Rachel Bloorریچل کے خیال میں اژدہا کھڑکی کے راستے کمرے میں داخل ہوا اور اس کے نیچے موجود بستر پر آ گیا تھا
آدھی رات کو گہری نیند میں جب اچانک ریچل بلور کی آنکھ کھلی تو سینے پر بھاری بوجھ کا احساس موجود تھا
جاگنے پر انھوں نے اپنے کتے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس کی جگہ خود کو ایک نرم اور رینگتی ہوئی چیز کو سہلاتے ہوئے پایا۔
اسی اثنا میں بستر پر ہی موجود ان کے ساتھی نے لیمپ آن کیا اور برسبین سے تعلق رکھنے والے اس جوڑے کے خدشات کی تصدیق ہو گئی۔
ریچل بلور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس نے کہا، اوہ بے بی، بالکل حرکت مت کرنا یہ تقریباً ڈھائی میٹر لمبا اژدہا ہے۔‘
ریچل کے مطابق یہ سن کر سب سے پہلے تو ان کے منہ سے گالی نکلی اور پھر فوراً ہی انھوں نے اپنے کتوں کو کمرے سے باہر جانے کو کہا۔
’میں نے سوچا اگر میرے دالمیشینز کو پتا چل گیا کہ یہاں سانپ ہے تو پھرتباہی ہو گی۔‘
کتوں کو کمرے سے باہر نکالنے اور اپنے شوہر کو ان کے پاس رہنے کی تلقین کرنے کے بعد ریچل نے احتیاط سے خود باہر نکالنے کی کوشش شروع کی۔
’میں بس کمبل کے نیچے سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ ساتھ ہی یہ سوچ بھی رہی تھی ’کیا یہ واقعی ہو رہا ہے؟ یہ بہت عجیب چیز ہے۔‘
ریچل کے خیال میں یہ اژدہا جو زہریلا نہیں تھا، ان کی کھڑکی کے راستے کمرے میں داخل ہوا اور ان کے نیچے موجود بستر پر آ گیا تھا۔
Rachel Bloorاژدہا اتنا لمبا تھا کہ اس کی دم کھڑکی سے باہر ہی لٹک رہی تھی
اژدہے سے دور ہونے کے بعد ریچل نے اسے اسی راستے سے واپس نکالنے کی کوشش شروع کر دی جس سے وہ آیا تھا۔
’وہ اتنا بڑا تھا کہ اگرچہ وہ مجھ سے لپٹا ہوا تھا پھر بھی اس کی دم کا کچھ حصہ ابھی بھی کھڑکی سے باہر ہی تھا۔ میں نے اسے پکڑا اور تب بھی وہ زیادہ گھبرایا ہوا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ میرے ہاتھ میں بس مچل رہا تھا۔‘
ریچل کے مطابق ان کے مقابلے میں ان کے شوہر زیادہ گھبرائے ہوئے تھے لیکن وہ خود زیادہ پریشان نہیں ہوئیں کیونکہ وہ ایسے علاقے میں پلی بڑھی ہیں جہاں سانپ عام پائے جاتے تھے۔
’میرا خیال ہے اگر آپ پرسکون رہیں تو وہ بھی پرسکون رہتے ہیں۔‘
ریچل کا کہنا ہے کہ شکر ہے کہ یہ اژدہا تھا اور اگر یہ کین ٹوڈ (بید کا مینڈک) ہوتا، جو ملک کے سب سے نقصان دہ اور بدصورت کیڑوں میں سے ایک ہے، تو کہانی الگ ہوتی۔‘
’میں انھیں برداشت نہیں کر سکتی، انھیں دیکھ کر مجھے قے آنے لگتی ہے تو اگر یہ بید کا مینڈک ہوتا تو مجھے بہت ڈر لگتا۔‘
خیال رہے کہ کارپٹ پائتھن آسٹریلیا کے ساحلی علاقوں میں عام ہیں اورعام طور پر چھوٹے ممالیہ جیسے پرندوں کو کھاتے ہیں۔
دنیا میں سانپوں کی دس خطرناک ترین اقسام: ’ان لینڈ پائیتھن کے منھ سے خارج ہونے والا زہر 100 لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے‘200 بار سانپ کے ڈسے انسان کا خون جو کئی لوگوں کی جانیں بچا سکتا ہے’کوبرا کے کٹے ہوئے سر نے ڈس لیا‘: کیا سانپ اپنی موت کے بعد بھی کاٹ سکتا ہے؟