انڈیا کی شمال مشرقی ریاست میزورام میں مقیم بنی مناشے کمیونٹی اسرائیل منتقل ہونے کی تیاریاں کر رہی ہے۔
میزورام میں آباد یہ برادری خود کو یہودیوں کے گمشدہ قبیلے کی اولاد سمجھتی ہے۔
سنہ 2025 میں اسرائیلی حکومت نے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت آنے والے برسوں میں انڈیا کی بنی مناشے برادری کے تمام افراد کو اسرائیل منتقل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ ان میں سے کچھ لوگ پہلے ہی جا چکے ہیں۔
اس وقت انڈیا میں ان کی تعداد تقریباً 5 ہزار 800 ہے۔ ان کی اسرائیل روانگی اسی مہینے شروع ہو سکتی ہے۔
یہ برادری میزورام اور پڑوسی ریاست منی پور میں آباد ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں بنی مناشے برادری کے تقریباً چار ہزار افراد منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ عمل 2005 میں اُس وقت شروع ہوا تھا جب ایک یہودی عالم نے اس برادری کو یہودیت کے گمشدہ قبائل میں سے ایک تسلیم کیا تھا۔
اس سلسلے میں میزورام میں رہنے والی بنی مناشے برادری کے تقریباً چھ سو افراد نے بھی اسرائیل جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
یہ سمجھنے کے لیے کہ وہ اسرائیل کیوں جانا چاہتے ہیں بی بی سی کی ٹیم میزورام کے دارالحکومت آئیزول کے کئی علاقوں میں گئی۔
’میں وہاں مرنا چاہتا ہوں‘
76 سالہ موسائی ہنامتے کا تعلق بنی مناشے برادری سے ہے اور وہ میزورام میں بطور پولیس افسر بھی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں اور ایک پہلوان ہیں۔
وہ میزورام کے دارالحکومت آئیزول کے مرکز میں واقع ایک بڑے گھر میں رہتے ہیں۔ ان کے گھر کی دیواریں ان کے خاندان کی تصاویر سے سجی ہوئی ہیں۔ ہم نے وہیں ان سے ملاقات کی۔
انھوں نے بی بی سی ہندی کو بتایا ’ہمیں میزورام کی یاد آئے گی۔ یہ ہماری جائے پیدائش ہے لیکن یہ ہمارا آخری ٹھکانہ نہیں، اسی لیے ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں یہاں سے جانا ہو گا۔‘
موسائی ہنامتے کے والدین تقریباً 20 سال پہلے اسرائیل منتقل ہو گئے تھے۔ اب ان کے خاندان کے باقی افراد بھی وہاں جانا چاہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میرے والدین وہیں فوت ہوئے اور وہیں دفن ہیں۔ میں بھی وہیں مرنا چاہتا ہوں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ وہ اسرائیل صرف بہتر معاشی مستقبل کے لیے نہیں جانا چاہتے بلکہ یہ فیصلہ ان کے مذہبی عقائد اور شناخت سے جڑا ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ حکومت انھیں اسرائیل میں پینشن فراہم کرے گی اور اس کے علاوہ وہ وہاں اپنا کاروبار بھی شروع کرنا چاہتے ہیں۔
بنی مناشے برادری کیا ہے؟
بنی مناشے برادری میزورم کی قدیم مقامی آبادی کا حصہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کو تقریباً 27 سو سال قبل قدیم اسرائیل سے جلاوطن کیا گیا تھا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ جلا وطنی کے بعد ان کے آباؤ اجداد مشرق کی طرف بڑھے، چین کے راستے شمال مشرقی انڈیا پہنچے اور پہاڑی علاقوں میں آباد ہو گئے۔
ان کی تاریخ زبانی روایات کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوئی اور ان کے پاس کوئی تحریری تاریخ موجود نہیں۔
’تنہائی پسند‘ حریدی یہودی کون ہیں اور ان کی اسرائیلی فوج میں بھرتی پر مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟مکہ اور مدینہ میں آباد طاقتور یہودی اور مسیحی قبائل کا عروج و زوال: مسلمانوں کے مقدس ترین شہر اسلام سے قبل کیسے تھے؟ختنے کی رسم یہودیوں میں کیوں باقی رہی اور مسیحیوں نے اسے کیوں چھوڑ دیا؟’یہودی طالبان‘: زبردستی حمل ٹھہروانے اور نابالغوں کے ریپ جیسے الزامات کی زد میں آنے والا قدامت پسند یہودی فرقہ ’لیو طہور‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریری شواہد کی عدم موجودگی نے اس قوم کی جڑوں کے بارے میں نئے دعوؤں کو جنم دیا۔ محققین نشاندہی کرتے ہیں کہ میزورام یا وہاں آباد چِن کوکی برادریوں کو قدیم اسرائیل سے جوڑنے والا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں۔
آئیزول کے گورنمنٹ ٹی رومانہ کالج میں تاریخ کے پروفیسر مالساوملیاما نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے پاس کوئی تحریری ثبوت نہیں۔ یہ زبانی تاریخ ہے۔ بنی مناشے کے دعوے چند رسومات سے مماثلت پر مبنی ہیں لیکن ان کی اسرائیلی جڑوں کے بارے میں کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں۔‘
تاہم میزورام یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہودی مذہب سے مشابہت رکھنے والی کئی رسومات، جیسے جانوروں کی قربانی یا مذہبی گیت، پہاڑی برادریوں میں عام طور پر پائی جاتی تھیں۔
دوسری جانب بنی مناشے برادری کا کہنا ہے کہ میزورام کی برادریوں میں صدیوں سے کچھ ایسی رسومات موجود رہی ہیں جو یہودی رسومات سے مشابہت رکھتی ہیں۔
تاہم میزورام میں یہودیت کو باضابطہ طور پر اختیار کرنے کا عمل بیسویں صدی کے آخر میں دیکھا گیا تھا، یہ مبلغین اور مذہبی رہنماؤں کے اثر و رسوخ کا نتیجہ تھا۔
اس وقت یہودی عبادت گاہیں تعمیر کی گئیں، عبرانی زبان سیکھی گئی اور یہودی مذہبی اصولوں اور روایات پر عمل شروع ہوا۔
میزورام میں بنی مناشے برادری کے ایک رُکن جرامیاہ نے اس تبدیلی کو تسلیم کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے 1976 میں یہودیت کے بارے میں سیکھنا شروع کیا تھا۔ سنہ 1995 میں ہم نے اپنی زندگیوں کو یہودی اصولوں کے مطابق ڈھالنا شروع کیا۔ ہم پہلے ختنہ نہیں کرواتے تھے لیکن جب ہمیں یہودی قانون کے بارے میں پتا چلا تو ہم نے یہ بھی کیا۔‘
پھر وقت کے ساتھ ایسے شواہد سامنے آئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ میزورام کی رسومات اور یہودی روایات، جن میں گیت، تہوار اور مذہبی رسومات شامل ہیں، کے درمیان مماثلت پائی جاتی ہے۔
مصنف پی سی بیاکسا ما نے بی بی سی کو بتایا ’میزو معاشرے میں عیسائیت بنیادی مذہب ہے۔ اسی لیے بنی مناشے برادری مرکزی معاشرے اور مرکزی مذہب سے الگ ہو گئی۔‘
انھوں نے کہا ’میزورام ہمارا نہیں۔ ہمارا گھر اسرائیل ہے۔‘ یہ شعور 1950 کی دہائی میں آیا۔ اُس وقت تک عیسائیت میزورام میں اچھی طرح قائم ہو چکی تھی۔‘
ان کے مطابق ’جب انھوں (بنی مناشے برادری) نے بائبل کا مطالعہ کیا اور اسرائیلیوں کی ثقافت کا مشاہدہ کیا تو کچھ لوگوں کو احساس ہوا کہ ان کا تعلق یہودیوں کے گمشدہ قبیلے سے ہو سکتا ہے، یہ احساس تقریباً 70 سال پرانا ہے۔‘
یہودی مذہبی روایت میں یہودیوں کی اسرائیل منتقلی کو ’علیہ‘ کہا جاتا ہے۔ ’علیہ‘ کا مطلب صرف ملک بدلنا نہیں بلکہ مذہبی طور پر سرزمینِ اسرائیل میں سکونت اختیار کرنا بھی ہے۔
اسرائیل میں ایک قانون موجود ہے جسے ’قانونِ واپسی‘ کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت وہ لوگ جو خود کو یہودی سمجھتے ہیں انھیں اسرائیل منتقل ہونے اور شہریت حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔
اسی قانون کے تحت بنی مناشے برادری اسرائیل منتقل ہو رہی ہے۔
دسمبر 2025 میں یہودی ایجنسی برائے اسرائیل کے ربّیوں اور اسرائیلی سفارت خانے کے نمائندوں نے بنی مناشے برادری کے افراد کا جائزہ لیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق منی پور سے ایک ہزار سے زیادہ اور میزورام سے تقریباً 600 افراد نے اسرائیل جانے کے لیے اپنا اندراج کروایا تھا۔
جرامیاہ کہتے ہیں کہ ’اس جانچ سے یہ طے ہوتا ہے کہ آیا ہم اپنے یہودی عقیدے کے مکمل طور پر پابند ہیں اور کیا ہمارا عیسائیت سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔‘
’پہلا مرحلہ یہودی مذہب سے متعلق سوالات کے جواب دینا ہے۔ اس کے بعد ہمارے پاسپورٹ بنائے جائیں گے۔ ہمارے نام یہودی ایجنسی کے ذریعے اسرائیلی حکومت کو بھیجے جائیں گے، اس کے بعد فیصلہ ہو گا کہ ہم کہاں رہیں گے۔‘
جرامیاہ نے بھی اسرائیل جانے کے لیے انٹرویو دیا، وہ اپنی برادری کی جانب سے ’علیہ‘ کے عمل کے اہم منتظمین میں سے ایک ہیں۔
وہ میزورام میں ایک پرنٹنگ شاپ چلاتے تھے۔ جرامیاہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل منتقل ہونے کی تیاری کے سلسلے میں اپنی تمام چیزیں اور سامان پہلے ہی فروخت کر چکے ہیں۔
دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ اسرائیل میں آباد ہونے والے بنی مناشے برادری کے افراد کے لیے وہاں کی زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔
اسرائیلی معاشرے میں گھلنے ملنے کا عمل ان کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں انڈین یہودی تارکینِ وطن کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات کا بھی ذکر آتا رہا ہے۔
اسرائیل میں بنی مناشے کے لیے ہونے والی منصوبہ بندی
ایک رپورٹ کے مطابق بنی مناشے برادری کی اسرائیل منتقلی کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اور پہلے مرحلے میں تقریباً 300 افراد اسرائیل جائیں گے۔
تقریباً 1200 افراد کے 2026 کے آخر تک اسرائیل منتقل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت کے مطابق سنہ 2030 تک تقریباً 5800 لوگ وہاں منتقل ہو چکے ہوں گے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اس اقدام کو ’ایک اہم فیصلہ‘ قرار دیا۔ اسرائیلی حکومت نہ صرف انڈیا سے بنی مناشے برادری کی دوبارہ اسرائیل آبادکاری میں مدد کے لیے ابتدائی مالی معاونت فراہم کرے گی بلکہ انھیں عبرانی زبان کی تربیت دے گی، روزگار میں مدد دے گی، عارضی رہائش فراہم کرے گی اور سماجی فلاحی پروگراموں کے فوائد بھی انھیں دیے جائیں گے۔
اسرائیلی حکومت کے ایک بیان کے مطابق ان نئے تارکینِ وطن کو نوف ہاگلیل اور شمال کے دیگر شہروں میں آباد کیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اس سے شمال اور ہاگلیل کے علاقے مضبوط ہوں گے۔
یہ علاقے کم ترقی یافتہ، کم آبادی والے ہیں اور یہ پُرتشدد واقعات سے بھی متاثر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ساتھ تنازع نے ان علاقوں کو خاص طور پر متاثر کیا اور حالیہ برسوں میں بہت سے لوگ یہاں سے دوسرے مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔
سنہ 2024 میں غرب اردن میں انڈین نژاد ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کی اطلاعات کے بعد بنی مناشے برادری میں تشویش بھی پائی جاتی ہے۔
اس سب کے باوجود بھی بنی مناشے برادری کا اسرائیل جانے کا ارادہ مضبوط ہے۔
میزورام سے تعلق رکھنے والی 31 سالہ یا ایل بھی اسرائیل جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اسرائیل خدا کی سرزمین ہے، اس لیے مجھے وہاں جانے کی شدید خواہش ہے۔ میں نے پہلے ہی تیاری شروع کر دی، اپنا گھریلو سامان پیک کر رہی ہوں اور وہ چیزیں الگ کر رہی ہوں جو مجھے پیچھے چھوڑنی ہیں۔‘
ان کا ایک آٹھ سالہ بیٹا اور ایک چھ سالہ بیٹی ہے۔ یا ایل اپنے شوہر، بیٹے اور بیٹی کے ساتھ ایک بیڈ روم کے گھر میں رہتی ہیں اور ان کی پوری زندگی اپنے خاندان کی دیکھ بھال کے لیے ہی وقف ہے۔
یہ خاندان یہاں آرام دہ زندگی گزار رہا ہے۔ دیواروں پر ان کے بیٹے اور بیٹی کی سالگرہ کے پوسٹر لگے ہوئے ہیں، ان کے کھلونے گھر میں ہر جگہ بکھرے ہوئے ہیں اور گھر کا ہر کونا یہاں ایک خوشحال اور مستحکم خاندان کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ان کا بیٹا اور بیٹی ان کے فیصلے سے باخبر ہیں اور خاص طور پر ان کے بیٹے نے کہا ہے کہ وہ اب یہاں انڈیا میں سکول نہیں جائے گا۔
یا ایل نے مزید کہا کہ ’میرے بیٹے نے کہا کہ اسے اب وہاں جانے کی تیاری کرنی ہے اور وہ اسرائیل میں ہی سکول جائے گا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں کوئی خوف نہیں۔ میرے شوہر نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ غزہ میں جاری جدوجہد کا حصہ بننے کے لیے بھی تیار ہیں۔‘
41 سالہ روتھ یا ایل کی پڑوسن اور دوست ہیں، جن کی پانچ بیٹیاں ہیں۔
روتھ کے والدین اور بڑی بیٹی پہلے ہی اسرائیل میں موجود ہیں اور اب وہ اپنی باقی چار بیٹیوں کے ساتھ اسرائیل جانا چاہتی ہیں، اسی لیے روتھ کی 18 اور 19 سالہ بیٹیوں نے بھی اسرائیل جانے کے لیے انٹرویو دیا۔
روتھ کہتی ہیں ’بائبل میں بھی لکھا ہے کہ اسرائیل کو جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا، اس لیے ہمیں اس معاملے میں کوئی ہچکچاہٹ یا خوف نہیں۔ یہ نہیں کہ ہمیں بالکل بھی ڈر نہیں لگتا، اگر زوردار آوازیں آئیں یا کچھ سنائی دے تو ہمیں خوف محسوس ہو سکتا ہے لیکن اس وقت ہمیں کوئی ڈر نہیں۔‘
’ویسے بھی ہم سب نے ایک نا ایک دن مرنا ہی ہے۔ اگر ہماری موت کی وجہ یہی بنے تو میں وہاں مرنا پسند کروں گی، چاہے وہ جنگ کی وجہ سے ہو یا کسی اور وجہ سے۔‘
’اسرائیل ہمارا گھر ہے‘
آئیزوال میں رہنے والی بنی مناشے برادری کے تقریباً 400 افراد یہاں خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اسرائیل جانا ان کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔
اس مقصد کے لیے وہ اپنے گھر، اپنا ملک اور یہاں اپنی زندگیاں چھوڑنے کے لیے بھی تیار ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس برادری کے کئی افراد نے کہا کہ اسرائیل منتقل ہونا اور یہودیت پر عمل کرنا ان کے لیے خاص روحانی اہمیت رکھتا ہے۔
ان کی ’علیہ‘ (منتقلی) ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسرائیل جنگ، سیاسی کشیدگی اور سماجی تقسیم کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے باوجود برادری کے افراد کہتے ہیں کہ ان کا ایمان اور یہودی شناخت سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
روتھ کہتی ہیں ’ہم نے کبھی کہیں سفر نہیں کیا۔ ہم سلچر کے علاقے سے آگے بھی نہیں گئے۔‘
’مجھے نہیں معلوم ہمارا مستقبل کیا ہے، وہاں ہمیں تنہائی محسوس ہو سکتی ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ دوسروں کی مدد سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘
دوسری جانب یا ایل کہتی ہیں کہ ’ہم پیچھے کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ وہاں کیا ہو گا؟ یہ خیال کبھی میرے ذہن میں نہیں آیا، نہ مجھے اداسی ہوئی اور نہ ہی یہ سوچ آئی کہ میں اکیلی رہ جاؤں گی۔ کئی سال سے ہم وہاں جانے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔‘
سات اکتوبر حملوں کے بعد ایک یہودی خاندان نے اسرائیل منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، لیکن دوسرا اسے چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوا؟’کیا شادی کے لیے تیار ہو؟‘: جب ایرانی یہودی پاکستان کے راستے دوسرے ملکوں کو فرار ہوئےمسجد اقصیٰ مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے لیے اہم کیوں؟وہ مزیدار کھانے جو انڈیا کی یہودی برادریوں کو متحد رکھے ہوئے ہیںہزاروں یہودی روس چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں؟زوی کوگان: متحدہ عرب امارات کا یہودی عالم کے قتل میں تین ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ