اچھا چلتا ہوں، دعاؤں میں یاد رکھنا
میرے ذکر کا زباں پہ سواد رکھنا۔۔۔
ہماری نسل نے خوشی کے لمحے ہوں یا غم کی راتیں، جن آوازوں کے ساتھ جینا سیکھا ہے ان میں انڈیا کے اریجیت سنگھ بھی شامل ہیں ہیں۔
لیکن وہ سریلی اور درد بھری آواز جس کے ساتھ ہم گذشتہ 15 برسوں سے جڑے ہوئے ہیں۔۔۔ ذرا سوچیے اگر وہی شخص ایک دن اچانک یہ اعلان کر دے کہ وہ اب ’بطور پلے بیک سنگر‘ کوئی نیا گانا نہیں گائے گا، تو دل پر کیا گزرتی ہے؟
انڈیا کے معروف گلوکار اریجیت سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب سے ’بطور پلے بیک سنگر‘ کوئی نیا گانا نہیں گائیں گے۔
انسٹاگرام اور فیس بک پر اریجیت سنگھ کے اس اعلان نے کروڑوں مداحوں کے دل اداس کر دیے ہیں۔۔۔اور سچ یہ ہے کہ ہم ابھی اس ’بریک اپ سونگ‘ کے لیے تیار نہیں تھے۔
انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پر لکھا: ’ہیلو، آپ سب کو نیا سال مبارک ہو۔ میں اپنے تمام سامعین کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے مجھے اتنے سال بے انتہا محبت دی۔‘
’میں کہنا چاہتا ہوں کہ اب میں بطور پلے بیک سنگر کوئی نیا کام نہیں لوں گا۔ میں اسے یہیں ختم کر رہا ہوں۔ یہ بہت خوبصورت سفر رہا ہے۔‘
اریجیت سنگھ نے محض 38 برس کی عمر میں پلے بیک سنگنگ سے کنارہ کشی کا اعلان کیا ہے۔
کسی فنکار کا اپنے کیریئر کے عروج پر یوں اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان نہ صرف اس کے ساتھیوں اور حریفوں کے لیے حیران کن ہوتا ہے بلکہ اس کے مداحوں کو بھی افسردہ کر دیتا ہے۔
’آپ کی آواز صرف موسیقی نہیں، یہ ہمارے دل ٹوٹنے اور پہلی محبتوں کا ساؤنڈ ٹریک تھی‘
اریجیت کی انسٹاگرام اور فیس بک پوسٹ پر لاکھوں افراد نے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور ان سے پلے بیک سنگنگ نہ چھوڑنے کو کہا ہے۔
ایک صارف نے ان کی ریٹائرمنٹ کی پوسٹ پر لکھا ’آپ کی آواز صرف موسیقی نہیں تھی۔۔۔ یہ ہمارے دل ٹوٹنے کے لمحوں، پہلی محبتوں اور ہر احساس کا ساؤنڈ ٹریک تھی۔‘
کئی افراد نے اس پوسٹ کے نیچے ٹوٹے ہوئے دل بنائے اور بیشتر نے لکھا ہے کہ ان کا دل اتنا دکھی ہے کہ وہ اس پوسٹ کو لائک نہیں کر سکتے۔
تاہم بہت سے لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اب وہ ’ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد ہو کر ایک نئے روپ‘ میں نظر آئیں گے۔
’لیجنڈز کبھی ریٹائر نہیں ہوتے‘
سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد اریجیت کے گانوں کے گانے پوسٹ کرتے ہوئے انھیں خوبصورت الفاظ میں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔
ایک صارف نے انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ’اگر لیجنڈز ریٹائر ہو بھی جائیں، تو ان کی آوازیں کبھی ریٹائر نہیں ہوتیں۔‘
ایک اور صارف نے ایس حوالے سے لکھا ’وہ آواز جس نے نسلوں کو شکل دی، اب احترام کے ساتھ رخصت لے رہی ہے۔ موسیقی، یادوں اور جادو دکھانے کے لیے شکریہ۔ لیجنڈز کبھی ریٹائر نہیں ہوتے، وہ ہر اُس سُر میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جو وہ ہمیں سنا گئے۔‘
’آٹھ سال سے بالی ووڈ میں کام نہیں ملا‘: اے آر رحمان کے شکوے نے فلم انڈسٹری میں فرقہ واریت پر بحث چھیڑ دیپنجاب میں ’غیر اخلاقی‘ اور ’ذومعنی‘ گانوں پر پابندی: ’اس فہرست میں کئی گانے فلموں کا حصہ رہے ہیں‘’میرے دشمن، میرے بھائی، میرے ہمسائے:‘ بالی وڈ میں انڈیا پاکستان جنگ پر مبنی ’بارڈر ٹو‘ جیسی فلموں کی ریلیز پر بحثپسوڑی کے ری میک میں ایسا کیا ہے کہ انڈین اور پاکستانی ایک ہو گئے؟
ایک صارف نے تبصرہ کیا ’کچھ آوازیں ہماری زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔۔۔۔ اریجیت سنگھ، آپ نے ہمیں صرف موسیقی نہیں دی، آپ نے ہمیں جذبات، یادیں اور مشکل دنوں میں سہارا دیا۔‘
’آپ جو بھی راستہ چنیں، میرے دل میں آپ کے لیے احترام ہمیشہ قائم رہے گا۔ پلے بیک ہو یا نہ ہو، آپ ہمیشہ میرے دل کی آواز رہیں گے۔‘
جہاں بہت سے مداح ان کے اس فیصلے کے پیچھے وجہ جاننے کے لیے بے چین ہیں وہیں ہزاروں مداح ان کے اب تک کے موسیقی کے سفر پر ان کا شکریہ بھی ادا کر رہے ہیں۔
ایک عہد کا اختتام۔۔۔ ’2026 کے شروع ہوتے ہی اس جھٹکے کی توقع نہ تھی‘
ایک مداح نے ان کی آواز میں ساحر لدھیانوی کی غزل کے چند مصرعے لکھے۔
’ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر
کہ دل ابھی بھرا نہیں۔۔۔‘
ایک صارف نے لکھا ’2026 کے شروع ہوتے ہی اس جھٹکے کی توقع نہ تھی۔‘
فلم فیئر نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے ’دنیا آپ کی آواز کے بغیر اتنی حسین نہیں رہے گی۔۔۔‘
اریجیت کے بالی وڈ کیرئیر کا آغاز 2011 میں فلم ’مرڈر ٹو‘ سے ہوا
مغربی بنگال کے مرشد آباد میں پیدا ہونے والے اریجیت سنگھ نے ہندی اور بنگالی کے علاوہ مراٹھی سمیت کئی دیگر انڈین زبانوں میں گانے گائے ہیں۔
ان کے بالی ووڈ گلوکاری کیرئیر کا آغاز 2011 میں فلم مرڈر ٹو سے ہوا۔ اس فلم کا ’دل سنبھل جا ذرا۔۔۔۔ پھر محبت کرنے چلا ہے تو‘ آج بھی انتہائی مقبول گانا ہے۔
ہم تیرے بن اب رہ نہیں سکتے
تیرے بنا کیا وجود میرا۔۔
عاشقی ٹو کا یہ گانا اریجیت کے سب سے پسندیدہگانوں میں شمار ہوتا ہے۔
انھوں نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم بارڈر ٹو کے گانے ’گھر کب آؤ گئے‘ کو بھی اپنی آواز دی ہے، جس کا آج کل کافی چرچا ہے۔
انھوں نے وشال بھردواج کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’او رومیو‘ کا گانا ’ہم تو تیرے ہی لیے تھے۔۔۔‘ بھی گایا ہے جو اگلے ماہ ریلیز ہونے جا رہی ہے۔
اریجیت سنگھ خود کس کے گانے سنتے ہیں؟
2023 میں دی میوزک پوڈ کاسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے جب ان سے میوزک لیبلز کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اپنے کام میں انصاف سے کام لیتے ہیں اور یہ کہ سارا کاروبار فنکاروں کی وجہ سے ہی چلتا ہے۔
ان کا کہنا تھا ’فنکار اپنی زندگی میں اتنے پریکٹیکل نہیں ہوتے جتنے پریکٹیکل بزنس مین ہوتے ہیں۔ کاروبار مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ فنکار کیا کر رہا ہے۔ لہٰذا اگر ہر کسی کو لگتا ہے کہ کوئی چیز منصفانہ نہیں ہے، تو اس میں ضرور کچھ ہے۔‘
فلمسازوں اور پروڈیوسرز کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’انھیں کچھ چیزوں کے بارے میں واضح ہونا چاہیے، یا تو کام کروائیں اور انھیں معاوضہ دیں یا انھیں بالکل کام نہ دیں کیونکہ انڈسٹری میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو اتنی تنخواہ نہیں ملتی جتنا وہ کام کرتے ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس شہر کا دورہ کرنے میں سب سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں تو اس نے ایمسٹرڈیم کا نام لیا۔
اس پوڈ کاسٹ کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس قسم کے فنکار کے ساتھ کام کرنا چاہیں گے۔ اس سوال پر انھوں نے کہا کہ میں ایرک کلاپٹن یا جسٹن ٹمبرلیک کے ساتھ کچھ کرنا چاہوں گا۔
انھوں نے جان مائر اور ہنس زیمر کا نام بھی لیا۔
اریجیت کا کہنا تھا کہ اس فہرست میں بہت سے نام ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کولڈ پلے کے ساتھ کام کرنا ان کا خواب ہے۔
Getty Images
جب اریجیت سے پوچھا گیا کہ وہ کن فنکاروں کو سنتے ہیں تو انھوں نے لیزی میکالپائن، استاد امیر خان اور پنڈت ہری پرساد چورسیا کا نام لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں انڈین کلاسیکی موسیقی سن کر لطف آتا ہے۔
اریجیت سنگھ نے ایک بار ریڈیو مرچی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا پسندیدہ آلہ تانپورہ ہے۔ انھوں نے اسے موسیقی کی تاریخ کا سب سے بڑا آلہ قرار دیا۔
اریجیت سنگھ خود کو مدھوبالا کا بہت بڑا مداح کہتے ہیں۔ ریڈیو مرچی کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جب میں بچپن میں چتراہار اور رنگولی دیکھتا تھا تو اس کے گانے سب سے زیادہ سنتا تھا۔‘
عروسی لباس پر تنازع، بیوی کی مبینہ توہین اور ’ہائی جیک‘ ہونے والا شادی کا ڈانس: ڈیوڈ اور وکٹوریہ بیکہم کے بیٹے والدین سے ناراض’میرے دشمن، میرے بھائی، میرے ہمسائے:‘ بالی وڈ میں انڈیا پاکستان جنگ پر مبنی ’بارڈر ٹو‘ جیسی فلموں کی ریلیز پر بحثپنجاب میں ’غیر اخلاقی‘ اور ’ذومعنی‘ گانوں پر پابندی: ’اس فہرست میں کئی گانے فلموں کا حصہ رہے ہیں‘’آٹھ سال سے بالی ووڈ میں کام نہیں ملا‘: اے آر رحمان کے شکوے نے فلم انڈسٹری میں فرقہ واریت پر بحث چھیڑ دیپسوڑی کے ری میک میں ایسا کیا ہے کہ انڈین اور پاکستانی ایک ہو گئے؟