Getty Images
’سوری میرا انٹرنیٹ نہیں چل رہا تھا اس لیے آپ کا مسیج دیر سے ملا۔‘
’میڈم آج کارڈ نہیں چلے گا انٹرنیٹ بند ہے، اس لیے صرف کیش چلے گا۔‘
پاکستان میں یہ جملے ہمیں اکثر سننے کو ملتے ہیں اور ہم میں اکثر افراد کو بعض اوقات ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب موبائل فون جیسی سہولت کسی مشکل صورتحال میں سگنل نہ آنے یا انٹرنیٹ نہ چلنے کے سبب ہمارے کام نہیں آ پاتی۔
تاہم اب پاکستان میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی اور ٹیلی کام سیکٹر میں فائیو جی سروس متعارف کروانے کے لیے سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی 26 فروری کو ہو رہی ہے جس کے تحت پاکستان میں موجود ٹیلی کام کمپنیوں کو 700 میگا ہیڈز سے 3500 میگا ہیڈز کی مختلف فریکونسی کے لائسنس 15 سال کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔
پاکستان ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے نیلامی کے لیے جاری انفارمیشن میمورینڈم کے مطابق ملک میں سنہ 2035 تک تین مختلف مرحلوں میں فائیو جی لانچ کیا جائے گا۔ نیلامی کی شرائط کے مطابق پہلے مرحلے میں ٹیلی کام کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ سنہ 2028 تک ملک کے بڑے شہروں میں فائیو جی لانچ کریں اور فور جی کی سپیڈ کو بھی بڑھا کر کم سے کم 20 ایم بی تک کیا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی سے موبائل فون سروسز فراہم کرنے والی سیلولر کمپنیاں اور انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی زیادہ برینڈوتھ کے ذریعے تیز سروس فراہم کریں گے۔
پاکستان میں ماضی میںانٹرنیٹ اور موبائل فون کے سگنلز سکیورٹی یا دیگر وجوہات کو جواز بنا کر بند کیے جاتے رہے ہیں اور اکثر اوقات میں ملک میں موجود انٹرنیٹ کی سپیڈ اتنی سست ہو جاتی ہے کہ لگتا ہے انٹرنیٹ لگ بھگ بند ہو گیا ہے۔
سپیکٹرم کا لائسنس، برینڈورتھ، فائیو جی سروسز، یہ سب کافی ٹیکنکل معاملات ہیں اور عمومًا عوام کی اولین ترجیح تیز رفتار اور بلا تعطل انٹرنیٹ ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کو سمجھے بغیر سست رفتار انٹرنیٹ کا مسئلہ سمجھ نہیں آئے گا۔
چلیں اصلاحات کو سمجھتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا تیز رفتار انٹرنیٹ کا خواب پورا کرنے کے لیے صرف سپیکٹرم لائسنس ہی جادو کی چھڑی ہے؟ یا پھر کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ حکومت موٹر وے بنا رہی ہے لیکن اُس پر چلانے کے لیے عوام کے پاس گاڑی ہی نہ ہو۔
Getty Imagesفروری کے آخری ہفتے میں سپیکٹرم کی نیلامی
پاکستان میں ٹیلی کیمونیکشن انڈسٹری کے ریگولیٹری ادارے پی ٹی اے نے سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی کے لیے قواعد و ضوابط جاری کرتے ہوئے نیلامی میں حصہ لینے والی ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے کم سے کم رقم یا بیس پرائس کا اعلان کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق کم بینڈ والے یعنی 700 میگا ہیڈز کے سپیکٹرم کی نیلامی کی کم سے کم قیمت 65 لاکھ ڈالر جبکہ 3500 میگا ہیڈز سپیکٹرم کی نیلامی کی کم سے کم قیمت ساڑھے چھ لاکھ ڈالر ہے۔
کامیاب قرار دی جانے والی کمپنیوں کو یہ رقم ڈالر کے بجائے پاکستانی کرنسی میں ادا کرنی ہو گی۔
سپیکٹرم خریدنے والی کمپنی کو شروع میں کوئی ادائیگی نہیں کرنی پڑے گی لیکن انھیں پہلے سال کے اختتام پر 50 فیصد رقم ادا کرنی ہو گی جبکہ باقی 50 فیصد رقم پانچ اقساط میں ادا کی جائے گی۔
اس اعلامیے کے تحت پی ٹی اے نے ڈیجیٹل تبدیلی لینے کے لیے تین مراحل پر مشتمل نو سال کے حکمتِ عملی بھی جاری کی ہے جس کے تحت سنہ 2026 سے سنہ 2028 تک ٹیلی کام کمپنیاں ناصرف فور جی سروس کی کم سے کم حد کو چار ایم بی سے بڑھا کر 20 ایم بی کریں گی بلکہ فائیو جی سروس بھی لانچ کریں گے۔
اس حکمت عملی کا دوسرا مرحلہ سنہ 2030 اور آخری مرحلہ سنہ 2035 میں ختم ہو گا اور آخری مرحلے تک ملک میں بیشتر شہروں میں فائیو جی سروس دستیاب ہوں گی۔
پی ٹی اے کے ریگولیشنز کے تحت ٹیلی کام آپریٹر ہر سال 20 فیصد نئے مقامات پر موبائل فون سروس کی ایڈونس ٹیکنالوجی کو یقینی بنائیں گے۔
Getty Imagesپاکستان میں اِس وقت انٹرنیٹ سست کیوں ہے اور یہ تیز کیسے ہو گا؟
پاکستان میں انٹرنیٹ چاہے آپ موبائل پر استعمال کریں یا گھر پر کیبل انٹرنیٹ کے ذریعے، اُس کے لیے یہ کمپنیاں 274 میگا ہیٹز سپیکٹرم استعمال کرتی ہیں یعنی انٹرنیٹ اور ٹیلی کام کی ساری ٹریفک اسی راستے سے گزر کر جائے گی۔
سپیکٹرم سے مراد فضا میں موجود وہ راستے ہیں جو کمپنیوں کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ جوں جوں پاکستان میں انٹرنیٹ کا استعمال بڑھا ہے صارفین کی تعداد بڑھنے سے اس راستے یعنی سپیکٹرم پر رش بڑھ گیا ہے اور ہمیں آئے روز سست انٹرنیٹ، سگنل پورے نہ ملنے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ٹیلی کام انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جو سپیکٹرم استعمال ہو رہا ہے وہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے یعنی بنگلہ دیش کی حکومت نے بھی 600 سے زیادہ سپیکٹرم استعمال کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔
ٹیلی کام شعبے کے ماہر پرویز افتخار کا کہناہے کہ پاکستان میں ٹیلی کام کے شعبے کے لیے دستیاب سپیکٹرم خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں آدھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ کی ڈیٹا سپیڈ کم ہو جاتی ہے اور نیٹ ورک کے جام ہونے جیسے شکایات سامنے آتی ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انٹرنیشنل ٹیلی کیمونیکیشن یونین کے مطابق براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے لیے 900 سے زائد میگا ہیڈز سپیکٹرم درکار ہوتا ہے لیکن پاکستان میں حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی۔
پاکستان کی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نےفروری میں فائیو جی سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں کام کرنے والی ٹیلی کام کمپنیاں اضافی سپیکٹرم خرید سکیں گی۔
ماہرین کے خیال میں یہ ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے حوصلہ بخش اقدام ہے کیونکہ اس سے ٹیلی کام کے شعبے کے پاس 700 میگا ہیڈز سپیکٹرم موجود ہو گا جس سے انٹرنیٹ کی سپیڈ، کالز کی کوالٹی اور بہتر ڈیٹا سروسز دستیاب ہو گی۔
انڈسٹری سے وابستہ افراد سپیکٹرم بڑھنے کے اعلان پر خوش ضرور ہے لیکن اُن کے خیال میں اس سپیکٹرم کو فائیو جی کے اجرا کے ساتھ منسلک کرنا ضروری نہیں ہے۔
ماہر ٹیلی کام سیکٹر اسلم حیات کا کہنا ہے کہ سپیکٹرم کے اجرا سے صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ تو ملے گا لیکن اسے انٹرنیٹ کی سروسز کو بہتر کرنے کو فائیو جی ٹیکنالوجی سے منسلک نہیں کرنا چاہیے۔
ڈیجیٹل پاکستان کا خواب، زمینی حقائق اور فائیو جی ٹیکنالوجیGetty Images
پاکستان میں دس سال قبل فور جی ٹیکنالوجی متعارف کروائی گئی تھی اور اس وقت ملک میں فور جی اور تھری جی ٹیکنالوجی دونوں موجود ہیں لیکن خطے کے دیگر ممالک کی طرح فائیو جی ٹیکنالوجی دستیاب نہیں ہے۔
ملک میں ہونے والے حالیہ حکومتی ہاؤس ہولڈ سروے کے مطابق 70 فیصد گھرانوں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے جبکہ ملک کی 57 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔
وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کی ٹیلی کام کمپنیاں ملک میں جلد فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کروائیں گی۔ انھوں نے کہا تھا کہ سپیکٹرم لائسنس کے بعد ملک میں فور جی انٹرنیٹ کی سروسز بھی بہتر ہوں گی۔
لیکن ٹیلی کام انڈسٹری سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فائیو جی استعمال کرنے والے صارفین کی نہ صرف تعداد بہت کم ہے بلکہ بہت ہی کم افراد ایسے موبائل فون سیٹ یا انٹرنیٹ موڈیم خریدنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس پر فائیو جی ٹیکنالوجی چل سکے۔
پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش سے کاروبار زندگی متاثر: ’سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں ڈال سکے تو آرڈر بھی نہیں ملے‘دنیا کو تبدیل کر دینے والا انٹرنیٹ پاکستان میں کب اور کیسے آیا؟سٹارلنک اور سوا چار ارب ڈالر کی منشیات: مسک کے سیٹلائیٹ انٹرنیٹ کی مدد سے سمگلنگ جس نے انڈین پولیس کو پریشان کر دیاپاکستان میں سست انٹرنیٹ کی وجہ واقعی وی پی این کا زیادہ استعمال ہے؟
ٹیلی کام سیکٹر کے ماہر اسلم حیات کا کہنا ہے کہ پاکستان مختلف وجوہات کے سبب خطے میں ٹیکنالوجی کے لحاظ سے پیچھے رہ گیا ہے اس لیے حکومت سپیکٹرم کے ساتھ فائیو جی بھی لانا چاہتیہے لیکن اُن کا کہنا ہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کو لانے سے پہلے اُس کے لیے ساز گار ماحول بنایا ضروری ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسلم حیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کام کمپمنیاں سخت ریگولیشن اور انتہائی سخت مقابلے میں کام کر رہی ہیں ٹیلی کام سیکٹر پر ٹیکسز اور پھر روپے کی قدر میں کمی سے اُن کے اخراجات بڑھ گئے ہیں ایسے میں فائیو جی کی شرط لاگو کرنے سے ٹیلی کام کمپنیوں پر مزید بوجھ بڑھے گا۔
پاکستان موبائل آپریٹرز ایڈوائزری کونسل کے ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف دو فیصد صارفین کے پاس ایسے آئی فون، سام سنگ یا مہنگے چینی کمپنیوں کے بنے موبائل فونز ہیں جن پر فائیو جی ٹیکنالوجی چل سکتی ہے۔ تاہم بی بی سی اس اندازے کی تصدیق نہیں کر سکتا ہے۔
ملکی سطح پر بننے والے موبائل فونز، جو زیادہ تر افراد استعمال کرتے ہیں، میں سے 60 فیصد فونز پر صرف ٹو جی ہی چلتا ہے۔ ایسے میں مقامی سطح پر بننے والے فونز اب کم قیمت فور جی فونز بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگر فائیو جی ٹیکنالوجی آتی ہے تو یہ صرف محدود طبقے کے لیے ہی قابلِ استعمال ہو گی۔
انٹرنیٹ کمیونیکشن ٹیکنالوجی کے ماہر پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی اپ گریڈ کرنا ضروری ہے اور اگر حکومتی علامتی طور فائیو جی متعارف کروانا چاہتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
لیکن وہ اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان میں فی الحال فائیو جی ٹیکنالوجی کی کھپت نہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ فائیو جی کا زیادہ استعمال عام صارفین کے بجائے بڑے پیمانے پر اُن سیکٹر میں ہوتا ہے جہاں رییئل ٹائم پر ڈیٹا اکٹھا کیا جائے، جیسے ایگریکلچر فارم، کیٹل فارم جہاں سینسرز کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اُن کے مطابق کلاوڈ یا ڈیٹا سینٹرز ابھی پاکستان میں کم ہیں لیکن مستقبل میں بڑھیں گے اس لیے فائیو جی ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن ضروری ہے۔
Getty Imagesحکومت کا فائیو جی کا اصرار اور کمپنیوں کی ہچکچاہٹ
حکومت نے ملک میں فائیو جی کے اجرا کے لیے پلان تو جاری کر دیا ہے لیکن سیلولر یا موبائل فون سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی لانے کے لیے کمپنیوں کو اپنے انفرسٹرکچر کو اپ ڈیٹ کرنا پڑے گا جس کے لیے انھیں دوسرے ممالک سے مشینری منگوانی پڑی گی، اور دوسری جانب صارفین کی قوتِ خرید کم ہونے سے مارکیٹ میں اس کی ڈیمانڈ نہیں ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ موبائل کمپنیوں کے صارفین کی اکثریت وہ ہے جو پری پیڈ پیکجز خریدتی ہے یعنی کمپنی کی آمدن کا زیادہ تر حصہپوسٹ پیڈ یا ماہانہ بلنگ کے بجائے پری پیڈ پر منحصر ہے۔ ایسے میں فائیو جی کے ممکنہ صارفین کی تعداد اور کم ہے۔
پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں موبائل فون استعمال کرنے والے افراد کی تعداد 19 کروڑ 25 لاکھ ہے۔ پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی کے اعدادوشمار کے مطابق 14 کروڑ 98 لاکھ افراد کے پاس براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے لیکن بڑی تعداد میں صارفین ہونے کے باوجود بھی ٹیلی کام انڈسٹری کا زیادہ تر انحصار کم فون استعمال کرنے والے پری پیڈ صارفین پر مشتمل ہے۔
یہی سبب ہے کہ ٹیلی کام انڈسٹری کی فی صارف اوسط آمدن یا ریونیو ایک ڈالر ہے جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام ڈی ریگولیٹڈ سیکٹر ہے اور حکومت کے بجائے اس فائیو جی لانے یا نہ لانے کا فیصلہ ٹیلی کام کمپنیوں کو ہونا چاہیے۔
ماہر افتخار پرویز بھی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان میں انٹرنیٹ یا موبائل فون سروسز دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں سستی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں مارکیٹ بہت بڑی نہیں ہے لیکن اس میں موجود کمپنیوں کے لیے مقابلہ بہت سخت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ اس کا فائدہ عوام یا صارفین کو ہوتا ہے لیکن ٹیلی کام سیکٹرز کے مارجنز یا منافع بہت زیادہ نہیں ہیں۔
افتخار پرویز کا کہنا ہے کہ سخت مقابلہ ہے اور ٹیکسز زیادہ ہیں اور اس ٹیکنالوجی کو مستقل اپ گریڈیشن کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ان کے اخراجات بھی جاری رہتے ہیں۔
اُن کے بقول ان کمپنیوں کے ذریعے پورے ملک میں زبردستی فائیو جی لانچ کروانا بے سود ہے کیونکہ مخصوص جگہوں پر فائیو جی ٹھیک ہے لیکن زیادہ ضروری یہ ہے کہ فور جی کی سروسز کو بہتر کیا جائے تاکہ بغیر روکے تیز انٹرنیٹ چلے۔
ٹیلکام آپریٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عامر ابراہیم نے اخبار بزنس ریکاڈر میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ مناسب اقدامات مدنظر نہ رکھتے ہوئے فائیو جی ٹیکنالوجی کا نفاذ، فائدے سے زیادہ نقصان دہ ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ عوام کی اکثریت کے پاس فائیو جی والے فون نہیں ہیں اور جبری طور پر اگر فائیو جی نافذ کیا گیا تو یہ دو دھاری تلوار ہے کیونکہ ٹیکنالوجی اپ گریڈ کے لیے موبائل فون آپریٹرز کو کئی سازوسامان باہر منگوانے پڑیں گے لیکن فائیو جی کو استعال کرنے والے صارفین موجود نہیں ہیں۔
ٹیلی کام سیکٹر کے ماہر اسلم حیات کا کہنا ہے کہ ملک میں فائیو جی کا فی الحال استعمال بہت کم ہے اور ابتدا میں یہ کمپنیوں کے لیے اضافی خرچ ہے جس کی طلب یا ضروری کم ہے۔
اُن کے بقول علامتی طور پر ملک میں فائیو جی ہونا ضروری ہے لیکن حکومت کو چاہیے تھا کہ پہلے طلب بڑھانے کے لیے ماحول ساز گار کرتے کیونکہ آپریٹر سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ٹیکنالوجی بھی لائے اور ڈیمانڈ بھی پیدا کرے۔
اسلم حیات کا کہنا ہے کہاگر ایک بار کوئی ٹیکنالوجی آ جاتی ہے تو بتدریج اُس کی ڈیمانڈ پیدا ہو جاتی ہے لیکن اُس میں وقت لگتا ہے۔
ٹیلی کام سیکٹر کے ماہر پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں زیادہ سپیکٹرم موجود ہو اور دوسری نمبر ڈیٹا کی منتقلی کے لیے یا تیز ڈؤان لوڈنگ اور اپ لویڈنگ کے لیے ضروری ہے کہ موبائل ٹاورز فائبر آپٹک کیبل سے منسلک ہوں۔
ماہر پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیوں کے صرف 15 فیصد موبائل ٹاور فائبر آپٹک کیبل سے منسلک ہیں جبکہ یہ شرح انڈیا اور بنگلہ دیش میں زیادہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ تیز انٹرنیٹ سروس کے لیے پہلے یہ اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
پاکستان میں سپیکٹرم میں تاخیر کیوں ہوئی ہے؟
پاکستان میں اس قبل بھی کئی مرتبہ حکومت سپیکٹرم کی نیلامی کی ہے لیکن زیادہ لائسنس فیس اور سخت ریگولیشنز کے سبب ان نیلامیوں میں سرمایہ کاروں نے یا تو حصہ ہی نہیں لایا یا بھر صرف وہ ایک، دو کمپنیاں شامل ہوئیں جنھیں سپیکٹرم خریدنے کی اشد ضرورت تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حکومت ٹیلی کام سیکٹر کے لائسنس کو حکومتی آمدن بڑھانے کا ذریعہ سمجھتی ہے جبکہ انھیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ملک میں انٹرنیٹ کی رسائی ہونے سے معیشت بڑھتی ہے۔
ماہرِ ٹیلی کام اسلم حیات کا کہنا ہے کہ ملک میں سیکٹرم کی ڈیمانڈ تھی لیکن زیادہ قیمت، غیر یقنی کی صورتحالاور سخت ریگولیٹری شرائط کے سبب اس میں تاخیر ہوتی رہی۔
انھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں دستیاب انٹرنیٹ یا فور جی کی سپیڈ دیگر خطے کے ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔
انھوں نے کہا کہ سنہ 2014 میں سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی بھی قابلِ ذکر نہیں بلکہ 2016 اور 2017 اور 2021 میں ہونے والا نیلامی میں ایک، ایک ٹیلی کام کمپنی نے حصہ لیا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اُن کے لیے ہر نیلامی میں حصہ لینا اقتصادی طور پر سود مند نہیں تھا۔
پاکستان میں کارپوریٹ سیکٹر کی آمدن پر ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے اور گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ٹیلی کام سیکٹر کی لاگت بڑھنے سے بھی ٹیلی کام آپریٹرز کے منافع پر فرق پڑا ہے۔ ایسے میں مہنگی قیمت پر فروخت ہونے والے سپیکٹرم اُن کے لیے زیادہ منافع بخش نہیں ہیں۔
ماہر ٹیلی کام پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام ریگولیٹرز کے لیے ضروری ہے کہ وہنیلامی سے محض آمدن بڑھانے کے بجائے زیادہ وسیع نظریے کے ساتھ اس معاملے پر آگے بڑھائیں کیونکہ پاکستان ٹیکنالوجی کے معاملے پر ابھی بھی خطے کے دیگر ممالک سے پچھے ہے۔
ٹیلی کام سیکٹر کے ماہرین کے خیال میں سپیکٹرم کی نیلامی سے پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کو فائدہ ہو گا لیکن اس بار نیلامی کے لیے کمپنیوں کو رقم کی ادائیگی ڈالرز کے بجائے پاکستانی کرنسی میں کرنا ہو گی جس سے کسی حد تک تو فائدہ ہو گا لیکن ابھی نیلامی کے لیے بیس پرائس زیادہ ہے۔
حکومت کا کیا کہنا ہے؟
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بی بی سی کو دیے گئے جواب میں کہا ہے کہ سپیکٹرم کو فائیو جی ٹیکنالوجی سے منسلک نہیں کیا گیا ہے بلکہ حکومت آپریٹرز کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ وہ اپنے صارفین اور کاروباری ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سپیکٹرمسے فور جی یا فائیو جی متعارف کروائیں۔
وزارات کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اپنائی گئی پالیسیوں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ہدف کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت نے فائیو جی کے لانچ کے لیے آپریٹرز کے لیے لچک دار ٹائم لائن دی ہے۔
ملک میں فائیو جی کی محدود طلب کے بارے میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ آگرچہ ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے حامل موبائل فون ہینڈ سیٹس کی تعداد کم ہے لیکن ویڈیو سٹریمنگ، ڈیٹا کا استعمال اور کلاؤڈ سروس کی طلب میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ساڑھے پندرہ کروڑ کی آبادی انٹرنیٹ استعمال کر رہی ہے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد بھی سات کروڑ ہے، ایسے میں نئی ٹیکنالوجی کے آنے سے اُس ٹیکنالوجی کی مانگ بڑھتی ہے۔
پاکستان میں سپیکٹرم کی نیلامی کے لیے مختص کی گئی کم سے کم قیمت کے بارے میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ پاکستان درحقیقیت ایک ایسا ملک ہے جہاں موبائل فون آپیریٹرز کے لیے اوسطً فی صارف آمدن کم ہے اور پاکستان جیسی 25 کروڑ کی آبادی کے لیے نیٹ ورک کی فراہمی کے لیے زیادہ سرمایہ درکار ہے لیکن وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ تمام اُمور کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی سپیکٹرم لائسنس کے نیلامی کے لیے کم سے کم قیمت کا تعین کیا گیا۔
پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش سے کاروبار زندگی متاثر: ’سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں ڈال سکے تو آرڈر بھی نہیں ملے‘دنیا کو تبدیل کر دینے والا انٹرنیٹ پاکستان میں کب اور کیسے آیا؟سٹارلنک اور سوا چار ارب ڈالر کی منشیات: مسک کے سیٹلائیٹ انٹرنیٹ کی مدد سے سمگلنگ جس نے انڈین پولیس کو پریشان کر دیاپاکستان میں سست انٹرنیٹ کی وجہ واقعی وی پی این کا زیادہ استعمال ہے؟پاک سیٹ ایم ایم ون: لاکھوں روپے کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ کیا پاکستان میں عام آدمی کے لیے ’گیم چینجر‘ ثابت ہو گا؟پچاس سال بعد انسان کی چاند پر واپسی، ناسا کا ’آرٹیمس دوم‘ خلانوردوں کو وہاں تک کیسے لے جائے گا؟