Getty Images
وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد تمام تر توجہ ان کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز پر مرکوز ہو گئی ہے، جنھیں مادورو نے اپنی سب سے قریبی ساتھی کے طور پر منتخب کیا تھا۔
سنیچر کی شام وینیزویلا کی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ مادورو کی ’جبری گمشدگی‘ کے باعث ریاست کی سربراہی اب روڈریگیز سنبھالیں۔ عدالت کی آئینی بینچ کی صدر تانیا ڈیمیلیو نے کہا کہ آئین کے مطابق صدر کی عارضی یا مستقل غیر موجودگی میں نائب صدر ہی ان کی جگہ سبنھالتا ہے۔
عدالت نے امریکی فوجی کارروائی، جس کے نتیجے میں مادورو اور ان کی اہلیہ گرفتار ہوئے، کو ’اغوا‘ اور ’غیر ملکی جارحیت‘ قرار دیا۔ روڈریگیز کو عبوری صدر نامزد کرتے ہوئے عدالت نے انھیں ’خودمختاری کے دفاع‘ اور ’آئینی نظام کے تحفظ‘ کا اختیار دیا۔
اس سے قبل کاراکس سے ٹیلی ویژن خطاب میں روڈریگیز نے امریکہ کی کارروائی کو ’غیر قانونی اور بلاجواز اغوا‘ قرار دیا اور کہا کہ ’وینیزویلا کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ بربریت ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ملک کو گھیرنا اور پابندیاں لگانا انسانی حقوق کے عالمی نظام کی خلاف ورزی اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
روڈریگیز نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے باہر نکلیں اور زور دے کر کہا کہ ’وینیزویلا میں صرف ایک صدر ہے، اور ان کا نام نکولس مادورو ہے۔‘
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد روڈریگیز حکومت کی سربراہی کر سکتی ہیں اور امریکہ کے ساتھ مل کر وینیزویلا کی بحالی پر کام کریں گی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ روڈریگیز امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے رابطے میں ہیں اور واشنگٹن کے مطالبات ماننے پر آمادہ ہیں۔
تاہم بعد میں روڈریگیز نے دوبارہ قومی نشریات میں کہا کہ مادورو ہی وینیزویلا کے واحد صدر ہیں، اور یہ کہ ’وینیزویلا نہ جھکے گا، نہ ہار مانے گا اور کبھی کسی کی کالونی نہیں بنے گا۔‘
بولیوارین سوشلسٹ منصوبے کے دفاع میں ان کے کردار کی وجہ سے مادورو نے ماضی میں روڈریگیز کو ’شیرنی‘ قرار دیا تھا۔ جو لوگ انھیں قریب سے جانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ ’انتہائی ذہین‘ ہیں لیکن ساتھ ہی ’انتہائی نظریاتی‘ بھی۔
تو آخر ڈیلسی روڈریگیز ہیں کون؟
بائیں بازو کی سیاسی وراثت کی خصوصیاتGetty Imagesڈیلسی روڈریگیز اور خورخے روڈریگیز مادورو کے دو اہم ترین سیاسی معاون سمجھے جاتے ہیں
56 سالہ وکیل ڈیلسی روڈریگیز کو دراصل سیاست وراثت میں ملی ہے۔ وہ خورخے انتونیو روڈریگیز کی بیٹی ہیں، جو 1960 کی دہائی میں ایک گوریلا رہنما تھے اور 1976 میں پولیس حراست میں ہلاک ہو گئے۔ انھیں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ان پر ایک امریکی کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار ولیم نیہاؤس کے اغوا میں ملوث ہونے کا الزام لگا۔
روڈریگیز کی موت نے عوامی رائے کو ہلا کر رکھ دیا، کیونکہ یہ واقعہ پولیس کے تشدد اور بدسلوکی کے نتیجے میں پیش آیا تھا۔ یہی سانحہ ڈیلسی کے لیے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی ایک بڑی وجہ بنا۔ انھوں نے وینیزویلا کی سینٹرل یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور بعد میں فرانس میں محنت کشوں اور مزدور یونینوں کے قانون پر مزید تعلیم حاصل کی۔
ڈیلسی نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’میں نے اپنے والد کے کیس میں انصاف کرنے کا فیصلہ کیا اور قانون کی تعلیم میں داخلہ لیا۔ وہاں میں نے فوراً انسٹی ٹیوٹ آف پینل سٹڈیز میں تحقیقاتی معاون کے طور پر درخواست دی۔‘
یہ واقعہ ان کے سیاست کے قریب آنے کا بھی سبب بنا۔ سنہ 2018 کی ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’بولیوارین انقلاب، کمانڈر ہیوگو شاویز کی آمد، ہمارا ذاتی انتقام تھی۔‘ تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ نفرت کے جذبے سے نہیں بلکہ ایک مقصد کے تحت کام کر رہی تھیں۔
شاویز سے مادورو تک کا پس منظرGetty Imagesڈیلسی روڈریگیز نے بولیوارین انقلاب کو اپنے والد کے قتل کا ایک طرح کا ’انتقام‘ قرار دیا
اپنے بڑے بھائی خورخے روڈریگیز، جو اس وقت وینیزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر ہیں، کی طرح ڈیلسی روڈریگیز نے بھی اپنی سیاسی ترقی کا آغاز ہوگو شاویز کے دورِ حکومت میں کیا۔ وہ پہلی مرتبہ کابینہ میں شامل ہوئیں اور چند ماہ کے لیے وزارتِ صدارتی امور سنبھالی۔
تاہم مادورو کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ اعلیٰ عہدوں پر فائز رہیں۔ ابتدا میں وہ وزیرِ اطلاعات و نشریات، وزیرِ معیشت اور وزیرِ خارجہ رہیں۔ بعد ازاں وہ نائب صدر کے منصب تک پہنچیں اور اس کے ساتھ ساتھ وزارتِ ہائیڈروکاربنز کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔
ڈیلسی روڈریگیز 2017 میں منتخب ہونے والی متنازع آئین ساز اسمبلی کی پہلی صدر بھی رہیں۔ یہ منصب قانونی اعتبار سے صدر کے عہدے سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا تھا۔
اپنے بھائی خورخے کی طرح ڈیلسی بھی مادورو حکومت کی ایک کلیدی شخصیت ہیں، جنھیں اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سیاسی آپریشنز کے لیے استعمال کیا گیا۔
سیاسی ماہر نیکمر ایوانز نے 2024 میں بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’ڈیلسی اپنے بھائی کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔ وہ کچھ کم نظریاتی اور زیادہ عملی ہیں۔ یہ دونوں اچھی طرح تربیت یافتہ شخصیات ہیں جنھوں نے حکومت میں اہل افراد کی کمی کے باعث پیدا ہونے والا خلا پُر کیا ہے۔‘
ڈیلسی گیٹ تنازعGetty Imagesڈیلسی روڈریگیز مادورو کے حلقۂ اقتدار کا حصہ ہیں
ڈیلسی روڈریگیز نے سنہ 2014 سے سنہ 2017 تک مادورو کی حکومت میں وزیرِ خارجہ رہیں، لیکن اس عہدے سے ہٹنے کے بعد بھی وہ وینیزویلا کے اندر اور باہر حکومت کا ایک نمایاں چہرہ بنی رہیں۔
گذشتہ برسوں میں، جب مادورو نے بیرونِ ملک دورے کم کر دیے، روڈریگیز نے ترکی، چین اور ایران جیسے اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بین الاقوامی سطح پر وہ کئی تنازعات میں بھی پیش پیش رہیں۔ 2016 میں، جب وہ وزیرِ خارجہ تھیں تو انھوں نے بیونس آئرس میں ایک اجلاس میں داخل ہونے کی کوشش کی، حالانکہ وینیزویلا کو اس بلاک سے خارج کر دیا گیا تھا۔
کچھ سال بعد سپین میں ’ڈیلسی گیٹ‘ کے نام سے ایک تنازع کھڑا ہوا، جب 20 جنوری 2020 کی صبح وہ ایک نجی طیارے کے ذریعے میڈرڈ کے باراخاس ایئرپورٹ پر اتریں اور اس وقت کے سپین کے وزیرِ ٹرانسپورٹ خوسے لوئیس آبالوس سے ملاقات کی، حالانکہ ان پر اس زون میں داخلے پر پابندی عائد تھی۔
روڈریگیز ان درجنوں اعلیٰ وینیزویلائی حکام میں شامل ہیں جن پر یورپی یونین نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوریت مخالف اقدامات پر پابندیاں عائد کیں۔ انھیں امریکہ نے بھی 2018 میں پابندیوں کا نشانہ بنایا، جب امریکی محکمہ خزانہ نے ان کے بھائی خورخے روڈریگیز، وزیرِ دفاع ولادیمیر پادرینو اور خاتونِ اول سیلیا فلوریس پر بھی اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کیں۔
اس وقت بھی اور آج بھی ڈیلسی روڈریگیز نے ان اقدامات کو مسترد کیا ہے اور کھلے عام امریکی پالیسیوں پر سوال اٹھائے ہیں۔
یوں ان حالات سے گزر کر ٹرمپ کے ہاتھوں وینیزویلا میں مادورو کے بعد کی ممکنہ سیاسی منتقلی کا آلہ کار بننا، ان سے ایسے سیاسی لچک کا تقاضا کرتا ہے جو صرف سخت ترین زمینی حقائق کے دباؤ میں ہی ممکن ہو سکتا ہے۔
مریا کورینا مچاڈو کون ہیں؟Getty Images
مریا کورینا مچاڈو وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ہیں۔ انھیں 2024 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا، جس کی دنیا بھر میں مذمت اور تنقید کی گئی تھی کہ یہ انتخاب غیر منصفانہ تھا۔
بی بی سی کے جنوبی امریکہ کی نامہ نگار ایون ویلز نے گذشتہ سال کراکس میں ہونے والے انتخابات کا مشاہدہ کیا، جہاں ان کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز نے ایک ریلی نکالی تھی جس میں سڑکوں پر بہت زیادہ ہجوم تھا۔
انھوں نے نکولس مادورو کی حکومت کو پریشانی میں ڈال دیا تھا۔ مریا مچاڈو ملکی اپوزیشن کی رہنما ہیں، جو سڑکوں پر اور پولنگ سٹیشنوں پر ہزاروں لوگوں کو جمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
سال 2024 کے انتخابات میں پولز نے ان کی یقینی فتح کا اشارہ دیا تھا، لیکن نکولس مادورو نے تیسری بار کامیابی حاصل کی۔ تاہم، بہت سے مبصرین نے انتخاب میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔
بی بی سی کے ایون ویلز نے ذاتی طور پر لوگوں کو پولنگ سٹیشن کے باہر گھنٹوں کھڑے رہنے پر مجبور دیکھا۔
انتخابی نتائج کے بعد ملک کے کئی حصوں میں مظاہرے پھوٹ پڑے تاہم انتظامیہ کی جانب سے انھیں دبا دیا گیا۔
مچاڈو کو روپوش ہونا پڑا اور ان کا ٹھکانہ فی الحال نامعلوم ہے۔ وہ جنوری میں مادورو کے افتتاح کے خلاف مظاہروں میں دیکھی گئی تھیں اور اس وقت انھیں تھوڑی دیر کے لیے گرفتار کر لیا گیا لیکن بعد میں رہا کر دیا گیا۔
F-16 طیارے، سخوئی جہاز مگر ایسی فوج ’جس میں بھاگنے والوں کی شرح زیادہ ہے‘: وینزویلا امریکی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟صدر ٹرمپ کو ’دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر‘ رکھنے والے ملک وینزویلا سے کیا مسئلہ ہے؟’آپریشن گولڈن ڈائنامائٹ‘: جب وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ’بپھرے ہوئے سمندر‘ میں خفیہ سفر کر کے نوبیل امن انعام لینے ناروے پہنچیں وینزویلا کی ’نائٹ کلب اور چڑیا گھر‘ والی پرتعیش جیل جسے مجرموں سے چھڑانے کے لیے ہزاروں فوجی بھیجے گئےReutersجب مریا کورینا ’بپھرے ہوئے سمندر‘ میں خفیہ سفر کر کے نوبیل امن انعام لینے ناروے پہنچیں
وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور امن کا نوبیل انعام جیتنے والی مریا کورینا مچاڈو کو ملک سے بحفاظت باہر نکالنا آسان نہیں تھا۔ اس مشن کی قیادت کرنے والے شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ اس دوران انھیں بھیس بدلنے پڑے، بھپرے ہوئے سمندروں میں دو کشتیوں اور پھر ایک جہاز کا سہارا لینا پڑا۔
اس مشن کو 'آپریشن گولڈن ڈائنامائٹ' کا نام دیا گیا تھا۔ گِرے بُل ریسکیو فاؤنڈیشن کے بانی اور امریکی سپیشل فورسز کے سابق رُکن برائن سٹرن کہتے ہیں کہ یہ سفر نہ صرف طویل تھا بلکہ انتہائی سرد بھی تھا لیکن اس کے باوجود بھی 'باحوصلہ' مریا نے ایک بار بھی کوئی شکایت نہیں کی۔
برائن کہتے ہیں کہ 'سمندر بہت بھپرے ہوئے ہوتے ہیں، بالکل تاریکی ہوتی ہے۔ ہم بات کرنے کے لیے فلیش لائٹس کا استعمال کر رہے تھے۔ یہ بہت خوفناک تھا اور بہت کچھ غلط ہو سکتا تھا۔'
لیکن تمام تر خطرات کے باوجود اس سفر میں کوئی بھی چیز غلط نہیں ہوئی۔ مریا اس روز یعنی بدھ کی رات سے قبل اوسلو، ناروے میں امن کا نوبیل انعام وصول کرنے کے لیے پہنچ گئی تھیں۔
مریا وینزویلا میں 2024 میں ہونے والے انتخابات کے بعد سے اپنے ملک میں چھپ کر رہ رہی تھیں اور انھیں رواں برس جنوری کے بعد سے عوام کے درمیان نہیں دیکھا گیا۔ مرِیا کورینا مَچاڈو نے اس سے قبل ایڈمنڈو گونزالیز کو اقتدار سنبھالنے کی اپیل کی تھی۔ انھوں نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں گونزالیز کے لیے مہم چلائی اور ان کی جماعت کے جاری کردہ نتائج کے مطابق گونزالیز نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
مریا کورینا کے بچے بڑے ہو چکے ہیں اور ان کی ملاقات اپنی ماں سے دو برس سے نہیں ہوئی۔ یہ بچے اوسلو میں اپنی والدہ کا خیرمقدم کرنے کے لیے موجود تھے۔
گِرے بُل فاؤنڈیشن نامی ادارہ تنازعات اور آفات سے گھرے ہوئے علاقوں میں ریسکیو مشنز سرانجام دینے میں مہارت رکھتا ہے۔ ماریہ کے ایک نمائندے نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسی ادارے نے وینزویلا کی اپوزیشن رہنما کو ریسکیو کیا تھا۔
برائن کہتے ہیں کہ گِرے بُل فاؤنڈیشن کیریبین بشمول وینزویلا اور پڑوسی جزیرے اروبا میں مہینوں سے اپنی موجودگی کو بڑھا رہی ہے تاکہ وینزویلا میں ممکنہ آپریشنز کے لیے تیار رہا جا سکے۔
Getty Imagesنوبیل انعام کے معاملے پر کیسے مرینا اور ٹرمپ آمنے سامنے آ گئے؟
وینزویلا میں آمریت کے خلاف لڑنے والی خاتون مرِیا کورینا مَچاڈو پر بھی اس وقت صدر ٹرمپ کڑی تنقید کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے وینیزویلا کی اپوزیشن لیڈر سے بات نہیں کی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’مریا کورینا مچاڈو کو نہ تو عوامی حمایت حاصل ہے اور نہ ہی وہ کوئی قابل احترام شخصیت سمجھی جاتی ہیں۔‘ تاہم ٹرمپ کی ان سےمخالفت کی کچھ اور بھی وجوہات ہیں۔
مرِیا کورینا مَچاڈو نے اس سے قبل ایڈمنڈو گونزالیز کو اقتدار سنبھالنے کی اپیل کی تھی۔ انھوں نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں گونزالیز کے لیے حمایت حاصل کی اور ان کی جماعت کے جاری کردہ نتائج کے مطابق گونزالیز نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
مریا کورینا کو گذشتہ برس نوبیل امن انعام بھی ملا۔ یہ اور بات ہے کہ ٹرمپ خود کو اس انعام کا زیادہ حقدار ٹھہرا رہے تھے۔ لیکن ستم ظریفی تو دیکھیے کہ کورینا مَچاڈو نے اس انعام کو وینزویلا کے عوام کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کے نام بھی منسوب کیا۔
مرینا مچاڈو کے ٹویٹ کے جواب میں معروف صحافی مہدی حسن نے لکھا کہ مرینا مچاڈو کتنی ذہین خاتون ہیں۔ انھوں نے اپنا نوبیل امن انعام ٹرمپ کو وقف کیا ہے۔ ہر غیر ملکی حکومت، گروہ، سیاست دان جانتا ہے کہ ٹرمپ اور ان کی انا سے کس طرح ڈیل کرنا ہے اور کس طرح سے ان کے ساتھ جوڑ توڑ کرنا ہے۔ وہ خود کو کتنا سادہ لوح اور واضح رکھتے ہیں۔
بہر حال جب نوبیل امن انعام کا اعلان کیا گیا تو کسی صحافی نے بہت ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ سوال پوچھ لیا کہ آخر امریکی صدر کو یہ انعام کیوں نہیں دیا گیا اور یہ کہ انعام دینے والی کمیٹی پر کتنا دباؤ تھا جب امریکہ اور بین الاقوامی سطح پر ان کے لیے ایک طرح سے مہم چلائی جا رہی تھی۔
جب ایک صحافی نے نوبیل امن انعام کمیٹی کے چیئرمین سے پوچھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ انعام کیوں نہیں دیا گیا، تو چیئرمین نے جواب دیا: 'یہ کمیٹی ایک ایسے کمرے میں بیٹھتی ہے جس کی دیواروں پر تمام نوبیل انعام پانے والوں کی تصاویر ہیں اور وہ کمرہ حوصلے اور دیانت سے بھرا ہوا ہے۔ لہٰذا ہم صرف الفریڈ نوبیل کی خواہش اور ان کے اصولوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔'
اب یہ سننا تھا کہ جیسے وائٹ ہاؤس آگ بگولا ہو گیا۔ وائٹ ہاؤس نے نوبیل کمیٹی پر الزام لگایا کہ اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے وینزویلا کی جمہوریت حامی کارکن کو اپنا سب سے گرانقدر انعام دینے کے لیے ’امن پر سیاست‘ کی ہے۔
ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سمیت کئی مواقع پر نوبیل امن انعام کے لیے اپنا دعویٰ پیش کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے جمعہ کی صبح اعلان کے بعد کہا کہ نوبیل کمیٹی نے ثابت کیا کہ وہ سیاست کو امن پر ترجیح دیتے ہیں۔
چیونگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: 'صدر ٹرمپ امن معاہدے کرتے رہیں گے، جنگیں ختم کریں گے اور جانیں بچائیں گے۔ ان کے پاس ایک انسان دوست دل ہے اور ان جیسا کوئی اور نہیں ہو گا جو اپنی خواہش کی طاقت سے پہاڑوں کو ہلا سکے۔'
ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کا اعلان نوبیل امن انعام سے دو روز قبل کیا گیا تھا۔
صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ انھوں نے اپنے نو ماہ کے عہدے اور سابقہ مدت کے دوران متعدد عالمی تنازعات کا خاتمہ کیا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کے امریکی میڈیا پارٹنر سی بی ایس کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے مچاڈو کو مبارکباد دینے کے لیے فون کیا اور کہا کہ وہ اس ایوارڈ کی حقدار ہیں۔
بہر حال سنیئر سینیٹر کے برعکس صدر ٹرمپ نے رات وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: 'جس شخص کو نوبل انعام ملا اس نے آج مجھے فون کیا اور کہا، 'میں یہ آپ کے اعزاز میں قبول کر رہی ہوں کیونکہ آپ واقعی اس کے حقدار ہیں'۔۔۔ میں نے یہ نہیں کہا، 'یہ (نوبیل انعام) مجھے دے دو'۔ مجھے لگتا ہے کہ شاید ان کا خیال ہے کہ میں ان کی (جدوجہد میں) ان کی مدد کر رہا ہوں۔۔۔ میں خوش ہوں کیونکہ میں نے لاکھوں جانیں بچائیں۔۔۔'
’قلعہ نما گھر، سی آئی اے کا مخبر اور سیف روم تک پہنچنے کی کوشش‘: صدر مادورو کو پکڑنے کے لیے امریکی کارروائی میں کیا کیا ہوا؟’آپریشن جَسٹ کاز‘: امریکہ نے آخری بار کس مُلک کے صدر کو فوجی آپریشن کی مدد سے حراست میں لیا تھا؟’مودی ممبئی سازش کرنے والوں کو اٹھوا لیں، ٹرمپ کر سکتے ہیں تو آپ کیا کم ہیں‘: اسد الدین اویسی کا سیاسی بیان یا اُکسانے کی کوشش؟ٹرمپ کو ’امن کا نوبیل انعام نہ سہی کیمسٹری میں نوبیل تو ملنا ہی چاہیے‘صدر ٹرمپ کو ’دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر‘ رکھنے والے ملک وینزویلا سے کیا مسئلہ ہے؟F-16 طیارے، سخوئی جہاز مگر ایسی فوج ’جس میں بھاگنے والوں کی شرح زیادہ ہے‘: وینزویلا امریکی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟