات، حافظ آباد، پنڈی بھٹیاں، بھیرہ اور چنیوٹ سمیت مختلف علاقوں میں تباہی مچانے کے بعد اب سیلابی ریلا جھنگ اور ملتان کی جانب بڑھ رہا ہے۔

پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں شدید سیلابی صورتحال برقرار ہے اور جھنگ شہر کو بچانے کے لیے وہاں واقع قدیمی ریواز پل کے بند میں شگاف ڈال دیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث دریائے چناب میں 31 اگست کی سہ پہر چار بجے سات سے آٹھ لاکھ کیوسک تک پانی متوقع ہے۔ حکام کے مطابق شدید سیلابی صورتحال جھنگ اور اس کے ملحقہ علاقوں کو متاثر کرے گی جس کے بعد یہ ملتان کی جانب بڑھے گا۔

لاہور کی رہائشی سوسائٹی جہاں سیلاب لوگوں کی جمع پونجی بہا لے گیا: ’سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گھر چھوڑنا ہے یا رُکنا ہے؟‘’اتنی آبادی کدھر جائے، لوگ سڑکوں پر نہیں رہ سکتے‘: دریائے راوی کے کنارے رہائش پذیر خاندان جو کہیں اور جانے کے لیے تیار نہیںپنجاب میں سیلابی صورت حال: کون سے علاقے زیادہ متاثر، اونچے یا درمیانے درجے کا سیلاب کیا ہوتا ہے؟خیبر پختونخوا میں سیلاب کے بعد لاپتہ افراد کی قبریں اور ذہنی دباؤ: ’سیاہ بادل خوف کی علامت بن گئے ہیں‘دریائے راوی

دریائے راوی کی بات کی جائے تو یہ دریا جسڑ کے مقام پر انڈیا سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔

دریائے راوی نے ضلع نارووال میں بھی تباہی مچائی اور شکر گڑھکے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ کرتارپور راہداری بھی زیر آب آ گئی۔

ضلع نارووال میں تباہی مچانے کے بعد دریائے راوی میں سیلابی ریلے نے لاہور کے نواحی علاقے شاہدرہ کا رُخ کیا جس سے ریور بیڈ میں قائم آبادیاں زیر آب آ گئیں اور املاک کو نقصان پہنچا۔

دریائے راوی کے سیلابی ریلے نے ٹھوکر نیاز بیگ اور موہلنوال کے نواح میں واقعہ رہائشی سوسائٹیز میں بھی تباہی مچائی اور سیکڑوں گھروں میں سیلابی پانی داخل ہو گیا۔

جمعے کی صبح لاہور کے علاقے چوہنگ، منظور گارڈن، برکت کالونی سمیت مختلف علاقوں میں دریائے راوی کا سیلابی پانی داخل ہوا۔پارک ویو سوسائٹی کے مختلف بلاکس میں پانی پہنچ چکا ہے جبکہ رنگ روڈ سے ملحقہ بادامی باغ میں بھی سیلابی صورتحال ہے۔

اس سے قبل ریسکیو 1122 نے بتایا تھا کہ امدادی سرگرمیوں کے دوران لوگوں کو متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقامات منتقل کیا جا رہا ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق راوی کے بالائی ملحقہ علاقوں میں بارشیں اور انڈین تھین ڈیم سے پانی کے اخراج کی وجہ سے راوی میں بلوکی کے مقام پر اُونچے درجے کا سیلاب ہے۔ جبکہ دریائے راوی میں دو سے تین ستمبر تک ایک لاکھ 25 ہزار سے ایک لاکھ 50 ہزار کیوسک کا ریلا سدھنائی پہنچے گا۔

ادارے کے مطابق سدھنائی کے مقام پر یہ سیلابی ریلا شدید سیلابی صورتحال پیدا کر سکتا ہے جس کی وجہ سے اوکاڑہ، رینالہ خورد، دیپالپور، گوگرا ، تا نڈیانوالہ، کمالیہ، پیر محل، اڈا حکیم اور سدھنائی کے علاقے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

دریائے ستلج

دریائے ستلج میں سلیمانی ہیڈ ورکس میں دو لاکھ 87 ہزار 384 کیوسک پانی گزر رہا ہے اور پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دریائے ستلج میں اسلام ہیڈ ورکس سے ایک لاکھ 13 ہزار 124 کیوسک پانی گزر رہا ہے۔

دریائے ستلج میں طغیانی کی وجہ سے قصور کے نواحی دیہات متاثر ہوئے۔

پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اُونچے درجے کا سیلاب ہے۔

دریائے ستلج میں سیلاب کی وجہ سے ضلع پاکپتن، وہاڑی، اوکاڑہ اور بہاولنگر جیسے شہر بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

حکومتِ سندھ کی توجہ پنجند پر مرکوز ہے جہاں پنجاب سے آنے والے دریائے راوی، چناب اور ستلج کا پانی جمع ہو کر دریائے سندھ میں شامل ہو گا۔ یہاں سے اندازہ لگایا جائے گا کہ گڈو کے مقام پر کتنا پانی پہنچے گا۔

صوبائی وزیر جام خان شورو نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب میں کٹ لگا کر پانی کا رخ موڑ کی موڑنے کی وجہ سے پانی کی رفتار میں کمی ہوئی ہے، سنیچر کی شام تک پانی تریموں تک پہنچے گا جس کے بعد 24 گھنٹے میں پانی پنجند تک پہنچنے کا امکان ہے، اور گڈو تک آنے کے لیے تقریباً مزید دو دن لگ سکتے ہیں۔

مال مویشی لیے سڑکوں پر بیٹھے اور چھتوں سے مدد کے لیے پکارتے لوگ: بی بی سی نے سیالکوٹ، نارووال اور کرتارپور میں کیا دیکھا؟ پنجاب میں سیلابی صورت حال: کون سے علاقے زیادہ متاثر، اونچے یا درمیانے درجے کا سیلاب کیا ہوتا ہے؟’پانی چاروں طرف سے گھیر چکا ہے مگر اپنے گھروں کو کیسے چھوڑیں‘: پنجاب میں سیلاب میں پھنسے خاندانوں کی کہانیاں ظہور رحمان: بشونئی میں متعدد افراد کی جانیں بچانے والے استاد جنھیں پانی بہا لے گیاخیبر پختونخوا میں سیلاب کے بعد لاپتہ افراد کی قبریں اور ذہنی دباؤ: ’سیاہ بادل خوف کی علامت بن گئے ہیں‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More