’اگر بنگلہ دیش کی جگہ انڈیا مطالبہ کرتا۔۔۔‘ ٹی 20 ورلڈ کپ پر ناصر حسین کا تبصرہ زیرِ بحث

بی بی سی اردو  |  Feb 05, 2026

Getty Imagesانگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ناصر حسین

کئی دنوں سے انڈیا اور سری لنکا میں کھیلے جانے والا ٹی 20 ورلڈ کپ خبروں میں ہے اور اس سے جڑے تنازعات کے بارے میں شائقین کے ساتھ ساتھ سابق کرکٹرز اور کمنٹیٹرز بھی اپنی آرا ظاہر کر رہے ہیں۔

پہلے بنگلہ دیش کی جانب سے انڈیا میں کھیلنے سے انکار کی بات سامنے آئی اور اُس پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بنگلہ دیش کرکٹ بوڈ کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے۔ بلآخر بنگلہ دیش کی بات نہیں مانی گئی اور ان کی جگہ سکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کر لیا گیا۔

اس کے بعد پاکستان نے بنگلہ دیش کی حمایت میں ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران انڈیا کے خلاف اپنا میچ کھیلنے سے انکار کر دیا جس پر آئی سی سی نے ’طویل المدتی اثرات‘ سے خبردار کرتے ہوئے پاکستان کو فیصلے پر نظرثانی کا کہا ہے۔

اس بحران کے بارے میں بات کرتے ہوئے انگلش ٹیم کے سابق کپتان ناصر حسین نے پاکستان اور بنگلہ دیش کی حمایت کی ہے جس پر انھیں انڈیا میں تنقید کا سامنا ہے۔

Getty Images’اگر بنگلہ دیش کی جگہ انڈیا مقام کی تبدیلی کا مطالبہ کرتا تو آئی سی سی کیا کرتا؟‘

ناصر حسین نے ’سکائے سپورٹس‘ کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں آئی سی سی کے اقدامات اور فیصلوں کو ’دوہرا معیار قرار‘ دیا ہے۔

ناصر حسین کا کہنا تھا کہ ’اگر بنگلہ دیش کی جگہ انڈیا مقام کی تبدیلی کا مطالبہ کرتا تو آئی سی سی کیا کرتا؟ کیا آئی سی سی انڈیا کو بھی ایونٹ سے باہر کر دیتا؟ آئی سی سی کو بنگلہ دیش اور پاکستان کو بھی انڈیا کی ہی طرح برابری سے ڈیل کرنا ہوگا۔‘

سابق انگلش کپتان کا کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش اپنی بات پر قائم ہے، وہ اپنے کھلاڑی کے لیے کھڑے ہوئے۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کا ساتھ دے کر اچھا کام کیا۔ کسی کو کھڑا ہو کر یہ ضرور کہنا ہوگا کہ سیاست بہت ہوئی، اب ہم کرکٹ کھیل لیں۔‘

ناصر حسین نے مزید کہا کہ ’انڈیا نے اچانک سے بنگلہ دیشی کھلاڑی مستفیض کو سیاسی دباؤ کی وجہ سے (آئی پی ایل سے) باہر کر دیا۔ پہلے محسوس ہوتا تھا، اب یقین ہونے لگا ہے کہ کرکٹ میں سیاست آ گئی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’کبھی آپ ہاتھ نہیں ملاتے کبھی ٹرافی نہیں لیتے۔ اگر آپ کا ردِعمل پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ ایسا ہی رہا تو کرکٹ تباہ ہو جائے گی۔‘

Getty Imagesانگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے ایک اور سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن، جو اسی پوڈ کاسٹ کا حصہ تھے، نے بھی جے شاہ کی سربراہی والے آئی سی سی پر تنقید کی اور الزام لگایا کہ وہ انڈیا اور بی سی سی آئی کے حق میں جانبداری دکھا رہے ہیں۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’بنگلہ دیش کا مطالبہ بھی جائز تھا کیونکہ انڈیا کو چیمپئنز ٹرافی 2025 کے دوران غیر جانبدار مقام پر کھیلنے کی اجازت دی گئی تھی۔‘

ایتھرٹن نے کہا کہ ’اصل میں آپ کو چیمپئنز ٹرافی کے وقت پر واپس جانا ہوگا کیونکہ انڈیا پاکستان نہیں گیا جو اس ایونٹ کے میزبان تھے اور پھر انڈیا کو یہ رعایت دی گئی کہ وہ اپنے تمام میچ دبئی میں کھیلے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ رعایت ماضی میں دیگر ٹیموں کو نہیں دی گئی تھی جنھوں نے بین الاقوامی میچوں سے کنارہ کشی اختیار کی تھی۔‘

انڈیا کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار: کیا پاکستان اپنے ’اصولی‘ فیصلے کا دفاع کر پائے گا؟آئی سی سی نے سکاٹ لینڈ کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں شامل کرلیا: پاکستان کا بنگلہ دیش کی حمایت کا اعلان، ایونٹ میں شمولیت حکومتی اجازت سے مشروطٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: انڈیا میں کھیلنے سے انکار بنگلہ دیش کو کتنا مہنگا پڑے گا؟’اس کے طویل مدتی اثرات ہوں گے‘: ٹی 20 ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا پاکستان کو پیغام

مائیکل ایتھرٹن نے کہا کہ ’پھر جب مستفیض الرحمان کا معاملہ سامنے آیا اور بنگلہ دیش نے کہا کہ ’ہماری حکومت کہتی ہے کہ ہم انڈیا نہیں جا سکتے‘، تو وہ بھی اسی طرح کے سلوک کا مطالبہ کر رہے تھے اگرچہ یہ مطالبہ ٹورنامنٹ کے آغاز سے کچھ دن پہلے کیا گیا تھا نہ کہ کئی ماہ پہلے۔‘

’لہٰذا بات چیمپئنز ٹرافی سے شروع ہوتی ہے پھر مستفیض الرحمان کے فیصلے تک آتی ہے اور اس کے بعد بنگلہ دیش اور پاکستان کے فیصلے سامنے آتے ہیں۔۔۔ یہ سب الگ الگ نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک پورا پس منظر موجود ہے۔‘

مارک بُچر نے بھی عالمی کرکٹ کو درپیش مشکلات کا ذکر کیاGetty Imagesانگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی مارک بُچر

ایک الگ انٹرویو کے دوران انگلینڈ کے سابق کھلاڑی مارک بُچر نے کہا کہ ’اگر یہ میچ نہ ہوا تو یہ انڈیا، جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا شریک میزبان ہے اور آئی سی سی، کے لیے ایک بڑی تباہی ثابت ہوگا کیونکہ یہ مقابلہ مالی اعتبار سے بہت اہم ہے۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’کرکٹ کے معاملے میں انڈیا ہمیشہ اپنی مرضی چلاتا آیا ہے اور پاکستان کو برداشت کرنا پڑتا رہا، لیکن اس مرتبہ حالات مختلف ہیں کہ جہاں پاکستان کی جانب سے ایک سخت راستہ اختیار کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی ہوئی تھی تو صاف نظر آ رہا تھا کہ انڈیا وہاں کھیلنے نہیں جائے گا۔ پھر سب کچھ دوبارہ ترتیب دینا پڑا اور یہی میری سب سے بڑی شکایت ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو باقی ٹیموں پر بھی اثر پڑتا ہے کیونکہ اچانک ان کا پروگرام بدل جاتا ہے، انھیں ملک سے باہر جا کر انڈیا سے کھیلنا پڑتا ہے جہاں انڈیا چاہتا ہے اور باقی سب کو اسی حساب سے ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے۔‘

انڈیا اور پاکستان میں ناصر حسین کے بیان پر تبصرے

انڈیا میں ناصر حسین کے اس بیان پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ بعض صارفین نے ان کے بیان کی حمایت کی ہے جبکہ کچھ نے ان سے اختلاف کیا ہے۔

انڈیا میں کھیلوں کے صحافی وکرانت گُپتا نے ناصر حسین پر تنقید کی اور لکھا کہ ’ناصر حسین دنیا کی کرکٹ میں ایک نہایت اہم آواز ہیں۔ وہ بات کو صاف صاف کہتے ہیں لیکن کیا انگلینڈ نے ان کی کپتانی میں سنہ 2003 ورلڈ کپ کا میچ زمبابوے کے خلاف ’اخلاقی بنیادوں‘ پر نہیں چھوڑا تھا؟‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’دنیا کا نقطۂ نظر ہمیشہ مثالی ہوتا ہے مسئلہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو کسی مُشکل وقت کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہم اب ایک مثالی دنیا میں نہیں رہتے۔‘

راسیش مندانی نامی صارف کا کہنا تھا کہ ناصر حسین نے 'سیاسی نقطہ نظر اپناتے ہوئے ہی کھیلوں میں سیاست پر تنقید کی ہے۔'

جبکہ منیش بتاویہ نے لکھا کہ شاید ناصر حسین کو پاکستان اور بنگلہ دیش کی علاقائی سیاست کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اسی صورت آئی سی سی اور بی سی سی آئی سے 'تسلسل' کی توقع کریں جب انڈیا کے پڑوس میں یہ دونوں ممالک پُرامن طور پر رہنے کے قائل ہوں۔ 'میں پی سی بی اور بی سی بی کو ان کی جگہ دکھانے پر آئی سی سی اور بی سی سی آئی کی حمایت کرتا ہوں۔'

بوریا مجومدار نے ناصر حسین سے سوال کیا کہ ’کیا بنگلہ دیش نے پہلے کوئی سکیورٹی خدشات ظاہر کیے تھے؟ کیا انھوں نے مستفیض کا غصہ آئی سی سی اور بی سی سی آئی پر نکالا؟‘

تیجاسوی پرکاش نامی ایک انڈین صارف نے ناصر حسین کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’کرکٹ سیاست اور پیسے سے کہیں بڑا کھیل ہے۔ آئی سی سی اور بی سی سی آئی جاگ جائیں۔‘

راگھو نامی ایک انڈین ایکس صارف نے لکھا کہ ’تبصرہ انڈیا کے حق یا مخالفت میں، یا پاکستان کے حق یا مخالفت میں نہیں ہونا چاہیے۔ تبصرہ کھیل، اس کی انتظامیہ، اس کی خامیوں اور اس کے مستقبل کے بارے میں ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’جب ناصر حسین جیسے لوگ آئی سی سی، ای سی بی، بی سی سی آئی یا پی سی بی پر کھل کر بات کرتے ہیں تو اس سے گفتگو کو مزید اعتماد اور اعتبار ملتا ہے۔‘

راگھو کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر آپ آج کے زیادہ تر انڈین کمنٹیٹرز کو دیکھیں تو وہ بی سی سی آئی یا اس کے کھلاڑیوں کے خلاف ایک بھی ناگوار بات نہیں کہہ سکتے۔ اسی لیے کمنٹری تجزیے کے بجائے تشہیر سی محسوس ہوتی ہے۔‘

اُن کا اپنے تبصرے کے آخر پر کہنا تھا کہ ’کرکٹ کو شور شرابے سے زیادہ ایمانداری کی ضرورت ہے۔ غیر جانبدار آوازوں کے بغیر کھیل اپنی روح کھو دیتا ہے۔‘

جبکہ پاکستانی صارفین کی طرف سے ناصر حسین سے اتفاق کیا جا رہا ہے۔

صحافی کامران یوسف نے لکھا کہ ’ناصر حسین نے کھل کر پاکستان کے موقف کی تعریف کی۔‘

’اس کے طویل مدتی اثرات ہوں گے‘: ٹی 20 ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا پاکستان کو پیغامٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: انڈیا میں کھیلنے سے انکار بنگلہ دیش کو کتنا مہنگا پڑے گا؟آئی سی سی نے سکاٹ لینڈ کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں شامل کرلیا: پاکستان کا بنگلہ دیش کی حمایت کا اعلان، ایونٹ میں شمولیت حکومتی اجازت سے مشروطانڈیا کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار: کیا پاکستان اپنے ’اصولی‘ فیصلے کا دفاع کر پائے گا؟ٹاس کے دوران ’نو ہینڈ شیک:‘ انڈیا کے ساتھ میچ سے قبل تنازع جس پر بنگلہ دیش بورڈ کو وضاحت دینی پڑی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More