پاکستانی نژاد برطانوی سیاستدان ساجد جاوید پر تنقید: ’خود والدین کے برطانیہ آنے کے فیصلے سے فائدہ اُٹھایا، دوسروں کو روک رہے ہیں‘

بی بی سی اردو  |  Jan 27, 2026

Getty Images56 سالہ برطانوی سیاست دان نے حال ہی میں اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب دی کلر آف ہوم' شائع کی ہے

برطانیہ کے سابق وزیر اور پاکستانی نژاد سیاست دان ساجد جاوید اپنے ایک انٹرویو کے بعد شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

56 سالہ برطانوی سیاست دان نے حال ہی میں اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب دی کلر آف ہوم‘ شائع کی ہے، جو چار فروری سے مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔

اس کتاب کے مارکیٹ میں آنے سے پہلے برطانوی اخبار دی سنڈے ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ساجد جاوید نے اپنے بچپن کے بارے میں بتایا۔ ایسا بچپن جہاں ان کے مطابق غربت تھی، گھریلو تشدد تھا، نسلی امتیاز تھا اور پھر وہ کہانی بھی سنائی کہ ان کا غربت سے وزارت تک کا سفر کیسا رہا۔

ان کے انٹرویو کے جس حصے پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی وہ ان کے اپنے والدین اور ملک کی امیگریشن کی پالیسی کے مطابق خیالات تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ امیگریشن کے موجودہ قوانین کے تحت وہ اپنے ’غیر ہنرمند والد اور انگریزی نہ بولنے والی والدہ کو بھی ملک میں داخلے کی اجازت نہ دیتے۔‘

ساجد جاوید کے والدین 1960 کی دہائی میں ان کے والدین پاکستان سے برطانیہ منتقل ہوئے تھے۔

انھوں نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ: ’برادریوں میں میل جول میں سب سے بڑی رکاوٹ انگریزی نہ آنا ہے۔ یہ شرط ہونی چاہیے کہ اگر آپ نے برطانیہ میں رہنا ہے تو آپ کو روانی سے انگریزی بولنی آنی چاہیے۔ ہمیں برسوں پہلے یہ شرط عائد کر دینی چاہیے تھی۔‘

سوشل میڈیا پر متعدد صارفین انھیں اس بیان پر کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایان کوورڈ نامی صارف نے لکھا: ’یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ساجد جاوید جیسے لوگوں نے برطانیہ آنے کے اُس فیصلے سے بے پناہ فائدہ اٹھایا جو فیصلہ ان کے والدین نے کیا تھا اور اب وہ دوسروں کو یہ فائدہ اٹھانے سے روکنا چاہتے ہیں۔‘

ڈاکٹر شولا ماس شوگبامیمو نامی ایک ایکس صارف نے ساجد جاوید کے خلاف تین منٹ طویل ویڈیو اپ لوڈ کی۔

اس میں وہ الزام عائد کرتی ہیں کہ ساجد جاوید کا بیان ہضم کرنا مشکل ہے۔ ان کے مطابق ساجد خان نے یہ بیان اپنی کتاب کی مشہوری کے لیے دیا ہے۔

نریندر کور ساجد جاوید کا بیان متعصبانہ قرار دیتے ہوئے لکھتی ہیں: ’اِس شخص نے شدید نسل پرستی کا سامنا کیا، اِن کے والد انھیں مارتے تھے، ان کے والدین بغیر کسی ہنر یا زبان کے اس ملک میں آئے اور پھر بھی اُنھوں نے زندگی بنائی۔‘

برطانیہ میں مستقل قیام کے لیے سخت ہوتے قوانین

برطانیہ کی حکومت مستقل طور پر ملک میں سکونت اختیار کرنے والوں کے لیے شرائط مزید سخت کر رہی ہے۔

برطانوی حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برسوں کے مقابلے میں جون 2025 کو ختم ہونے والے سال میں برطانیہ منتقل ہونے والوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔

گذشتہ برس مئی میں برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے امیگریشن نظام کو ’ٹوٹا ہوا‘ قرار دے کر اسے از سر نو تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

75 ممالک کے لیے امریکی ’امیگریشن ویزا پراسیس‘معطل: ’تعلقات تو اچھے تھے پھر امریکہ نے پاکستانیوں پر بھی پابندی کیوں لگائی‘برطانیہ کی نئی ویزا پالیسی کا ممکنہ ہدف پاکستان اور نائیجریا جیسے ممالک کیوں ہیں؟’مدر آف آل ڈیلز‘: 27 یورپی ممالک کے ساتھ تاریخی تجارتی معاہدے سے انڈیا کو کیا فائدہ ہو گا؟کیا برطانیہ میں رہنے اور کام کرنے کے لیے ’ڈیجیٹل آئی ڈی‘ لازم ہو گا؟

مجوزہ اصلاحات کے تحت ویزا کی درخواست دینے والوں کے لیے انگریزی کا امتحان مزید سخت کیا جانا تھا۔

پہلے برطانیہ میں پانچ سال تک قیام کے بعد یہاں مستقل قیام کی اجازت خود کار طریقے سے مل جایا کرتی تھی، لیکن نئے منصوبے کے تحت یہ مدت بڑھا کر 10 سال تک کرنے کا سوچا گیا تھا، جبکہ کچھ کیسز میں یہ انتظار 20 سال تک بھی طول پکڑ سکتا ہے۔

اسی منصوبے کے تحت درخواست گزاروں پر انحصار کرنے والے ایسے افراد جو بالغ ہیں (یعنی اُن کے والدین یا 18 سال سے بڑی عمر کے بچے) کے لیے بھی بنیادی انگریزی جاننا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

برطانیہ کی سیکریٹری داخلہ شبانہ محمود نے کہا تھا: برطانوی شہری بننا ’ایک حق نہیں بلکہ اعزاز ہے، جو حاصل کرنے کے لیے کچھ کر کے دکھانا پڑتا ہے۔‘

ساجد جاوید کون ہیں؟

ساجد جاوید ماضی میں خود امیگریشن کے اُس نظام سے مستفید ہوئے تھے۔ ان کے والدین نے 1960 کی دہائی میں برطانیہ آ کر مستقل سکونت اختیار کی تھی۔

ساجد جاوید برطانیہ میں ہی پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم حاصل کی، ملازمت کی اور سیاست کے میدان کا رُخ کیا۔

ساجد جاوید کے خاندان کا تعلق پاکستان کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک گاؤں سے ہے۔

Getty Imagesبرطانیہ کی حکومت مستقل طور پر ملک میں سکونت اختیار کرنے والوں کے لیے شرائط مزید سخت کر رہی ہے

اُن کے والد عبدالغنی جاوید 1961 میں تلاشِ معاش کے سلسلے میں برطانیہ آئے تھے اور شروع میں انھوں نے راچڈیل میں سکونت اختیار کی تھی، جہاں انھیں فوری طور پر ایک روئی کی فیکٹری میں کام مل گیا تھا۔

تاہم کچھ عرصے بعد انھوں نے بطور بس ڈرائیور ملازمت اختیار کر لی تھی۔

ابتدائی چند سال راچڈیل میں گزارنے کے بعد ان کے والد برسٹل آ گئے جہاں ان کے ہاں ساجد جاوید سمیت پانچ بیٹے پیدا ہوئے۔

زندگی کے ابتدائی برسوں میں مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد عملی زندگی کا آغاز ساجد جاوید نے ایک انشورنش کمپنی سے کیا۔

وہاں سے وہ بینکنگ کے شعبے میں آئے اور پھر سیاست میں۔

ساجد جاوید برطانیہ کے سیکریٹری داخلہ بننے والے پہلے ایشیائی سیاستداب تھے۔

ساجد جاوید برطانیہ کے وزیر صحت بھی رہ چکے ہیں اور چھ ماہ کے لیے وزارت خزانہ بھی اُن کے پاس رہی۔

42 سال تک برطانیہ میں مقیم شخص جنھیں اچانک پتا چلا کہ وہ ’برطانوی شہری ہی نہیں‘برطانیہ میں مسلمانوں میں خوف اور بے چینی: ’یہ احتجاج نہیں بلکہ دہشتگردی ہے‘برطانیہ میں 25 سالہ یونیورسٹی طالبعلم پر شہزاد اکبر اور عادل راجہ کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کا الزامجہاز سے ہزاروں فُٹ کی بلندی سے چھلانگ لگانے اور زندہ بچ جان والے ایئر فورس اہلکار کی کہانیمستقل رہائش کے لیے 20 سال انتظار اور اپیل کے حق میں سختی: برطانیہ میں سیاسی پناہ کے قوانین میں کیا تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More