’الزبیدی اماراتی افسران کی نگرانی میں ابوظہبی فرار ہوئے‘: سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کا دعویٰ

بی بی سی اردو  |  Jan 09, 2026

Getty Imagesسدرن ٹرانزیشنل کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی

یمن میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی سمندر کے راستے صومالی لینڈ پہنچنے کے بعد صومالی دارالحکومت موغادیشو سے ایک طیارے کے ذریعے متحدہ عرب امارات پہنچ چکے ہیں۔

جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں الزبیدی اور اُن کے ساتھیوں کے ’فرار کے حالات‘ کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ الزبیدی کو صومالی لینڈ سے موغادیشو لے جانے والا طیارہ اماراتی افسران کی نگرانی میں تھا اور ابوظہبی کے ایک فوجی ہوائی اڈے پر لینڈنگ سے قبل ایک گھنٹے تک انتظار کرتا رہا۔

بیان کے مطابق الزبیدی اور اُن کے ہمراہ موجود افراد منگل اور بدھ کی درمیانی شب عدن کی بندرگاہ سے فرار ہوئے، انھوں نے شناختی نظام بند کر دیا اور بدھ کی دوپہر وہ بیربرا بندرگاہ پہنچے۔

اتحاد کا کہنا ہے کہ بعد ازاں انھوں نے امارات کے مشترکہ آپریشنز کمانڈر میجر جنرل عواد سعید الاحبابی سے رابطے کے بعد موغادیشو سے طیارہ لیا جبکہ خلیجِ عمان کے اوپر شناختی نظام دوبارہ بند کیا گیا اور ابو ظہی کے الریف فوجی ہوائی اڈے پر لینڈنگ سے دس منٹ قبل اسے دوبارہ فعال کیا گیا۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ استعمال ہونے والا طیارہ ایلیوشن Il-76 تھا، جو عموماً تنازعات والے علاقوں اور (لیبیا، ایتھوپیا اور صومالیہ) کے درمیان پروازوں میں استعمال ہوتا ہے۔

یمن میں اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی نے تصدیق کی کہ اتحاد اُن افراد سے متعلق معلومات کی مسلسل پیروی کر رہا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عدن سے فرار سے قبل الزبیدی سے آخری بار ملے تھے۔ ان میں احمد حامد لملس (عدن کے سابق گورنر) اور محسن الوالی (عدن میں سکیورٹی بیلٹس فورس کے کمانڈر) شامل ہیں، جن سے رابطہ منقطع ہے۔

اس کے برعکس، جنوبی عبوری کونسل کے ترجمان انور التمیمی نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا کہ ’الزبیدی اب بھی یمن کے اندر موجود ہیں‘ جبکہ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے تبصرے کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔

ادھر صومالی امیگریشن اتھارٹی نے بھی اعلان کیا کہ وہ ’صومالی قومی فضائی حدود اور ہوائی اڈوں کے غیر مجاز استعمال‘ سے متعلق الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

سعودی مخالفت اور فوج کے انخلا کے بعد کیا یمن میں متحدہ عرب اماراتکا اثر و رسوخ ختم ہو گیا؟EPAیمن کے شہر عدن میں سعودی عرب کے خلاف ہونے والے ایک مظاہرے میں ایک شخص متحدہ عرب امارات کے صدر کی تصویر اٹھائے ہوئے ہے

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خاموش رقابت حال ہی میں یمن میں ہونے والی ایک حالیہ پیشرفت کے بعد کُھل کر سامنے آئی ہے، جس کے بعد مبصرین کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ اتحادی مسلمان ممالک علاقائی سطح پر مختلف پراکسی جنگوں میں الجھ سکتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات نے یمن سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ 30 دسمبر کو یمن کی بندرگاہ المکلا پر سعودی حملے کے بعد انھوں (یو اے ای) نے یہ فیصلہ اپنی مرضی سے کیا ہے۔

یاد رہے کہ 30 دسمبر کو سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد نے بندرگاہ المکلا پر حملے کرنے کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں متحدہ عرب امارات سے آنے والے اُن ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جو یمن میں موجود علیحدگی پسند گروپ ’سدرن ٹرانزیشنل کونسل‘ (ایس ٹی سی) کو دی جانی تھیں۔

یو اے ای نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی اور کہا تھا کہ اس سامان میں ہتھیار نہیں تھے جبکہ گاڑیاں یو اے ای کی فوج کے استعمال کے لیے تھیں۔

یمن میں اماراتی فوج کی موجودگی دراصل حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے زیرقیادت اتحاد کی فوجی مہم کا حصہ تھی۔ سنہ 2015 میں حوثیوں کی جانب سے یمن کے دارالحکومت صنعا اور ملک کے بیشتر شمالی حصے پر قبضے کے تناظر میں یہ فوجی کارروائی سعودی عرب کی سربراہی میں شروع کی گئی تھی۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے دو جنوری کو یمن سے اپنی افواج کے مکمل انخلا کا اعلان کیا تھا تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق امارات کے یہاں سے نکلنے کے بعد بھی یمن میں اس کا اثر و رسوخ ختم ہونے کا امکان نہیں۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حالیہ پیشرفت کے بعد سعودی عرب کے غصے سے بچنے کے لیے متحدہ عرب امارات یمن میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے اور ساتھ ہی ساتھ بحیرہ احمر اور افریقہ میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئی حکمت عملی استعمال کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

ایسا پہلے بھی ہو چکا۔۔۔AFPسعودی فضائی حملے میں یو اے ائی سے یمن پہنچنے والی فوجی گاڑیاں تباہ ہوئی تھیں

ابوظہبی کے اس اعلان کے بعد کہ وہ یمن میں اپنی فوجی موجودگی ختم کر رہا ہے، یمن سے متعلق امارات کی حکمت عملی میں ماضی میں کی گئی تبدیلیوں کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے جولائی 2019 میں بھی اعلان کیا تھا کہ وہ یمن سے اپنی افواج کو جزوی طور پر نکال رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے حوثیوں کے خلاف یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے سعودی قیادت والے اتحاد میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی نمائندگی کی تھی۔

تاہم جولائی 2019 میں کیے گئے اس اعلان کے بعد بھی یمن میں متحدہ عرب امارت کا اثرورسوخ کم ہوتا دکھائی نہیں دیا۔

اگلے ہی ماہ علیحدگی پسندوں اور حکومتی افواج کے درمیان جھڑپوں اور اماراتی فضائی حملوں کے باوجود ایس ٹی سی نے عبوری دارالحکومت عدن کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

سنہ 2020 میں ایس ٹی سی نے جنوبی یمن میں خود مختار حکمرانی کا اعلان کیا اور سقطری شہر کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ جزیرہ نما شہر بحیرہ عرب میں ایک ایسا تجارتی راستہ ہے جہاں متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے فوجی انخلا کا حالیہ اعلان ایسے وقت میں ہوا جب اماراتی فوج کی جانب سے اہم علاقے ایس ٹی سی کے حوالے کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ علیحدگی پسند گروپ حضرموت اور المہرہ کے علاوہ مبینہ طور پر ملک کے دیگر علاقوں میں بھی اپنی فورسز کو دوبارہ تعینات کر رہا ہے۔

جنوبی یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تنازع پر حوثیوں سے وابستہ ایک میڈیا آؤٹ لیٹ نے براہ راست فوجی طاقت کے استعمال کو مقامی دھڑوں کی پشت پناہی کی طرف تبدیلی کو ’پرانے استعماریت اور ایجنٹس کے لشکر تیار کرنے‘ کے طور پر بیان کیا۔

کشیدگی کم کرنے پر زور

30 دسمبر کو بندرگاہ المکلا پر فضائی حملہ، دونوں اتحادیوں (سعودی عرب، یو اے ای) کے درمیان ایک ایسا تصادم تھا جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی تاہم دونوں ممالک کے سرکاری میڈیا اور ذرائع ابلاغ نے اس حملے کے فوراً بعد ہی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی عکاسی کی۔

سعودی عرب کے اپنے خلیجی پڑوسی (یو اے ای) کے لیے نرم لہجے میں تنقیدی زبان استعمال کی جبکہ یمن میں سعودی سفیر محمد الجابر نے علیحدگی پسند تنظیم کے سربراہ ایدروس الزبیدی کے ’غیر ذمہ دارانہ‘ اقدامات کی مذمت کی۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پنپتی وہ خاموش رقابت جسے یمن میں پیش آئے حالیہ واقعے نے تازہ کر دیاسعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کشیدگی بڑھی تو کیا پاکستان غیرجانبدار رہ پائے گا؟یمن میں اماراتی حمایت یافتہ رہنما پر ’غداری‘ کا الزام، سعودی اتحاد کے فضائی حملے: ’وہ ریاض آنے کی بجائے فرار ہو گئے‘شاہ سے امام خمینی تک: کیا یمنی حوثی ’ایران کی کٹھ پتلی‘ ہیں؟

دوسری جانب امارات نے یمن کے شہریوں پر زور دیا کہ وہ تحمل سے کام لیں اور ملک کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت کو ترجیح دیں۔ اس موقع پر یو اے ای نے علیحدگی پسندوں کی حمایت کے الزامات کو بھی لگاتار مسترد کیا۔

علیحدگی پسندوں، غیر ریاستی عناصر اور مسلح ملیشیاؤں کی حمایت کے الزامات کے باوجود متحدہ عرب امارات نے سوڈان، صومالیہ اور لیبیا میں بھی اپنی ’سب سے پہلے امن‘ کے نعرے پر مبنی خارجہ پالیسی کو اپنایا۔

اماراتی حکومت نے تنازعات سے متاثرہ ان خطوں کی عوام کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے اپنے انسانیت پر مبنی کردار اور کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔

اسرائیل اور متحدہ عرب اماراتGetty Imagesمتحدہ عرب امارات نے سنہ 2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے تاریخی ’ابراہیم معاہدے‘ میں بھی اہم کردار ادا کیا

متحدہ عرب امارات کی حکمت عملی میں تبدیلی کا ایک اور پہلو اسرائیل کے ساتھ اس کا بڑھتا ہوا تعاون بھی ہے۔ اسرائیل کے بھی بحیرہ احمر میں اسی طرح کے عزائم ہیں جیسا کہ متحدہ عرب امارات کے۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل دونوں اپنے اقتصادی، توانائی اور دفاعی تعلقات کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ حوثیوں کا مقابلہ کرنے، ایرانی اثر و رسوخ کو روکنے اور خطے میں اسلامی بنیاد پرستی سے لڑنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ابوظہبی جو بندرگاہوں پر حاصل مراعات اور زمین کے حصول کے ذریعے افریقہ میں اثر و رسوخ حاصل کر رہا ہے، بحیرہ احمر، خلیج عدن اور بحر ہند میں بھی اپنی بحری تجارت کے تحفظ میں دلچسپی رکھتا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے سنہ 2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے تاریخی ’ابراہیم معاہدے‘ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے کے نتیجے میں بہت سے عرب ممالک نے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کیا۔

اگرچہ غزہ کی جنگ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے متحدہ عرب امارات پر بڑھتی علاقائی تنقید کی وجہ سے مستقبل میں مزید معاہدوں کے امکان کم ہو گئے تھے تاہم گذشتہ برس غزہ میں جنگ بندی کے بعد اب چیزیں بدلنے لگی ہیں۔

اسرائیل کا صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا اعلانGetty Images

سعودی حملے سے کچھ روز قبل ہی اسرائیل کی جانب سے باضابطہ طور پر صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے ’صومالی لینڈ‘ کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا اور بعض مبصرین اس اقدام کو یمن میں بڑھتی کشیدگی سے منسلک سمجھتے ہیں۔

اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فوراً بعد یہ خبریں سامنے آئیں کہ جنوبی یمن میں علیحدگی پسندوں کو امید ہے کہ اسرائیلی حکومت انھیں بھی تسلیم کر لے گی۔

اسرائیل کے پبلک براڈکاسٹر ’کان‘ نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل اور صومالی لینڈ کے ساتھ ساتھ یمن میں علیحدگی پسند قوتوں کے درمیان تعاون، ’شمالی یمن میں حوثیوں کے امن کو بہت زیادہ متاثر کر سکتا ہے‘ جو دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل جغرافیائی طور پر بحیرہ احمر میں کیسے اُن کے قریب پہنچ رہا ہے۔‘

یمن کی معروف ویب سائٹ ’المصدر آن لائن‘ نے اس پیشرفت کو خطے میں اسرائیل کے عزائم سے منسوب کیا۔

ویب سائٹ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اعلان یمن میں جاری تنازع اور قرن افریقہ، بحیرہ عرب اور بحیرہ احمر میں تیزی سے ہوتی علاقائی تبدیلیوں کے درمیان سامنے آیا۔

المصدر کی تحریر میں مزید کہا گیا کہ اس اعلان نے اسرائیل کے حقیقی مقاصد کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں جبکہ المصدر سے بات کرنے والے تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہ اقدام اہم بحری گزرگاہوں پر اثر و رسوخ اور کنٹرول کے لیے شدید علاقائی اور بین الاقوامی مقابلے سے منسلک ہے۔

فوجی تجزیہ کار بریگیڈیئر جنرل عبدالرحمان الربیعی نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کو جنوب مشرقی یمن میں ایس ٹی سی کے آپریشن سے منسلک کیا۔

انھوں نے تجویز دی کی کہ اس اقدام سے اسرائیل اور علیحدگی پسند تنظیم کے درمیان پہلے سے موجود ہم آہنگی کا اشارہ ملتا ہے، خاص طور پر اس کے سربراہ ایدروس الزبیدی نے علیحدگی حاصل کرنے کے بعد مبینہ طور پر اسرائیل کے ساتھ سیاسی تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

تجزیہ کار بریگیڈیئر جنرل عبدالرحمان الربیعی نے مزید کہا کہ ’اسرائیل سیاسی، فوجی اور اقتصادی مقاصد کے لیے بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور بحیرہ عرب میں تزویراتی توسیع کا خواب دیکھتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کا مقصد دو سب سے اہم اور سب سے بڑے عرب ممالک مصر اور سعودی عرب کو اپنے گھیرے میں لینا ہے کیونکہ وہ انھیں عرب علاقائی سلامتی کے ستون کے طور پر دیکھتا ہے۔‘

یمن میں اماراتی حمایت یافتہ رہنما پر ’غداری‘ کا الزام، سعودی اتحاد کے فضائی حملے: ’وہ ریاض آنے کی بجائے فرار ہو گئے‘سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پنپتی وہ خاموش رقابت جسے یمن میں پیش آئے حالیہ واقعے نے تازہ کر دیاشاہ سے امام خمینی تک: کیا یمنی حوثی ’ایران کی کٹھ پتلی‘ ہیں؟سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کشیدگی بڑھی تو کیا پاکستان غیرجانبدار رہ پائے گا؟سعودی تیل کی کہانی، یہ دولت کب آئی اور کب تک رہے گی؟متحدہ عرب امارات: ابوظہبی کے حکمران خاندان نے اپنی اور خطے کی قسمت کیسے بدلی؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More