ایک سلطنت کو تلواروں یا توپوں سے نہیں بلکہ کتوں کی مدد سے فتح کرنے کی کہانی: ’وہ اتنے بڑے تھے کہ لوگوں کو لگا شیر ہیں‘

بی بی سی اردو  |  Jan 10, 2026

Getty Images

تقریباً 500 سال قبل ہسپانوی لوگوں کو زیر کرنے کے لیے جو زندہ ہتھیار ہسپانوی یورپ سے لائے تھے وہ تلواروں، کمانوں، توپوں اور گھوڑوں کی طرح ہی خوفناک تھے۔ یہ ہتھیار تھے ’کتے‘۔

ہسپانوی بادشاہت کے بہت حملوں میں وہ لوگ بطور ہتھیار کُتّوں کی طاقتور نسلیں لے کر آئے، جیسے کہ ہسپانوی الانو یا جرمن بلن بائیسر، مشنوں یا بستیوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں پر حملہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

ان حملوں کے دوران مقامی لوگوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے کتوں کو ایک حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

مقامی لوگ اس جانور کی چھوٹی، دوستانہ نسل سے واقف تھے لیکن اس طرح کے جارحانہ جانور کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔

پیرو کی فوج کے کرنل کارلوس اینریک فریئر نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’کتا ایک ہتھیار کے طور پر کام کرتا ہے۔ کتے کے سائز، اس کی تربیت اور کتے کو سنبھالنے والے سے متعلق ایک پورا عمل تھا۔‘

ان کا تازہ ترین ناول ’کتے کی سرزمین‘، پیرو پر فتح کے دوران ہسپانوی دستے کے لیے کتوں کے ایکگروہ کی تربیت اور حفاظت کے انچارج ’ڈاگ ہینڈلر‘ کی کہانی بیان کرتا ہے۔

کتے صدیوں سے کیوں اہم رہے ہیں؟

ہسپانوی فوج میں کتوں کے استعمال پر بہت کم لٹریچر دستیاب ہے اور ان کی صرف چند تصویریں ہی مل سکتی ہیں۔

فریئر کا کہنا ہے کہ وہ شمال مغربی پیرو کے شہر ٹمبس کے دورے کے دوران اس موضوع کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔

وہاں انھوں نے اس وقت کے کئی مورخین کی تحریروں کا جائزہ لیا، جنھوں نے مقامی ثقافت کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور فتح کے دوران ہونے والے مظالم کو بھی بیان کیا۔

مصنف لکھتے ہیں ’وہ ان کتوں کے بارے میں بات کرتے ہیں اور ان کے نام بتاتے ہیں۔ بہت سے معاملات میں وہ ان کی خصوصیات بھی بیان کرتے ہیں۔ یہ کتے ٹمبس پہنچے اور انھوں نے وہاں رہنے والے لوگوں کو ختم کر دیا۔‘

Getty Imagesکچھ فنکاروں نے بیان کردہ مناظر کی تصویر کشی کی، جس میں مقامی لوگوں کو سزا دینے کے لیے کتوں کا استعمال بھی شامل ہے

تاریخی واقعات پر مبنی اپنے افسانوی ناول میں، ٹوماس ڈی جیرز ایک بااثر کتے کے ہینڈلر بن جاتے ہیں جس کا نامبالڈومیرو ہے۔

تاہم امریکہ کی ابتدائی دریافت کے دوران فوجی رہنما واسکو نیوز ڈی بالبوا کے پاس کتے تھے، جن میں لیونسیکو نامی ہسپانوی مستوف بھی شامل تھا۔

لیونسیکو دراصل بیسیرلیو نامی کتے کی نسل سے تھے، جسے فوجی رہنما جوآن پونس ڈی لیون جزیرے ہسپانیولا اور موجودہ پورٹو ریکو کی مہم کے دوران اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

فریئر لکھتے ہیں ’واسکو نویز ڈی بالبوا کو اپنے کتے بیسیریلو سے بہت پیار تھا۔‘

ناول کے لیے تحقیق کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کے بارے میں بات کرتے ہوئے مصنف کا کہنا ہے کہ ’حقیقی زندگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جب واسکو نیونیز پہلی بار بحرالکاہل دیکھنے گئے، انھوں نے اس سمندر کو دیکھنے کا حق اپنے لیے محفوظ رکھا اور وہ بھی اپنے کتوں کے ساتھ۔ ان کے تمام افسران اور دستے پیچھے رہ گئے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے مجھے کتے اور کتے کو سنبھالنے والے کے درمیان قریبی تعلق کا احساس دلایا‘۔

16ویں صدی کے پہلے نصف میں مقامی امریکی علاقوں کی دریافت اور نوآبادیات کے ابتدائی دنوں سے کتوں کی بہت اہمیت تھی۔

Getty Imagesواسکو نے اپنے کتے کے ساتھ پہلی بار بحرالکاہل کا نظارہ کیاکتے جنگ کا ہتھیار کیسے بن گئے؟

ایمازون کے علاقے کی تلاش کے دوران، ہسپانوی اپنے ساتھ 2,000 کتے لے گئے۔

فرانسسکو پیزارو ان مردوں میں سے ایک تھے جنھوں نے اس مہم کی قیادت کی جس نے بالآخر ’اِنکا سلطنت‘ کو فتح کیا اور ابتدائی طور پر جن جگہوں سے وہ گزرے ان میں سے ایک ٹمبس تھا۔

فریئر کہتے ہیں کہ ’مقبول خیال کے برعکس، ان کے پاس اتنے گھوڑے نہیں تھے۔ اس کے علاوہ، بندوقیں اور پستول جیسے ہتھیار آج کے مقابلے میں بہت کم دستیاب تھے۔ جہاں بندوقیں، تلواریں یا گھوڑے نہیں جا سکتے تھے، کتے جا سکتے تھے۔‘

کتوں کی تربیت کرنے والوں نے انھیں مقامی آبادی پر چھوڑ دیا۔ یہاں کے لوگ یورپ سے درآمد کیے گئے اتنے بڑے اور جارحانہ طور پر تربیت یافتہ کتوں کی نسلوں سے ناواقف تھے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ’یہ ہسپانوی کتے بڑے تھے۔ اس لیے جو کچھ مقامی لوگوں کو لگا کہ وہ کتے نہیں بلکہ شیر تھے۔‘

گیٹلنگ گن: وہ خودکار ہتھیار جس نے دنیا میں روایتی جنگ اور تاریخ کا دھارا پلٹ کر رکھ دیافضا میں اڑنے والا ٹینک جو جنگ کا تصور تبدیل کر سکتا تھاکتے نے آنکھوں سے جذبات کا اظہار کیسے سیکھا؟کتے اپنے مالک کی سانس سونگھ کر ذہنی تناؤ کی نشاندہی کر سکتے ہیںمیدان جنگ میں کتے کیسے بچتے تھے؟

کتوں کے جھنڈ کا استعمال صرف ’اِنکا‘ سلطنت تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ کیریبین، وسطی امریکہ اور میسوامریکہ کے بہت سے علاقوں میں رائج تھا۔

قبائلی مزاحمت کو دبانے اور سزا دینے کے لیے کتوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔

’شاندار لارڈ الونسو لوپیز، میئر آف سانتا ماریا ڈی لا وکٹوریا اور انڈین ڈاگ کلر‘ جو نیشنل آٹونومس یونیورسٹی آف میکسیکو کی طرف سے شائع ہوئی۔

اس میں لکھا ہے کہ ’سولہویں صدی کے وسط میں، کواٹل دے امیتاتان کو دھوئیں اور بت پرستی کی مشق کرنے، شیطان کو طلب کرنے، ایمان کی چیزوں کو نہ رکھنے یا مسیحی عقیدے کا احترام نہ کرنے، چرچ کی صفائی کی غفلت اور اپنے شہر کے مقامی لوگوں کو عقیدے میں شرکت نہ کرنے کا حکم دینے پر کتوں کے ہاتھوں قتل اور جلانے کی سزا سنائی گئی،‘

Getty Imagesفرانسسکو پیزارو نے اِنکا کے علاقے میں اپنی پیشقدمی کے لیے کتوں کا بھی استعمال کیا

مؤرخ میگوئل لیون پورٹیلا نے ’دی ڈیسٹنی آف دی ورڈ‘ میں موجودہ میکسیکو کے مقامی لوگوں کی کہانیاں بھی لکھیں۔

ایک کہانی میں بتایا گیا ’اور ان کے کتے بہت، بہت بڑے ہیں۔ ان کے بڑے جبڑے کانپتے ہیں، ان کی آنکھیں سوجی ہوئی ہیں، آنکھیں انگاروں کی طرح پیلی ہوتی ہیں، ان کے پیٹ پتلے ہوتے ہیں، نالی دار پیٹ، بغیر گوشت کے پیٹ، وہ بہت بڑے ہیں، وہ پرسکون نہیں، وہ ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں، ان کی زبانیں باہر نکلی ہوتی ہیں، ان پر جیگوار جیسے دھبے ہوتے ہیں، مختلف رنگوں کے دھبے ہوتے ہیں۔‘

فریئر نے ’لینڈ آف ڈاگز‘ کو پیرو میں مرکوز کرنے کی کوشش کی، اس کی وہ وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ تاکہ ’کہانی قابو سے باہر نہ ہو‘ ۔

وہ یقین رکھتے تھے کہ سخت قدیم کہانیوں کو قابو میں رکھنا ضروری ہے۔

مصنف نے کہا کہ ’متن میں تشدد کا استعمال وضاحتی ہے لیکن اتنا نہیں کہ لوگ کتاب بند کر کے کہیں، ’یہ کتنا بدصورت ہے۔‘ اس میں کچھ توازن ہونا ضروری تھا۔‘

Getty Imagesکتوں کو امریکی لوگوں کے خلاف حملوں میں بھی استعمال کیا جاتا تھا کتوں کا کام ختم ہونے کے بعد کیا ہوا؟

علاقوں اور آبادیوں پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد، یہ کتے اپنا اصل مقصد کھو بیٹھے اور وقت کے ساتھ ہسپانویوں کے لیے سر درد بن گئے۔

چونکہ انھیں مزدورں کی ضرورت تھی، جس میں غلام مزدور بھی شامل ہوتے، اس لیے مقامی آبادی کو مزید تباہ کرنا ممکن نہیں تھا اور کتوں کی موجودگی اور جارحیت ایک مسئلہ بن گئی۔

فریئر وضاحت کرتے ہیں کہ سپین میں تاج کی طرف سے امریکہ کے مختلف کمانڈروں کو خطوط بھیجے گئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ کتوں کو ختم کر دیں تاکہ مزید مسائل سے بچا جا سکے۔

’انہوں نے دیکھا تھا کہ انھیں آزاد چھوڑنے سے وہ جھنڈ کی شکل میں ہسپانویوں اور مقامی لوگوں دونوں سے لڑتے ہیں اور یہی وجہ ہے کتوں سے ہونے والے نقصان کے بارے میں قوانین سامنے آئے۔‘

Alfaguara

تاہم کئی برسوں سے تربیت کرنے اور لڑائیوں میں ساتھ رہنے سے ان کے سنبھالنے والوں نے اپنے کتوں کے ساتھ خاص رشتہ قائم کر لیا تھا اور اس کے برعکس بھی جو ’لینڈ آف ڈاگز‘ کی کہانی میں بھی جھلکتا ہے۔

فریئر کا کہنا تھا کہ ’یہ کتے اور اس سپاہی کے درمیان بہت قریبی رشتہ ہے جس نے اسے پالا۔ ‘

نتیجتاً کچھ کے لیے شاہی احکامات کے باوجود اپنے پسندیدہ کتے کو چھوڑنا ناقابل تصور تھا۔

مقامی زمینوں میں ہسپانوی حکمرانی کے استحکام کے ساتھ، کتوں نے آہستہ آہستہ جنگی ہتھیاروں کی حیثیت کھو دی، اور مقامی لوگوں کو غلامی میں شامل کرنے کے ان کے کردار کی یاد مدھم پڑ گئی۔

آہستہ آہستہ ان کا کردار صرف حفاظت اور ساتھ دینے تک محدود ہو گیا۔

صرف چند جارح کتے جیسے بیسیریلو یا لیونسیکو لوگوں کی یادداشت میں باقی رہے۔

’ولف ڈاگ‘ کی خاطر بھیڑیوں کی نسل کشیچرنوبل کے پناہ گزینکتے نے آنکھوں سے جذبات کا اظہار کیسے سیکھا؟کتے اپنے مالک کی سانس سونگھ کر ذہنی تناؤ کی نشاندہی کر سکتے ہیںفضا میں اڑنے والا ٹینک جو جنگ کا تصور تبدیل کر سکتا تھاگیٹلنگ گن: وہ خودکار ہتھیار جس نے دنیا میں روایتی جنگ اور تاریخ کا دھارا پلٹ کر رکھ دیا
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More